گائے کے نام پر دھرم یا دھندہ

ڈاکٹر دلیپ کمار سنگھ
p-7گائے دھندہ ہو گئی ہے،سیاستدانوں کے لئے بھی اور کاروباریوں،مافیائوں کے لئے بھی ۔ راجستھان میں جس طرح گئو شالہ میں بری حالت میں گایوں کو گھسیٹتے ہوئے اور مرتے ہوئے دیکھا گیا، اس نے پورے ملک کے لوگوں کا دل دہلا دیا۔ پورا ملک ایسے گائے رکشکوں (محافظوں) کے تئیں نفرت سے بھر گیا۔ گایوں کا ایساہی حال دیگر ریاستوں میں بھی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے درست کہا کہ گئو رکشا کے نام پر 80 فیصد لوگ دھندہ کررہے ہیں۔ گایوں کو مارنے کا مسئلہ ہو یا سرکاری پیسہ لے کر گایوں کو پالنے کا، گایوں کے تحفظ کے نام پر کھال کا کاروبار کرنے والے دلتوں کی ظالمانہ پٹائی کا مسئلہ ہو یا گائے کے گوشت کے بہانے کسی اقلیت کا قتل کرنے کا یا گایوں کی حمایت یا مخالفت کو لے کر سیاست کرنے کا مسئلہ ہو، سب کے پیچھے جھانکو تو آپ کو دھندہ ہی دکھائی دے گا۔
گجرات کے مبینہ گائے رکشکوں نے جس طرح دلتوں کو کھلے عام اور بربریت سے پیٹا اور جس طرح راجستھان میں گایوں کی موت کی تصویریں سامنے آئیں، اس نے ملک کے لوگوں کو تکلیف پہنچایا اور سیاسی پارٹیوں کو سیاست کرنے کا موقع دیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جب عام اجلاس میں گئو رکشا کے نام پر دھندہ کرنے والوں کو دھتکارا تو دیگر سیاسی پارٹیوں نے اسے ناکافی بتایا ۔ مودی نے کہا کہ گائے کے نام پر دھرم نہیں ،دھندہ ہو رہا ہے۔ کئی لوگوں نے گئو رکشا کے نام پر دکانیں کھول رکھی ہیں۔ ایسے گئو رکشکوں کو دیکھ کر بہت غصہ آتا ہے۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ جو پوری رات غیر سماجی سرگرمیوں میں ملوث رہتے ہیں، وہ دن میں گئو رکشک کا چولا پہن لیتے ہیں۔ وزیر اعظم نے ریاستی سرکاروں سے اپیل کی ہے کہ ایسے گئو رکشکوں کی تفصیلات تیار کریں تو پائیں گے کہ ان میں سے 70سے 80 فیصد جرائم پیشہ عناصر شامل ہیں۔ مودی نے کہا کہ اگر سچ مچ میں گئو رکشک ہیں تو پلاسٹک پھینکنا بند کروا دیں۔گایوں کا پلاسٹک کھانا رکوا دیں تو یہ سچی گئو سیوا ہوگی۔ کیونکہ زیادہ تر گائیں قتل سے نہیں بلکہ سب سے زیادہ پلاسٹک کھانے کی وجہ سے مرتی ہیں۔ مودی کا بیان آنے کے بعد گائے پر سیاست اور تیز ہوگئی ہے،کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے مودی پر خوب نشانہ لگایا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ دلت ووٹ پانے کی مجبوری میں وزیر اعظم کو اس ایشو پر بولنا پڑا جبکہ کارروائی کچھ نہیں ہو رہی ہے۔ کانگریس کی سُر میں سُر ملاتے ہوئے کئی سیاسی پارٹیوں نے الزام لگایا کہ مودی صرف بولتے ہیں، کارروائی نہیں کرتے۔ جبکہ گئو رکشا کے نام پر غنڈہ گردی کے واقعات بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں زیادہ ہو رہے ہیں۔ این سی پی لیڈر نواب ملک نے کہا کہ اگر مودی جی اس طرح کا بیان دے رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ گئو رکشا کے نام پر ملک میں غلط کام ہو رہا ہے۔ اب انہوں نے بیان دیا ہے تو ذمہ داری بھی ان کی ہی بنتی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے چیف لالو پرساد یادو نے اپنے انداز میں فیس بک کے ذریعہ کہا کہ مودی جی کو میری دو دن پہلے کہی ہوئی بات سمجھ میں آ گئی کہ گائے دودھ دیتی ہے ،ووٹ نہیں۔لالو نے کہا’’ اور سمجھ بھی کیوں نہ آئے،گئو ماتا ان کی سرکار بنوانا تو دور، بنی بنائی سرکاروں کو ہلا رہی ہے‘‘۔بہو جن سماج پارٹی لیڈر سدھیندر بھدوریا نے کہا کہ بی جے پی کی زمین کھسک چکی ہے اور مودی گھبرا گئے ہیں۔ اتنی ساری ریاستوں میں ان کی سرکاریں ہیں،ان ریاستوں میں کیا کارروائی ہوئی ہے؟اپوزیشن کے حملوں پر بی جے پی کا کہناہے کہ وزیر اعظم کو جو پیغام دینا تھا انہوں نے دیا ہے۔ راشٹریہ سوئم سیوک نے وزیر اعظم کے بیان کے تئیں اپنی حمایت ظاہر کی۔ سنگھ کے جنرل سکریٹری بھیا جی جوشی نے کہا کہ گئو رکشا کے نام پر کچھ لوگ قانون ہاتھ میں لے کر سماجی ہم آہنگی بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ایسے لوگوں کو بے نقاب کئے جانے کی ضرورت ہے۔ دلتوں پر ہوئے حملوں کے تئیں سنگھ نے سرکار کو سختی سے پیش آنے کے لئے کہا ہے۔ جے ڈی یو لیڈر شرد یادو نے بھی وزیر اعظم کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گئو رکشا کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والوں پر پابندی لگائی جائے۔ شرد یادو بولے کہ وزیر اعظم نے ٹھیک کہا کہ سرکار کو گائے بچانے کا کمیشن چلانا چاہئے۔ پورے ملک میں سڑکوں پر گائے پلاسٹک کھا رہی ہے اور سب سے زیادہ گائے کی موت اسی وجہ سے ہو رہی ہے تو گئو رکشک اس کی فکر کریں، عوام قانون کواپنے ہاتھ میں نہ لیں۔
گجرات میں دلتوں کی پٹائی کا مسئلہ سرخیوں میں ہی تھا کہ راجستھان کے ہنگونیا میں سرکاری گئو شالہ میں ہزاروں گایوں کی خراب حالت میں مرنے کی خبر سامنے آئی۔ وہاں ڈھائی سال میں 27 ہزار گایوں کی موت ہوئی۔ یعنی ہر مہینے 900 گائیں مریں، یعنی یومیہ 30گایوں نے بھوک ، پیاس اور بیماری سے دم توڑا۔ ہنگونیا گئو شالہ میں نصف ماہ میں 500سے زیادہ گایوں کی موت کی خبر پھیلنے کے بعد پورا سرکاری سسٹم گئو شالہ پر جمع ہو گیا۔ سرکارافسروں نے گہری کیچڑ میں دھنسی پڑی بھوکی پیاسی گائیں دیکھیں۔ راجستھان کے چیف سکریٹری کو موقع پر بتایا گیا کہ 5دن میں ہی وہاں 200گایوں کی موت ہوئی ہے۔ گئو شالہ میں 80فیصد باڑوں کی نالیاں بند پائی گئیں۔ تقریباً سارے باڑوں میں گوبر کا انبار لگا تھا۔شہر سے گئو شالہ پہنچنے والی 90 فیصد گائیں مر گئیں۔ گئو شالہ کے آئی سی یو میں 23 اور باڑوں میں 17گائیں مری پائی گئیں۔ گئو شالہ کے 30فیصد ملازمین کام پر آتے ہی نہیں۔ گایوں کی موت کا یہ واقعہ پورا کا پورا بد عنوانی کی وجہ سے ہے۔ یہ حال بی جے پی کی حکومت والی ریاست کا ہے،جس کے لیڈر گئو رکشا کے نام پر بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں اور گائے کو قومی جانور ڈکلیئر کرنے، بیف کے کاروبار پر روک لگانے اور گائے کے گوشت کھانے والوں پر قانونی کارروائی کرنے کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ راجستھان میں بی جے پی کی سرکار ہے، لیکن ہنگونیا میں گایوں کے مرنے کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ گئو بھگت ہونے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی سرکار نے گئو کے تحفظ کے لئے کوئی خصوصی قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ہنگونیا واقعہ پر وزیر اعلیٰ کا کوئی بیان بھی نہیں آیا۔ معاملہ عدالت تک جاپہنچا اوراس واقعہ کو نوٹس میں لیا گیا۔ عدالت نے بھی سرکاری انتظام اور کارروائی کے بارے میں پوچھا۔عدالت نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ گوبر سے بنے دلدل میں پھنس کر سینکڑوں گائیں مر گئیں۔عدالت کی ہدایت پر ریاست کے اٹارنی جنرل نے گئو شالہ کا معائنہ بھی کیا اور وہاں کی بد تر حالت کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کی۔ا ٹارنی جنرل نے دیکھا کہ باڑوں میں گوبر کا بھیانک دلدل بنا تھا، جس میں گائیں مری پڑی تھیں اور بے شمار گائیں مرنے کی حالت میں تھیں۔ گوبر اور گندگی کی آمیزش ایسی تھی کہ بلڈوزر سے گائیں کھینچی جارہی تھیں۔ اٹارنی جنرل نے موقع پر رجسٹر کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ اوسطاً یومیہ 35سے 40 گایوں کی موتیں ہو رہی ہیں۔مطلب ہر مہینے 1200 گائیں مررہی ہیں۔
دلتوں کی پٹائی میں کانگریس ایم ایل اے اور سرپنچ کا ہاتھ
گجرات کے اونا میں دلتوں کی پٹائی پر ملک کے سارے لوگوں کا دھیان گیا۔ وہاں بی جے پی کی سرکار ہے، لہٰذا بی جے پی اپنی انتظامی ذمہ داریوں سے نہیں بچ سکتی۔ دلتوں کی پٹائی کے مسئلے میں جس طرح کے حقائق سامنے آرہے ہیں اور جس طرح الگ الگ سیاسی خیموں کے لوگ گرفتار ہورہے ہیں یا جن فرار لوگوں کی تلاش کی جارہی ہے، وہ اس واقعہ کے پیچھے سیاسی سازشوں کی طرف اشارہ کررہاہے۔ اس معاملے میں گرفتار تقریبا ً2 درجن لوگوں سے چونکانے والی جانکاریاں مل رہی ہیں۔ اس واقعہ میں اونا کے کانگریسی ایم ایل اے ونش پنجابھائی ،بھیم بھائی اور موٹا سمادھیال گائوں کے سرپنچ پرفلا کوراٹ کا نام سامنے آ رہا ہے۔ فون ریکارڈ سے پتہ چلا ہے کہ واقعہ کے پہلے کانگریس ایم ایل اے اور سرپنچ کے بیچ تین سو سے زیادہ بار بات ہوئی تھی۔ واقعہ کے بعد سے سرپنچ فرار ہے۔ ایم ایل اے اور سرپنچ کے بیچ کافی اچھے تعلق بتائے گئے ہیں۔ پتہ چلا کہ سرپنچ پرفل کوراٹ کا مقامی دلت خاندان سے کافی دنوں سے جھگڑا چل رہا تھا۔ جھگڑے کے پیچھے وہ زمین ہے جسے خالی کرنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔دلت خاندان اسی زمین پر مرے ہوئے جانوروں کی کھال اتارنے کا کام کیاکرتا تھا۔ دلتوں کی پٹائی کا ویڈیو بھی سرپنچ کے موبائل فون سے ہی بنایا گیا ہے۔ دلتوں کی پٹائی میں استعمال میں لائی گئی گاڑی دمن سے اونا آئی تھی۔ دمن سے اونا کی دوری6 سو کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ جانچ ہو رہی ہے کہ دلتوں کی پٹائی کرنے والے گئو رکشک دمن سے اونا کیوں آئے تھے؟دلتوں کی پٹائی کے معاملے میں مسلم نوجوان بھی ملزم ہے۔
مودی کی پھٹکا ر سیاسی ہتھکنڈہ : آئی پی ایف
وزیر اعظم نریندر مودی کی گئو رکشکوں کو پھٹکار صرف سیاسی ہتھکنڈہ ہے۔یہ کہنا ہے آل انڈیا پیپلس فرنٹ کے قومی ترجمان ایس آر داراپوری کا۔ داراپوری نے کہا کہ ملک میں گئو رکشاکمیٹیوں کی تشکیل بی جے پی کی سرپرستی میں کی گئی تھی اور انہیں مکمل سرکاری تحفظ دیا گیا تھا۔ حقیقت میں بی جے پی نے گئو رکشا کو اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے ایک ہتھیار کی شکل میں اپنایا تھا۔ اسی لئے دو سال تک پورے ملک میں گئو رکشکوں کی غنڈہ گردی مسلسل چلتی رہی۔ اس پر نہ تو کوئی موثر کارروائی ہوئی اور نہ بی جے پی کے کسی لیڈر نے کوئی رد عمل ظاہر کیا۔ گجرات میں گئو رکشکوں کے ذریعہ چار دلتوں کی پٹائی کے معاملے کو لے کر دلتوں کی ایک بڑی تحریک کھڑی ہوگئی ہے،اس کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ مستقبل قریب میں گجرات، اتر پردیش اور دیگر کئی ریاستوں میں انتخاب ہونے والے ہیں جن میں دلت مزاحمت کا اثر پڑنا ضروری ہے۔ اسی لئے مودی نے دلتوں کی ناراضگی کو کم کرنے کے لئے گئو رکشکوں کو پھٹکار لگائی ہے۔یہ صرف ایک سیاسی ہتھکنڈہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *