یوپی اسمبلی انتخاب میں ہندووادی دھارا پر لوٹے گی بی جے پی انتخابی سرگرمیوںمیں تیزی

پربھات رنجن دین
p-3bاترپردیش میںاسمبلی انتخاب سے عین قبل بھارتیہ جنتا پارٹی کیا اپنی مشتعل ہندووادی دھارا پر لوٹے گی؟ گورکھپور علاقے کے بوتھ کنونشن میں بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے جس طرح کا رخ اختیار کیا، اس سے تویہی اشارہ ملتا ہے۔ بہار انتخاب کے بعد بی جے پی ’سرو دھرم – سمبھاؤ‘ کی کیفیت میںدکھائی دینے لگی تھی،لیکن آسام انتخاب میںغیر متوقع کامیابی کے بعد بی جے پی اپنے تیور بدلتے دکھائی دے رہی ہے۔ امت شاہ کے دستے کے معتبررکن اترپردیش کیتنظیم سکریٹری سنیل بنسل نے حال ہی میں ’چوتھی دنیا‘ سے ہوئی خاص بات چیت میں بی جے پی کے سیکولر رجحان کی طرف سرکنے کا اشارہ دیتے ہوئے صاف طور پر کہا تھا کہ رام مندر بی جے پی کا انتخابی مدعا نہیںہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس انٹرویو میں بنسل نے یوں ہی کہہ دیا تھاکہ بی جے پی کو اپنی سیاست جامع کرنی ہوگی۔ بنسل نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب تک تمام تر کی سیاست نہیںکررہی تھی۔ ایسی سیاست، جس میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلمان ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شریک رہیں۔ اس وقت بات چیت کا ایسا ہی ٹون قریب قریب سارے سینئر مرکزی لیڈروں کا ہونے لگاتھا۔ لیکن کیرانہ فارمولے نے اچانک ہی سامنے آکر یہ بتایا کہ بی جے پی اترپردیش کے اسمبلی انتخاب میںہندووادی لائن ہی اختیار کرے گی۔ قومی مجلس عاملہ کی الٰہ آباد میٹنگ کے درمیان منعقد ریلی میںوزیر اعظم نریندرمودی کی موجودگی میںاسٹیج سے ہی امت شاہ نے جس طرح کیرانہ کا مسئلہ اچھالاتھا اور سبھا میںشامل لوگوں سے اس مسئلے پر ہنکار کی سپورٹ لی تھی، اس سے بی جے پی کی یوپی لائن واضح ہوگئی تھی۔ گورکھپور میںبوتھ پرمکھوںکے کنونشن میں امت شاہ نے اس پر مہر لگادی، جب انھوں نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کا محض نام لینے سے مشرقی اترپردیش کے لوگوں اور بی جے پی کے کارکنوں میںجوش بھرجاتا ہے۔ گورکھپور علاقے کے 27 ہزار بوتھ پرمکھوں کے کنونشن کو مخاطب کرتے ہوئے امت شاہ نے گورکھ دھام پیٹھ کے اہم مہنت یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف میںڈھیر ساری باتیںکہیں۔ شاہ نے یہ تعریف اتفاقیہ طور پر نہیںکی ہوگی۔ یقینی طور پر تنظیمی سبھاؤں اور جلسوں میںتنظیم کے اعلیٰ لیڈر نے سوچ سمجھ کر ہی اپنی بات رکھی ہوگی۔
مشرقی اترپردیش بی جے پی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ گورکھپور علاقے میں13 لوک سبھا حلقے اور تقریباً 65 اسمبلی حلقے ہیں۔گورکھپور علاقے کی 12 لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ اعظم گڑھ کی ایک سیٹ ملائم سنگھ یادو نے جیتی تھی اور رماکانت یادو الیکشن ہار گئے تھے۔ گورکھپور کنونشن میںسبھی ارکان پارلیمنٹ اور اس علاقے کے سبھی ارکان اسمبلی موجود تھے۔قومی صدر امت شاہ کے علاوہ تنظیم کی طرف سے قومی نائب صدر اوم ماتھر،ریاستی تنظیم سکریٹری سنیل بنسل، ریاستی بی جے پی صدر کیشو موریہ، نیشنل کوآرگنائزنگ سکریٹری شیو پرکاش، ریاستی نائب صدر اور راجیہ سبھا کے رکن شیو پرتاپ شکل سمیت کئی قدآور لیڈر شامل ہوئے۔ قومی صدر امت شاہ کے اسٹیج پر آنے سے پہلے گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کی تقریر چل رہی تھی، لیکن شاہ کے آتے ہیتقریر تھم گئی۔ بعد میںشاہ نے پھر سے یوگی کو بلا کر پوریتقریر سنی۔ امت شاہ نے اپنے خطاب میںجیسے ہی کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ کا نام آتے ہی لوگوں میںجوش آجاتا ہے، لوگ جو ش وخروش سے بھر جاتے ہیں، تو کنونشن میںموجود کارکن یوگی کی حمایت میںنعرے لگانے لگے، اس سے ماحول میںبے چینی بھی پیدا ہوئی او رشاہ کو تھوڑی ناراضگی بھی ہوئی۔ امت شاہ نے اپنے خطاب میںیوگی آدتیہ ناتھ کے کیرانہ والے بیان کی حمایت کی اور کہا کہ بی جے پی کیرانہ میںہندوؤں کے ساتھ ہورہے ظلم کے خلاف لڑے گی۔ شاہ نے اترپردیش کی سماجوادی سرکار پر کئی تیکھے حملے کیے اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ گایوں کی اسمگلنگ کرنے والے سب سے زیادہ یوپی کے ہی ہیں۔شاہ نے کہا کہ اترپردیش میںبی جے پی سرکار لانے کے لیے سب کو مل کر ایس پی کو باہر کرنا ہوگا۔ شاہ نے ترقی کے مسئلے بھی اٹھائے اور ایس پی سرکار کے پچھڑے پن کے اعداد وشمار سامنے رکھے۔ انھوںنے گورکھپور میںایمس قائم کرنے کا مسئلہ بھی اٹھایا ، جس میں یوپی سرکار اڑنگے کھڑے کررہی ہے۔ شاہ نے کہا کہ اگر ریاستی سرکارایمس کے لیے جگہ نہیں بھی دے گی، تو مودی سرکار کوئی نہ کوئی طریقہ نکالے گی۔ شاہ بولے کہ مودی کھاد کی فیکٹری تو کھلواسکتے ہیں، لیکن چینی ملیں پھر سے کھولنے کے لیے ریاست میںبی جے پی کا وزیر اعلیٰ ہونا لازمی ہے۔ امت شاہ نے مایاوتی پر بھی نشانہ سادھا اور کہا کہ بی ایس پی چھوڑ کر جانے والے لیڈروں کی ہی خبریں اخباروں کی سرخیوں میں بنی رہتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انتخاب تک بہن جی اکیلی ہی رہ جائیںگی۔
اسمبلی انتخاب کو لے کر تمام سیاسی جائزوں میں لگے سیاسی پنڈت ،یوگی آدتیہ ناتھ کی عوامی سطح پر تعریف کے بھی مضمرات نکالنے میں لگے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ امت شاہ اسمبلی انتخاب میںیوپی کا چہرہ کون ہوگا،اس قیاس پر بریک لگاگئے ہیں۔ لیکن یہ خیال بھی قیاس ہی ہے،تب تک، جب تک کہ باضابطہ طور پر پارٹی کی طرف سے کوئی اعلان نہیںہوجائے۔ پارٹی کا چہرہ کون ہوگا، اس پر بہار اسمبلی انتخاب کے بعد سے ہی چرچا ہونے لگی تھی اور اس میںکلیان سنگھ اور راجناتھ سنگھ سے لے کر یوگی آدتیہ ناتھ ، اسمرتی ایرانی، ورون گاندھی اور مہیش شرما تک کے نام چل گئے۔ لیکن اب تک یہ سب نا م چرچاؤں تک ہی محدود رہے ہیں۔ کلیان اور راجناتھ کو الگ رکھیں، تو چرچا میں شمار ناموںمیںیوگی کا نام ہی سب سے مضبوط رہا، کیونکہ یوگی کی سیاسی زمین بھی کافی مضبوط ہے۔ یوگی 1998 میں پہلی بار 26 سال کی عمر میںہی گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ بنے اور تب سے لگاتار جیت رہے ہیں۔ وہ پانچویںبار رکن پارلیمنٹ ہیں۔ یوگی بی جے پی کے لیے سب سے بڑا ہندووادی چہرہ ہیں۔ ان کے اوپر بدعنوانی کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اپنے فائر برانڈ بیانوں کے سبب انھیںپولرائزیشن کا اسپیشلسٹ مانا جاتا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ یوگی کے نام پر اپنی حمایت دے چکے ہیں، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ابھی آخری رضا مندی نہیں ملی ہے۔ یوپی کے سیاسی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ بی ایس پی اور ایس پی کو کڑی چنوتی دے سکتے ہیں۔
ٓؓابتدائی دور میںمرکزی انسانی وسائل کی ترقی کی وزیر اسمرتی ایرانی کو سنگھ کی حمایت ملی، لیکن بعد میںیہ پھیکی پڑگئی۔ بیباکی کے ساتھ بولنے اور اپوزیشن کے لوگوں کا سامنا کرنے کی اہلیت رکھنے کے سبب اسمرتی کو سنگھ نے پسند کیا تھا، لیکن اترپردیش کے بدلتے سیاسی حالات میںاسمرتی کا نام ریلیونٹ نہیںرہا۔ اسمرتی کے بعد سلطانپور کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی کا نام خوب تیزی سے چلا۔ ورون 2009 میںپیلی بھیت سے رکن پارلیمنٹ چنے گئے تھے۔2009 میں ہی مسلم مخالف بیان دے کر سرخیوں میں آئے تھے۔ لیکن دھیرے دھیرے ورون گاندھی کا نام پردے سے غائب ہوگیا۔ اس کے لیے بھی ورون گاندھی ذمہ دار ہیں، کیونکہ وزیر اعلیٰ کا متبادل چہرہ بننے کے لیے انھوں نے جو ہتھکنڈے اپنائے، اسے بی جے پی اعلیٰ کمان نے پسند نہیںکیا۔ اسمبلی انتخاب میں یوپی کے چہرے کے طورپر راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ کا نام بھی چلا۔ کبھی کلیان سنگھ اترپردیش کا کٹّر ہندووادی چہرہ ہوا کرتے تھے اور ریاست کے پسماندہ طبقے خاص طور سے لودھی کمیونٹی میںان کی خاصی پکڑ ہے۔ لیکن صحت ٹھیک نہ ہونے کے سبب کلیان سنگھ کا اسمبلی انتخاب میں جارحانہ استعمال ممکن نہیںہے۔ اس کے بعد وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ چرچا میں آئے۔ لکھنؤ کے رکن پارلیمنٹ راجناتھ سنگھ کی شبیہ ریاست میںاچھی ہے اور انھیںبی جے پی کا سیکولر چہرہ بھی ماناجاتا ہے۔ راجناتھ سنگھ کے نام پر ابھی پارٹی میں غور چل رہا ہے، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بی جے پی انتخاب میںکون سی لائن چنتی ہے۔ مرکزی وزیر مہیش شرما کا نام بھی ممکنہ انتخابی چہرے کے طور پر چرچا میںآیا تھا، لیکن مغربی اترپردیش کا جانا پہچانا چہرہ وسطی اور مشرقی اترپردیش میں اتنا گھریلو نہیںہے۔ پسماندہ طبقہ (لودھ) کی رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر سادھوی اوما بھارتی اور برہمن رکن پارلیمنٹ و مرکزی وزیر کلراج مشر کے نام بھی چرچا میںرہے ہیں۔ اترپردیش میںانتخابی چہرے کی قیاس بازی کا وقت ختم ہورہا ہے، اب فیصلہ کن وقت آگیا ہے۔
جو بڑے لیڈر بہوجن سماج پارٹی چھوڑ کر نکلے ہیں، ان کی بی جے پی میں خیر مقدم کرنے کی بھی تیاریاں چل رہی ہیں۔ ان تیاریوں میںپارٹی کی حکمت عملی بھی شامل ہے کہ انھیںانتخاب میں کس طرح کی ذمہ داری دی جانی ہے۔ بی ایس پی سے جڑے بودھ بھکشوؤں کوبھی بی جے پی کے سائے میں لانے کی پوری تیاری ہے۔ کیشو موریہ کوریاست کا صدر بنانا اسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ کوئری کمیونٹی کے لوگ ریاست میںخاصی تعداد میں ہیں، لیکن اس طبقے کوسیاسی طور پر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اسے بی جے پی اپنے حق میںکرنا چاہتی ہے۔ سماجی، سیاسی تانا بانا درست کرنے کے ارادے سے ہی مختار عباس نقوی کووایا جھارکھنڈ راجیہ سبھا پہنچایا گیا او ربرہمن لیڈر شیوپرتاپ شکل کو راجیہ سبھا جانے کا موقع ملا۔اس بار بی جے پی کے جو ضلع صدور اور شہری صدور چنے گئے،اس میں بھی اس پہلو کا خاص طور پر دھیان رکھاگیا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار بی جے پی کے 94 ضلع اور شہر صدور میں پسماندہ اور نہایت پسماندہ ذات کے 44، برہمن ذات کے 29، ٹھاکر ذات کے 10 ویشیہ ذات کے 9 او ر دلت کمیونٹی کے 4 لوگ شامل ہیں۔ گزشتہ طویل عرصے سے پارٹی کے ضلع اور شہر صدور زیادہ تر برہمن اور اس کے بعد راجپوت ذات کے ہوا کرتے تھے۔
پارٹی نے تنظیمی ڈھانچے میںپھیر بدل اس لیے بھی کیا، کیونکہ اترپردیش کے گزشتہ تین اسمبلی انتخابات میںبی جے پی کی کارکردگی کافی کمزور رہی۔ سال 2002-2007 اور 2012 کے اسمبلی انتخاب میں اہم مقابلہ ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان ہی رہا۔ اس میں کانگریس اور بی جے پی کہیں نہیں رہیں۔ بی جے پی تیسرے مقام پر رہی۔ سال 1991 میںبی جے پی کو 221 سیٹیںملی تھیں۔ بی جے پی کا یہ اچھا مظاہرہ تھا۔2012 کے انتخاب میںبی جے پی کو 15 فیصد ووٹ ملے، جو بی ایس پی کے آدھے تھے۔ 2012 کے انتخاب میں 15 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی کو اچانک 2014 کے پارلیمانی انتخاب میں 42.63 فیصد ووٹ ملے ۔ پارلیمانی انتخاب کے نفسیاتی دباؤ سے گزر رہی بی جے پی نے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے ساتھ مل کر اترپردیش میں پوری طاقت جھونک دی ہے۔ علاقہ وار میٹنگوں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ پورے اترپردیش میںسرگرمی ہے۔ ریلیوں اور سبھاؤں کی ابھی سے لسٹ تیار ہورہی ہے۔ اس میں اسپیکر کون ہوں گے،انعقاد کی ذمہ داریاں کسے دی جائیں گی اور فنڈ مینجمنٹ کیسے ہوگا، ان سب کی قواعد چل رہی ہے۔ بی جے پی کا ریاستی سطح کا تنظیمی سلیکشن کا کام بھی خبرچھپتے چھپتے پورا ہوجانے کا امکان ہے۔ انتخابی ریلیوں کو خاص طور پر امت شاہ، راجناتھ سنگھ اور کلیان سنگھ مخاطب کریں گے اور خاص ریلیوں میںنریندر مودی آئیںگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *