مضحکہ خیز دعوے کرنا بند کیجئے

موجودہ مرکزی سرکار کے دو سال گزر چکے ہیں۔ ذاتی طور پر میں مانتا ہوں کہ مرکزی سرکار کو جو کرنا چاہئے، اس کے مطابق مرکزی سرکار نے اچھا کام کیا ہے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کچھ وزیر جس طرح کے دعوے کر رہے ہیں، وہ غلط ہیں اور کچھ حد تک مضحکہ خیز بھی ۔پیوش گوئل کہتے آرہے ہیں کہ ان 7 ہزار گائوں میں بجلی کا کام کیا گیا ہے،جہاں آزادی کے 67سال کے بعد بھی بجلی نہیں پہنچی تھی۔ وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ 6 لاکھ گائوں میں سے کل 18ہزار گائوں ابھی تک بغیر بجلی کے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابھی تک کل گائوں میں سے صرف 3.3 فیصد گائوں میں بجلی نہیں تھی۔اس میں سے تقریبا 7 ہزار گائوں میں بجلی پہنچائی گئی۔ یعنی گزشتہ دو سال میں یہ سرکار صرف 1.3 فیصد گائوں تک ہی بجلی پہنچا سکی ہے،لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ آج سے پہلے کام ہی نہیں ہوا تھا اور آج ہم پچھلے دو سال سے سب کام کررہے ہیں۔سچ یہ ہے کہ اس سرکار کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی تقریبا 97 فیصد گائوں میں بجلی کا کام ہوچکا ہے ۔چلئے اس سے بھی کوئی نقصان نہیں ہے۔ اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی یہ نہیں بتا رہا ہے کہ جتنے گائوں میں بجلی پہنچائی گئی ہے،ان میں سے کتنے گائوں میںبجلی مل رہی ہے،کن گھروں کو بجلی مل رہی ہے؟شاید کچھ سرکاری عمارتوں میں کچھ افسروں کے گھروں میں۔کیا غریبوں کے گھروں میں بھی بجلی پہنچ رہی ہے؟ان حقائق کو لے کر ابھی تک کوئی سروے نہیں ہوا ہے۔
اسی طرح ’جن دھن یوجنا‘ کی بات کریں تو کروڑوں کی تعداد میں بینک کھاتے کھلے۔ ان میں سے کتنے کھاتوں میں پیسہ ہے؟سرکار اپنی سہولت سے عالمی بینک کی اس رپورٹ کو چھپا لیتی ہے، جس کے مطابق تقریبا 43 فیصد بینک کھاتے اکٹیو نہیں ہیں۔ان میں پیسہ ہی نہیں ہے۔یہاں کوئی گائوں میں جاتا ہے، دستخط کرا لیتا ہے اور بینک کھاتہ کھل جاتے ہیں۔ جس کا بینک کھاتہ کھلتا ہے، وہ اس کا کبھی استعمال تک نہیں کر پارہا ہے۔ آخر ایسا کرنے کا مقصد کیا ہے، یہ تو سرکار کو ہی فیصلہ لینا ہے۔لیکن میں مانتا ہوں کہ جو بھی پروگرام چلا یاجائے وہ با ہدف اور فوکسڈ ہو، اس کاکوئی نتیجہ نکلنا چاہئے۔ سرکار کی ایک اور اسکیم ہے ٹوائلٹ بنانے کو لے کر۔ ’سوچھ بھارت‘ کا استقبال کیا جانا چاہئے۔لیکن ملک میں تقریبا 15 لاکھ اسکول ہیں، جہاں کم سے کم30 لاکھ ٹوائلٹ ہونے چاہئیں۔ جس نقطہ پر میں یہا ں بات کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ کی حصولیابیاں اچھی ہیں،لیکن انہیں ان کے حقیقی تناسب میں رکھنا چاہئے۔آپ یہ دعوی نہیں کرسکتے ہیں کہ 67 سال سے کچھ کام نہیں ہوا اور دو سال میں آپ نے سب کچھ ٹھیک کردیا۔ایک سفید جھوٹ ہونے کے علاوہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔اس سے کوئی متاثر نہیں ہوگا۔یہاں تک کہ گائوں میں رہنے والے لوگ بھی نہیں۔اسکالرشپ کے لئے انہوں نے ایک اور پورٹل بنایا ہے۔ملک کے 25کروڑ طلباء میں سے ایک لاکھ چھ ہزار کا رجسٹریشن ہوا ہے اور ان میں سے 20 ہزار نے درخواست دی ہے۔ایسا کیوں ہوا؟لہٰذا یہ سارے بڑے بڑے دعوے صرف دعوے ہی ہیں۔سچائی یہ ہے کہ ہندوستان ایک ’’ مسلسل ترقی کی طرف بڑھتا یونٹ‘‘ کی طرح ہے۔چاہے وہ غیر ملکی پالیسی ہو یا وزیر اعظم کا دورہ۔ کچھ لوگ وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں کی تنقید کر رہے ہیں،لیکن میں ایسے خیالات سے متفق نہیں ہوں۔وہ اپنی طرف سے کوشش کررہے ہیں۔لیکن سنگھ کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ جواہر لال نہرو نے کچھ نہیں کیا۔ دراصل ہم انہی پالیسیوں کو اپنا رہے ہیں جنہیں جواہر لال نہرو نے مقرر کیا تھا اور ایسا کرنا ٹھیک بھی ہے۔ بیشک 1991 کے بعد لبر لائزیشن کا دور شروع ہوا، جس میں سوویت بلاک اتنا اہم نہیں رہ گیا تھا اور ہر کسی کا جھکائو امریکہ کی طرف ہو گیا،لیکن جس طرح یہ سرکار کام کررہی ہے، اس سے بہت ہوشیار رہنا چاہئے۔ آپ امریکن بلاک میں آنکھ بند کرکے نہیںجاسکتے ہیں،ورنہ ہندوستان کو دوسرا پاکستان بننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

اسی طرح ’جن دھن یوجنا‘ کی بات کریں تو کروڑوں کی تعداد میں بینک کھاتے کھلے۔ ان میں سے کتنے کھاتوں میں پیسہ ہے؟سرکار اپنی سہولت سے عالمی بینک کی اس رپورٹ کو چھپا لیتی ہے، جس کے مطابق تقریبا 43 فیصد بینک کھاتے  اکٹیو  نہیں ہیں۔ان میں پیسہ ہی نہیں ہے۔یہاں کوئی گائوں میں جاتا ہے، دستخط کرا لیتا ہے اور بینک کھاتہ کھل جاتے ہیں۔

سبرامنیم سوامی نے یہ نشاندہی کر کے ملک کی بڑی خدمت کی ہے کہ دو لوگ بہت اچھے ہو سکتے ہیں،دانشور ہو سکتے ہیں،لیکن وہ اتنے دانشور نہیں ہیں۔دانشور ہونے کیلئے آپ کو ملک کے حقائق سے آگاہ ہونا پڑے گا۔ آربی آئی کے گورنر ہمیشہ ایسے لوگ رہے ہیں جو باوقار،صاحب علم اور باشخصیت تھے،رگھو رام راجن ایسے پہلے شخص نہیں ہیں۔میں ویسے لوگوں میں سے ہوں جو سمجھتے ہیں کہ کسی ادارے میں کوئی شخص آتا ہے اور چلا جاتا ہے لیکن ادارے اپنی جگہ مستقل رہتے ہیں۔یہ ہندوستان پر پوری طرح سے لاگو ہوتا ہے۔ہم ویسے ’بنانا ری پبلک‘ نہیں ہیں، جہاں ایک بدلائو سے ساری چیزیں بدل جاتی ہیں۔ریزرو بینک آف انڈیا آزادی سے پہلے کا ادارہ ہے۔اگر میں غلط نہیںہو تو رمن آر بی آئی کے غالباً 23ویں گورنر ہیں۔ان کے بعد دوسرا گورنر بحال ہوگا، یہ کسی عام بحث کا ایشو نہیں ہے۔یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے جسے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو لینا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ و ہ اس عہدہ کے لئے کسی باصلاحیت شخص کو ڈھونڈ لیں گے، جو ضرورت کے مطابق فیصلہ لینے کے قابل ہو۔مثال کے طور پر کاروبار دنیا ،رگھو رام راجن سے ناراض تھی کیونکہ انہوں نے انٹریسٹ ریٹ میں کٹوتی نہیں کی۔لیکن یہ کوئی معیار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ صرف انٹریسٹ ریٹ میں کٹوتی سے مسئلے کا حل نہیںہوسکتا، دراصل سرکار کی مالی پالیسی اس سلسلے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پرسرکار کی پالیسی کیا ہے،ہمیں معلوم نہیں ہے۔
1991 کے بعد جو سوچ بنی ہے،وہ یہ تھی کہ آپ اقتصادی قوانین کو غیر مجرمانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ پھیرا کو پھیما سے بدل دیاگیا، لائسنس پرمٹ راج کا خاتمہ کر دیا گیا،انکم ٹیکس ریٹ گھٹا دیا گیا۔ تاثر یہ تھا کہ کاروبار میں آسانی کے لئے ماحول تیار کیا جا رہاہے۔ پچھلے دو سال سے ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ہر ایک قانون میں گرفتاری کا پروویژن رکھا جارہا ہے، ہر قانون میں جرائم کی دفعہ جوڑی جارہی ہے۔میں اس کے خلاف نہیں ہوں کیونکہ یہ سماج وادی نظریہ سے میل کھاتا ہے،لیکن آپ دونوں ہاتھ میں لڈو نہیں رکھ سکتے۔ آپ اپنا من بنا لیجئے کہ آپ غیر ملکی سرمایاکاری چاہتے ہیں۔غیر ملکی سرمایا کار سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ آپ کا بنیادی ڈھانچہ کیسا ہے؟بنیادی ڈھانچے سے یہاں مراد قانونی ڈھانچہ ہے۔ کیا ان کے ساتھ مناسب سلوک ہوگا۔اگر آپ کے ممبر پارلیمنٹ کو اپنی گردن بچانے کے لئے بھاگ کر لندن جانا پڑ رہا ہے تو غیر ملکی یہاں کارو بار کرنے کیوں آئیںگے؟ان کے پاس ہندوستان کے نزدیک فلپائن جیسے بہت سارے متبادل ہیں۔لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے نہیںمعلوم کہ اس میں رگھو رام راجن کا کیا کردار ہو سکتا تھا۔ وزیر اعظم کے پاس ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو منفر د خیال اور دانشور ہیں اور جو یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ کارو بار کے ماحول کو کیسے سدھارا جاسکتا ہے۔ سبرامنیم سوامی ان میں سے ایک ہیں، ان کے خیالات بہت الگ ہوتے ہیں، جن سے میں متفق نہیں ہو سکتا، جیسے وہ چاہتے ہیں کہ انکم ٹیکس ختم کر دیا جائے۔ فی الحال انہوں نے اروند سبرامنیم پر حملہ بولا ہے۔ میں ان کو نہیں جانتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کو چاہئے کہ مناسب طریقے سے اس پورے حالات کا جائزہ لیں۔آپ بزنس کرنا چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے ہیں،آپ غیر ملکی سرمایا کاری چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے ہیں۔ آپ اپنا من بنائیے۔
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ بی جے پی نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے جن ایشوز کی مخالفت کی، اسے اب اقتدار میں آنے کے بعد لاگو کرنا چاہتی ہے اور اب کانگریس ہی اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو یا خود کو کوئی کریڈٹ نہیں دینا چاہتے۔ جب کانگریس ریٹیل میں ایف ڈی آئی لانا چاہتی تھی تو بی جے پی اس کی مخالفت کررہی تھی اور اب بی جے پی ایف ڈی آئی کی بات کررہی ہے تو کانگریس مخالفت میں ہے۔ منریگا کو لے کر بھی یہی سب ہوا۔ بی جے پی منریگا کو کانگریس کی ناکامی کا مجسمہ بتاتی تھی ،اسے بد عنوانی بڑھانے والی اسکیم بتاتی تھی، لیکن اب بی جے پی کے پاس منریگا کی حوصلہ افزائی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، کیونکہ یہی اکلوتا منصوبہ ہے جو غریبوں کو سیدھے راحت پہنچانے کا کام کر رہا ہے، غریبوں سے جڑا ہوا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس پر گہرائی سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ سرکار روز روز کچھ نہ کچھ ایسے فیصلے لے رہی ہے جس سے لوگوں کے بیچ بھرم کی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *