نہرو نہیں ہوتے تو کشمیر پاکستا ن کا حصہ ہوتا

شیاما پرساد مکھرجی کی یا دمیں نہرو میموریل میوزیم میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا۔ موضوع کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اچھا ہوتا کہ وزیراعظم یا وزیر داخلہ اس موقع پر اپنا لکچر دیتے۔ اگر ان کے پاس وقت کی کمی تھی اور اس کام کے لیے پارٹی کو کسی اور شخص کا انتخاب کرنا تھا، تو وہ شخص اڈوانی جی یا مرلی منوہر جوشی کے قد کا ہونا چاہیے تھا۔ یہ لوگ شیاما پرساد مکھرجی سے سنیئر نہیں، تو کم سے کم ان کے ہم رتبہ ضرور ہیں۔شیاما پرساد مکھرجی نہرو کی کابینہ کے ایک قابل وزیرتھے۔ ان کے ذمہ وزارت صنعت کی ذمہ داری تھی۔ پبلک سیکٹر کے حق میں لیے جانے والے ابتدائی فیصلے شیاما پرساد مکھرجی نے ہی لیے تھے۔ لوگ تاریخ اور اس سے جڑے واقعات کو بھول جاتے ہیں، اس لیے آج ان کے لیے آسان ہوجاتا ہے کہ نہرو کو قصوروار ٹھہرایا جائے اور شیاما پرساد مکھرجی کی خوب تعریف کی جائے۔ یہ سب بے تکی باتیں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شیاما پرساد مکھرجی نے کانگریس کے نظریاتی متبادل کے طور پر جن سنگھ کی بنیاد رکھی تھی۔ دراصل یہ جمہوری عمل کا ایک حصہ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پبلک سیکٹر کے خلاف تھے۔ جہاں تک کشمیر کا سوال ہے تو اقوام متحدہ میںاس مسئلہ کو لے جانے کے لیے نہرو کو قصوروار ٹھہرانا چاہیے۔ انہوں نے اپنی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا کیاتھا ۔ ہندوستان کے اس فیصلے کاپاکستان ہمیشہ غلط استعمال کرتا رہا ہے۔ جو نقطہ ہم سے چھوٹ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ کشمیر آسانی کے ساتھ پاکستان کے ساتھ چلا گیا ہوتا اگر شیخ عبداللہ (جونہرو اور مہاتما گاندھی سے متاثر تھے) نے ہندوستان کے ساتھ رہنے کا فیصلہ نہیں کیا ہوتا۔ شیخ عبداللہ نے ہی یہ فیصلہ کیا کہ کشمیر سیکولر ہندوستان کے ساتھ رہے گا، مسلم پاکستان کے ساتھ نہیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ، جو اس معاملے میں الگ تھلگ پڑ گئے تھے اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ ریاست کی اکثریتی آبادی مسلمہے، پاکستان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیے ہوتے۔ خواہ بی جے پی کو اچھا لگے یا نہ لگے، خواہ امیت شاہ کو اچھا لگے یا نہ لگے، لیکن آپ ان دو واقعات کو الگ نہیں کر سکتے۔ کشمیر، شیخ عبداللہ اور نہرو کی وجہ سے ہندوستان کا حصہ ہے۔ کشمیر مسئلہ بھی نہرو کی وجہ سے ہے اور دونوں معاملے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر نہرو نہیں ہوتے، تو کشمیر کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ جی ہاں، بالکل درست، کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، کیونکہ ایسے میں کشمیر پاکستان کے ساتھ چلا گیا ہوتا۔ بی جے پی کو دوبارہ تاریخ کا مطالعہ کر نا چاہیے اور اپنا موقف صاف کرنا چاہئے۔ جہاں تک ہم سمجھتے ہیں آرایس ایس اور بی جے پی کا موقف’ مسلم مکت بھارت‘کا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو انہیں صاف صاف کہنا چاہئے کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ چلے جانا چاہیے۔ لیکن وہ کشمیر میں حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں اور کشمیریوں کی شمولیت کے لیے الگ الگ قدم اٹھا رہے ہیں۔میرے خیال میں بی جے بی کے پالیسی سازوں کے درمیان بھر م پھیلا ہوا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آرایس ایس ان کی رہنمائی کر رہا ہے یا نہیں۔ لیکن اروناچل پردیش ، اتراکھنڈ اور کشمیر میں ان کے اقدام سے ایک بات صاف ہو رہی ہے کہ وہ کانگریس کو کمزور کر رہے ہیں اور یہ ثابت کر رہے ہیںکہ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ ریاستوں کو اپنے قبضے میں کرنا ہے، خواہ اس میں اپنے اصولوں اور پالیسیوں کو ہی قربان کیوں نہ کرنا پڑے۔

دوسرا معاملہ جو خبروں کی سرخیوں میں ہے۔ اب مال اورریسٹورینٹس دن کے 24گھنٹے کھلے رہیں گے۔ یہاں ایک دفع پھر ہم مغرب کی نقل کر رہے ہیں،میرے خیال میں امریکہ کی ۔ ہندوستان کو اپنی تہذیبی روایت کو دھیان میں رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہئے۔ بڑے شہروں میں پہلے سے ہی ہوٹل دیر رات تک کھل رہے ہیں، لیکن اس معاملے میں ہمیں اپنی رفتار ذراکم رکھنی چاہیے۔ مجھے معلوم نہیں کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے۔ کیا ایسا آمدنی بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے یا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے؟ جو بھی ہو حکومت کو اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔ اگر این ڈی اے حکومت کے ابھی تک کے کاموں کا لیکھا جوکھا تیار کیا جائے، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ یوپی اے حکومت کی اسکیموں کو ہی جاری رکھے ہوئیہے۔ کچھ کے نام بدل کر اور کچھ کے پرانے ناموں کے ساتھ (جیسے منریگا)۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ اچھا ہے یا برا ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ اگر آپ کو غریبوں ، دبے کچلے لوگوں ، بے روزگاروں ، بغیر زمین والے مزدوروں کے لیے کام کرنا ہے، تو کچھ ایسے کام ہیں جو کانگریس بھی اپنے طریقے سے کر رہی تھی اور بی جے پی بھی اپنے طریقے سے کر سکتی ہے یا کر رہی ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ جن دھن اسیکم، زرعی بیمہ وغیرہ انقلابی فیصلے ہیں ، یہ درست نہیں ہے۔ یہ ایسی اسکیمیں ہیں جو کافی پہلے سے چل رہی ہیں اور بے شک ان میں سدھار کی ضرورت ہے۔ اگر بی جے پی ان اسکیموں کو بہتر بناتی ہے (خاص طور پر کسانوں کی حالت کو بہتر کرنے کے لیے) تو اس کا استقبال ہونا چاہیے۔
ساتویں پے کمیشن کی سفارشوں کو مرکزی کابینہ نے اپنی منظوری دے دی ، جو توقع کے مطابق تھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی بھی حکومت کے پاس پے کمیشن کی سفارشوں کو لے کر زیادہ آپشنز ہوتے ہیں۔کیونکہ پے کمیشن کئی ضابطوں اور طریقوں کو استعمال کر کے کسی نتیجے پر پہنچتا ہے اور اپنی سفارشیں پیش کرتا ہے۔ اگر حکومت اس میں کسی طرح کی کٹوتی کرنے کی کوشش کرے گی، تو سرکاری اہلکاروں کی ناراضگی بڑھے گی۔ بے شک اس میں پیسے خرچ ہوںگے ،لیکن اس کے لیے بجٹ مختص کر کے اس کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *