اترا کھنڈ میں تیز ہو رہی سیاسی زور آزمائش سماج وادی پارٹی بھی منصوبہ بندی کررہی ہے

دھرمیندر کمار سنگھ
p-5bاترا کھنڈ اسمبلی انتخاب کو لے کر سبھی سیاسی پارٹیوں نے زور آزمائش کرنی شروع کردی ہے۔ سماج وادی پارٹی نے بھی اترا کھنڈ میں اسمبلی انتخاب کی تیاریاں زور و شور سے شروع کر دی ہے ۔ سماج وادی پارٹی پر سبھی سیاسی پارٹیوں کی نگاہ ہے۔ مانا جارہا ہے کہ اترا کھنڈ میں سماج وادی پارٹی قنوج سے ممبر پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی بیوی ڈمپل یادو کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ بنا سکتی ہے۔ ڈمپل یادو اترا کھنڈ کی ہیں اور سماج وادی پارٹی2017 کے اسمبلی انتخاب میں اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کی تیاریوں کی اتر کھنڈ کی دو بڑی پارٹیاں، بی جے پی اور کانگریس تجزیہ کررہی ہیں۔ بی جے پی نے بھی اپنا انتخابی مشن شروع کردیا ہے۔ حال ہی میں بی جے پی صدر امیت شاہ نے اترا کھنڈ کا دورہ کیا اور انہوں نے ’’شنگھ ناد مہا ریلی‘‘ کے ساتھ 2017 اسمبلی انتخاب کی تشہیر کی شروعات کردی ۔اس سے پہلے امیت شاہ نے بھگوان بدری ناتھ اور کیدار ناتھ کے درشن کئے۔ اترا کھنڈ کو لے کر امیت شاہ کی سنجیدگی کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے وہ درشن کے لئے ہیلی کاپٹر سے جانے والے تھے، لیکن بعد میں انہوں نے یہ پلان بدل دیا اور سڑک کے راستے سے گئے۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ بدری ناتھ کے درشن کے لئے جو بھی ہیلی کاپٹر سے گیا اسے اپنا اقتدار گنوانا پڑا ۔ بدری ناتھ کے درشن کے لئے ہیلی کاپٹر سے جانے والی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، سابق سی ایم این ڈی تیواری، وزیر بہادر سنگھ، ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک سمیت کئی ایسے لیڈر شامل ہیں جنہیں اپنی کرسی گنوانی پڑی تھی۔
پروت پردیش کی سیاست کا منظر کانگریس کے قد آور لیڈر وجے بہو گنا، ہرک سنگھ راوت، امرتا راوت سمیت 9باغی لیڈروںکے بی جے پی میں شامل ہونے سے بگڑ گیا ہے۔ لیکن جدو جہد کر کے اپنے اقتدار بچا پائے وزیر اعلیٰ ہریش راوت اترا کھنڈ میں کانگریس کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ابھی اترا کھنڈ کے اقتدار پر برقرار کانگریس سرکار بہو جن سماج پارٹی اور آزاد ایم ایل ایز کے سہارے چل رہی ہے،لیکن دھیرے دھیرے راوت اپنی زمین پختہ کرنے میں لگے ہیں۔
ادھر سماج وادی پارٹی اترا کھنڈ میں ڈمپل یادو کو چہرہ بنا کر اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ ڈمپل اترا کھنڈ میں پوڈی ضلع کے کوٹ دوار میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کو لگتا ہے کہ وہ ریاست میں اپنی سیاسی موجودگی درج کرا سکتی ہیں۔2000 سے پہلے غیر منقسم اتر پردیش کے پہاڑی علاقے میں سماج وادی پارٹی کا اچھا خاصا اثر تھا۔ الگ ریاست کے لئے اتر کھنڈا میں بہت بڑے پیمانے پر آندولن بھی ہوئے اور ان آندلوں میں کئی لوگوںکو اپنی جانیںگنوانی پڑیں۔ سماج وادی پارٹی اترا کھنڈ کی تقسیم کے خلاف تھی اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اتر پردیش کی تقسیم ہو ۔ اس کے بعد سے سماج وادی پارٹی کو اترا کھنڈ کے لوگ الگ ریاست آندولن کے مخالف کے طور پر دیکھنے لگے۔ اتر اکھنڈ کی 23 رکنی عبوری اسمبلی میں سماج وادی پارٹی کے تین ایم ایل اے تھے اس کے بعد سماج وادی پارٹی کی تمام کوششوں کے باوجود اترا کھنڈ میں ہوئے تینوں اسمبلی انتخابات میں اپنا کھاتا تک نہیں کھول سکی۔ سماج وادی پارٹی کا کہنا ہے کہ ریاست میں ان کی پارٹی کی مقبولیت بڑھنے لگی ہے اور کانگریس اور بی جے پی دونوں کی بد انتظامی سے پریشان عوام متبادل کے طور پر سماج وادی پارٹی کو دوبارہ اپنانا چاہتے ہیں۔ سماج وادی پرٹی کا کہنا ہے کہ ہم لوگ یہاںکے لوگوںکو سمجھانے میں کامیاب ہو رہے ہیںکہ اتر پردیش کے ساتھ ہی اترا کھنڈ میں بھی سماج وادی پارٹی سرکار ہونے سے ہمیں اثاثوں کی تقسیم سمیت سبھی مورچوں پر فائدہ ہوگا اور اس کا فائدہ عوام کو ہی ملے گا۔ اب بدلتے منظر کو دیکھتے ہوئے سماج وادی پارٹی بھی ڈمپل یادو کے ذریعہ اتر کھنڈ کے لوگوں کو اپنے پالے میں لانا چاہتی ہے۔
سماج وادی پارٹی اترا کھنڈ کے اقتدار کے لئے پورا زور لگا رہی ہے۔ شیو پال یادو کئی بار اترا کھنڈ کا دورہ کرچکے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور وزیر شیو پال یادو نے کیرانہ واقعہ کی جانچ کے لئے پانچ سنتوں کی ٹیم بنائی۔ سنتوں کی ٹیم اترا کھنڈ اسمبلی انتخاب کو دھیان میں رکھ کر ہی بنائی گئی تھی۔ کیرانہ کی جانچ کے لئے بنی ٹیم کے وفد میں بھارتیہ سنت سمیتی کے صدر پرمود کرشن، ہندو مہا سبھا کے صدر چکر پانی مہاراج، مہامنڈلیشور سوامی دیوندر نند گری، سوامی کلیان دیو اور سوامی چنمیا نند شامل تھے۔ ان سنتوں میںکانگریس اور بی جے پی سے لگائو رکھنے والے سنت شامل تھے اور ان کو سماج وادی پارٹی اپنے پالے میں لانا چاہتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کی پالیسی ہے کہ اتر اکھنڈ سادھو سنتوں کو سماج وادی پارٹی کے پالے میں لایا جائے۔ اس کے مد نظر ہی سماج وادی پارٹی کے قومی ترجمان راجندر چودھری ،اترا کھنڈ کے مشہور مندروں میں بھگوان کے درشن کے لئے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی راجندر یادو مٹھوں میں جاکر سنتوں سے ملاقات بھی کررہے ہیں۔ ریاست میں سماج وادی پارٹی سب کے ساتھ تعلقات بنائے رکھنے میں لگی ہے اور سنتوں کے ذریعہ بھی بی جے پی اور کانگریس کو چیلنج دینا چاہتی ہے

الگ سمجھ پردیش بنانے کی آہٹ
اتر ا کھنڈ کی تعمیر میں سب سے زیادہ ناانصافی سکھوں کے ساتھ ہوئی ہے۔ ترائی علاقے میں چھائے سکھ شہری نہیں چاہتے تھے کہ اترا کھنڈ کی تقسیم ہو۔سماج وادی پارٹی سے بھی سکھوں کو بھروسہ تھا کہ ترائی علاقہ اتر پردیش کے ساتھ ہی رہ جائے گا۔حالانکہ سماج وادی پارٹی کے چیف ملائم سنگھ یادو نے ہری دوار سمتی ترائی علاقہ کے یو پی میں بنے رہنے کی آخری دم تک کوشش کی تھی، لیکن کامیاب نہیں ہو پائے۔ ترائی علاقے میں سکھوں کی تعداد زیادہ ہے اور سکھ طبقہ سماج وادی پارٹی کے ساتھ جاسکتاہے۔اگر سماج وادی پارٹی سکھوں کے حق کا کوئی اعلان کر دے۔ سکھوں کو یہ بھی ناگوار گزرتا ہے کہ اترا کھنڈ کے لوگوں نے سکھوں کو کبھی قبول نہیں کیا اور انہیں اب بھی باہری سمجھتے ہیں۔ گرو نانک مشن انٹر نیشنل کے قومی صدر سردار امیر سنگھ ورک کہتے ہیں کہ 1984 کے سکھ فساد میں مارے گئے لوگوں کے رشتہ داروں کو معاوضہ کے طور پر کسی کو پانچ ہزار،کسی کو ایک ہزار اور شرم کی بات تو یہ ہے کہ کسی کو 70 روپے کے چیک معاوضے کے بطور دیئے گئے۔جبکہ اترا کھنڈ آندولن کے دوران ہوئے فساد کے دوران متاثرین کو دس دس لاکھ روپے کا معاوضہ دیا گیا۔ سکھوں کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی اس کی وجہ سے سکھوں میں سیاسی پارٹیوں کو لے کر ناراضگی ہے۔ ترائی کے سکھ اتر پردیش اور اترا کھنڈ کے بیچ اپنا الگ صوبہ چاہتے ہیں۔ ترائی علاقے کے مشتعل سکھ لیڈر امیر سنگھ ورک کہتے ہیں کہ لکھیم پور کھیری، شاہ جہان پور، پیلی بھت، اودھم سنگھ نگر جیسے علاقوں کو ملاکر سکھوںکے لئے الگ ریاست بنانے کی مہم اندر ہ اندر پروان چڑھ رہی ہے۔ورک کا دعویٰ ہے کہ اتراکھنڈ اور اتر پردیش کے سکھوں کا صوبہ قائم ہوگا اور اس کے لئے جلدی ہی مدھیشیوں کی طرح آندولن ترائی علاقے میں شروع کیاجائیگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *