دلتوں کے ساتھ یہ سلوک افسوس ناک ہے

گجرات کے اونا کی افسوس ناک واردات نے بیدار عوام اور پارلیمنٹ کی سوچ کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آزادی کے اتنے سالوں کے بعد بھی اس ملک میں دلتوں کے ساتھ اونچی ذاتوں کے ذریعہ اچھا سلوک نہیں ہو رہا ہے۔ یہ ایک سماجی مدعا ہے۔ جہان تک سرکار کا سوال ہے، تو امن و قانون بنائے رکھنا چاہیے اور قانون کے کسی بھی خلاف ورزی کی حالات میں پولیس اور ضلع انتظامیہ کو سختی سے نمٹناچاہئے۔ بی جے پی کا اقتدار میں ہونااور عام طور پر اونچی ذاتوں کی پارٹی خیال کیا جانا معاملے کو مزیدالجھاتا ہے۔ اگر اس معاملے پر کارروائی نہیں کی جاتی ہے اور اس کو فیصلہ کن طریقے سے کچلا نہیں جاتا تو اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ انتظامیہ معاملے کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے، اور یہ سب بی جے پی کے حق میں نہیں جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اس طرح کی چیزیںمقامی اشتعال اور مقامی حالات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس میں ریاستی اہلکاروں کا کوئی کردار نہیں ہوتا اور مرکزی اہلکاروں کا تو بالکل نہیں۔ لیکن کیا کارروائی کی گئی اور کتنی تیزی سے کارروائی کی گئی اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ سب کیوں اورکیسے ہوا؟ بے سرکار نے پارلیمنٹ کو یقین دلایا ہے کہ وہ کارروائی کریں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس معاملے میں فوری کارروائی ہوگی۔ ویسے کاررائی جتنی جلد ہوگی، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

اتر پردیش بی جے پی کے ریاستی اکائی کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ نے ایک افسوسناک بیان میاوتی جی کے خلاف دیا ہے۔ دیا شنکر سنگھ نے ان کے خلاف غیرمناسب زبان کا استعمال کیا ہے۔ بے شک لیڈر آف دی ہائوس ارون جیٹلی نے واضح کیا اس واقعے سے انہیں ذاتی طور پر تکلیف پہنچی ہے، ان کی پارٹی کو تکلیف پہنچی ہے اور وہ یہاں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔ دیا شنکر کا بی جے پی سے نکالا جانا اور ان کی پرائمری ممبرشپ ختم کرنا صحیح سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔جیسا کہ میں اپنے پچھلے دو تین کالموں میں لکھ رہا ہوں کہ اگر بی جے پی ایک لمبے وقت تک برسراقتدار پارٹی بنے رہنا چاہتی ہے تو اسے آر ایس ایس، وی ایچ پی، بجرنگ دل وغیرہ کو روکنا ہوگااور کنٹرول کرنا ہوگا۔ بھلے وہ چاہیں تو اپنے ہندوتو کے ایجنڈے کا پروموشن کرتے رہیں، لیکن غیرمناسب زبان کا استعمال اور انتظامی ماحول کو آلودہ کرنے کی کوشش سے بی جے پی کو مدد نہیں ملنے والی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں کانگریس کو بی جے پی کے مقابلے میں فائدہ تھا۔ علاقائی پارٹیوں کے برخلاف (جیسا کہ جنتا دل بنیادی طور پر پسماندہ ذاتوں کی پارٹی ہے، پی ایس پی بنیادی طور پر دلیتوں کی پارٹی ہے) کانگریس سماج کے ہر طبقہ کی پارٹی رہی ہے۔ ایسا فطری بھی ہے کیوںکہ آزادی کی لڑائی مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور مولانا آزاد وغیرہ کی قیادت میں لڑی گئی تھی۔آئین میں جو باتیں درج ہیں ان میں زیادہ تر1947سے پہلے کانگریس کی قرارداوں میں شامل تھیں۔
بی جے پی کا یہ کہنا بالکل ٹھیک تھا کہ ہم آپ کو ایک متبادل حکومت دیںگے اور یوپی اے کے دس سال کی حکومت کے بعد عوام نے اقتدار بی جے پی کو سنوپ دیا۔لیکن بی جے پی کو محتاط رہنا چاہیے۔ اسے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ لوگوں نے آئین کو یا جنگ آزادی کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایسی باتیں حقیقت سے دور ہیں۔ ہاں، لوگ بہتر حکومت چاہتے ہیں۔ منہگائی کی بڑھتی ہوئی شرح سے سب سے زیادہ پریشان غریب ہوتا ہے۔ بدعنوانی ایک خراب ماحول پیدا کرتی ہے۔ شاید انہیں وجوہ کی بنا پر بی جے پی کو لوک سبھا کی 282سیٹیں مل گئیں۔ لیکن ایک بار جب آپ حکومت میں آ جاتے ہیں تو آپ انتخابی مہم کی حالت میں نہیں رہ سکتے ہیں۔ اب آپ سرکار چلا رہے ہیں اور جب آپ سنجیدگی سے حکومت کرتے ہیں تب آپ کے متبادل محدود ہوتے ہیں۔ ہندوستان جیسیپیچیدہ ملک میں شاید معمولی جھجھک کے ساتھ آپ یہ تسلیم کریں گے کہ کانگریس نے ایسی حالت میں اعلٰی متبادل کا استعمال کیا۔بے شک کوئی بھی کام پہلے سے بہتر کیا جا سکتا ہے اور بی جے پی کو کانگریس سے بہتر کرنا ہے۔یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعہ بی جے پی لوگوں کو سمجھا سکتی ہے کہ وہ صر ف بہتر حکومت دینے آئے ہیں نہ کہ شور غل کرنے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *