محبوبہ مفتی کی حکومت کے پہلے تین ماہ مکمل قدم قدم پر مصائب کا سامنا

ہارون ریشی 

p-77جنوری کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی وفات کے فوراً بعد ا ن کی سیاسی جانشین اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے جب یہ کہہ کر حکومت سنبھالنے سے انکار کیا کہ پہلے اتحادی جماعت بی جے پی اُن وعدوں کو عمل میں لانے کی یقین دہانی کرائے ، جن کی بنیاد پر ایک سال قبل مخلوط سرکار بنی تھی، تو مبصرین کی غالب اکثریت کو لگا کہ بی جے پی کے لئے محبوبہ مفتی کے ساتھ کام کرنا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ محبوبہ نے واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ اتحادی جماعت بی جے پی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اُن کا طریقہ کار اُن کے والد محترم سے بالکل مختلف ہوگا۔
اڑھائی ماہ تک محبوبہ مفتی اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹی رہیں۔اُن کا اصرار تھا کہ بی جے پی نہ صرف مخلوط سرکار کے طے شدہ ایجنڈے کو عمل میں لانے کی یقین دہانی کرائے بلکہ مرکزی سرکار ریاست میں ’’اعتماد سازی کے کچھ اقدمات‘‘ بھی کرے تاکہ یہ پتہ چلے کہ وہ جموںو کشمیر کے مسائل کے حل کے تئیں سنجیدہ ہے۔ لیکن جوں ہی یہ خبریںآنا شروع ہوگئیں کہ نئی دلی نے انہیں بائی پاس کرتے ہوئے پی ڈی پی کے بعض سینئر لیڈروں کو شیشے میں اتارنے کی کوششیں شروع کردی ہیں ، تاکہ اُن کے تعاون سے محبوبہ کو نکال باہر کرکے ریاست میں مخلوط سرکار بحال کی جائے تو محبوبہ مفتی پگھل گئیں۔ وہ فوراً نئی دلی روانہ ہوگئیں اور وہاں22مارچ کو وزیر اعظم کے ساتھ آدھے گھنٹے کی ایک مختصر ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اب وہ ’’مطمئن ‘‘ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وزیر اعظم نے انہیں ایسا کیا کہا کہ وہ اپنے سارے مطالبات ترک کرنے اور غیر مشروط طور پر وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر رضامندی رضامند ہوگئیں۔سیاسی تجزیہ کار ظریف احمد ظریف کہتے ہیں،’’ اڑھائی ماہ کے بعد اچانک اپنی ساری شرائط چھوڑ کر اقتدار سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کرکے محبوبہ مفتی نے ثابت کیا کہ وہ اقتدار کے لئے اپنے نظریات اور عوامی مفادات دونوں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘‘
4اپریل کو محبوبہ مفتی نے ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار کی لگام اپنے ہاتھوں میں لی تو اس کے ساتھ ہی وہ ساری مشکلات ایک ایک کرکے اُن کے سامنے آنے لگیں، جو دو مختلف اور متضاد نظریات رکھنے والی پارٹیوں کے اتحاد سے قائم ہونے والی حکومت کے لئے متوقع تھیں۔
محبوبہ کے وزیر اعلیٰ بننے کے چند ہی دنوں بعدہی مخلوط سرکار اُس وقت ایک کمزور حکومت ثابت ہوئی جب سرینگر کے نیشنل انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی ( این آئی ٹی )میں مسلم اور ہندو طلباء کے درمیان ایک فساد بپا ہوجانے کے بعد دونوں اتحادی جماعتیں منقسم نظر آنے لگیں۔ بی جے پی وزراء اور سینئر لیڈر کھلے عام این آئی ٹی کے ہندو طلباء کی طرفداری کرنے لگے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ امن و قانون کی بحالی کی کوشش میں غیر مسلم طلباء پر پولیس لاٹھی پر بھی بی جے پی کے لیڈروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔بعض نیوز چینلوں پرمباحثوں کے دوران بی جے پی کے لیڈروں نے کشمیر پولیس کو ’’جہادی فورس‘‘ کے نام سے پکارنا شروع کیا۔یہاں تک کہ بی جے پی کے دبائو میں آکروزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کالج کے احاطے سے کشمیر پولیس کو ہٹا کر اس کی جگہ سی آر پی ایف تعینات کرانے کی ہدایات دیں۔
قیام حکومت کے صرف ایک ہفتے بعد ہی شمالی کشمیر کے ہندواڑہ میں تشدد بپا ہوجانے کے بعد فورسز کی فائرنگ سے ایک ادھیڑ عمر کی خاتون اور تین نوجوان مارے گئے۔ محبوبہ مفتی نے واقعہ کے بعد یقین دہانی کرائی تھی کہ اس واقعہ کی تحقیق ہوگئی اور ملوث اہلکاروں کو سزا دی جائے گی لیکن تاحال نہ ہی کوئی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی گئی اور نہ ہی شہریوںپر فائرنگ کرنے والے کسی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ۔ یہاں تک کہ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں حکومت کی طرف سے اس معاملے کا ہلکا سا تذکرہ بھی نہیں کیا گیا۔
مخلوط سرکار کے’’ ایجنڈا فار الائنس ‘‘میں ریاست کی تعمیر و ترقی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے لیکن
تعمیر ترقی کے ان وعدوں کو حال ہی میںاُس وقت دھچکہ لگا جب نئی دلی نے وزیر اعظم ا سمارٹ سٹیز کے دائرے میں اس ریاست کے شہروں کو لانے سے انکار کردیا۔ صحافی طارق علی میر کہتے ہیں کہ مخلوط سرکار نے تاحال ریاست میں تعمیر و ترقی کے کسی بڑے منصوبے پر کام شروع بھی نہیں کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے، ’’ریاست میںبے روزگار نوجوانوں کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن حکومت کوئی بھی ایسی پالیسی مرتب نہیں کرپائی ہے، جس کی وجہ سے روز گار کے نئے ذرائع پیدا ہوسکتے تھے۔ حکومت مختلف محکموں میں عارضی بنیادوں پر تعینات62ہزار ملازمین کو مستقل کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوئی ہے۔ حد یہ ہے کہ ستمبر 2014کے سیلاب متاثرین کی بازآباد کاری کے جو وعدے حکومت نے کئے تھے ، وہ بھی سراب ہی ثابت ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ حکومت تاحال تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی سوائے زبانی جمع خرچ کئے اور کچھ نہیں کرسکی ہے۔‘‘
ناقدین محبوبہ مفتی کو علاحدگی پسند سیاسی لیڈروں کا قافیہ حیات تنگ کرنے پر بھی ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ عمر عبداللہ کے دور حکومت میں محبوبہ مفتی بحیثیت اپوزیشن لیڈر آئے دن حکومت پر علاحدگی پسندوں کو نظر بند رکھنے پر تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ بیشتر علاحدگی پسندوں لیڈروں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔حزب اختلاف نیشنل کانفرنس کے ترجمان جنید اعظم متو نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ انتخابی مہم کے دوران پی ڈی پی علاحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرانے کے وعدے کرتی رہی ہے۔ لیکن اب جبکہ اقتدار اس کے ہاتھ میں آگیا ہے، اس نے علاحدگی پسند وں لیڈروں کی نقل و حرکت پر بھی مکمل طور پابندی لگادی ہے۔ پہلے ڈی پی کا معروف نعرہ تھا ،’’ گولی سے نہیں ، بات بنے گی بولی سے ‘‘ لیکن بر سر اقتدار آجانے کے بعد سب سے پہلے اس حکومت نے ’بولی‘ یعنی بات چیت کے دروزاے بند کردئے ہیں۔ یہاں تک کہ لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک کے خلاف 1987ء میں درج ہوئے ایک پولیس کیس کی فائل کھول دی گئی ہے۔ بزرگ علاحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی کو مسلسل ان کے گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بی جے پی کے ڈکٹیشن پر کام کررہی ہیں ۔‘‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ محبوبہ مفتی نے افسپا جیسے کالے قوانین کے خاتمے اور فوجی انخلا کی باتیں کرنا اب چھوڑ دیا ہے حالانکہ یہ وہ چیزیں ہیں ، جنہیں پورا کرنے کے نام پر پی ڈی پی نے 2014کے الیکشن میں لوگوں سے ووٹ حاصل کئے تھے۔ الٹا محبوبہ سرکار کی جانب سے سابق فوجیوں کے لئے علاحدہ کالونیاں بنانے اور کشمیری پنڈتوں کے لئے علاحدہ بستیاں بسانے کے منصوبوں کی وجہ سے محبوبہ مفتی کی حکومت کو شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بلکہ اس کے مخالفین الزام لگارہے ہیں کہ بی جے پی کو خوش رکھنے کی کوشش میں محبوبہ مفتی اور اُن کی پارٹی ہر اُس اقدام کی حمایت کرتی ہیں، جسے کشمیری عوام اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔
سرکردہ صحافی اور تجزیہ نگار مقبول ساحل کہتے ہیں،’’فی الحال محبوبہ مفتی کا پورا فوکس بی جے پی کو خوش رکھنے پر ہے تاکہ ان کی حکومت قائم رہے۔ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ نئے الیکشن کے موقعے پر وہ پھر عوام کو لبھا سکتی ہیں۔ عوا م تو بے چارے سادہ لوح ہیں۔ ان کا حافظہ بھی کمزور ہوتا ہے اور سب سے اہم بات ہے کہ ان کے آپشن کوئی نہیں ریاست میں صرف دو ہی علاقائی پارٹیاں یعنی نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ہیں۔ اگر گنے چنے ووٹ ہی پڑیں گے تو بھی ان ہی دو جماعتوں میں سے ایک جیت جائے گئی۔ اننت ناگ حلقہ انتخاب کے حالیہ ضمنی الیکشن میں بھی یہی ہوا۔ 84ہزار رائے دہندگان میں سے صرف28ہزار نے ووٹ ڈالے ۔ ان میں سے 17ہزار نے محبوبہ مفتی کے حق میں ووٹ ڈالا اور وہ جیت گئیں۔ یعنی کل 84ہزار ووٹروں میں سے صرف 17ہزار ووٹوں کے بل پر بھی محبوبہ کامیاب قرار پائیں۔ یہی جمہوریت ہے۔‘‘
بہر حال دیکھنا یہ ہے کہ مخلوط سرکار کی متعین مدت میں باقی چار سال کے دوران محبوبہ مفتی کب تک بی جے پی کو خوش رکھنے کی کوشش میں اس کے اشاروں پر چلتی رہیں گی اور کیا ایسا کرکے پی ڈی پی واقعی عوام میں اپنی اعتباریت اور ساکھ کو برقرار رکھ پائیں گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *