سعودی عرب کی گرتی معیشت بھوکے مرر ہے ہیں ہندوستانی ملازمین ،برسوں بعد بھی خالی ہاتھ وطن لوٹ رہے ہیں

وسیم احمد
p-8بہتر مستقبل کی تلاش میں جنوبی ایشیا سے بڑی تعداد میں ملازمین خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق خلیجی ممالک سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، عمان اور متحدہ عرب امارات میں تقریباً 60 لاکھ ہندوستانی شہری کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں ایک تہائی آبادی غیر ملکی شہریوں کی ہے اور ان میں ہندوستانی شہریوں کی تعداد 30لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کا نمبر آتا ہے۔ سعودی عرب میں کام کرنے والے بیشتر ہندوستانی شہریوں کا تعلق بہار، اتر پردیش،کیرل اور تلنگانہ صوبے سے ہے۔ ان ملازمین سے ہندوستان کو بڑی مقدار میں غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ 2015 میںان ملازمین نے 10.1 بلین ڈالر ہندوستان بھیجے تھے۔یہ ملازمین بڑی آرزو لے کر عرب ممالک جاتے ہیں۔مگر ان میں سے قسمت سب کا ساتھ نہیں دیتی۔ بہت سے ایسے ہیں جو وہاں پہنچ کر روٹی روٹی کو ترستے ہیں۔کفیلوں کی طرف سے استحصال کی خبریں برابر آتی رہتی ہیں۔ابھی حال ہی میں وزارت خارجہ کو10 ہزار ایسے ہندوستانی ملازمین کی اطلاع ملی جن کو کمپنی کی طرف سے کئی مہینوں سے تنخواہ نہیں دی گئی تھی جس کی وجہ سے انہیں فاقہ کشی کا سامنا تھا۔وزارت خارجہ کو ان ملازمین کی شکایت ملی تو ان کے لئے کھانے کا انتظام کیا اور انہیں ملک واپسلایا گیا۔
سعودی عرب میں ملازمین کو مشکلیں پیش آنے کی کئی وجہیں ہیں۔ ایک تو یہاں سے بھیجنے والے ایجنٹ انہیں کمپنی یا کفیل کے بارے میں صحیح اطلاع نہیں دیتے ۔بسا اوقات ان ایجنٹوں کو متعلقہ کمپنی کے تعلق سے بہت کچھ معلوم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا پریشانی آنے کی صورت میں وہ متعلقہ ملازم کی کوئی مدد نہیں کرپاتے ہیں۔لیکن اس میں سب سے اہم ہے سعودی عرب کا قانون۔وہاں کا قانون کچھ ایسا پیچیدہ ہے کہ جب بھی اس طرح کا معاملہ آتا ہے تو گاج گرتی ہے بیچارے غیر ملکی ملازمین پر ہی۔وہاں کے قانون میں کفیل کو بڑے اختیار دیئے گئے ہیں ۔اگر کوئی کمپنی بھاگ جائے تو ملازم اس وقت تک ملک سے باہر نہیں نکل سکتا جب تک کہ متعلقہ کمپنی کی طرف سے اس ملازم کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی )نہ مل جائے۔اس کے علاوہ ملازم کے تمام کاغذات ، پاسپورٹ وغیرہ بھی کفیل کے پاس ہی جمع ہوتے ہیں۔کوئی ملازم این او سی کے بغیر کسی دوسری کمپنی میں کام بھی نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی اپنا شہر چھوڑ کر کسی اور شہر میں جاسکتا ہے جس کی وجہ سے ملازم سعودی عرب پہنچنے کے بعد خود کو بہت بے بس پاتا ہے، خاص طور پر اگر اس کی اپنی کمپنی یا کفیل کے پاس کوئی کام نہ ہو یا اسے معاہدے کے مطابق تنخواہ اور دیگر سہولتیں نہ دی جارہی ہوں ۔
ابھی حال ہی میں جدہ بیسڈ مشہور کنسٹرکشن کمپنی ’’ اوجر‘‘ میں تقریبا 2450ہندوستانی ملازمین کو انہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔یہ کمپنی دیوالیہ ہوکر اپنا دفتر بند کرچکی ہے۔اس نے اپنے ملازمین کو تقریبا 7 ماہ سے تنخواہ نہیں دی ہے۔پانی سر سے اونچا اس وقت ہوگیا جب اس کمپنی نے اپنے ملازمین کو میس کے ذریعہ جو کھانا فراہم کررہی تھی 25جولائی سے اس نے کھانا دینا بھی بند کردیا۔ایک تو تنخواہ نہیں اوپر سے کھانا بھی نہیں ۔جب فاقہ کشی ہونے لگی تو ان ملازمین نے ہندوستانی حکومت سے مدد کی اپیل کی ۔ چونکہ اس طرح کے مسائل کا سامنا ہندوستان کے دس ہزار ملازمین کررہے تھے، لہٰذا حکومت فوری طور پر حرکت میں آئی۔ ان کے مسائل کو سلجھانے کے لئے وزیر برائے امور خارجہ امور وی کے سنگھ سعودی عرب گئے اور متعلقہ کمپنیوں سے بات کی۔ ان ملازمین کو ملک واپس لانے میں سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ ان میں سے کسی کے پاس کمپنی کی طرف سے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ نہیں تھا جبکہ سعودی قانون بغیر این او سی کے کسی بھی ملازم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دیتا۔یہ صورت حال ہندوستان کے لئے پریشان کن تھی ۔لیکن خصوصی اختیارات کا استعمال کرکے کنٹریکٹ کیا گیا اور پھر ان ملازمین کو واپس ملک لایا گیا۔لیکن ملک واپس آنے کے بعد بد قسمتی نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا ہے۔ وہ قرض اور انٹریسٹ پر پیسے لے کر سعودی عرب گئے تھے۔لیکن اب جب واپس آئے ہیں تو ان کا ہاتھ خالی ہے ۔وہ ان قرضوں کو کیسے ادا کریں؟اپنا گھر کیسے چلائیں ؟ان کی سمجھ سے باہر ہے۔حالانکہ ہندوستان کی حکومت کے سامنے یہ سب مسائل تھے، لہٰذا حکومت نے ان ملازمین کو ملک واپس لانے سے پہلے یہ کنٹریکٹ کیا ہے کہ سعودی عرب جب بھی ’اوجر‘ کا حساب کتاب مکمل کرے گی تو ان ملازمین کی بقیہ تنخواہیں ترجیحی بنیاد پر ادا کی جائے گی۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ70کی دہائی سے ہی جنوبی ایشیا کے ملازمین خلیجی ممالک کا سفر کرتے چلے آرہے ہیں۔وہاں جانے کے بعد ان کے لئے خوشحالی کے دروازے کھل جاتے تھے۔وہ نہ صرف خلیجی ملکوں کو اپنے ہنر سے ترقی دے رہے تھے بلکہ اپنے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے ، پھر اچانک کیا ہوا کہ اب وہاں بن لادن اور اوجر جیسی بڑی کمپنیاں اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے سے قاصر ہیں؟قابل ذکر ہے کہ بن لادن نے اپنے مجموعی ملازمین میں سے تقریبا 50 ہزار ملازمین کو باہر کردیا ہے اور’ اوجر‘ جیسی کمپنی اپنے ملازمین کا میس تک چلانے سے قاصر ہوگئی ہے۔
دراصل اس کے پیچھے سعودی عرب کی پالیسی ہے۔سعودی عرب کا اقتصادی انحصار تیل پر ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بہت کم ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے تیل کی گرتی قیمت کی وجہ سے قومی آمدنی میں زبردست کمی آئی ہے۔دوسری طرف یمن یورش کی وجہ سے اس کے اوپر اربو ں ڈالر کا بوجھ پڑا ہے۔مصر میں اخوان کی حکومت کا تختہ پلٹنے اور السیسی حکومت کو فوجی طاقت پہنچانے کے لئے بڑی مالی امداد دینا۔نیز شام میں بشار حکومت کا تختہ پلٹنے کے لئے جنگجوئوں کو تعاون کرنا۔سعودی عرب نے بشار حکومت کے خاتمے کے لئے امریکہ سے اپیل کی تھی۔امریکہ کی طرف سے انکار کے بعد سمجھا جارہا ہے کہ سعودی عرب جنگجوئوں کی مالی مدد کررہا ہے اور اس کے علاوہ داعش کی طرف سے سعودی عرب کے کئی شہروں میں حملے اور قطیف کے علاقہ میں شیعہ طبقہ کی طرف سے بغاوت کے آثار کے پیش نظر اسے سیکورٹی پر اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ظاہر ہے یہ تمام صورت حال سعودی عرب کی معیشت کو تیزی سے کمزور کرتی جارہی ہے جس کا اثر ریئل اسٹیٹ پر بھی پڑرہا ہے اور کنسٹرکشن کمپنیوں کا دائرہ سمٹتا جارہا ہے۔حکومت ان کمپنیوں کی بقایا جات ادا نہیں کرپارہی ہے جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں نہ صرف اپنا کام سمیٹ رہی ہیں بلکہ اپنے ملازمین کی بقیہ تنخواہیں بھی ادا نہیں کررہی ہیں۔
سعودی حکومت انفراسٹرکچر پراجیکٹ کا بڑا ذریعہ ہے لیکن یہ اپنے بجٹ خسارے پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے جس کے نتیجے میں تعمیراتی سرگرمیاںبند یا سست ہو رہی ہیں، جبکہ دیگر شعبہ جات میں بھی ملازمین تعداد کم کر نے کی مہم جاری ہے۔سعودی عرب کی ٹاپ 10 کنسٹرکشن کمپنیوں میں سے کچھ تیل کے عالمی بحران سے پہلے ہی متاثر ہو چکی تھیں جس کی طرف پہلے سے ہی کئی ماہرین نے اشارہ کیا تھا۔سعودی عرب میں کام کرنے والے’’ فلپائنی رائٹس گروپ یو نائٹڈ اوورسیز فلپینوز ورلڈ وائڈ ‘‘کے کنوینر جان لیونرڈ مونٹی رونا نے اشارہ کیا تھا کہ’’ سعودی عرب کے حالات کو دیکھتے ہوئے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی ایک بڑی تعداد نوکریوں سے محروم ہونے والی ہے‘‘۔ لیکن سعودی عرب نے اس جیسی پیشن گوئیوں پر کوئی توجہ نہیں دی اور قومی آمدنی کم ہونے کے باوجود بیرونی پالیسی میں تبدیل نہ کرکے اربوں ڈالر شام ، مصر اور یمن میں لگا دیا۔آج اس کے اثرات نہ صرف ہندوستانی ملازمین پر پڑرہے ہیںبلکہ پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے ورکر پر بھی پڑ رہے ہیں۔عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی کمپنی ’’اوجر‘‘ کے گزشتہ 7ماہ سے تنخواہ نہ دینے پر پاکستانیوں سمیت سینکڑوں غیرملکی ورکرز نے کمپنی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ۔ورکرز نے جدہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس سے شہر کا ٹریفک جام ہوگیا۔ بعدازاں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کردیا۔ ریئل اسٹیٹ کے ٹھپ ہونے کی وجہ سے 8 ہزار سے زیادہ فلپائنی بے روزگار ہوچکے ہیں اور اب وہ اپنے ملک لوٹنے کی تیاری میں ہیں،بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ملازمین بھی بڑی تعداد میں بے روزگار ہوکر اپنے وطن لوٹ رہے ہیں۔بہر کیف ان ملازمین کو ملک واپس تو لایا گیا ہے مگر گلف کی جو صورت حال ہے اس کو دیکھتے ہوئے بقیہ ملازمین کے بارے میں بھی حکومت ہند کو سوچنا ہوگا۔نہ صرف ان کو وہاں سے لانے کا مسئلہ ہے بلکہ یہ بھی دیکھناہوگا کہ اتنی بڑی تعداد کو ملک واپس آنے کے بعد ان کو ایڈجسٹ کیسے کیا جائے اور ان کے روزگارکے لئے کیا بندوبست ہو۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *