بہار: پل در پل ،پھر بھی منزل سے دور کوسی کے باشندے

راجیش سنہا

گائوں ، قصبے اور شہر کے ساتھ ساتھ بہا ر کی راجدھانی پٹنہ کو ایک دھاگے میں پیرونے کی مرکز ی اور ریاستی سرکار کی مہم جاری ہے ،لیکن کوسی کے قہر اور لہر کے آگے سرکاروں کا دم پھول رہا ہے۔سونم نکی پل کا افتتاح کرکے بہار کی سرکار کوسی کے علاقے کی ترقی کے امکانات دیکھ رہی تھی لیکن کوسی کے قہر نے ان امکانات پر بریک لگانا شروع کردیاہے۔آئے تفصیل سے دیکھتے ہیں وہاں صحیح صورت حال کیا ہے اور کتنی راحت مل پاتی ہے وہاں کے باشندوں کو۔

p-9کوسی کی لائف لائن بی پی منڈل پل وقت سے پہلے جواب دے گیا۔ 42.5 کروڑ کی لاگت سے تعمیر سونم نکی پل کوسی اور باگمتی ندی پر دیگر دو پل نہیں بن پانے کی وجہ سے کوسی کی لائف لائن تو نہیں بن سکی، البتہ لائف لائن پل مانے جانے والے بی پی منڈل پل کو بچانے کے چکر میں 17کروڑ روپے کوسی ضرور بہا لے گئی۔ حالات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 17کروڑ روپے محض 17دنوں کے اندر کوسی میں بہہ جانے کے بعد بھی کوسی کے رہنے والوں کے لئے آمدو رفت بحال نہیں ہوسکی ہے اور کوسی ، کملا اور باگمتی کا دیارا علاقہ سونم مکی پل بننے کے بعد بھی ترقی کے معاملے میں حاشئے پر ہی ہے۔ ترقی کے معاملے میں حاشیہ پر کھڑے سہرسہ ،مدھے پورا، سوپول ، کھگڑیا سمیت کوسی کے دیگر علاقوں میں سڑک اور پل یا پولیہ کی مسلسل تعمیر کرکے بھلے ہی کوسی کو راجدھانی سے جوڑنے کی مہم چلائی جارہی ہے، لیکن کوسی کی مکمل ترقی کی راہ کے کانٹے کو ہٹایا جانا ابھی باقی ہے۔
2013 کے 16نومبر کو بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سونم نکی گھاٹ پر منعقد اجلاس کے دوران سونم نکی پل کا سنگ بنیاد رکھا اور 42.5 کروڑ کی لاگت سے 457 میٹر لمبا اور 24میٹر چوڑا 19پایوں والے ٹو لین پل کے 30 ماہ کے اندر پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ مقررہ وقت سے پہلے ہی تیار کر دیئے گئے پل کو عوام کے حوالے کرکے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور ان کے ڈپٹی تیجسوی یادو نے علاقے کی مکمل ترقی کا دعویٰ کیا تھا۔
کہا گیا تھا کہ کوسی، کملا اور باگمتی کے علاقے کو جوڑنے والا یہ پل ترقی کے معاملے میں میل کا پتھر ثابت ہوگا۔ شمالی ماڑر، سونم نکی، مدھورا، چھمسیا ، بلور، چھیما، بوجھ گسکا، کھیری کھوٹہا، سمراہا، مور کاہی، اموسی، موہن پور، بھرمی سمیت کھگڑیا اور سہرسہ کے دیگر علاقوں میںخوب ترقی ہونے کا قیاس بھی لگایا گیا، لیکن سوگرکول سمیت دیگر دو پل کی تعمیر نہیں ہونے سے سونم نکی پل علاقے کی ترقی کی راہ ہموار نہیں کرسکی۔ نتیجتاً کوسی، باگمتی سمیت دیگر ندیوں کے پیٹ سے نکلی زمین پر مالکانہ حق جتانے کے عوض میں اکثر خون سے لال ہوتی رہی کوسی کی زمین آج تک ترقی کے معاملے میں بنجر ہی ثابت ہوتی رہی ہے۔
یہ بات الگ ہے کہ صنعت سے خالی کوسی علاقے میں ترقی کی رفتار تیز کرنے کے خیال سے 1984-85 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ چند شیکھر سنگھ کے ذریعہ کوسی ، باگمتی ندی کے سنگم پر تعمیر ہونے والے ڈومری پل کا افتتاح کئے جاتے ہی کوسی کے باشندوں کی بانچھ کھل گئی تھی اور ترقی کا تارا نزدیک دکھائی دینے لگا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ لالو پرساد کے ذریعہ 1990 میں ڈومری پل کو عوام کے حوالے کئے جانے کے بعد تو گویا کوسی کی ترقی کا دروازہ ہی کھل گیا،لیکن کوسی کی تباہی کے آگے کوسی کے باشندوں کا خواب 20برسوں میں ہی چکنا چور ہوکر رہ گیا۔ کوسی کی خوفناک شکل کو دیکھ کر ڈومری پل کے تین پائے جواب دے گئے اور پل کے وجود پر خطرے کا بادل منڈلانے لگا۔ کروڑوں روپے خرچ کئے جانے کے بعد بھی جب بی پی منڈل پل پر آمدو رفت بحال نہیں کی جاسکی، تب تقریباً 17کروڑ کی لاگت سے اس وقت اسٹیل پائل برج کی تعمیر کرائی گئی ۔محض ایک سال کے لئے بنائے گئے اس اسٹیل پائل برج کا حال یہ ہوا کہ 17دن تک بھی یہ پل اپنے زندہ ہونے کا ثبوت نہیں دے سکا اور کوسی کی تیز دھار میں نیست و نابود ہو گیا۔
کوسی کی لائف لائن مانے جانے والے اس پل کے منہدم ہوتے ہی ایک بار پھر کوسی کی کاروباری صورتحال چرمرانے لگی۔ مقامی لوگوں کے ذریعہ تحریک کا تانا بانا بنے جانے کے درمیان سرکاری سطح پر فیری(چھوٹی کشتی) سروس بحال کرکے لوگوں کی آمدو رفت کی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔لیکن ’جوں جوں دوا کی، مرض بڑھتا ہی گیا‘کے طرز پر کوسی کے باشندوں کی پریشانی بڑھتی گئی۔ چھوٹی بڑی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو کشی کے ذریعہ اس پار سے اس پار کرا کر کسی طرح کوسی کے لوگوں کی زندگی کو سنوارنے کی کوشش بھی کام نہیں آئی۔
دھیرے دھیرے صورتحال سنگین ہوتی جارہی صورت حال سے نجات پانے کے لئے ریاستی سرکار کے ذریعہ ڈومری اسٹیل پائل برج پر مرمت کا کام کراکر کسی طرح چھوٹی گاڑیوں کی آمدو رفت کے لائق بنایا گیا،لیکن اس کے بعد سرکاری بے حسی کی وجہ سے ڈومری پل کی تعمیر اور مرمت کی باتیں بھلا دی گئیں۔ کام کی جگہ پر مرمت کا کام نہیں ہونے کی وجہ سے 22ستمبر 2014 کو اسٹیل پائل برج کا لگ بھگ 100میٹر حصہ کوسی کی تیز دھار میں بہہ گیا۔ نومبر 2014 میں جیتن رام مانجھی کو وزیر اعلیٰ کی کرسی سونپ کر نتیش کمار’’ سمپرک یاترا‘‘ پر تھے اور کھگڑیا ضلع کے بلدور میں منعقد ہونے والے پروگرام میں شرکت کرنے کیلئے نتیش کمار کو پہنچنا تھا،لیکن ڈومری پل پر آمدو رفت بحال نہ ہو پانے کی وجہ سے نقصان زدہ ڈومری پل پر پیدل پار کرکے نتیش کو پروگرام کی جگہ پر پہنچنا پڑا۔ پروگرام کی جگہ پر پہنچتے ہی اس وقت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ذریعہ اسٹیل پل کی تعمیر کے لئے 11کروڑ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یقین دہانی کے مطابق پل تعمیر کا کام تو پورانہیں ہوسکا، لیکن ایس پی سنگھلا کمپنی کو 50کروڑ کی لاگت سے ڈومری پل کے 10پائے کو توڑ کر جھولتا ہوا پل بنانے کا ٹینڈر دے دیا گیا۔ ٹینڈر کو مہینوں گزر جانے کے باجود اس کی تعمیر کا کام شروع نہیں ہوسکا۔یہاں تک کہ کنسٹرکشن کمپنی کے ذریعہ لگائے گئے آلات بھی اب زنگ آلود ہو گئے ہیں۔
توقع ہے کہ تقریباً ساڑھے چار برسوں سے ناسور بن چکے ڈومری پل پر آمدو رفت بحال ہو سکے گی ،مگر سرکار کو متبادل راہ کی کھوج کرنی پڑے گی۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔لیکن کھگڑیا ضلع کے سبل پور کے رہنے والے بالیشور چودھری ،منجو چودھری، نونووتی دیوی، مکیش رام، سنجے رام، سہرسہ کے ونود مالاکار، انگد چودھری، موسیٰ بھارتی، ونے بہاری، سوپول کے سشیل مہتو وغیرہ کہتے ہیں کہ کوسی باگ متی ندی کے سنگم پر پل کی تعمیر کے بعد کوسی کے رہنے والے محض کچھ ہی گھنٹوں میں ریاست کی راجدھانی سے جڑ جاتے تھے۔ سہرسہ ،مدھے پورا، سوپول ، کھگڑیا سمیت کوسی کے دیگر علاقوں کی بھی مکمل ترقی ہونے لگی تھی۔ یہی نہیں پڑوسی ملک نیپال کے لوگوں کا بھی ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے کاروباری تعلق بڑھنے لگا تھا۔ پرانے زمانے سے مشہور دیو گھر میں منعقد ہونے والے شراونی میلا میں پہنچنا کوسی، نیپال سمیت دیگر علاقے کے لوگوں کے لئے آسان ہوگیا تھا۔ پورنیہ کے راستے دیو گھر پہنچنے والے کوسی اور نیپال کے یاتریوں کو ڈومری پل کی آمدو رفت شروع ہونے سے کافی فائدہ ملنے لگا تھا۔ ڈومری پل کے نقصان کی وجہ سے 29اگست 2010 سے بڑی گاڑیوں کی آمدو رفت پر انتظامیہ کی طرف سے لگا دی گئی جبکہ چھوٹی گاڑیوں، بائک، ٹھیلا،رکشہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کا پیدل چلنا جاری رہا۔ سرکاری سطح پر فیری سروس بحال کر کے بڑی گاڑیوں کو بھی کشتی کے ذریعہ پار کرایا جاتا رہا،لیکن کبھی بھی لوگوں کے لئے مستقل حل پر غور نہیں کیا جانا اب کوسی کے باشندوں کے لئے کوڑھ میں کھجلی کے مترادف ثابت ہونے لگا ہے۔
ہائی لائٹس:
کہا گیا تھا کہ کوسی، کملا اور باگمتی کے علاقے کو جوڑنے والا یہ پل ترقی کے معاملے میں میل کا پتھر ثابت ہوگا۔ شمالی ماڑر، سونم نکی، مدھورا، چھمسیا ، بلور، چھیما، بوجھ گسکا، کھیری کھوٹہا، سمراہا، مور کاہی، اموسی، موہن پور، بھرمی سمیت کھگڑیا اور سہرسہ کے دیگر علاقوں میںخوب ترقی ہونے کا قیاس بھی لگایا گیا، لیکن سوگرکول سمیت دیگر دو پل کی تعمیر نہیں ہونے سے سونم نکی پل علاقے کی ترقی کی راہ ہموار نہیں کرسکی۔ نتیجتاً کوسی، باگمتی سمیت دیگر ندیوں کے پیٹ سے نکلی زمین پر مالکانہ حق جتانے کے عوض میں اکثر خون سے لال ہوتی رہی کوسی کی زمین آج تک ترقی کے معاملے میں بنجر ہی ثابت ہوتی رہی ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *