اکھلیش یادو کا اراکین پارلیمنٹ کو مراسلہ انتخاب سے قبل جاگے تو کیا جاگے

دین بندھو کبیر
اترپردیش میں جب اسمبلی انتخابات سامنے ہیں، تو اکھلیش یادو میں ترقی کے تئیں فکر بیدار ہونے لگی ہے۔سیاسینقطہ نظر سے ان کی یہ فکر فطری ہے۔ کیونکہ سماجی نقطہ نظر سے ترقی کہیں دکھائی نہیںدے رہی ہے، تو کم سے کم ان کی فکر انتخاب کے وقت تو عوامی سطح پر دکھائی دینی چاہیے۔ سماجوادی سرکار کو سماج کی ترقی کچھ کلو میٹر کی میٹرو ٹرین کی پٹری لگاکر دکھانے اور ایکسپریس ہائی وے بنانے میںسرگرمی دکھانے پر مرکوز ہے۔ گنا کسانوں کے سیکڑوںکروڑ روپے بقایا ہیں۔ گیہوں، دھان کی فصلیںخریدی نہیں گئیں، کسانوںکو اپنی زرعی مصنوعات بازار میں اونے پونے دام میں بیچنے کو مجبور ہوناپڑا، روزگار کا کوئی ذریعہ تیار نہیں ہواp-4، ایک بھی کارخانہ نہیں لگا، پھر کیا چار پانچ کلومیٹر کی پٹری پر چلنے والی میٹرو ریل کھائیں گے کسان؟ میٹرو ریل یا ایکسپریس ہائی وے جیسی سہولیات سماج کے کس طبقے کے لیے ہوں گی، یہ سماج اور سماجواد کو سمجھنے والے لوگ جانتے ہیں۔
ایسے میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو یو پی کے اراکین پارلیمنٹ کو خط لکھ کر مرکز میںاٹکی ہوئی ترقی کی مختلف اسکیموںکو پاس کرانے میں تعاون مانگ رہے ہیں۔ چونکہ تقریباً سارے اراکین پارلیمنٹ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہیں، اس لیے اس سیاست کی اکھلیش کو زیادہ ضرورت بھی تھی۔ جب سماجوادی پارٹی ماضی میں یوپی اے سرکارکے ساتھ یک طرفہ پیار میں قربان ہوئی جارہی تھی، اس وقت سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کو اراکین پارلیمنٹ کی یاد نہیںآرہی تھی۔
بہرحال اگر ترقی ہے بھی، تو یہ پانچ سال مکمل ہونے کے وقت ہی کیوںاچھال مارنے لگی؟ یہی خط پہلے کیوںنہیںلکھا گیا؟ اکھلیش خاندان میںان کے والد ملائم سنگھ یادو، ان کی بیوی ڈمپل یادو اور دو بھائی دھرمیندر یادو اور اکشے یادو ملا کر سماجوادی پارٹی کے کل چار اراکین پارلیمنٹ ہیں، یقینی طور پر اکھلیش یادو نے ان ’خاندانی‘ اراکین پارلیمنٹ کو بھی خط لکھ کر اترپردیش کی ترقی کے کام میں تعاون مانگا ہوگا۔
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ریاست کے سبھی اراکین پارلیمنٹ کو خط لکھ کر اترپردیش کی ترقی کے حق میں مرکزی سرکار میںزیر التوا ریاست کے مختلف معاملوں کو جلدی نمٹانے کے لیے اپنی سطح پر مناسب قدم اٹھانے کی درخواست کی ہے۔ اکھلیش نے اس خط میں لکھا ہے کہ اترپردیش کی ترقی کے لیے مختلف موضوع پر وقتاً فوقتاً ریاستی سرکار کے ذریعہ حکومت ہند سے درخواست کی جا رہی ہے۔ کئی خط وزیر اعظم کو بھی لکھے گئے۔ اراکین پارلیمنٹ کو لکھے گئے وزیر اعلیٰ کے خط میںسرکار نے مرکزی سرکار کو بھیجے گئے اہم معاملوں کو بھی منسلک کیا ہے۔
اراکین پارلیمنٹ سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ ریاست کی ترقی کے حق میں زیر التوا معاملوں کو جلدی نمٹانے کے لیے وہ اپنی سطح سے بھی مناسب قدم اٹھائیں۔ خط کے ساتھ منسلکہ کے طور پر روانہ کی گئی ایک بکلیٹ میںریاستی سرکار کے ذریعہ حکومت ہند کوبھیجے گئے 28 معاملے شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت سے متعلق چارمعاملے، قانون و انصاف وزارت سے متعلق ایک کیس، دیہی ترقی کی وزارت سے جڑے دوکیس، سماجی انصاف اور سوشل جسٹس اینڈ امپاورمنٹ سے متعلق ایک، آبپاشی اور آبی وسائل وزارت سے متعلق تین معاملے، وزارت داخلہ سے متعلق پانچ کیس، وزارت ثقافت سے دو معاملے، صحت اور خاندانی بہبود سے متعلق ایک ، وزارت دفاع سے تین، روڈ ٹرانسپورٹ وہائی وے وزارت سے تین اور وزارت توانائی سے متعلق تین کیس شامل ہیں۔
انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کو بھیجے گئے دو معاملوں میں ریاست میں چار لاکھ ٹیچر اور انسٹرکٹر کی اجرت کی ادائیگی کے بحران کو دیکھتے ہوئے سال 2015-16 کے بقایا 3585 روپے کی رقم کا ریلیز کیا جانا، مڈڈے میل اسکیم میں باورچیوںکی اجرت، جو سات سالسے نہیں بڑھی ہے، کو ایک ہزار سے دو ہزار روپے ماہانہ کیا جانا، قومی ثانوی تعلیم کی مہم کے تحت مرکز کی لگ بھگ 187 کروڑ روپے کی رقم ریلیز کیا جانااور قومی اعلیٰ تعلیم کی مہم کے تحت تیار ہورہے 26 سرکاری اسکولوں کے لیے دوسری قسط نہ ملنے کے سبب متاثر ہورہے تعمیراتی کام کو جاری رکھنے کے لیے 441 کروڑ روپے کی رقم کاریلیز کیا جانا شامل ہے۔ وزارت داخلہ سے متعلق معاملوںمیںجیو میپ کے ڈجٹائزیشن کے لیے 14 کروڑ روپے کے ڈفرینس فنڈس کی منظوری، سال 2015 میں ژالہ باری سے زرعی فصلوں کو ہوئے نقصان کی تکمیل کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر فنڈ سے 4742 کروڑ روپے کی رقم کا ریلیز کیا جانا، اسٹیٹ موک ڈیزاسٹر فنڈ سے مختصر اور معمولی کسان کے ساتھ ہی بے زمین لوگوں کے جانوروں کا بھی چارہ، دوائیںوغیرہ دیے جانے سے متعلق معیاروںمیںترمیم،اسٹیٹ موک ڈیزاسٹر فنڈ سے متاثرہ خاندانوں کو مدد دیے جانے کے معیاروں میںترمیم کے موضوع شامل ہیں۔
آبپاشی اور آبی وسائل وزارت کو بھیجے گئے معاملوںمیں اے آئی بی پی فنڈڈ پروجیکٹس کے لیے مرکزکی رقم کاریلیز کیا جانا، سرکاری ٹیوب ویل کو سولر اینڈ گرڈ پاور کے ہائی برڈ ماڈل سے چلانا اور فلڈ مینجمنٹ پروگرام سے متعلق معاملے شامل ہیں۔ اسی طرح روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی وے منسٹری کو انڈین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعہ ضلع ہیڈ کوارٹر کو -4 لین روڈ / -2 لین ود پیوڈ شولڈر روڈ سے جوڑنے کی اسکیم میں سست رفتاری، سینٹرل روڈ فنڈ پلان کے تحت مناسب فنڈ (ایک ہزار کروڑ رپے) فراہم کرایا جانا اور نیشنل ہائی ویز کے رکھ رکھاؤ کا معاملہ بھیجا گیا ہے۔
وزارت دفاع کے بھیجے گئے معاملوںمیںریاست کے ضلع قنوج اور رامپور میں دو نئے فوجی اسکولوںکا قیام، لکھنؤ میںدلکشا اور جنیشور مشر پارک کے درمیان(پپرا گھاٹ) برج کی تعمیر کے پروجیکٹ پر فوج کے ذریعہ ورکنگ پرمیشن دی جانے اور لکھنؤ ضلع میں لوہیا پتھ پر گومتی بیراج سے ککریل نالے کے بائیںپشتے سے ہوتے ہوئے خرم نگر تک -6 لین روڈ اور آر او بی کو- فلائی اوور کی تعمیر کے لیے فوج کی زمین پر ورکنگ پرمیشن دیے جانے کے معاملے شامل ہیں۔ وزارت توانائی کو میجا تھرمل پاورپلانٹ سے ریاست کو الاٹ کیے گئے شیئر میںاضافہ کیے جانے کے معاملے بھی بھیجے گئے ہیں۔
صحت و خاندانی بہبود وزارت کو نئے میڈیکل کالج (ڈسٹرکٹ/ ریفرل ہاسپٹل کے ساتھ) کی تعمیری لاگت کی حد بڑھایا جانا،دیہی ترقی کی وزارت کو نیشنل رورل ڈرنکنگ واٹر پروگرام کے تحت زیر تعمیر ڈرنکنگ واٹر پروجیکٹس کے لیے ہر سال کم سے کم 1500 کروڑ روپے کی مرکزی امداد کی ضرورت اور ریاست کے بندیل کھنڈ اور ودھیہ علاقوں میں سرفیس سورس پر مبنی ڈرنکنگ پروجیکٹس کے لیے سو فیصد مرکزی امداد کے روپ میں 2360 کروڑ روپے کی مانگ، قانون و انصاف وزارت کے ماتحت عدالتوں میں عدالتی عمارتوں اور عدلیہ کے افسروں کی رہائشی عمارتوں کی تعمیر کے منصوبے میںمرکز سے ریلیز کیا جانا اور وزارت برائے ثقافت کو ٹیگور کلچرل کمپلیکس یوجنا کے تحت لکھنؤ میں واقع قومی کتھک انسٹی ٹیوٹ کی عمارت کی تعمیر کے لیے نو کروڑ روپے ریلیز کیا جانا اور ٹیگور کلچرل کمپلیکس متھرا میں آڈیٹوریم کے لیے 14 کروڑ روپے ریلیز کیے جانے کے معاملے روانہ کیے گئے ہیں۔خط لکھ کراپنی ذمہ داری پورا سمجھنے والے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو گنا کسانوں کے کروڑوں روپے کا بقایا دینے کے لیے چینی مل کے مالکوں کونہ خط لکھنے کی ضرورت سمجھتے ہیں اور نہ ہی ہدایت دینے کی۔ اگر ایسا ہوا ہوتا توبقایاجات کابھیانک پہاڑ نہیںکھڑا ہوتا۔شوگر کین کرشنگ سیزن 2015-16 میں اتر پردیش کے گنا کسانوں کے2428 کروڑ روپے بقایا ہیں۔یہ بقایا پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ اس مدت میںبہار میںکسانوںکا چینی ملوں پر 143 کروڑ،پنجاب میں 28 کروڑ، اتراکھنڈ میں 198 کروڑ، آندھرا پردیش میں 181 کروڑ، تلنگانہ میں 99 کروڑ گجرات میں255 کروڑ، مہاراشٹر میں 883 کروڑ، کرناٹک میں 1325 کروڑ، تامل ناڈو میں 610 کروڑ، پانڈیچری میں 11 کروڑ، چھتیس گڑھ میں15 کروڑ، اوڈیشہ میں 32 کروڑ، مدھیہ پردیش میں 16 کروڑ اور گووا میں محض ایک کروڑ روپے بقایا ہیں۔

اراکین پارلیمنٹ کو لکھے خط کے حقائق پر غور کیجئے۔ جن ماہرین کی نگاہ ترقی کی زمینی حالت پر رہتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخاب آنے کے وقت سماجوادی پارٹی کی سرکار اعدادوشمار کی بازی گری کرکے عوام کو جھانسہ دے رہی ہے، کیونکہ لوگ اب ترقی کی زمینی صورت حا ل کے بارے میں آمنے سامنے سے پوچھیںگے۔
ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاست کی ترقی کا سارا ٹھیکہ مرکزی سرکار کا ہی ہے، تو پھر ریاستی سرکاروں کا جواز کیا ہے؟ وزیر اعلیٰ کے خط میں جن کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ مرکز میں زیر التوا ہیں، حقائق بتاتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر کی منظوری مرکز سے مل چکی ہے اور وقتاً فوقتاً اس کی خبریںشائع بھی ہوتی رہی ہیں ۔ اراکین پالیمنٹ کو لکھے خط پر ریاست کے کسان لیڈر شیواجی رائے کہتے ہیںکہ ریاست کے مرتے اور تباہ ہوتے کسانوںکے سوالوںکاجواب اور ریاست کے سڑیل قانونی نظام کے متاثرین کے سوالوں کا جواب تو سرکار دے نہیں سکتی، اسے اراکین پارلیمنٹ کو خط لکھنے کا اخلاقی طورپر کیا حق ہے؟ شیواجی رائے کہتے ہیںکہ یہ خط نہیں، ذمہ داریوں کی ٹوپی ہے،جسے اکھلیش یادو اب انتخاب کے وقت دوسروں کو پہنانے کا پھوہڑ انعقاد کررہے ہیں۔
پرا نا معاملہ ہے۔ اکھلیش یادو زیراعلیٰ بننے سے پہلے رکن پارلیمنٹ ہی تھے۔ سال 2012 سے پہلے وہ قنوج سے ایم پی تھے۔ پارلیمانی حلقے کی ترقی کے لیے ملنے والے ایم پی فنڈ میں فضول خرچی کا مسئلہ اکھلیش یادو کے ساتھ بھی چپکا ہوا ہے۔ یہاںتک کہ اس دور کے لوک سبھا کے اسپیکر تک کو قنوج پارلیمانی حلقے سے شکایتیںبھیجی گئی تھیں کہ اکھلیش یادو کے ایم پی فنڈ کے اخراجات میںفضول خرچی ہورہی ہے۔ ایم پی فنڈ کی رقم ترقی کے کام میںخرچ ہونے کے بجائے نجی کاموں میں خرچ ہورہی تھی۔ اس وقت اکھلیش یادو کے لیے ترقی کا مسئلہ ترجیح کے طور پر نہیںتھا اور اب بھی نہیںہے۔ انھیں انتخاب کے وقت ترقی کا مسئلہ پھر سے یاد آیا،یہ وقت کا تقاضہ ہے اور عوام کو سب پتہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *