آزادی کے 70سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں

کمل مرارکا
ایک بار پھر ملک نے یوم آزادی منایا۔حقیقت میں آزادی کے معنی کیا ہیں؟یہ ہم سبھی کو ،پھر چاہے وہ لیڈر ہوں،دوسرے لوگ ہوں، صنعتی گھرانوں کے سربراہ ہوںیا سول سوسائٹی کے لوگ، سبھی کو ایک بار پھر سے اس سوال پر غور کرنا چاہئے۔ کیا ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں جیسا کہ آئین میں خاکہ پیش کئے گئے ہیں یا 1952 سے لے کر آج تک آئین کے سبھی حصے کو دھیرے دھیرے بگاڑ رہے ہیں۔ کاغذوں پر تو ہم آئین کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔مثال کے لئے آئین میں اس بات کا ذکر ہے کہ سرکار کا انتخاب کیسے ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داری کیا ہے۔سرکار کا کردار کیا ہو، یہ بھی صاف ہے کہ منتخب کی ہوئی سرکار پالیسیاں بنائے ،وہ چاہے سیاسی ہو، اقتصادی ہو یا سماجی ،لیکن ان کا نفاذانتظامیہ کے آفیسر کے ذریعہ سے ہونا چاہئے، ان میں انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسز اور دوسری سروسز کے آفیسر شامل ہیں ،جو ایک سخت سرگرمی کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ان سروسز کے لئے مسابقتی امتحان کے ذریعہ تجربہ کار لوگوں کے انتخاب ہوتے ہیں۔اس لئے ان پالسیوں کے نفاذ کے لئے یہ آفیسر سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں،لیکن کیا ان کا صحیح استعمال ہو رہا ہے؟
نہیں، بدقسمتی سے جو بھی سیاسی پارٹی چن کر آئی ، انہوں نے چھوٹے چھوٹے ایشوز پر ہی اپنی دلچسپی دکھائی،نہ کہ بڑے اور ضروری ایشوز پر۔کوئی بھی سیاسی پارٹی ان بنیادی تضادات کو بدلنا نہیں چاہتی، جو پورے ملک میں عام ہوچکا ہے۔مثال کے طور پر جب ملک کی تقسیم ہوئی تو بدقسمتی سے جناح نے تقسیم، مذہب کی بنیاد پر کیا اور پاکستان کی تعمیر ہندوستان میں رہ رہے مسلمانوں کے لئے ہوا،لیکن اسی دن سے، جس دن سے تقسیم ہوئی،یہ بات طے ہو گئی تھی کہ ہندوستان میں اس سے زیادہ مسلم رہ گئے، جتنے کہ تقسیم کے بعد پاکستان گئے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟اور جو مسلم ہندوستان میں ہی رہ گئے،انہوں نے یہیں پر رہنے کو کیوں ترجیح دی؟کیونکہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل ،مولانا آزاد نے ملک کے عوام کو یہ یقین دلایا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہو سکتا ہے،لیکن ہندوستان سیکولر ملک بنا رہے گا اور سرکار ملک کے شہریوں کے لئے مذہب کو کبھی بنیاد نہیں بنائے گی۔مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے۔ اس کا صرف اتنا ہی مطلب ہے کہ آپ ایشور کو بس کسی اور نام سے یاد کر رہے ہیں۔ آپ کہیں اسے بھگوان کہہ سکتے ہیں،کہیں اللہ ، کہیں جیسس کرائسٹ تو کہیں واھے گرو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ انہیں کس نام سے بلا رہے ہیں،لیکن کیا ہم اس بھگوان کے ساتھ چل رہے ہیں؟اگر میں مسلمان ہوتا (جو کہ میں نہیں ہوں) اور ہندوستان میں رہ رہا ہوتا، تو مایوس ہوتا، کیونکہ ملک کے بڑے رہنمائوںنے جو وعدہ کیا تھا، اسے بعد کی سرکاروں نے نبھایا نہیں۔
ہاں،یہ صحیح ہے کہ سب نے ہمیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔ اس ملک کی کل آبادی کا 15فیصد حصہ مسلمانوں کا ہے،لیکن ان کی حصہ داری کیا ہے،یہ بڑا سوال ہے۔انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروسز میں دو فیصد، انڈین پولیس سروسز میں دو فیصد اور کارپوریٹ دنیا میں تو بہ مشکل ایک یا دو فیصد۔پھر انہیں کیا حاصل ہوا؟صاف ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مساوات کا برتائو نہیں ہوا۔انہیں برابر کے مواقع نہیں ملے، انہیں تعلیم نہیں مل پائی۔ زیادہ تر مسلمان آج بھی انپڑھ ہیں،ناخواندہ ہیں۔یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے،ایک سماج وادی اور جمہوری ملک ہے۔ اب یہ بے حد ضروری ہے کہ موجودہ سرکار آئین میں بیان کردہ گائڈنگ پرنسپل کی تعمیل کرے، جس کی اس وقت پوری طرح سے اندیکھی کی جارہی ہے۔ یہ معنی نہیں رکھتا کہ کس پارٹی کی سرکار ہے، کوئی بھی سرکار ہو، ہمیں آئین میں بیان کردہ اصولوں پر چلنا ہی ہوگا۔ سرکار کو غریبوں کے حق میں سوچنا ہوگا،طلبائ،شیدولڈ کاسٹ ، شیڈولڈ ٹرائبس اور اقلیتوں کے مفاد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ کارپوریٹ طریقے سے چل کر یہ حاصل نہیں ہو پائے گا۔
غریبی کے بارے میں جو اعدادو شمار ہیں، وہ شرمناک ہیں۔ ویسے اعدادو شمار اہم نہیں ہیں، ضروری یہ ہے کہ ہمیں غریبوں کے لئے ضرور کچھ کرنا چاہئے۔ منریگا اور فوڈ سیکورٹی جیسے پروگرام نہ تو منظم ہیں اور نہ ہی انہیں صحیح ڈھنگ سے آپریٹ کیا جارہا ہے۔ ان اسکیموں کے نام پر بے شمار پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ بیشک ،یہ اسکیمیں صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے،لیکن منریگا اور فوڈ سیکورٹی بل میں جس طرح پیسہ بہایا جا رہا ہے، اس کے لئے بڑے اقتصادی بنیاد کی ضرورت ہے اور اسکے بغیر اسے نافذ نہیں کیا جاسکتا ۔ وزیر اعظم کے لئے یہ سب سے ضروری ہے کہ ایک عملی پالیسی بنائیں، یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم کس طرح سے سب سے نچلے طبقے یاغریب طبقے کو مڈل کلاس کے درجے میں لے آئیں۔ امیر اور امیر ہو رہے ہیں،یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے،لیکن غریب ابھی بھی وہیں ہیں، یہ مسئلہ ہے،ایسے وقت میں آئین کی تعمیل کی بے حد ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *