تیزی سے بدل رہاہے اتر پردیش کا سیاسی منظرنامہ سماج وادی اور بہو جن دونوں کے بکھرنے کے آثار

دین بندھو کبیر
p-4الگ الگ وجہوں سے سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کا کنبہ بکھر رہا ہے۔ سماج وادی پارٹی پریوار اختلاف کی وجہ سے بکھر رہا ہے تو بہو جن سماج پارٹی اندرونی عدم اطمینان کی وجہ سے بکھر رہی ہے۔انتخاب کے وقت پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے سماج وادی پارٹی میں تسلط قائم کرنے کی جو ہوڑ لگی ہے، اس میں پارٹی چار مختلف خیموں میں بٹ گئی ہے۔ ایک خیمہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا، دوسرا خیمہ شیو پال سنگھ یادو کا، تیسرا خیمہ رام گوپال یادو کا اور چوتھا خیمہ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو کا۔ اس میں چوتھا خیمہ ہی سب سے کمزور ثابت ہو رہا ہے۔ ملائم کے ساتھ جو سپاکے لوگ کھڑے ہیں وہ سب سے پرانے اور بزرگ چہرے ہیں،لیکن ملائم کے تئیں وفادار ہیں۔ شیو پال بھی اپنے بھاری بھرکم خیمے کے ساتھ ملائم کے ہی ساتھ کھڑے ہیں۔ رام گوپال اپنے خیمے کے ساتھ سماج وادی پارٹی کو اپنی مٹھی میں رکھنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس میں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو ان کا مہرہ ثابت ہورہے ہیں۔ اکھلیش اپنے والد کی ہی اندیکھی اورنظر انداز کررہے ہیں۔سماج وادی پارٹی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ اکھلیش یادو ایک طرف مختار انصاری کے نام پر قومی ایکتا دل کے سماج وادی پارٹی میں ملنے کی مخالفت کرتے ہیں تو دوسری طرف سارے بد عنوان اور غیر قانونی عناصر کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں والد ایسے بد عنوان اور غیر قانونی عناصر کو نکال دیتے ہیں تو بیٹا انہیں نہ صرف پارٹی میں واپس کراتے ہیں، بلکہ انہیں لیجسلیٹیو اسمبلی کی سیٹ یا وزیر کی سیٹ دے کر ملائم کے مقابلے ڈسپلن کی بڑی لائن کھینچ دیتے ہیں۔ ملائم ایگزیکٹیو کی لسٹ جاری کرتے ہیں تو اکھلیش غیر ملک سے لوٹ کر اس کے مقابلے میں لسٹ جاری کر کے اپنا بڑھا ہوا قد دکھاتے ہیں۔پارٹی کے سینئر ممبروں کا کہنا ہے کہ رام گوپال یادو کے ساتھ مل کر اکھلیش وہ سارے فیصلے پلٹنے پر زور لگا دیتے ہیں جو ملائم اور شیو پال کی رضامندی سے لاگو ہوتے ہیں۔ اکھلیش مجرمانہ شبیہ والے لوگوں کو پارٹی میں نہیں آنے دینا چاہتے ہیں اور وہ صاف ستھری شبیہ کے لوگوں کو پارٹی میں جگہ دینے کے حق میں ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ ان کی کابینہ میں ہی کئی چہرے مجرمانہ شبیہ کے ہیں تو وہ انہیں کیوں نہیں نکال باہر کرتے ۔ ایسی ہی بدنام شبیہ کے لوگوں کو وہ لیجسلیٹو اسمبلی بھیجنے کے لئے سفارش کیوں کرتے ہیں کہ گورنر تک اس میں قانونی سوال کھڑا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ والد ملائم نے 2012 میں بیٹے کی محبت میں ساری سیاسی اخلاقیات کو طاق میں رکھ کر اپنے بیٹے اکھلیش یادو کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا،لیکن بیٹے نے اس کا لحاط نہیں رکھا۔ سیاسی پنڈتوں کو امید تھی کہ نوجوان ہاتھوں میں ریاست کی باگ ڈور آنے سے روزگار اور ترقی کی رفتار بڑھے گی۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ریاست کی ان چار برسوں میں چار کناروں اور کئی ذیلی کونوں میں پھنسی رہی۔ اب ان سارے کناروں کا تضاد انتخاب کے وقت سڑک چھاپ ہوکر سامنے آرہا ہے۔ ملائم سنگھ یادو اور شیو پال سنگھ یادو کے فیصلوں پر وزیر اعلیٰ اکھلیش نے گھر اور مریادا کی چار دیواری سے باہر چھلانگ لگاکر مخالفت کرنا شروع کردی ہے۔ قومی ایکتا دل کے اتحاد کو لے کر اکھلیش نے جو عوامی رخ دکھایا ، وہ مریادا سے ہٹ کر غیر سنجیدہ تھا۔ سپاکے لوگ ہی کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو گھر کے اندر ہی نمٹایا جا سکتا تھا۔ رام گوپال یادو کے اشارے پر لکھی گئی مخالفت کی کہانی اگلے دن لکھنؤ میں عوامی طور پر دکھائی دی۔ جب اقتدار کے نشاں میں مغرور روم گوپال یادو میڈیا والوں کے سامنے مخاطب ہوئے ۔ سیاسی گلیارے سے لے کر سماج تک ان حرکتوں سے سماج وادی پارٹی کے خلاف پیغام گیا۔ بلرام کی برخاستگی اور رام گوپال کے کہنے پر پھر سے واپسی کو لے کر وزیر اعلیٰ کی تو بھدی ہوگئی ۔اس کا اثر انتخاب پر پڑے گا،اس سے کوئی سپاکا آدمی انکار نہیں کرپاتا۔
ادھر ، بہوجن سماج پارٹی کے سینئر لیڈر سوامی پرساد موریہ کے پارٹی چھوڑنے کے بعد جنرل سکریٹری آر کے چودھری نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ دلت لیڈر آر کے چودھری نے بھی مایا وتی پر ویسے ہی سنگین الزام لگایا جو دیگر لیڈروں نے لگائے تھے۔ مایاوتی کی فنڈ کے تئیں لالچ اب ان کی عوامی شبیہ کے طور پر قائم ہو گیا ہے۔ بہو جن سماج پارٹی چھوڑنے والے سابق راجیہ سبھا ممبر ڈاکٹر اکھلیش داس ، سابق وزیر ددّو پرساد، ایم ایل اے راجیش ترپاٹھی، راجیہ سبھا ممبر جگل کشور۔ سب نے یہی کہاتھاکہ مایاوتی ٹکٹ بیچتی ہیں اور موٹا پیسہ لے کر لوگوں کو راجیہ سبھا بھیجتی ہیں۔ آر کے چودھری نے بھی کہا کہ بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایا وتی کو اب کیڈر اور زمینی کارکنوں کے بجائے ٹھیکہ دار، مافیا اور ریئل اسٹیٹ کا دھندہ کرنے والے لوگ زیادہ عزیز ہیں۔ مایا وتی کے سبب کانشی رام کا سماجی بدلائو کا نعرہ پڑا کا پڑا رہ گیا۔ بہو جن سماج پارٹی سیاسی پارٹی کے بجائے ریئل اسٹیٹ کمپنی بن کر رہ گئی ہے۔ چودھری نے کہا کہ ابھی اور لوگ بہو جن سماج پارٹی چھوڑ کر جائیں گے۔ آر کے چودھری بہوجن سماج پارٹی کے بانی کانشی رام کے چہیتوں میں رہے ہیں۔ مایا وتی نے اسمبلی کے پہلے صدر برکھو رام ورما کے ساتھ چودھری کو 21 جولائی 2001 کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔ اس کے بعد پہلے ورما کو اور بعد میں چودھری کو اپریل 2013 میں پارٹی میں پھر سے واپس لے لیا گیا تھا۔ چودھری موہن لال گنج سے تین بار ایم ایل اے رہے ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا کا پچھلا انتخاب بھی موہن لال گنج (ریزرو) سے لڑا تھا، لیکن بی جے پی کے کوشل کشور کے ہاتھوں وہ انتخاب ہار گئے تھے۔ مایاوتی نے اس بار موہن لال گنج (ریزرو) اسمبلی سیٹ سے آر کے چودھری کے بجائے رام بہادر کو امیدوار اعلان کر دیا ۔ چودھری نے اسی وجہ سے بہو جن سماج پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ابھی 22جون کو ہی بہو جن سماج پارٹی کے سینئر لیڈر سوامی پرساد موریہ نے مایا وتی پر ٹکٹ بیچنے کا سنگین الزام لگاتے ہوئے بہو جن سماج پارٹی چھوڑ دی تھی۔ موریہ نے کہا تھا کہ مایاوتی کے اندر پیسے کی ہوس پیدا ہو گئی ہے۔ یہ کانشی رام اور بابا صاحب امبیڈکر کی توہین ہے ۔ بہو جن سماج پارٹی نیلامی کا بازار بن گئی ہے۔مایا وتی نے امبیڈکر کے نظریات کا خون کیاہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے کارکن پریشان ہیں۔ اس پارٹی میں دلتوں کے لئے جگہ نہیں رہ گئی ہے۔
لب لبا ب یہ ہے کہ بہو جن سماج پارٹی میں تقریباً بغاوت کی ہی صورت ہے۔صرف سوامی پرساد، موریہ ہی کیوں، بہو جن سماج پارٹی چھوڑنے کا عمل تو پہلے سے جاری ہے۔ ڈاکٹر اکھلیش داس، جگل کشور، فتح بہادر سنگھ، راجیش ترپاٹھی جیسے کئی نام ہیں، جو بہو جن سماج پارٹی کے خاص تھے، لیکن انہیں پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان میں سے تقریباًسبھوں نے مایا وتی پر یہ الزام لگایا کہ یہ پیسے لے کر لوک سبھااور اسبملی انتخاب کاٹکٹ بانٹتی ہیں یا بھاری فنڈ لے کر کسی کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کرتی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کی لہر میں بھی بہو جن سماج پارٹی نے چلو پار جیسی سیٹ جیتنے والے ایم ایل اے اور سابق وزیر راجیش ترپاٹھی کو بہو جن سماج پارٹی چھوڑنی پڑی ۔۔راجیش ترپاٹھی کو درکنار کرکے مایاوتی ہری شنکر تیواری کے کسی رشتہ در کو اسمبلی انتخاب میں اتارنے کی تیاری میں تھیں۔ اس کی بھنک لگتے ہی راجیش نے بہو جن سماج پارٹی سے کنارہ کر لیا۔
بہو جن سماج پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر ڈاکٹر اکھلیش داس گپتا کے استعفیٰ کی کہانی سے لوگ حیران ہیں۔ مایاوتی نے ڈاکٹر اکھلیش داس گپتا کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ دوبارہ دینے سے منع کر دیا تھا۔ اس پر ڈاکٹر داس نے یہ الزام لگایا تھا کہ راجیہ سبھا کا امیدوار بنانے کے لئے مایاوتی سو سو کروڑ روپے مانگتی ہیں۔ اسی طرح راجیہ سبھا کے لئے منتخب نہیں ہونے کا غصہ سابق ممبر پارلیمنٹ برجیش پاٹھک میں بھی ہے۔ حالانکہ انھوں نے ابھی پارٹی نہیں چھوڑی ہے،لیکن چرچا ہے کہ مایاوتی کے ستیش چندر مشر سے اکیلے برہمن پریم کی وجہ سے برہمن طبقہ کے کئی لیڈر جلدی ہی بہو جن سماج پارٹی چھوڑدیںگے۔ مایا وتی نے اپنے دور حکومت میں جس آئی پی ایس آفیسر کو سب سے زیادہ ترجیح دی تھی، وہ برج لال بھی ریٹائر منٹ کے بعد بی جے پی میں شریک ہو گئے تھے۔ جبکہ برج لال کے بارے میں سب کو یہی لگ رہا تھا کہ وہ بہو جن سماج پارٹی میں آئیں گے ۔ برج لال کو وردی والا بسپائی تک کہا جانے لگا تھا۔ بسپائی برج لال کے بھاجپائی ہونے کے بعد بہو جن سماج پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر جگل کشور اور مایا کے دور کے وزیر فتح بہادر سنگھ کے پریوار کے ساتھ بی جے پی میں شامل ہونے کا قدم بھی مایا وتی کے لئے بڑا جھٹکا تھا۔ جگل کشور اور فتح بہادر کے پریوار کے ممبروں کے ساتھ ساتھ کافی تعداد میں بسپائیوں نے بی جے پی کی ممبر شپ اختیار کی تھی۔ ان میں راجیہ سبھاممبر پارلیمنٹ جگل کشور کی بیوی دمینتی کشور اور ان کے بیٹے سوربھ سنگھ اور فتح بہادر سنگھ کی بیوی سادھنا سنگھ اور ان کے حامی شامل تھے۔فتح بہادر سنگھ لمبے وقت تک ریاست کی سرکاروں میں کابینی وزیر رہے تھے۔ ان کے والد ویر بہادر سنگھ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ۔ کمپیئر گنج ان کی روایتی سیٹ ہے۔ اس کے علاوہ سابق ایم ایل اے سریندر مشر، ودھان پریشد ممبر ہرگووند مشر، اعظم گڑھ کے بہو جن سماج پارٹی لیڈر امت تیواری اور بابی اوستھی نے بھی بہو جن سماج پارٹی چھوڑ کر بی جے پی کی ممبری اختیار کرلی ۔
سیاسی صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ کچھ دنوں پہلے ایک سروے میں مایاوتی کا ریاست میں پلڑا بھاری بتایا گیا تھا اور ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے امکان ظاہر کئے جارہے تھے۔ لیکن آج ماجرہ بدلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی ماہرین کا بھی کہناہے کہ اب مایا وتی کا اثر پورے دلت طبقے کے بجائے صرف جاٹووں تک سمٹ گیا ہے، کیونکہ وہ خود بھی اسی ذات سے آتی ہیں۔ ریاست میں 66دلت برادریاں ہیں۔شیڈولڈ کاسٹ کی آبادی 21فیصد ہے۔ اس میں 56 فیصد جاٹو، 16فیصد پاسی اور 15فیصد دھوبی کوری، بالمیکی وغیرہ برادریاں ہیں۔ ابھی اپریل مہینے میں اتر پردیش میں ہوئے کچھ سروے میں بہو جن سماج پارٹی کو اکثریت کے قریب سیٹیں ملنے کی امید بتائی گئی تھی۔ سروے میں بی جے پی کو دوسری سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرتا ہوا دکھا یا گیا تھا۔ جبکہ برسر اقتدار سماج وادی پارٹی کو 80سیٹوں پر سمٹتا ہو ابتایا گیا تھا۔ اتر پردیش میں تین سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخاب میں بھی سماج وادی پارٹی کو جھٹکا لگا تھا جب مظفر نگر سیٹ بی جے پی نے چھین لی اور دیوبند سیٹ پر کانگریس نے قبضہ کر لیا ۔یہ دونوں سیٹیں سماج وادی پارٹی کے پاس تھیں۔ تیسری فیض آباد کی بیکا پور اسمبلی سیٹ بچانے میں سماج وادی پارٹی کسی طرح کامیاب ہو پائی۔
سماج وادی پارٹی کے قومی سکریٹری رام گوپال یادو کے بی جے پی سے تعلقات کی وجہ سے یو پی کا مسلم ووٹر بری طرح ناراض ہے۔ رام گوپال کے بی جے پی پریم کی وجہ سے ہی سماج وادی پارٹی بہار کے مہا گٹھ بندھن سے الگ ہوئی تھی اور اب یو پی میں اس کا خمیازہ بھگتنے کو تیار ہے۔ مسلم ووٹر سماج وادی پارٹی چھوڑ کر کانگریس یا بہو جن سماج پارٹی میں جانے کا متبادل تلاش کررہا ہے۔ ریاست میں جس طرح کا ماحول بن رہا ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان سماج وادی پارٹی کو ہی ہونے والا ہے ۔ جنتا دل (یو) آر جے ڈی، این سی پی اور اویسی کی ایم آئی ایم بھی اسمبلی انتخاب میں اتر رہی ہیں۔ اس کا اتحاد تیار ہورہا ہے ۔ اس میں کانگریس کے بھی شامل ہونے کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوا تب سماج وادی پارٹی کا کیا ہوگا۔ اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سیاسی قیاس یہ بھی ہے کہ شیو پال اپنا خیمہ لے کر اس مہا گٹھ بندھن کے ساتھ شریک ہو جائیں، حالانکہ یہ محض ایک قیاس ہی ہے،لیکن یہ تو طے ہے کہ بہار سے لگے سرحدی علاقوں میں آر جے ڈی و جے ڈی یو کے ساتھ ہونے والا ممکنہ اتحاد ملائم کو نقصان پہنچائے گا۔ گٹھ بندھن بھی مسلم ووٹروں کواپنی طرف کھینچے گا اور اویسی کی پارٹی بھی کھینچے گی۔اس کا نقصان بھی سماج وادی پارٹی کو ہی ہوگا۔ سماج وادی پارٹی آر ایل ڈی کے ساتھ تال میل کرنے کی کوشش کررہی ہے،آر ایل ڈی کی شرط تھی جینت چودھری کو اکھلیش کابینہ میں شریک کیا جانا،لیکن رام گوپال نے ایسا ہونے نہیں دیا، لہٰذاآر ایل ڈی سے تال میل بھی مشکل میں ہی پڑ گیا دکھائی دے رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *