بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہے

مفتی ریاض ا حمدقاسمی
طلاق ناپسندیدہ عمل ہے
نکاح اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے، جس سے مردو عورت دونوں یکساں فیض یاب ہوتے ہیں، اس لئے دونوں کا فرض ہے کہ: اس نعمت کی قدر کریں، اس کی بقا واستحکام کے لئے ہر ممکن جدوجہp-11 جاری رکھیں،مشکل حالات میں صبر وتحمل ،عفو ودرگزراور ہمدردی وہم آہنگی سے کام لیں، لیکن بعض دفعہ زوجین کے درمیان ایسی کشیدگی اور ذہنی دوری پیدا ہوجاتی ہیکہ: نکاح رحمت کے بجائے زحمت بن جاتاہے،ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ: خوبصورتی اور حسن سلوک کے ساتھ نکاح ختم کردیا جائے، اسی کانام’’ طلاق‘‘ ہے۔ طلاق چونکہ نعمت نکاح سے محرومی ہے ، اس لئے خدائے رحمٰن ورحیم کو اپنے بندوں کی یہ محرومی پسند نہیں ہے، چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے مختلف اسلوب سے اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدگی کو واضح فرمایا ہے، مثلاً :
(۱) حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔(ابوداؤد)
(۲) حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: نکاح کرو ، طلاق مت دو، کیوںکہ طلاق دینے سے عرش الٰہی ہل جاتاہے۔(قرطبی، آیت :۱، المسئلۃ الثانیۃ)
(۳) حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت شرعی ضرورت کے بغیر اپنے شوہر سے طلاق نہ مانگے، ورنہ وہ جنت کی بو نہیں پائے گی،حالانکہ اس کی بو چالیس سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے۔(ابن ماجہ)
ان روایات سے واضح ہوتاہے کہ : عام حالات میں طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے،جس سے دور رہنے کی تاکید مردوعورت دونوں کو کی گئی ہے، اس کے باوجوداگر طلاق دی جاتی ہے ، تو واقع ہوجاتی ہے، یہ شریعت کی ایک مسلمہ حقیقت ہے، جس سے کسی کو انکار نہیں ہے۔
طلاق دینے کا سب سے اچھا طریقہ:
یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتہن واحصواالعدۃ، اے نبی ! جب آپ لوگ عورتوں کو طلاق دیں ، تو انہیں ان کی عدت پر طلاق دیں ، اور عدت یادرکھیں ، (الطلاق ،آیت: ۱)
اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کے ذریعہ امت کو یہ ہدایت دی گئی کہ: عورتوں کو طلاق دیتے وقت عدت کا لحاظ رکھیں ، یعنی اس طور پر طلاق دیں کہ عورت پرعدت آسان رہے اور مرد کے لئے عدت کی افادیت برقرار رہے۔ قرآن مجید کی اس آیت کی وضاحت رسول اللہ ﷺ نے حدیث کے ذریعہ فرمائی، چنانچہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ: انہوں نے حالت حیض میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، (جس سے عدت طویل ہوجاتی) جب حضرت عمر ؓ نے آنحضورﷺ کو اس کی اطلاع دی، تو آپ نے فرمایا:اپنے بیٹے سے کہو کہ: وہ رجعت کرلے، پھر آئندہ حیض سے پاک ہونے تک اسے اپنی زوجیت میں رکھے،اس کے بعد اگر چاہے تو طلاق دے دیے،یہی وہ عدت ہے جس پر طلاق دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔(بخاری ومسلم)
قرآن وحدیث کی مذکورہ تفصیلات سے معلوم ہوا کہ: طلاق دینے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ: پاکی کے زمانے میں صحبت کئے بغیر ایک طلاق دیدی جائے، اوربیوی سے قطع تعلق کرلیا جائے، عدت گزرنے کے بعد نکاح خود بہ خود ختم ہوجائیگا، اور عورت آزاد ہوجائے گی،لیکن اگر کوئی اس بہتر طریقہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حالت حیض میں طلاق دیدے تو وہ بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس پر امت کا اتفاق ہے۔ اسی طرح اگر کوئی ایک کے بجائے الگ الگ پاکی کے زمانے میں تین طلاق دے دے تو یہ بھی طلاق دینے کا بہتر طریقہ نہیں ہے، مگر پوری امت متفق ہے کہ: تینوں طلاق واقع ہوجائیں گی۔
عہد نبوی میں تین طلاق دینے سے تینوں واقع ہوتی تھیں:
قرآن مجید کے اندر اللہ تعالیٰ نے جہاں تین طلاقوں کا ذکر فرمایا ہے، وہاں صرف یہ ذکر فرمایا ہے کہ: طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟۔ اور اگر کوئی اس سے تجاوز کرکے آخری طلاق دیدے تو وہ عورت پہلے شوہر کے لئے کیسے حلال ہوگی ؟چنانچہ ارشاد ہے : الطلاق مرتان فامساک بمعروف أوتسریح باحسان
طلاق دو مرتبہ ہے: اس کے بعد دستور کے مطابق رکھ لینا ہے، یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔( البقرۃ، آیت: ۲۲۹)
اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ: زمانہ جاہلیت میں طلاق کی کوئی تعداد مقرر نہیں تھی، اس لئے شوہر جتنی چاہتا ، طلاق دیتا رہتا، اور رجعت کرتاجاتا،اس میں مردوں کے لئے تو بڑی سہولت تھی، مگر عورتوں کے لئے بڑی اذیت تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس طریقے کو ختم کرکے وہ معتدل قانون نازل فرمایاجس میں مردوعورت دونوں کے حق کی رعایت ملحوظ رکھی گئی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کی تعداد تین مقرر فرمادی، اس تفصیل کے ساتھ کہ دو مرتبہ تک شوہر کو عدت میں رجعت کا حق حاصل ہوگا، مگر تیسری مرتبہ کے بعد اسے یہ حق نہیں ہوگا، چنانچہ ارشاد فرمایا : فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ،پھراگروہ بیوی کو طلاق دے ، تو اس کے بعد وہ اس کے لئے حلا ل نہیں ہوگی، یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔
اس آیت کی بنیاد پر پوری امت کا اتفاق ہے کہ: اگر کوئی شوہر الگ الگ پاکی کے زمانے میں تین طلاق دے ، تو وہ تینوں واقع ہونگی،اور بیوی اس پر قطعی حرام ہوجائے گی۔۔۔ اسی طرح اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ: اگر شوہر بیک وقت تین طلاق دے دے، تو بھی تینوں طلاق واقع ہونگی،اور بیوی اس پر قطعی حرام ہوجائے گی، کیونکہ آیت کریمہ میں تین طلاقوں کے واقع ہوجانے کا صاف اور صریح بیان موجود ہے، جس کے لئے الگ الگ یا ایک ساتھ کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی ہے، لہٰذ ا قرآن مجید کے اس اطلاق پر عمل ضروری ہے، اور اپنی طرف سے الگ الگ واقع کرنے کی قید بڑھا نا قرآن مجید کے ا طلاق پر ایسی زیادتی ہے جو نہ صاحب قرآن رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے ، اور نہ حامل قرآن صحابہ کرام سے ثابت ہے۔ آئیے ! پہلے صاحب قرآن ﷺ کی چند احادیث پاک ملاحظہ کریں:
(۱) حضرت ابن عمر ؓ کی جو حدیث گزری ہے اس کے اخیر میں دارقطنی نے یہ اضافہ نقل کیا ہیکہ: حضرت ابن عمرؓ نے آنحضور ﷺ سے دریافت فرمایا کہ: اگرمیں اسے تین طلاق دیدیتا، تو کیا میرے لئے رجعت حلال ہوتی؟۔ آپ نے جواب دیا: نہیں! وہ تم سے الگ ہوجاتی، اور یہ عمل گناہ ہوتا۔(دارقطنی، ج:۴،ص:۳۱،مطبوعہ قاہرہ) اسی لئے حضرت ابن عمر سے جب یہ مسئلہ دریافت کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ: اگر تم نے ایک یا دو طلاق دی ہوتی تو تمہیں رجعت کا حق ہوتا، اس لئے کہ حضوراکرمﷺ نے مجھے اس کا حکم فرمایا تھا، لیکن اگر تم نے تین طلاق دیدی ہے، تو بیوی تم پر حرام ہوگئی ، یہا ں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔(بخاری ومسلم)
(۲) نسائی شریف کے حوالے سے یہ حدیث گزرچکی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو ایک ساتھ تین طلاق دینے کی خبر دی گئی، تو آپ شدید ناراض ہوئے، اور فرمایا کہ کیا کتاب اللہ کے ساتھ کھیل کیا جانے لگا، جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔
(۳) سوید ابن غفلہ ؒ سے روایت ہے کہ: ایک موقعہ پر حضرت حسن ابن علی ؓ نے اپنی اہلیہ سے ناراض ہوکر فرمایا : چلی جاؤ، تمہیں تین طلاق،پھر بعد میں جب اہلیہ کی پشیمانی اور پریشانی معلوم ہوئی تو حضرت حسن روپڑے اور فرمایا: اگرمیں نے اسے بائن(مغلظہ) طلاق نہ دی ہوتی، تو رجعت کرلیتا ،لیکن میں نے رسول ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے ، خواہ ہر پاکی کے وقت ایک ایک طلاق ، یا ہرماہ کے شروع میں ایک ایک طلاق ،یاایک ساتھ تینوں طلاق، تو وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔(دارقطنی،ج:۲،ص:۴۳۸، بیہقی،ج:۷،ص:۳۳۶،باسنادصحیح)
(۴) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی ، پھر اس کی بیوی نے دوسرے سے نکاح کیا ، اور دوسرے شوہر نے (صحبت کئے بغیر)طلاق دیدی،تو رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیاگیاکہ : کیا وہ پہلے شوہر کے لئے حلال ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں! جب تک کہ دوسرا شوہرصحبت نہ کرلے۔(بخاری ومسلم)
(۵) حضرت عویمر عجلانیؓ نے آنحضورﷺ کے سامنے اپنی اہلیہ سے لعان کیا ، لعان سے فارغ ہونے کے بعد حضرت عویمر نے فرمایا: اگر میں اس کو اپنی زوجیت میں رکھ لوں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ: میں نے اس پر جھوٹ بہتان لگایا، لہذا انہوں نے اسے تین طلاق دے دی۔( بخاری ومسلم)
اگر حضرت عویمر تینوں طلاق نہ دیتے، تو لعان کے ضابطہ کے مطابق یہ جواز باقی رہتاکہ وہ لعان سے رجوع کرکے دوبارہ اس سے نکاح کرلیں، مگر انہوں نے تین طلاق دے کریہ دروازہ بندکردیا۔ ۔۔ اگر تین طلاق ایک ہی شمار ہوتی ، تو آنحضور ﷺ اس موقعہ پر ضرور یہ وضاحت فرماتے کہ: اس طرح تین طلاق دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہے، کیونکہ وہ تو ایک ہی ہوتی ہے، اگر تم کوتین طلاق دینا ہی ہے تو، الگ الگ پاکی میں دو، حالانکہ ایسی کوئی بات آپ سے منقول نہیں ہے، بلکہ ابوداؤد نے صحیح سند کے ساتھ یہ اضافہ نقل کیا ہیکہ: آپ نے ان تینوں طلاقوں کو نافذ قراردیا۔(ابوداؤد،ج:۱،ص:۲۱۳)
(۶) حضرت فاطمہ بنت قیس نے بیان کیا کہ: میرے شوہر یمن گئے ہوئے تھے، وہیں سے انہوں نے مجھے تین طلاق دیدی، تو رسول اللہ ﷺ نے تینوں طلاق کو نافذ قراردیا۔(ابن ماجہ) دارقطنی نے اس روایت میں یہ وضاحت نقل کی ہیکہ: فاطمہ بنت قیس کے شوہر نے ایک لفظ سے تینوں طلاق دی تھی، اور رسول اللہ ﷺ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔ (دارقطنی، ج:۲،ص:۴۲۹)
یہ تمام روایات جمہور محدثین کے نزدیک صحیح ہے ، اور ان کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ تینوں طلاق ایک ساتھ دی گئی تھیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ: یہ مسئلہ عہدی نبوی میں کتنا معروف ومشہور تھا؟
(۱) حضرت ابن عباس ؓ کا فتویٰ : مجاہد ؒ فرماتے ہیں کہ: میں ابن عباس کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص آیا ،اور عرض کیاکہ: میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی ہے، یہ سن کر حضرت ابن عباس ؓ خاموش رہے، ہم نے سمجھا کہ بیوی کو شوہر کی طرف لوٹا دیں گے، مگر انہوں نے فرمایاکہ: تم پہلے جاکر حماقت کاارتکاب کرلیتے ہو، اس کے بعد پکار تے ہو، اے ابن عباس ؓ ! اے ابن عباسؓ! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(ترجمہ)’’ جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرمادے گا‘‘ ۔تم چونکہ اللہ سے نہیں ڈرے، اس لیے میں تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں پاتا۔تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تمہارے ہاتھ سے گئی۔( بیہقی ،ج:۷،ص:۵۴۲باسناد صحیح)
حضرت ابن عباس ؓ کا یہ فتویٰ صحیح سندوں کے ساتھ مختلف مواقع پر منقول ہے ، اس میں غور طلب بات یہ ہے کہ: تین طلاقوں کو ایک قرار دینے کی روایت خودحضرت ابن عباس ؓ ہی سے منقول ہے، پس یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عہد نبوی ، عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی زمانے کی روایت کچھ بیان کریں، اور فتویٰ اس کے خلاف صادر کریں، پھر اس پر قرآن مجید کا حوالہ بھی پیش کریں؟۔ اس لئے ماننا پڑتاہے کہ: ان کی روایت ایک خاص صورت سے متعلق ہے، جس کی وضاحت گزرچکی ہے ۔
(۲) حضرت ابوہریرۃؓ کا فتویٰ : ایک دیہاتی نے اپنی بیوی کو صحبت سے پہلے ہی تین طلاق دیدی تھی، جب حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ مسئلہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : ایک طلاق (غیر مدخولہ ) بیوی کو بائن کردیتی ہے، اور تین حرام کردیتی ہے، یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے ۔ اس مجلس میں ابن عباس بھی موجود تھے، انہوں نے بھی اس فتویٰ کی تائید کی،( بیہقی،ج:۷،ص:۵۴۹،باسناد صحیح)
(۳) حضرت ابو قتادہ ؓ کا فتویٰ : حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ: اگر لوگ اس طرح طلاق دیں ،جس طرح طلاق دینے کا حکم دیا گیا ہے، تو کوئی مرد ضرورت کے باوجود اپنی بیوی سے محروم نہ ہو،(اور نہ کوئی بیوی اپنے شوہر سے محروم ہو) لیکن تم پہلے تینوں طلاق دے ڈالتے ہو، پھر بیٹھ کر آنکھ ملنے لگتے ہو۔ لوگو ! طلاق دینے میں توقف کرو، توقف کرو، اللہ تمہیں برکت دے ، تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ، اور رسول کی سنت موجود ہے، پس کتاب وسنت کے بعد خدا کی قسم گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (مبسوط سرخسی ،ج: ۶،ص:۴ومابعد)
یہ نمونہ کے چند فتاویٰ ہیں ، ورنہ اس مسئلہ میں اسلاف سے اتنے تفصیلی فتاویٰ منقول ہیںکہ: ان سے ایک مستقل جلد تیار ہوسکتی ہے، اور یہ مضمون حضرت ابوقتادہ کے فتویٰ پر اس لئے ختم کیا گیا ہے کہ اس میں ہم لوگوں کے لئے بڑی نصیحت ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ دین کی تعلیم اس کی اصل بنیادوں سے حاصل کی جائے، دین پر عمل کا مزاج بنایاجائے ۔ اپنی اصلاح کے بجائے شریعت کی اصلاح کی بلکہ حالات وزمانہ کے مطابق اسے بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ سراسر صراط مستقیم سے انحراف ہے، اور اس سے ہمارے مشکلات میں مزید اضافہ کا راستہ ہمورا ہوتاہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت اور مغفرت فرمائے۔آمین یارب العالمین۔

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *