عالمی سطح پر بچوں کی ہلاکتوں میں شرمناک اضافہ

p-8bبچے کا دل و دماغ کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔اس پر جیسی لکیر بنائی جائے وہی لکیر اس بچے کے کردار کا تعین کرتی ہے۔بچوں کے لئے اسلام میں خاصہ نرم پہلو رکھا گیاہے یہاں تک کہ جنگ کی حالت میں بھی بچوں کو مارنے کی سخت ممانعت ہے،مگر ادھر کچھ برسوں میں دنیا کے مختلف ملکوں میں دہشت گردانہ عمل کو اسلام کا نام دے کر جو جہاد کیا جارہا ہے اس جہاد کی وجہ سے بچے بڑی تعداد میں تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔افغانستان میں داعش اور طالبان نے اپنے مقصد کو استعمال کرنے کے لئے بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا تو صومالیہ میں الشباب نے بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔غرضیکہ پوری دنیا میں مختلف مقاصد سے بچوں پر نوع بنوع کے تشدد ہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں لگ بھگ ایک ارب بچے تشدد کا شکار ہیں۔ حالانکہ بچوں پر ہورہے تشدد کی روک تھام کے لئے اقوام متحدہ نے کئی اقدام کئے ہیں مگر اس کا خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آرہا ہے۔ بچوں پر تشدد کئی طرح سے ہوتا ہے یعنی جسمانی، جنسی اور ذہنی طور پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں جتنے تشدد ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے واقعات تو ریکارڈ میں آتے ہی نہیں ہیں۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کئی امیر ممالک میں بچوں کے خلاف صرف دس فیصد جرائم ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

ابھی حال ہی میں جاری اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ صرف افغانستان میںرواں برس کے پہلے چھ ماہ میں تشدد کے واقعات میں 11 سو سے زیادہ بچے زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات’خوفناک اور باعت شرم‘ ہیں اور تاریخ تمام واقعات کو برے نام سے یاد کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جنوری اور جون کے درمیان 1601 شہری ہلاک ہوئے جن میں بچوں کی تعداد 388 ہے۔صرف کابل میں ہزارہ برادری کی احتجاجی ریلی پر ہونے والے خودکش حملے میں 80 سے زیادہ افراد ہلک ہوئے اور اس حملے کی ذمہ داری خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کی۔
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے جنوری 2009 سے افغانستان میں ہلاک یا زخمی ہونے والے شہریوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کیا ہے اور اس وقت سے افغانستان میں تشدد کے واقعات میں 63 ہزار 934 عام شہری زخمی یا ہلاک ہونے کے واقعات ہوئے ہیں ، ان میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار 941 ہے۔رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں تشدد کے واقعات میں 1601 عام شہری مارے گئے جن میں 388 بچے اور 130 خواتین شامل ہیں۔اسی عرصے کے دوران زخمیوں کی تعداد 3 ہزار 565 ہے جن میں 1121 بچے اور 377 خواتین شامل ہیں۔پہلے چھ ماہ کے دوران ایک لاکھ 57 ہزار 987 افراد نے ملک کے اندر نقل مکانی کی اور یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 10فیصد زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات کا ذکر کیا ہے جس میں بچوں کا مسلح تنازع میں استعمال، بچوں پر جنسی تشدد، ارادی طور پر وکلا، کارکنوں، نمایاں خواتین، قتل کی سزا دینا اور صحت، تعلیمی مراکز پر حملے وغیرہ شامل ہیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں عام شہریوں خاص طور پر بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے کون لوگ ہیں ؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ افغانستان میں نیٹو کے انخلا کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔افغان حکومت مخالف عناصر اس تشدد کے ذمہ ہیں۔ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ افغانستان میں جتنی ہلاکتیں ہوئیں،ان ہلاکتوں میں 60فیصد ہلاکتیں طالبان اور دولت اسلامیہ کی طرف سے ہوئی ہیں۔
افغانستان سے 2011 سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا شروع ہونے اور دسمبر 2014 میں نیٹو مشن کے اختتام کے بعد سے ملک میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی واقعات میں ہر برس اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے خصوصی مشیر تادمیچی یامموتو کا کہنا ہے کہ ہر ہلاکت وعدوں کی ناکامی کی نمائندگی کرتی ہے اور مصیبتیں کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بہر کیف افغانستان سمیت پوری دنیا میں جو ہلاکتیں ہورہی ہیں یا تشددکے واقعات ہورہے ہیں، ان میں بچے بڑی تعداد میں شکار ہورہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *