اندھی قوم پرستی سے بڑھ رہا ہے جمہوریت کے لیے خطرہ

چاہے کوئی بھی موضوع ہو، ملک کا ایک چھوٹا لیکن خطرناک طبقہ فیس بک کا سہارا لے کر نفرت پھیلانے کا کام تیزی سے کر رہا ہے۔ ہر چیز مصنوعی قوم پرستی(سوڈو نیشنلزم ) سے جوڑی جارہی ہے اور ملک کے لوگوں میں ہندو مسلمان کے بیچ بٹوارہ کرنے ، نفرت پھیلانے کی پرزور کوشش کی جا رہی ہے۔ جیسے یہ چھوٹا گروپ اندھ راشٹرواد (اندھی قوم پرستی) کے حق میں ماحول تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے، ویسے ہی مسلم برادری کا ایک چھوٹا طبقہ ٹھیک ویسی ہی حرکتیں کر رہا ہے۔ نہ ہندو اور نہ مسلم سماج ان واقعات کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اور نہ فکرمند ہورہا ہے، لیکن ملک ایک خطرناک دہانے کی طرف تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
ملک کا مطلب اندھی قوم پرستی ہوگیا ہے، چاہے وہ کشمیر کے بہانے ہو، چاہے وندے ماترم یا پھر لو جہاد کے بہانے۔ اندھی قوم پرستی کا مطلب ہی ملک ہے، ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یہ لوگ کسانوں کی خودکشی، بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی، تعلیم اور صحت کے سوالوں کو ملک کا سوال نہیں مانتے۔ ان سوالوں پر سیاسی پارٹیاں بھی بات نہیں کر رہی ہیں۔ اس سے لگتا ہے کہ وہ نسل جسے ہم ملک کی رہنمائی کرنے والی نسل مانتے تھے، مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ ہم بات چاہے جواہر لال نہرو کی کریں، اندرا گاندھی کی، وی پی سنگھ، چندرشیکھر، جیوتی بسو، اٹل بہاری واجپائی یا پھر لال کرشن اڈوانی کی، اب ان کی روایتیں بھی ان کی پارٹیوںمیں نہیں بچی ہیں۔
جو طبقہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے بیچ اندھی قوم پرستی کی وکالت کر رہا ہے، اس کے لیے کسان کی خود کشی یا کسان کا مسئلہ کوئی وجود نہیں رکھتا۔ سرکار کے بیچ کے لوگ کسانوں کی خودکشی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ملک کے وزیر زراعت کسانوں کی خودکشی کو بہت ہی ہلکے میں لیتے ہیں اور وہیں مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ کہتے ہیں کہ بھوت پریت کی وجہ سے کسان خود کشی کر رہے ہیں، اسے کہتے ذرا بھی نہیں شرماتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کسانوں کی خودکشی پر ایک دن بھی خاموش نہیں ہوتے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان ایک دن بھی کھیتی کے ختم ہونے کے عمل پر بات نہیں کرتے۔ کسان، بے روزگاری، مہنگائی اور بدعنوانی کے مسائل جیسے سوال اب پارلیمنٹ اور اراکین پارلیمنٹ کو پریشان نہیں کرتے۔
پارلیمنٹ میں اراکین پارلیمنٹ ملک کی سیاسی پارٹیوں سے آتے ہیں، لیکن سیاسی پارٹیا ں مکمل طور پر بے حس ہو گئی ہیں۔ اب ان کے بیچ ملک کے مسائل کو لے کر بات چیت نہیں ہوتی۔ مجھے یاد نہیں ہے کہ ملک کے سوالوں پر کسی دو یا تین یا چار یا پانچ سیاسی پارٹیوں کے بیچ پچھلے برسوں میں چرچا ہوا ہو۔ اس حالت کو ملک کا نام لینے والے رہنما کیسے نظرانداز کر رہے ہیں۔ انہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں وہاں کی سیاست کے خلاف جس طرح کا منفی غصہ پھوٹتا ہے، ویسا غصہ ہندوستان میں پھوٹ سکتا ہے۔ اس وقت قانون بکھر جاتا ہے اور غصہ صرف ان کے لیے پھوٹتا ہے جو جانے انجانے اس حالت کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
اس لیے ملک میں نئی طرح کی سیاست پیدا ہوئی ہے جس کے سامنے کوئی نظریہ نہیں ہے، کوئی ہدف نہیں ہے۔ لیکن وہ مسئلوں کے لیے کچھ لوگوں یا کچھ پارٹیوں کو ذمہ دار بناتی ہے اور اسی کو اپنے نظرئے کے طور پر پیش کرتی ہے۔اس بڑا نظریہ کا کوئی مذاق نہیں ہوسکتا۔ جب ہم نظریہ کی بات کرتے ہیں تو ان ضابطوں ، ان اصولوں کی بات کرتے ہیں جن کی بنیاد پر کوئی سیاسی پارٹی حکومت کرنے کا حق عوام سے لیتی ہے۔ لیکن اگر مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، مساوات، کسان کو پیداوار کا صحیح منافع، ہر شخص کو جینے کا، پڑھائی کا اور صحت کا حق ملے،جب یہ اصول سامنے نہیں ہوتے تو پھر ویسے منفی فیصلے سامنے ہوتے ہیں، جن کی مخالفت کرنے کے نام پر لوگ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ یہ حالت آخرکار نراجیت اور مطلق العنانیت میں تبدیل ہوتی ہے۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ملک میں سیاسی رہنمائوں کو سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ملک کے بنیادی سوال چاہے وہ طلبائ، کسانوں اور لوگوں کی طرز زندگی سے متعلق ہوں وہ اہم ہیں بنام اندھی قوم پرستی کے۔ یہ الگ بات ہے کہ بنیادی سوالوں سے دھیان ہٹانے کا سب سے آسان راستہ اندھی قوم پرستی ہے، جس کے لیے اب کچھ ٹیلی ویژن چینل کھلم کھلا حصہ دار بن گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر اندھی قوم پرستی کی ان دنوں باڑہ آئی ہوئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کے خلاف اگر کوئی سب سے طاقتور سازش ہو رہی ہے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہورہی ہے۔ اس پر وہ لوگ خاموش ہیں جو جمہوریت کو دینا کی سب سے طاقتور سیاسی نظام مانتے ہیں، جن کا یقین ہے کہ جمہوریت سے ہی ترقی ہوسکتی ہے، لیکن یہ لوگ ہار رہے ہیں اور وہ لوگ جیت رہے ہیں جو مانتے ہیں کہ جمہوریت کے ذریعہ ترقی نہیں ہوسکتی۔ اس میں وہ بھی ہیں جو کھلے عام ہتھیار کی طرح لوگوں کے ذہنوں کوآلودہ کر رہے ہیں۔
اس میں سب سے زیادہ قصوروار میڈیا ہے جو ایسی حالت کا حصہ دار بن رہا ہے۔ جس طرح سیاسی پارٹیوں میں آپس میں بات چیت نہیں ہوتی ، ویسے ہی میڈیا میں آپس میں بات چیت نہیں ہوتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں سے زیادہ خطرناک میڈیا کا بٹوارہ ، میڈیا کی خاموشی اور میڈیا کی سمجھ ہے۔ کیا ہم جمہوریت کو ختم کرنے میں حصہ دار بننا زیادہ اچھا سمجھتے ہیں۔

 

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *