بہار کی نہریں پیاسی مگدھ اور بھوجپور کی لاکھوںہی کٹیئر زمین آبپاشی سے محروم

p-9bبہار ریاست کے آبپاشی محکمہ کے افسروں اور ریاستی سرکار کی بے حسی کے سبب جنوبی بہار کی مگدھ اور بھوجپور کی لاکھوںہیکٹیئر زمین کو مناسب آبپاشی سہولت سے محروم ہونا پڑرہا ہے۔ اس علاقے کی نہریں برسات کے دنوں میںبھی پیاسی ہیں۔ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے سمجھوتے کے بعد بھی سون ندی کا پانی بہار کو نہیںمل پارہا ہے، جس کی وجہ سے جنوبی بہار میں واقع مشرقی اور مغربی سون نہر میںبرسات کے دنوں میںبھی پانی مناسب مقدار میں نہیں آپارہا ہے۔ جھارکھنڈ کے ذریعہ بھی ڈیم سے پانی نہیںدیے جانے کی وجہ سے اترکوئل نہر میں بھی پانی کی کمی ہے۔ بہار کے سیاسی اور زرعی پیداوار کے معاملے میں اہم مانے جانے والے مگدھ اور بھوجپور کے کسانوںکو ریاستی سرکار کی طرف سے نظر انداز کیے جانے پر لوگوں کو حیرت ہورہی ہے۔ بہار کے روہتاس ضلع میںاندرپوری کے پاس سون ندی پر واقع بیراج کی جدیدکاری کرنے اور منظور شدہ آبی ذخیرے کی تعمیر کا معاملہ بھی دھیمی رفتار سے چل رہا ہے۔ ڈہری اون سون کے پاس سون ندی پر بنے اندرپوری بیراج سے مشرقی اور مغربی سون نہر آبپاشی کے منصوبے سے جنوبی بہار کے روہتاس بھبھوا، بکسر، بھوجپور، اورنگ آباد، گیا، ارول اور پٹنہ ضلع کی لاکھوںہیکٹیئر زمین کی آبپاشی ہوتی ہے۔ سون ندی کے اوپر مدھیہ پردیش میں وان ساگر ڈیم اور اترپردیش میں ریہند آبی ذخیرہ بنا ہوا ہے۔ بہار سرکار سے سون ندی کے پانی کے بٹوارے کو لے کر اترپردیش سرکار کے ریہند آبی ذخیرے اور مدھیہ پردیش کے وان ساگر آبی ذخیرے سے اندرپوری بیراج نہر آبپاشی نظام کو پانی کی فراہمی کے لیے سالوںپہلے سمجھوتہ ہوا تھا، لیکن مذکورہ ریاستوں کے ذریعہ سمجھوتے پر عمل نہیںکیا جارہا ہے۔ بہار کے اندرپوری بیراج کو کبھی ضرورت سے کم تو کئی بار وقت سے پہلے پانی کی سپلائی نہیں کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے بہار کے سون نہر آبپاشی نظام کو بھاری آبی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اترپردیش اور مدھیہ پردیش کی سرکار سے بہارسے باضابطہ طور پر بات چیت ہونے کے بعد بھی کوئی نتیجہ نہیںنکل رہا ہے۔ سون ندی میںاندرپوری بیراج کے اوپر ی واٹر شیڈ علاقے کے بڑے حصے میں برسات کے پانی کے ذخیرے کے منصوبے کے لیے جوائنٹ بہار میںکدون آبی ذخیرے کی منظوری کی گئی تھی۔ لیکن اس کا پلان ایریا بٹوارے میں جھارکھنڈ میںچلا گیا۔ بعد میںبہار سرکار نے اس منصوبے کا نام بدل کر ’اندر پوری جلاشہ پریوجنا ‘ کردیا۔ لیکن اس پروجیکٹ پر بہت سست رفتارسے کام ہورہا ہے۔ نتیجتاً متاثرہ علاقے کے کسان اپنے کھیتوں کی آبپاشی کے لیے پریشان ہیں۔ ریاست کے بٹوارے کے بعد محمد گنج بیراج اور کدکو ڈیم پلامو پر جھارکھنڈ سرکار کا پورا کنٹرول ہے۔ ڈیم میںپھاٹک نہ بننے سے پانی کا ذخیرہ نہیں ہورہا ہے۔ ڈیم پر پھاٹک بنانے کے لیے جھارکھنڈ اور بہار سرکار کے اعلیٰ افسروںکی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں ڈیم پر پھاٹک بنانے کی ذمہ داری جھارکھنڈ سرکار نے لی تھی۔ اس کام کے پورا نہ ہونے سے بہار میں واقع اتر کوئلہ سینچائی نہر پروجیکٹ اور اندرپوری بیراج اوپری واٹر شیڈ کی معاون ندیوں سے پانی نہیں مل پارہا ہے۔
وہیںدوسری طرف آزادی سے پہلے کے اندرپوری بیراج کے اوپری واٹر شیڈ میںمٹی اور ریت اکٹھا ہے،جس سے پانی کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے۔اس کی وجہ سے مشرقی اور مغربی سون نہر آبپاشی نظام کی ترسیل کے آخری سرے پر ہزاروں گاؤوں کے کھیتوں کو آبپاشی کا پانی نہیںمل پارہا ہے۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ اندرپوری بیراج کے اوپری واٹرشیڈ میںپانی کی کمی ہونے سے سون ندی کی قدرتی ساخت پر خراب اثر پڑ رہا ہے اور اس کے بہاؤ میںبھاری کمی آرہی ہے۔ اندرپوری بیراج کے نیچے شمال مشرق کی جانب اور نگ آباد اور ارول ضلع کے سون ندی کے زمینی حصے میں کاس کے جنگل اور گھاس اُگ آئی ہے، جس سے ندی کا وسیع حصہ اور قدرتی ساخت ریگستان میں بدلتا جارہا ہے۔ سون ندی کو ان مسائل سے بچانے کے لیے بھی ماحولیات کے ماہرین کی ایک کمیٹی بناکر لوگ صلاح و مشورہ کرنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ واضح ہو کہ بہار کے روہتاس ضلع میں ڈہری اون سون کیپاس سون ندی پر بنا اندرپوری بیراج دنیا کا چوتھا لمبا بیراج ہے۔ اس کی کل لمبائی 1407 میٹر ہے۔ اس بیراج کی دونوں نہروںسے 69,9000 ہیکٹیئر زمین کی آبپاشی کرنے کا دعویٰ تھا،لیکن ابھی پورے علاقے میں آبپاشی نہیں ہوپارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سو ن ندی پروجیکٹ کا کام آزادی سے پہلے 1874 میں ایک مشہور انگریز انجینئر نے شروع کیا تھا۔ تب یہ منصوبہ کسانوں کے مفادات کو دیکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔لیکن آزادی کے بعد اس پروجیکٹ کو سیاسی چشمے سے دیکھا جانے لگا، جس کے سبب سون نہر آبپاشی پروجیکٹ میںبرابر تبدیلی آتی رہی۔ کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرکے صرف سیاسی مفاد سادھنے کا مدعا اندرپوری بیراج بن گیا۔ آج جب اترپردیش اور مدھیہ پردیش کی سرکاریں سون ندی کے پانی کے بٹوارے کے سمجھوتے کے مطابق بہار کو پانی نہیںدے پارہی ہیں، تب بھی کوئی سیاسی آہٹ نہیں ہے۔ یہاںتک کہ بہار سے الگ ہوا چھوٹا بھائی جھارکھنڈ بھی بہار کے مفادات کو نظرانداز کررہا ہے۔ اس معاملے میںبہار سرکار کی قوت ارادی کی کمی اور متعلقہ محکموںکے عہدیداروں کی بے حسی کا ہی نتیجہ ہے کہ بہار کی نہروں میںمناسب مقدار میںپانی نہیں آتا۔ پتہ نہیں کسانوںکے مفاد کے لیے بہار سرکار کب جاگے گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *