بلندشہر اجتماعی عصمت دری واقعہ اوراعظم کا بیان دونوںہی افسوسناک

صوفی یاور
p-10اترپردیش کے بلندشہر میںگاڑی روک کر خاندان والوں کے سامنے خاتون اور 13 سال کی بیٹی کے ساتھ عصمت دری کے واقعہ سے پورا ملک افسردہ ہے۔ ایسے میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور وزیر اعظم خان نے اس بھیانک عصمت دری واقعہ کو اپوزیشن کی سازش کہہ کر ایس پی کے تابوت میں کیل ٹھوک دی۔ایس پی کے لیڈر خود ہی دبی زبان سے کہہ رہے ہیںکہ ایس پی کا نقصان جتنا اعظم خان نے کیا ہے، اُتنا نقصان اس کے دشمنوں نے نہیںکیا۔ اعظم خان کے بیان سے خود ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور یگرسینئر لیڈر حیران ہیں۔ انھیں سمجھ میںنہیںآرہا ہے کہ اعظم خان کے بیان سے سماجوادی پارٹی کا بینر جتناپھٹا ہے، اس کا رفوکیسے ہو؟
بلندشہر کا واقعہ اپوزیشن کی سازش ہے، ایسا کہہ کر اعظم خان نے ملک اور ریاست کو اپنے بنیادی کردار سے بھی متعارف کرادیا ہے۔اعظم نے واقعہ کو اپوزیشن کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جانچ کرانی چاہیے کہ کہیں یہ معاملہ سیاست سے تحریک پاکر سرکار کو بدنام کرنے کے لیے تو نہیںکیا گیا۔ ایسے حساس موقع پر اعظم نے اپنے گرنے کی سطح کا دھیان رکھے بغیر کہا کہ اس وقت اپوزیشن کسی بھی حد تک گر سکتی ہے۔ اعظم کو برخاست کرنے اور قانونی کارروائی کیے جانے کی مانگیں اٹھنے لگی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اپنے بیان پر افسوس جتانے کی رسم نبھاتے ہوئے بھی اعظم نے دوبارہ کہا کہ یوپی میں انتخاب قریب ہے اور اتنی سارے واقعات جو ہورہے ہیں، ان کی جانچ ضروری ہے۔ اعظم نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں جو اقتدار میں آنا چاہتی ہیں، کہیں وہ سرکار کو بدنام کرنے کے لیے تو یہ بدکاری نہیں کررہی ہیں۔ اعظم آگے بولے کہ سیاست میں اب اتنی گراوٹ آگئی ہے کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اعظم کے بیان سے اجتماعی عصمت دری کے واقعہ سے متاثرہ خاندان کی تکلیف اور بڑھ گئی۔ اعظم کے متنازع بیان پر متاثرہ خاندن نے غصہ کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس نے اس تکلیف کو جھیلا ہے، اس کے دکھ اور صدمے کو کوئی حساس شخص ہی سمجھ سکتا ہے ۔ متاثرہ بچی کے والد نے پوچھا کہ اگر اعظم خان کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہوتا، تو تب بھی وہ ایسا ہی بیان دیتے۔ بچی کے والد نے کہا کہ ہمیں سیاست نہیں ، انصاف چاہیے۔واقعہ کے بعد سے صدمے کے سبب ان کی بیٹی ایک لفظ بھی نہیںبول پائی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 29 جولائی کی رات کو نوئیڈا سیکٹر 68- میں رہنے والا ایک خاندان اپنے آبائی گاؤ ں شاہ جہاںپور جارہا تھا۔ رات کے تقریباً ڈیڑھ بجے ان کی کار جیسے ہی بلند شہر کے دوست پور گاؤںکے فلائی اوور کے پاس پہنچی، تبھی ان کی گاڑی میں کچھ ٹکرانے کی آواز آئی۔ گاڑی چیک کرنے کے لیے جیسے ہی دونوںبھائی نیچے اترے، تبھی آدھا درجن سے زیادہ مسلح بدمعاشوں نے انھیںیرغمال بنالیا اور ہتھیاروںکے دم پر کار کو ویران کھیت میں اتار کر لے گئے۔ خاندان والوں کے سامنے ہی مجرموںنے ماں بیٹی کے ساتھ اجتماعی عصمت دی کی۔المیہ یہ ہے کہ جائے وقوع پولیس چوکی سے محض سو میٹرکے فاصلے پر واقع ہے اور 100 نمبر پر بار بار فون کیے جانے کے باوجود پولیس صبح ساڑھے پانچ بجے موقع پر پہنچی۔ پولیس پر سنگین کوتاہی کا الزام ہے۔ اس واقعہ کو لے کر اترپردیش کے لاء اینڈ آرڈر پر ملک بھر میںتھوتھو ہوئی۔ بلند شہر اجتماعی عصمت دری کیس لوک سبھامیںبھی گونجا، لیکن اکھلیش سرکار پر مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی خاص مہربانی کے سبب مرکزنے ریاستی سرکار کو لاء اینڈ آرڈر کی ایسی جہالت پر آڑے ہاتھوںلینے سے کنی کاٹ لی۔
قومی خواتین کمیشن نے اس معاملے پر اکھلیش سرکار پر سوال ضرور اٹھائے۔ خواتین کمیشن کی چیئر پرسن للت کمار منگلم نے ریاست کے لاء اینڈ آرڈر سے لے کراجتماعی عصمت دری کے واقعے، مجرموں کی جرأت اور پولیس کے کردار پر گہری ناراضگی کا اظہار کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھی ریاست میںبگڑے ہوئے نظم و نسق کے لیے اکھلیش سرکار کی سخت تنقید کی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بھولا سنگھ نے اعظم جیسے لوگوںکے لیڈر ہونے پر ہی سوال اٹھایا اور کہا کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی مجرموں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ انھوںنے کہا کہ صرف یہی ایک واقعہ نہیںہے، بلکہ اتر پردیش میںمارچ 2015سے لے کر اب تک عصمت دری کے 2752 اور قتل کے 1246 واقعات ہوچکے ہیں۔ سارے جرائم ریاستی سرکار کے تحفظ میں ہورہے ہیں۔ سرکار کے دباؤ کی وجہ سے پولیس انتظامیہ مجرموں کے خلاف کارروائی نہیںکرپارہا ہے۔ بھولا سنگھ نے ریاست کے وزیر اعلیٰ سے استعفے کی مانگ کی۔ بی جے پی نے بلند شہر کے واقعہ کو ریاست میں پھیلے غنڈہ راج کا نمونہ قرار دیا۔ کانگریسی لیڈر رینوکا چودھری نے بھی کہا کہ اعظم کا بیان مجرموں کا حوصلہ بڑھانے والا بیان ہے۔ اترپردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے ریاست کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے استعفیٰ مانگا اور کہا کہ ان سے اتر پردیش نہیںسنبھل رہا ہے، لہٰذا انھیںاخلاقی طور پر وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اترپردیش کانگریس کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی دعویدار بنائی گئیں دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت نے کہا کہ یو پی کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اب تک جو کیا ہے، اسے کنارے رکھیے، اکیلے بلندشہر کا واقعہ ہی انتہائی المناک اور شرمناک ہے۔ اگر ایسے معاملوںمیں پولیس متاثرین کی مدد نہ کرے، تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ یوپی میں نظم و نسق کی حالت کتنی خراب ہے ریاست میں لوگ کس طر ح خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔
اترپردیش کے پولیس ڈائریکٹر جنرل جاوید احمد نے کہا کہ متاثرین نے فریدآباد کے باشندے ببلو چند باوریاکو پہچان لیا ہے۔ ایک اور ملزم نریش سنگھ پنجاب کے بھٹنڈہ کا رہنے والا ہے۔ تیسرا ملزم رئیس احمد جائے واردات کے پاس سُتاری گاؤںکا رہنے والا ہے۔ تین میں سے ایک کا مجرمانہ ریکارڈ رہا ہے اور وہ جیل میں بھی کچھ وقت گزار چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہوں یا ڈی جی پی، اترپردیش کے نظم و نسق کی حالت زار پر کوئی بولنے کی پوزیشن میںنہیںہے۔ مغربی اتر پردیش کے میرٹھ، اٹاوہ، مین پوری، غازی آباد، بلند شہر سمیت کئی ضلعے جرائم کے لیے بری طرح بدنام ہیں۔
عصمت دری میںنام کمارہا ہے اترپردیش
اترپردیش کے بلندشہر میںنیشنل ہائی وے پر ماں بیٹی کے ساتھ ہوئے اجتماعی عصمت در ی کے واقعے نے پورے ملک کا دھیان اترپردیش کے بدتر لاء اینڈ آرڈر کی طرف کھینچا ہے۔ جائے وقوع اور پولیس چوکی کا فاصلہ تقریباً سو میٹرہے۔ اطلاع ملنے کے باوجود پولیس کے موقع پر نہیںپہنچنے کی حرکت نے پولیس کے تئیںلوگوںمیںعدم اعتماد کو اور گہرا بنادیا ہے۔اس سے مجرموں کا حوصلہ بڑھ گیا ہے۔
سرکار ی اعداد وشمار بتاتے ہیںکہ اتر پردیش میں سال 2014 سے 2015 کے بیچ عصمت دری کے معاملوں میں 161 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اترپردیش اسٹیٹ کرائم بیورو کے اعدادو شمار کے مطابق 2014 میںریاست میں3467 عصمت دری کی وارداتیں ہوئی تھیں۔ سال 2015 میںعصمت دری کے واقعات بڑھ کر9075 ہوگئے۔ عصمت دری کے واقعات کا گراف لگاتار بڑھنے کی طرف گامزن ہے۔عصمت دری کی کوشش کے واقعات میںبھی 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے 2014 کے اعداد و شمار بتاتے ہیںکہ ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے اترپردیش میں ہر سال عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور یہ قومی اوسط سے تقریباً دوگنا ہے۔ پورے ملک میں 2010 میں عصمت دری کی 22,172 وارداتیں درج ہوئیں اور اکیلے اترپردیش میں اس درمیان 1563 وارداتیںدرج ہوئیں۔ ملک بھر میں سال 2014 میںعصمت دری کی 36,735 وارداتیں ہوئیں، جبکہ اکیلے یوپی میں سال 2014 کے دوران عصمت دری کے 3467 واقعات درج ہوئے۔اس طرح اتر پردیش میںعصمت دری کے واقعات میں121 فیصد کا اضافہ درج ہوا۔ یہ سال 2016 میںابھی سے 160 فیصد سے اوپر جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *