اب کام پر لگ جانے کا وقت آگیاہے

میگھناد دیسائی
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے ذریعہ مجوزہ بلیٹ ٹرین خود وزیر اعظم اور ان کے سوٹ بوٹ والے دوستوں کے لئے چلے گی۔ میرے پاس راہل گاندھی کے لئے ایک سرپرائز ہے۔ میں نے ابھی ابھی شنگھائی سے بیجنگ تک کا سفر بلیٹ ٹرین سے کیا ہے۔ یہ ٹرین عام چینی خاندانوں، جس میں بچے اور بوڑھے شامل تھے، بھری پڑی تھی۔ چین میں بلیٹ ٹرینوں کے لئے مخصوص ایک اسٹیشن ہے جہاںسے بلیٹ ٹرینیں چلتی ہے۔ دراصل چین میں ریل سے سفر کرنے والے تقریباً آدھے مسافر بلیٹ ٹرین پر سفر کرتے ہیں۔
بلیٹ ٹرین پر راہل گاندھی کابیان کانگریس اور ہندوستان میں رائج ترقی مخالف سوچ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ مان لیاجاتا ہے کہ کوئی بھی نئی اور جدید چیز صرف امیروں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ ان نئی چیزوں میں وہ سبھی اصلاحات شامل ہیں جو کاروبار کو آسان اور زیادہ مفید بنانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ یہاں لیڈروں میں یہ عام سوچ ہے کہ کم امیر لوگوں کے مفاد کے تحفظ کے لئے ترقی کی رفتار کو روکا جاسکتا ہے۔ پیداوار میں اضافہ یا کسی انضمام (جیسے ایس بی آئی کے معاملے میں ) کی صورت میں مزدوروں کی نوکری چلی جائے گی۔ لہٰذا برسرروزگار لوگوں کے تحفظ کے لیے ترقی کو روک دیا جائے۔
ہندوستان نے ترقی کے بجائے خود انحصاری حاصل کرنے، امپورٹ پر بھروسہ کرنے اور سماج واد کا ایلیٹ ورژن قائم کرنے میں اپنے 30 سال برباد کردیئے۔ چین نے بھی مائو کی ترقیاتی پالیسی کو نافذ کرنے میں 1949 کے بعد کے 30سال ضائع کردیئے تھے۔ 70 کی دہائی کے آخر تک ہندوستان اور چین کی فی کس آمدنی برابر تھی۔
خوش قسمتی سے چین میں ڈینگ زیاوپنگ نے ملک کے کایہ کلپ میں تیز رفتار اقتصادی ترقی کے رول کو پہچاناور بغیر کسی شک و شبہ کے اسے اپنایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چین دنیا کا تنہا ملک بن گیا جو تین دہائیوں تک مسلسل اونچی شرح نمو (growth rate) حاصل کرتا رہا۔ 2008 میں چین نے اپنی کامیابیوں کو اولمپک کھیلوں کا انعقاد کرکے اور ملک میں بلیٹ ٹرین چلا کر کیا۔ بلیٹ ٹرینوں کی وجہ سے اس عظیم ملک میں سفر کرنا آسان ہو گیا۔ ہندوستان نے 80 کی دہائی کو اسٹرکچول ریفارم کے بجائے امپورٹ لبرائزیشن میں صرف کر دیا۔ زیادہ قرضے کی وجہ سے 1991 میں اقتصادیات لڑکھڑا گئی تھی۔ اس وقت نرسمہا رائو اور منموہن سنگھ کی ٹھوس اصلاحات نے ملک کی اقتصادیات کو تباہی بچا لیا تھا، لیکن اپنے دور کار کے خاتمے سے پہلے ہی انہوں نے اپنی رفتار کھو دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اصلاحات کا عمل یا تو رک گیا یاپھربہت ہی سست ہوگیا۔ لیبر قانون میں کوئی اصلاح نہیں ہوئی ، مینوفیکچرنگ کو زندہ کرنے اور کسانوں کو ان کے کھیت سے الگ مستقل روزگار دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ یو پی اے 2 کے دور حکومت کے دوران اصلاحات کو آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے جاتے ہوئے ماحولیات سے متعلق تجاویز لاکر ترقی کا گلا ہی گھوٹ دیا گیا۔ سینگور معاملہ ، جس نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو نقصان پہنچایا تھا، کو 2013 میں تحویل اراضی قانون کی شکل میں قانونی شکل دے دی گئی۔
اب آخر کار جی ایس ٹی کو ہم نے قانونی شکل دے دی ہے۔ 15سال کی بے معنی بحث کے بعد اسے قانونی شکل دی دی گئی۔ اب کیا یہ مانا جاسکتاہے کہ یہ قانون مودی سرکارکی ترقی کے سفر میں نئی توانائی عطا کرے گا؟یا پھر، کیا جی ایس ٹی کے پاس ہوجانے کے بعد باقی سیاسی پارٹیوں کو یہ یقین ہو جائے گا کہ تیز رفتار ترقی کی اقتصادی پالسی فائدہ مند پالیسی ہے اور یہی واحد راستہ ہے جو ہندوستان کو محض حقداری (entitlements) سے نکا ل کے ایک قابل احترام آمدنی کی طرف لے جائے گا؟
مسئلہ یہ ہے کہ سیاستداں ترقی میں یقین نہیں رکھتے۔ وہ کم ڈیولپمنٹ ریٹ چاہتے ہیں تاکہ انہیں لوگوں کو ریزرویشن اور سبسڈی دینے کا موقع ملتا رہے۔ یہ کام یو پی اے 2 کی سرکار نے بہت کارگر ڈھنگ سے کیا۔بی جے پی ؍این ڈی اے سرکار میں بھی غربت ختم کرنے بجائے گئو رکشا پر بحث کرنے میں زیادہ دلچسپی ہے۔
ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ گنگا کی صفائی کرنی ہے۔ سوچھ بھارت سے ہیلتھ سیکٹر میں سدھار لانا ہے۔ ریلوے کو سستا اور اچھا کرنا ہے اور جدید بھی، تاکہ غریب لوگ بھی اس میں سفر کر سکیں۔ دراصل اب کام پر لگ جانے کا وقت آگیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *