کرکٹ میں تاریخ ساز ریکارڈ بنانے والے لٹل ماسٹر نہیں رہے

شاہد نعیم
p-12اپنے شاندارکھیل اور تاریخ ساز ریکارڈز کی بدولت لٹل ماسٹر کا خطاب پانے والے پاکستان کرکٹ کے عظیم ترین بلے باز حنیف محمد خاں 81 سال کی عمر میں اس دار فانی سے 11 اگست کو رخصت ہوگئے۔ مرحوم کافی عرصہ سے بستر علالت پر تھے۔ 2013 میں ان کی لندن میں سرجری ہوئی اور وہ ٹھیک بھی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں انھیں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی، جس کی وجہ سے انھیں سانس آنے میں دشواری ہورہی تھی ۔ گزشتہ دنوں ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی، تو انھیں کراچی کے ایک نجی اسپتال میں لے جایا گیا، جہاں کئی دنوں تک وہ موت اور زندگی کی کشمکش میںمبتلا رہے۔ بالآخر وہ زندگی کی جنگ ہار گئے۔
حنیف محمد خاں 21 دسمبر 1952 کو جونا گڑھ (ہندوستان) میںپیدا ہوئے۔ ملک کا بٹوارہ ہونے کے بعد ان کا خاندان پاکستان چلا گیا۔ حنیف محمد خاںکوپاکستان کرکٹ کی اولین ٹیسٹ ٹیم کی نمائندگی کرنے کا بھی شرف حاصل ہے۔انھوں نے 16 اکتوبر 1952 کو ہندوستان کے خلاف دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کیا اور اپنی پہلی ہی اننگز میں اوپنر کی حیثیت سے 51 رن بنائے۔

 

برج ٹاؤن ٹیسٹ میںفالوآن کے بعد کھیلی جانے والی اننگ میںحنیف محمد خاں 990 منٹ تک کریز پر کھڑے رہے اور اس دوران انھوں نے 337 رن بناکر کرکٹ کی تاریخ میںایک نیا ریکارڈ رقم کیا، جو آج تک ناقابل تسخیر ریکارڈ ہے۔

مرحوم حنیف محمد خاںنے 1952سے 1969 تک 55 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اپنے ٹیسٹ کیریئر کے 55 میچوںکی 97 اننگز میںانھوں نے 43.98 کی اوسط سے مجموعی طور پر 3915 رن بنائے، جن میں12 سنچریز اور 15 ہاف سنچریز شامل ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میںانھوںنے 499 رنز کی اننگ کھیل کر سرڈان بریڈ میں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ 1957-58 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں برج ٹاؤن ٹیسٹ میں انھوں نے ایسی تاریخ ساز طویل ترین اننگ کھیلی ، جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں آج بھی ناقابل تسخیر ریکارڈ ہے۔
برج ٹاؤن ٹیسٹ میںفالوآن کے بعد کھیلی جانے والی اننگ میںحنیف محمد خاں 990 منٹ تک کریز پر ڈٹے رہے اور اس دوران انھوں نے 337 رن بناکر کرکٹ کی تاریخ میںایک نیا ریکارڈ رقم کیا، جو آج تک ناقابل تسخیر ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ انھیں ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگ میں ٹرپل سنچری اسکور کرنے کا اعزاز بھی حاصل تھا، جس کا ریکارڈ نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن میکولم نے 2014 میںہندوستان کے خلاف دوسری اننگ میں ٹرپل سنچری بناکر اپنے نام درج کرلیا۔ان کے علاوہ حنیف محمد کے ایسے بہت سے کارنامے ہیں،جن کی بدولت انھیں آئی سی سی کے ہال آف فیم میںشاملکیا گیا تھا۔
پاکستان کی کرکٹ میں محمد برادران کا نام بڑے احترام او رقدر ومنزلت سے لیا جاتا ہے۔ محمد گھرانے نے پاکستان کرکٹ کو حنیف محمد خاں، مشتاق محمد خاں، صادق محمد خاں اور شعیب محمد خان جیسے عظیم کھلاڑی دیے ، جنھوں نے عالمی سطح پر شاندار کھیل پیش کرکے نہ صرف اپنا بلکہ ملک و قوم کا نام روشن کیا۔ مشتاق محمد خاں، صادق محمد خاں، حنیف محمد خاں کے بھائی تھے، جبکہ شعیب محمد خاں ان کے بیٹے تھے۔ حنیف محمد خاں کی خوبی یہ تھی کہ جب پاکستانی ٹیم کی اننگ لڑکھڑاتی، تو ایسے میں وہ مرد آہن کی طرح کریز پر کھڑے ہوجاتے اور اپنے کھیل کی خوبصورت تکنیک کے سہارے بڑے بڑے بالروں کے چھکے چھڑادیتے اور اپنی ٹیم کو مشکل کی گھڑی سے باہر نکال لے جاتے۔
حنیف محمد پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں سے نالاں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بیٹس مینوں کو آخر کس بات کی جلدی ہوتی ہے کہ وہ اسٹروک کے لیے مناسب گیند کا انتظار کرنے کے بجائے باہر جاتی گیندوں سے چھیڑ چھاڑ کرکے اپنی وکٹ گنوا دیتے ہیں۔ وہ پاکستان کی موجودہ ٹیسٹ ٹیم میںیونس خاںکو بہت پسند کرتے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دوسال قبل جب وہ اپنی سالگرہ منا رہے تھے، تو یونس خاں کے آنے تک انھوں نے کیک نہیںکاٹا۔ جب یونس خاں سالگرہ کی تقریب میں آگئے، تبھی انھوںنے کیک کاٹا۔ یونس خاں بھی ان سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔ انھوں نے بھی جمعہ کے دن یعنی جب حنیف محمد خاں کی تدفین ہورہی تھی، تب انگلینڈ میںانگلینڈ کے خلاف ہی ڈبل سنچری لگاکر ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔
حنیف محمد خاں کی رحلت یقینی طورپر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیائے کرکٹ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ دنیا سے چلے گئے ، لیکن دنیائے کرکٹ میں ان کے تاریخ ساز ریکارڈ ز آج بھی درج ہیں، جو ہمیشہ یاد رکھیں جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت کرے ، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کوصبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *