امریکی صدارتی انتخاب میں مذہبی رواداری اہم فیکٹر

نندلال شاہ

امریکہ میںصدارتی انتخاب کی مہم زوروںپر ہے۔ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلیری کلنٹن اور ریپبلکن پارٹی کے ڈونالڈ جے ٹرمپ کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ سابق صدر بل کلنٹن کی اہلیہ ہلیری جو کہ موجودہ صدر بارک اوبامہ کے دور صدارت میں خارجہ سکریٹری کی اہم ذمہ داری نبھاچکی ہیں، اپنے ہائی پروفائل کے سبب جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ ان کے حریف ٹرمپ نے وقتاً فوقتاً اپنے متنازع فیہہ بیانات کے سبب اندرون و بیرون امریکہ سبھوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔ ان کے ان ہی بیانات میںمسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میںداخلے پر پابندی لگانے کی بات ہے، جس سے وہاں مذہبی عدم رواداری پر نئی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ نئے ’مہمان کالم‘ میں بھارتیہ بھاشا پریشد کولکاتا کے جنرل سکریٹری اور ہندی دانشور نند لعل شاہ، جو کہ ان دنوں امریکہ کے سفر پر ہیں، نے بڑی گہرائی اور گیرائی سے ان سب باتوںکا جائزہ لیا ہے۔

امریکہ میں صدر کی حکومت کی میعاد چار سال کی ہوتی ہے اور ایک شخص دو بار سے زیادہ صدر کے عہدے پربرقرار نہیںرہ سکتا ہے۔یہاں دو ہی سیاسی پارٹیاں ہیں۔ یہاں ریاستی پارٹی نہیں ہوتی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں میں جارج ایچ ڈبلیو بش ریپبلکن (1889-1893 ) ، بل کلنٹن ڈیموکریٹک( 1993-2001 )، جارج ڈبلیو بش ریپبلکن(2001-2009 ) صدر رہے اور بارک اوبامہ،ڈیموکریٹک (2009-2017) صدر کے عہدے پر آئندہ سال کی ابتداء تک رہیں گے۔ یہاںصدارتی انتخاب کا نظام اس طرح ہے کہ پہلے دونوں پارٹیاں اپنا اپنا اندرونی انتخاب کرتی ہیں ،جسے ابتدائی انتخاب کہا جاتا ہے۔ اس سال ابتدائی انتخاب کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ ریپبلکن پارٹی میں ڈونالڈ ٹرمپ کی اور ڈیموکریٹک پارٹی میں ہیلری کلنٹن کی جیت ہوئی۔حالانکہ ابتدائی انتخاب کی ضرورت دستوری طور پر نہیں ہے، لیکن پارٹی کے پیش نظر ابتدائی انتخاب دستوری انتخاب جیسا بن چکا ہے۔ اب دستوری انتخاب آئندہ 8 نومبر2016 کوہلیری کلنٹن (ڈیموکریٹک) اور ڈونالڈ ٹرمپ (ریپبلکن) کے بیچ ہوگا۔ فاتح پارٹی آئندہ 20 جنوری 2017 کو راشٹرپتی بھون یعنی وائٹ ہائوس واشنگٹن میں داخل ہوگی۔ واضح ہو کہ 2008 میں جب ڈیموکریٹک پارٹی کا ابتدائی انتخاب بارک اوبامہ اور ہلیری کلنٹن کے مابین ہوا تھا ،تو ہلیری کلنٹن کو شکست ہوئی تھی اور بارک اوبامہ دستوری انتخاب جیت کر امریکہ کے صدر بنے تھے۔ 2009 سے 2013 تک بارک اوبامہ کے اقتدار میں ہلیری کلنٹن سکریٹری آف اسٹیٹ کے عہدے پر بحال رہیں، جو صدر کے عہدے کے بعد سب سے مضبوط عہدہ ہے۔ اس وقت امریکہ کی قانون سازی کے پیش نظر وہ بہت کامیاب رہی تھیں۔ ہلیری کلنٹن کی پیدائش شکاگو میں 26 اکتوبر 1947کو ہوئی تھی۔ وہ 1968 سے ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن بنیں۔ ان کی شادی بل کلنٹن سے 1975 میں ہوئی ۔ وہ پیشے سے وکیل (سولسٹر) رہی ہیں۔ 1983 سے 1992 تک ریاست ارکانسس کی پہلی خاتون رہیں،جبکہ ان کے شوہر بل کلنٹن امریکہ کے صدر تھے۔ ہلیری کلنٹن 2009 سے 2013 تک سکریٹری آف اسٹیٹ رہیں۔ وہ 1995 میں ہندستان آئی تھیں۔ 1997 میں وہ دوبارہ اپنے شوہر بل کلنٹن اور اپنی بیٹی چیلسا کے ساتھ ہندستان آئی تھیں۔ سکریٹری آف اسٹیٹ رہنے کے دوران ہلیری کلنٹن نے دہشت گردی کے خلاف ہندستان کا پورا ساتھ دیا تھا۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونالڈ جے ٹرمپ کی پیدائش 14 جون 1946کو ہوئی۔ وہ نیویارک کے امیر خاندانوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ وہ بہت ہی مضبوط خیال والی شخصیت کے حامل ہیں۔ وہ اپنی عمر کے ابتدائی دورسے ہی ریپبلکن پارٹی کے سیاسی لیڈر رہے۔انہوں نے تین شادیاں کی ہیں، ایباما ٹرمپ(1997-1992 ) ، میریا میپلس(1993-1999 ) اور میلانا ٹرمپ( 2005) ۔ ان کا کہنا ہے کہ دولت ان کے لئے کبھی بھی بڑا مقصد نہیں رہی ہے، لیکن کھیل کود میں انہیں خوشی ملتی ہے۔ ان دو عظیم ہستیوں کی کہانی تو پہلے ہی شروع ہو چکی ہے لیکن ان کی ہار جیت، سیاسی دائو پیچ اور دستوری اعلانات پوری دنیا کے لئے بہت ہی اہم ہیں۔
جو شخص جس ملک کا شہری ہوتا ہے وہ اسی ملک کا شیدائی ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو۔ آج کے دور کا یہی خیال ہے کہ ہر ملک ایک مکمل اکائی ہے۔
گزشتہ 2004 میں امریکہ نے عراق پر صدام حسین کی حکومت کو ختم کرنے کے لئے جنگ کی تھی۔ اس جنگ میں امریکی شہری کیپٹن ہمایوں خاں نے اپنی جان گنوائی تھی۔ امریکہ کا ہر شہری انھیںشہید مانتا ہے اور بڑے ہی عزت سے ان کا نام لیتا ہے۔ کیپٹن ہمایوں خان کے والد خضر خاں اور ماں غزالہ خاں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی میں ابتدائی انتخاب میں ہیلری کلنٹن کی جیت کے بعد فیلاڈیلفیا میں قومی میٹنگ کے دوران خضر خاں نے تقریرکی۔ ان کے جواب میں ڈونالڈ ٹرمپ پورے مسلمانوں پر برس پڑے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں ایسے بہت مسلمان ہیں جو دہشت گردوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ وہ دہشت گردوں کو جانتے ہیں، لیکن ان کی بابت بتاتے نہیں ہیں۔ غرض کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر روک لگا دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ کٹر اسلامی دہشت گردوں کی وجہ سے کئی مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے خاں خاندان کے لئے بھی ناگفتہ الفاظ کا استعما ل کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر خضر خاں کو میٹنگ میں تقریر کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی۔ خاں گروپ نے کہا کہ امریکہ کا صدر بننے کے لئے مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاس اچھے کردار اور اہلیت نہیں ہیں اور وہ صرف نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں اور مختلف مذاہب اور ذاتوں کو تقسیم کرنے کی سیاسی چال اختیار کررہے ہیں۔ اسلام مذہب کیا ہے؟ یہ مسٹر ٹرمپ نہیں جانتے ہیں اور انھوں نے امریکہ کے دستور کو بھی نہیں پڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انھوں نے کوئی قربانی بھی نہیں دی ہے اور کچھ بھی نہیں کھویا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے بہت قربانی دی ہے۔ میں نے بہت محنت کی ہے۔ ہزاروں لوگوں کو روزگار دیا ہے۔ اس آتش فشانی تقریر کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ٹرمپ نے خاںخاندان کی قربانی کا انکار کیا ہے اور اور امریکہ کی مذہبی عدم برداشت کی روایت کی بھی بے عزتی کی ہے۔ ٹرمپ کی تقریریں مسلمانوں کے لئے بے عزتی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کے سابق صدر کے امیدوار پیس نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ جو ملک دہشت گردی کا ساتھ دیتے ہیں ، ان کے شہریوں پر امریکہ میں داخل ہونے پر روک لگانی چاہئے ،لیکن انہوں نے ٹرمپ کے خیالات کی مخالفت نہیں کی۔ بہت سارے ریپبلکن رکن نے اس تقریر کی مخالفت کی ہے۔ میلر نے کہا کہ ٹرمپ کی تقریر غیر انسانی اہمیت کی حامل ہے۔ صدر بش کی تقریر لکھنے والے پیٹر بیہنر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ برے خیالات والے انسان ہیں۔ وہ اتنے گر سکتے ہیں کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ غرض کہ انہیں بچانے کی کوشش کرنا مشکل ہے ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہمایوں خاں ایک ایسی جنگ میں ہلاک ہوئے، جس کو آج بھی بیشتر امریکی غیر ضروری مانتے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے سابق صدر سنیئر بش نے کویت کو عراق سے خالی کروایا تھا۔ جونیئر بش کے اقتدار 2001 سے 2009 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی دو آسمان کو چھوتی ہوئی مینارو ں کو 2001 میں دہشت گردوں نے نیست ونابود کر دیا تھا۔ نتیجتاً 2001 میں افغانستان اور 2004 میں عراق پر امریکہ نے بدلے میں حملہ کر دیا تھا۔ بین الاقوامی امن کے لئے یہ ضروری ہے کہ امریکہ اور متوسط مشرقی ایشیا کے درمیان رواداری ہو۔دنیا کے کسی کونے میں کوئی انتخاب ہو ، حکومت بدلے، نئی ایجادات ہوں، جو بھی ہو، لیکن اس ایٹمی دور میں دنیا میں امن و سکون کا قائم رہنا بہت ضروری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *