یونیفارم سول کوڈ کیا چاہتے ہیں مسلم نوجوان

شفیق عالم
p-3ہندوستان میں یونیفارم سول کوڈ یابالفاظ دیگر یکساں سول کوڈ کا ایشو کافی سالوں سے اٹھتا رہا ہے۔ ہندوستان کے آئین کا مسودہ تیار کرتے وقت بھی اس مدعے پر بحث ہوئی تھی اور آئین بنانے والوں کو اس بات کا احساس تھا کہ ملک کے سبھی شہریوں کے لیے ان کے سول معاملوں میں بھی ایک جیسا قانون لاگو ہو۔ اس کے لئے ملک کے پالیسی رہنما اصول (ڈائریکٹو پرنسپلز آف اسٹیٹ پالیسی) میں دفعہ 44 کا پرویژن رکھا گیا ہے، جس میں ملک میں یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی سمت میں کوشش کرنے کا ذکر ہے۔مودی سرکار نے یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے لا کمیشن کو یونیفارم سول کوڈ کے سبھی پہلوئوں کا مطالعہ کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔یہ پہلا موقع ہے جب مرکزی سرکار نے لا کمیشن سے اس طرح کی پہل کرنے کو کہا ہو۔ چونکہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرتا آیا ہے، لہٰذا ’’چوتھی دنیا‘‘ نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مسلمانوں کا نوجوان طبقہ،خاص طور پر طلبائ، یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔
یونیفارم سول کوڈ نافذ نہیں ہونا چاہئے
مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو یونیفارم سول کوڈ کے بالکل خلاف ہے۔ ملک کے مسلم نوجوانوں میں بھی اس کی گونج صاف سنائی دیتی ہے۔ نوجوانوں کا یہ طبقہ ایسا ہے جو یونیفارم سول کوڈ یامسلم پرسنل لاء پر کسی طرح کی بحث کے خلاف ہے۔ بہار سے تعلق رکھنے والے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ناصر حسین کا کہنا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی بات جو آئین کی دفعہ 44 میں کی گئی ہے وہ ٹھیک ہے، لیکن ہم مسلمان ہیں اور آئین ہمیں مذہبی آزادی کا بھی حق دیتا ہے۔ اگر یونیفارم سول کوڈ لاگو ہوتا ہے تو اس میں بہت ساری باتیں ایسی ہوںگی جو ہماری مذہبی وابستگی کے خلاف ہوںگی۔ خاص طور پر شادی اور طلاق کے معاملے میں اگر یونیفارم سول کوڈ لایا جائے گا تو اس میں پھر کنٹراڈکشن آجائے گا۔لہٰذا یونیفارم سول کا نفاذ ٹھیک نہیں ہے۔ عورتوں کے مساوی حقوق کے سوال پر ناصر حسین کہتے ہیں کہ عورتوں کے حقوق کی بات سب سے پہلے اسلام نے کی اور قرآن میں اسے صاف صاف بتا دیا گیا ہے۔ اسلام انہیں برابری کا حق دیتا ہے، جس میں طلاق کا سسٹم بھی شامل ہے۔
پبلک ایڈمنسٹریشن میں جامعہ ملیہ یونیورسٹی سے ایم فل کر رہے مظہر الدین کی بھی رائے کم و بیش یہی ہے کہ یونیفارم سول کوڈ لاگو نہیں ہونا چاہئے۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اس سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مذہب کسی کو غلط راستہ نہیں بتاتا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پرانے مذہبی قانون، جدید معیار پر کھرے نہیں اترتے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ مذہب صحیح چیز بتاتا ہے، ان کے رہنما صحیح طریقے سے اس کی توضیح نہیں کرتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے رہنما انہیں صحیح راستہ بتائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام عورتوں کو زیادہ حقوق دیتا ہے لیکن لوگ اس کا اہتمام نہیں کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کی غلطی ہے نہ کہ پرسنل لاء کی۔ اس لئے بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ مظہر الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ بی جے پی یونیفارم سول کوڈ کے بہانے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔
عربی زبان و ادب میں پی ایچ ڈی کررہے معراج بھی یونیفارم سول کوڈ کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا پورا ایمان قرآن پر ہے اور قرآن میں جو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اسی کے مطابق ہمیں جینے دیا جائے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ پرسنل لاء خاص طور پر مسلم پرسنل لاء میں عورتوں کو ان کا جائز حق نہیں دیئے جانے پر اکثر سوال اٹھایا جاتاہے؟ تو معراج کا کہنا تھا کہ اسلام کبھی بھی عورتوں کے خلاف نہیں رہا ہے۔ اسلام میں جو بھی قانون بنے ہیں وہ سوچ سمجھ کر بنے ہیں۔ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ قرآن سے اگر ہمارے کسی مسئلے (سول معاملوں کا ) حل نکلتا ہے تو اس میں کوئی مداخلت نہ ہو۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں لائبریری سائنس کے طالب علم عمر فاروق بھی یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کے خلاف ہیں۔ مسلم معاشرے میں یونیفارم سول کوڈ کو اتفاق رائے سے لاگو کرنے کے سوال پر فاروق کہتے ہیں کہ آپ چاہے جتنا قانون بنا لیجئے ،انسان اسے توڑتا ضرورت ہے، آپ اسے سو فیصد لاگو نہیں کرسکتے، اس لئے وہ مجھے منظور نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر طلاق ہوتی ہے تو اس کے پیچھے کوئی وجہ ہوتی ہے۔ بغیر وجہ کوئی اپنا گھر نہیں بگاڑتا ۔معراج اس میں میڈیا کو بھی قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عورتیں اپنی مرضی سے حجاب پہن رہی ہیں اور میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ ان کے شوہر انہیں زبردستی پردہ کرا رہے ہیں تو ایسی چیزوں سے حالات مزید بگڑیںگے ،فائدہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔
جامعہ میں بی ایس سی کے طالب علم فہیم چودھری بھی یونیفارم سول کوڈ کے خلاف ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ پرسنل لاء کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس ملک میں ہمیں اپنے مذہب کو ماننے کا حق ہے تو ہمارے مذہب میں جو جو چیزیں آتی ہیں ان کو بھی ماننے کا حق ہونا چاہئے۔ انٹر نیشنل اسٹڈیز میں ایم فل کر رہے محمد عرفان کا کہنا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ نہیں لاگو ہونا چاہئے اور مسلمانوں کے سول معاملوں میں شریعت کے قانون کو چلتے رہنے دینا چاہئے ۔
ایم بی اے کے طالب عالم طاہر الگ الگ مذہبوں کے پرسنل لاء کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ ایک مچھلی کو اور ایک خرگوش کو ایک ساتھ نہیں دوڑا سکتے ۔ سب کی فطرت الگ الگ ہے تو اپنے اپنے فطرت کے لحاظسے ان کے قوانین ہیں اور وہ سب کو ایک ساتھ کرنے کی کوشش کریں گے تو نہ مچھلی تیر پائے گی اور نہ خرگوش دوڑ پائے گا۔ اگر سول قانون کو یونیفارم ہی کرنا ہے تو اس کے دوسرے طریقے بھی ڈھونڈے جاسکتے ہیں ۔اس لئے ہم اس یونیفارم سول کوڈ کے حق میں نہیں ہیں۔ کیونکہ اس میں ہمارے حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔
بحث ہو سکتی ہے
طلباء کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بھلے ہی یونیفارم سول کوڈ کو لاگو کرنے کے خلاف ہے ، لیکن اسے لگتا ہے کہ یہ ایشو بہت اہم ہے اور اس پر بحث ہونی چاہئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بی ایس سی کر چکے انتخاب کا ماننا ہے کہ مسلم پرسنل لاء میں خامیاں ہیں اور اس میں اصلاح کی گنجائش ہے، لیکن یونیفارم سول کوڈ کو اس وقت تک لاگو نہیں کیا جانا چاہئے جب تک اس سے متاثر ہونے والے سماج کی طرف سے اس کے لئے مانگ نہ اٹھے۔ وہ کہتے ہیں کہ سرکار یونیفارم سول کوڈ کے بہانے مسلمانوں کے معاملوں میں مداخلت کرنے لگے گی۔ اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے لیے سول قانون کی کی سفارش مسلمانوں کی طرف سے ہو۔ جامعہ میں بی اے کے طالب علم معراج بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ اندرونی سدھار ہونی بھی چاہئے۔لیکن ساتھ میں انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ مودی سرکارنے اتر پردیش کے انتخاب میں پولرائزیشن کی نیت سے یونیفارم سول کوڈ کا مسئلہ چھیڑ ا ہے۔
ایم ایس سی کر چکے بی ایڈ کے طالب عالم عمران کہتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ لاگو ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں ملک کی ترقی کے لئے ضروری نہیں ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جن اعتراضات کو بنیاد بنا کر یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنے کی بات ہورہی ہے اگر یونیفارم سول کوڈ لاگو ہونے کے بعد بھی وہ اعتراضات ختم نہیں ہوتے تو آپ پھر کیا کریں گے؟ عمران کہتے ہیں کہ پرسنل لاء پر بحث ہونی چاہئے اور اس میں ضروری ترمیم بھی ہونی چاہئے۔ مثال کے طور پر تین طلاق ہے۔یہ شریعت کے حساب سے جائز ہے، لیکن اس میں اضافی پابندی لگا سکتے ہیں کہ اگر آپ کو طلاق دینا ہے تو پھر گزارہ بھتہ وغیرہ دینا پڑے گا۔ عمران کے ہم جماعت سلیم ان کی اس رائے سے اتفاق رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اضافی بندش لگائی جاسکتی ہے اور یونیفارم سول کوڈ پر بحث بھی ہو سکتی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ لاگو نہیں ہونا چاہئے۔
یونیفارم سول کوڈ سے بڑے مسائل بھی ہیں
طلباء کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو یہ مانتا ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے، لیکن ملک میںاس سے بھی بڑے مسائل موجود ہیں جن کی طرف سرکار کو پہلے دھیان دینا چاہئے۔ مثال کے طور پر فرقہ وارانہ فساد کا مسئلہ، مسلمانوں کی سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں کم نمائندگی کا مسئلہ۔ جامعہ میں ہی ایم بی اے کی طالبہ ایمن گیلانی کا ماننا ہے کہ اگر یونیفارم سول کوڈ کو مساوی طور سے لاگو کیا جاسکتا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ساتھ میں وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ سماج کے کمزور طبقوں کو صرف مذہب ہی نہیں متاثر کرتا ہے بلکہ شدت پسندی بھی انہیں متاثر کرتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ شدت پسند فکر کسی بھی شکل میں بری ہے۔ گیلانی کہتی ہیں کہ اگر اسلام کو آپ ٹھیک ڈھنگ سے مان رہے ہیں تو کسی کا حق نہیں مارا جاتا۔ جائیداد سے لے کر فیملی تک ہر قانون منطقی اور مدلل ہے۔ گیلانی سرکار کی نیت پر شک کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ سے بڑے مسائل ملک میں موجود ہیں، سرکار اسے حل کرنے کے لئے قانون کیوں نہیں بناتی؟ جو ملک میں فرقہ وارانہ طاقتیں مضبوط ہو رہی ہیں انہیں روکنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی؟ ان کا کہناہے کہ ہم اسٹوڈنٹ ہیں ایمس جیسے ادارے میں ایک بھی مسلمان طالب علم کو داخلہ کیوں نہیں مل پاتا، آئی آئی ٹی میں مسلم طلباء کی نمائندگی کم کیوں ہے؟
انگلش آنرس کی طالبہ اریبہ کہتی ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ سے مرد اور عورت دونوں متاثر ہوں گے۔وہ کہتی ہیں کہ ہندوستان میںفرقہ واریت کا جو مسئلہ ہے ،وہ کبھی نہیں جانے والا۔ اگر ایسا سسٹم آبھی جاتا ہے جسے سبھی مانیں تو بحیثیت ایک مسلمان میں سمجھتی ہوں کہ ہم آج بہت زیادہ غیرمحفوظ ہیں، اس وقت ہم سب کے نشانے پر ہیں اور ہو سکتا ہے ہمیں یونیفارم سول کوڈ کے لئے قربانی زیادہ دینی پڑے اور حاصل بہت کم ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ کا ایشو سو فیصد بی جے پی کے سیاسی ایجنڈا کا حصہ ہے، یہ کسی کی بھلائی کے لئے نہیں کیا جارہا ہے۔
یکساں سول کوڈ نافذ ہونا چاہئے
کیرل یونیورسٹی سے پاس آئوٹ اورکیرل فلم انڈسٹری میں اپنی قسمت آزما رہے احمد صدیق کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں یونیفارم سول کوڈ کو دہائیوں پہلے لاگو ہو جانا چاہئے تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے میں سمجھتا ہوں کہ یونیفارم سول کوڈ میری عبادت کرنے کی آزادی میں کسی طرح سے رکاوٹ نہیں ہوگا، دراصل یہ گمراہ لوگوں کو خود کے فائدے کے لئے اپنے حساب سے اسلامی قانون کو توڑنے مروڑنے سے بھی روکے گا۔ ان کا خیال ہے کہ ریاست اور مذہب کو پوری طرح سے الگ ہونے چاہئیں اور کسی بھی طبقے کو خصوصی رعایت نہیں ملنی چاہئے۔ چاہے وہ اکثریتی طبقہ ہو یا اقلیتی۔ یونیفارم سول کوڈ اس سمت میں ایک قدم ہوگا۔ صدیق یہ بھی کہتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ کے فقدان کی صورت میں سیاسی پارٹیاں معاشرے میں درار پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور جس کا نقصان مسلمانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
رشید خاں کا ماننا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ لاگو ہونا چاہئے یا کم سے کم اس پر بحث ہونی چاہئے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ لاگو کرتے وقت شریعت کو بالکل نظر انداز بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ مسلمانوں میں شریعت کو مانتا ہی کون ہے۔ اس لئے بدلائو کی گنجائش ہے۔ کچھ لوگ اسلامی قانون کی غلط تشریح کرکے اپنی بیٹیوں کو پڑھنے کے لئے باہر نہیں نکلنے دیتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوںکی پسماندگی کا یہ سب سے بڑا سبب ہے۔
بہر حال یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ لاء کمیشن یونیفارم سول کوڈ کو لے کر کیا رپورٹ دیتا ہے اور اس رپورٹ کا انجام کیا ہوتا ہے؟لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مسلم نوجوانوں کے خیالات بھی بالکل وہی ہیں جو یونیفارم سول کوڈ کو لے کر عام طور پر مسلم معاشرے کے خیالات ہیں۔ مسلم طلبہ کا ایک گروپ ایسا ہے جو یونیفارم سول کوڈ لاگو کرنا تو دور اس پر بحث کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ اس گروپ کے مطابق مسلم سول قانون میں کسی بدلائو کی ضرورت نہیں ہے۔ جبکہ دوسرا گروپ بات چیت اور بحث کے لئے تیار تو ہے لیکن اس کو لگتا ہے کہ پرسنل لاء کی ابھی ضرورت نہیں ہے اور ایسے کئی قانون ہیں جن پر بات ہونی چاہے اور جنہیں لاگو کیا جانا چاہئے۔ ایکگروپ ایسا بھی ہے جو مسلمانوں کے آپسی اتفاق رائے سے بدلائو کے حق میں ہے، لیکن اسے یونیفارم سول کوڈ سے اعتراض ہے۔ لیکن ایک فریق ایسا بھی ہے جو یونیفارم سول کوڈ کو ہر حال میں لاگو کروانے کے حق میں ہے، لیکن زیادہ تر نوجوانوں کا ماننا ہے کہ سول کوڈ کی بحث کے پیچھے سیاست ہے اور بی جے پی اپنے پرانے ایجنڈے کو عمل میں لانے کی کوشش کر رہی ہے اور پولرائزیشن کے ہتھیار کی شکل میں استعمال کررہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *