مودی کے اچھے دن کی بدتر تصویر ممبر پارلیمنٹ نے گائوں کو گود لے کر لاوارث چھوڑ دیا

اسرار پٹھان
p-4مودی کا نعرہ آتے ہی اچھے دنوں کا خواب تازہ ہو جاتا ہے۔ اچھے دن آنے کے دعوے کی عمر دو سال ہو چکی ہے،لیکن انتظار جاری ہے۔ یہ انتظار 67برسوں سے جاری ہے۔ وزیر اعظم کی تمام چہیتی اسکیموں کا یو پی کے بندیل کھنڈ میں برا حال ہے۔ یہاں کے زیادہ تر آدرش گائوں بد حالی کا شکار ہیں۔ اس علاقے میںشامل ایک گائوں تو ایسا بھی ہے جہاں نہ سڑک ہے نہ پانی۔ ایک ہزار آبادی والے اس گائوں میں آزادی سے آج تک بجلی کی دیدار تک نہیں ہوئی۔حمیر پور، تیند باری لوک سبھا سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے اس گود لئے گائوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
مہوبا ضلع کا گرام پٹھاری پپرا ماف وزیر اعظم کے اچھے دنوں کے وعدے پر زور دار طمانچہ ہے۔ سڑک ،بجلی اور پانی سے محروم اس گائوں کی بد قسمتی ہے کہ یہاں کی ایک ہزار آبادی اکیسویں صدی میں چودہویں صدی کی زندگی گزار رہی ہے۔ کہنے کو تو اسے حمیر پور ،مہوبا، تیندواری سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ پشپندر سنگھ چندیل نے گود لے رکھا ہے، لیکن ان دو برسوں میں وہ اس گائوں میں فقط ایک بار پہنچ سکے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس گائوں کی حالت سے حکومت اور انتظامیہ انجان ہو، گائوں کے لوگ اپنی داستان ضلع کلکٹر سے لے کر وزیر اعظم تک ، سبھی کو سنا چکے ہیں، لیکن ہر بار نتیجہ صفر ہی رہا۔ گائوں کے لوگ کہتے ہیں کہ آج تک ان کی کسی نے نہیں سنی۔ گائوں والوں کی مانیں تو جب سے یہ گائوں آدرش گرام کا اعلان ہوا ہے تب سے اس کی حالت اور بھی بد تر ہو گئی۔ آدرش گرام ہونے کے وجہ سے ضلع انتظامیہ دھیان نہیں دے رہا اور رکن پارلیمنٹ کویہاں آنے کی فرصت نہیں ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا جیسے لفظ سے انجان اس گائوں کے لوگ اس جدید دور میں کتنے پیچھے ہیں اس کا اندازہ لوگوں کے گھروں میں جلنے والی لالٹینوں سے لگایا جاسکتاہے۔ ملک کا یہ پٹھاری پپرا ماف گائوں ان بد قسمت گائوں میں شمار ہوتا ہے جہاں آزادی کے بعد سے اب تک بجلی نہیں پہنچی، یو پی سرحد کے آخر ی سرے پر بسے اس گائوں میں صرف بجلی فراہمی ہی بڑا مسئلہ نہیں ہے ،گائوں کی کچی سڑک، وسائل کا فقدان اور پگڈنڈیوں میں پڑی گندگی نے بھی گائوں والوں کی زندگی دشوار کر رکھی ہے۔ آج بھی یہاں کے لوگ مین روڈ سے تین کلو میٹر دور کچا راستہ طے کر کے گائوں پہنچتے ہیں۔ عام دنوں میں تو جیسے تیسے کام چل جاتا ہے ،لیکن برسات کے موسم میں گائو والوں کی دشواریوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اسپتال اور اسکول کے نام پر بھی یہاں کچھ نہیں ہے۔ رہی بات پانی کی تو گائوں کے باہر لگے ایک ہینڈ پائپ سے 250 خاندان کام چلا رہے ہیں۔ بندیل کھنڈ کے مہوبا میں پانی کو لے کر جو حالات ہیں وہ سبھی جانتے ہیں ۔ ایسے میں گائوں کے لئے یہ ہینڈ پائپ کسی وردان سے کم نہیں۔ صبح چار بجے سے اس ہینڈ پائپ پر لگی سائیکلوں اور بیل گاڑیوں کی بھیڑ گائوں میں منڈلاتے پانی کے بحران کی کہانی بیان کرتی ہے۔
صفائی کے معاملے میں بھی اس خطے کی حالت بے حد خراب ہے۔ یہ گائوں جس پیپرا ماف گرام پنچایت میں شامل ہے، اس کی کل آبادی دس ہزار ہے اور اس بڑی آبادی کے لئے صرف ایک صفائی ملازم مقرر ہے۔ یہ حقیقت بتاتا ہے کہ وزیر اعظم کا سوچھ بھارت ابھیان اور وزیر اعلیٰ کا کلین یو پی ،گرین یوپی مشن اس گرام پنچایت میں کتنا کارگر ہو رہا ہوگا۔ اس گرام پنچایت کو ملے ٹوائلٹ کا فنڈ پہلے ہی گائوں کے سابق پردھان اور سکریٹری نے مل کر ڈکار لیا۔ نتیجے کے طور پر گائوں کے لوگ آج بھی کھلے میں قضائے حاجت کرنے کو مجبور ہیں۔ زیادہ تر گائوں والوں کے پاس موبائل نہیں ہے، اور جن کے پاس ہے وہ پڑوس کے گائوں سے چارج کر کے کام چلاتے ہیں۔ فریج ،ٹی وی اور ڈی وی ڈی کس چیز کا نام ہے، پٹھاری کے رہنے والے جانتے تک نہیں کہ اس گائوں کی حالت دیکھ کروزیر اعظم کے اچھے دنوں کی اصلیت سمجھ اور پرکھ سکتے ہیں۔ اصل میں پٹھاری گائوں مودی کے مبینہ ’وکاس‘ کو ناپنے کا تھرمامیٹر ہے جو کہ ان کے سبھی دعوئوں کو جھوٹا ثابت کررہا ہے۔گائوں میں رہنے والے ریٹائرڈ فوجی نواب سنگھ پریہار کہتے ہیں کہ رکن پارلیمنٹ نے گائوں والوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ بقول نواب سنگھ وہ خود کئی بار رکن پارلیمنٹ سنگھ چندیل سے مل چکے ہیں لیکن وہ دھیان نہیں دے رہے ہیں۔ گرام پردھان گھسیٹا انوراگی کو بھی اس بات کا خاص ملال ہے کہ ان کی گرام پنچایت کے ساتھ انتظامیہ سوتیلوں جیسا سلوک کرررہا ہے ۔ پردھان کے مطابق ان کی گرامن پنچایت میں پیپرا ماف کے ساتھ کنچن پورا، اودے پورا اور پٹھاری جڑے ہوئے ہیں، ان سب کی کل آبادی دس ہزار ہے اور اس آبادی کے لئے فقط ایک ٹینکر دیا گیا ہے، جس سے پانی فراہمی میں بہت مشکل ہور ہی ہے۔ صفائی ملازمین کی بھی کمی ہے جس کی وجہ سے صفائی نظام ٹھیک ڈھنگ سے نہیں ہو پا رہا ہے۔گھسیٹا انوراگی کا کہناہے کہ آدرش گائوں ہونے کے بعد بھی پٹھاری انتظامیہ غفلت کا شکار ہے۔
انسیٹ 1:
حمیر پور -مہوبا -تیندواری کے ممبر پارلیمنٹ پشپیندر سنگھ چندیل کی بے حسی کو لے کر پٹھاری گائوں کے باشندے ہی ناراض نہیں ہیں،ان کے لوک سبھا حلقے میں شامل زیادہ تر گائوں کے لوگوں کو ممبر پارلیمنٹ کی لا پرواہی ،طریقہ کار پر ناراضگی ہے۔ سبھی کی یہ شکایت عام ہے کہ پشپندر سنگھ چندیل ممبر بنتے ہی غائب ہو گئے ہیں ۔گائوں میں چسپاں رکن پارلیمنٹ کے لا پتہ ہونے کے پوسٹر گائوں والوں کے اس بیان کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لوگوں کا الزام ہے کہ ضرورت پڑنے پر محترم کا فون بھی نہیں لگتا ۔گائوں والوں کے اس الزام کو جانچے کے لئے ’’چوتھی دنیا ‘‘کے رپورٹر نے بھی ممبر پارلیمنٹ کو فون لگایا ۔کئی بار گھنٹی جانے کے بعد بھی کال ریسیو نہیں ہوئی۔ لوک سبھا حلقے کے دیگر گائوں کی طرح پشپندر سنگھ چندیل کے اپنے گائوں والے بھی نظر انداز کئے جانے کے شکار ہیں۔ کیماہا گائوں کے لوگوں کا کہناہے کہ ممبر پارلیمنٹ کی اس نظر انداز کرنے والی پالیسی کا خمیازہ ان کے والد کو گرام پردھان انتخاب ہار کر بھگتنا پڑا ہے، لیکن ایم پی اس سے کوئی سبق نہیں لیتے
رکن پارلیمنٹ پشپندر سنگھ چندیل اپنے طریقہ کار کی وجہ سے مشہور نہیں،بلکہ وہ غریبوں کی زمین ہتھیانے کے معاملوں میں مشہور ہیں۔ گرام سبھا اور سرکاری سے لے کر لوگوں کی پرائیویٹ زمینوں تک پر ان کا قبضہ ہے۔ ابھی کچھ ہی دن پہلے ایک ایسے ہی اندھے غریب آدمی کی زمین دھوکے سے ہتھیایا لیے جانے کے معاملے کو لے کر ایم پی بڑی کرکری جھیل چکے ہیں۔ فی الحال یہ معاملہ کورٹ میں زیر غور ہے۔اس معذور آدمی کے بچوں لکشمی اور سندر لال کا الزام ہے کہ ایم پی نے اپنے ایک گرگے گووند یادو کے ذریعہ سے والد کو بلوایا اور پنشن فارم بتا کر اس پر دستخط لے لئے۔ بھٹی پورا کے رہنے والے اس غریب کی زمین بیش قیمتی ہے، جس وجہ سے ایم پی کی لالچی نگاہ پڑ گئی ۔ متاثرہ خاندان نے اپنے ساتھ ہوئے ناانصافی کو لے کر خوب شکاتیں کی اور دھرنا و احتجاج کئے لیکن ایم پی کی حیثیت کے آگے ان کی ایک نہیں سنی گئی۔ کبھی بی جے پی کا سخت حامی رہا یہ خاندان اب ایم پی کی کرتوتوں کی وجہ سے پارٹی کی مذمت کرتا گھوم رہا ہے۔
اپنا پیٹ ہائو، نہ دوہے کائو
بندیل کھنڈ کی ایک مشہور کہاوت ہے، اپنا پیٹ ہائو ،نہ دوہے کائو، حمیر پور مہوبا ،تیندواری رکن پارلیمنٹ پشپندر سنگھ چندیل کی طریقہ کار پر یہ کہاوت فٹ آتی ہے۔ رکن پارلیمنٹ کے ذریعہ گود لئے گئے پٹھاری گائوں کے ڈیولپمنٹ کی فکر بھلے نہ ہو لیکن وہ خود کی ترقی کو لے کر بڑے فکر مند رہتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ کے نام پر چل رہے ُٹول پمپ، کریشر، ،کالجز اور کام دھینو اسکیم کے نام پر قائم ایک کروڑ لاگت کی ڈائری ان کے’’ وکاس‘‘ میں خوب دلچسپی کا پختہ ثبوت ہے۔لیکن یہ وکاس ان کا پرائیویٹ ہے۔ پشپندر ملک کے اس ایوان کے ممبر ہیں جہاں قانون بنائے اور لاگو کئے جاتے ہیں۔ ایسے میں ان پر قانون کا اہتمام کرنا بے ھد لازمی ہو جاتا ہے ،لیکن انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں۔ صحیح وجہ ہے کہ ان کے اپنے پراجیکٹ پر قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ کبرئی کے ڈہرا میں ان کے نام پر ہو رہی پتھروں کی غیر قانونی کان کنی بھی قانون کے تئیں ان کے غیر ذمہ داری کو ہی دکھاتا ہے۔ ایم پی کے پٹرول پمپوں میں بھی آئین و قانون کی کھلم کھلا دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ایم پی اپنے ذاتی ترقی کو لے کر کتنے سنجیدہ ہیں اس کی مثال ہے اس اسکیم کو ہتھیالینا جسے بندیل کھنڈ کی حالت سدھارنے کے لئے لاگو کیا گیا تھا، کام دھینو اسکیم پر رکن پارلیمنٹ کی نظر گئی اور انہوں نے اس اسکیم کو ہی اپنے قبضے میں لے لیا۔ ایک کروڑ 20لاکھ کی اس اسکیم کے لئے دو درخواست مانگے گئے تھے جس میں ایک رکن پارلیمنٹ کے والد ہرپال سنگھ کا قبول کیا گیا جبکہ دوسری درخواست بھی رکن پارلیمنٹ کے ہی ایک قریبی کی قبول ہوئی۔ حالانکہ لائق سنگھ نے بعد میں اپنی درخواست واپس لے لی۔ رکن پارلیمنٹ کے والد ہرپال سنگھ کی درخواست کو منظور ہوئے بھی دو سال گزر چکے ہیں،لیکن آج تک کام دھینو اسکیم شروع نہیں ہو سکا۔ بتا یا جاتا ہے کہ مذکورہ کام کے لئے بینک کی طرف سے فنڈ ریلیز ہو چکا ہے لیکن عمارت ابھی بھی آدھی ادھوری پڑی ہے۔ پٹھاری گائوں سے چند کلو میٹر کی دوری پر معزز ایم پی کے گائوں میں بن رہی وہ عمارت بھلے ابھی زیر تعمیر ہو،لیکن اس عمارت کی آرڑ میں نالے پر قبضہ پورا ہو چکا ہے۔ عمارت کو بنانے کے لئے ایم پی نے نہ صرف نالا پاٹ دیا، بلکہ اس پر بنے چیک ڈیم کو ہی اکھاڑ پھینکا۔ بندیل کھنڈ میں پانی کا زبردست بحران ہے اور جانوروں سمیت عام آدمی بوند بوند پانی کے لئے لڑ رہا ہے ایسے میں ایم پی کا یہ قدم کتنا عوامی مفاد اور جمہوریت کے مطابق ہے،اسے سمجھا جاسکتاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *