مسجد نبوی پر خود کش حملہ دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ

وسیم احمد
p-8گزشتہ ہفتہ سعودی عرب میں تین دہشت گردانہ خود کش حملے ہوئے۔ پہلا جدہ میں امریکی قونصل خانہ کے سامنے ہوا۔ دوسرا قطیف کی ایک مسجد کے باہر ہوا، یہ علاقہ شیعہ اکثریت والا ہے اور تیسراحملہ مسجد نبوی کے باہر جنت البقیع کے قریب کار پارکنگ میں ہوا۔ بظاہر یہ دہشت گردوں کا روایتی عمل ہے جو گاہے بگاہے مختلف ملکوں میں امن بگاڑنے کے لئے انجام دیا جاتا ہے۔لیکن سعودی عرب کے تین الگ الگ جگہوں پر ایک ہی دن میں چار دھماکے ہونا کچھ خاص اشارے دے رہاہے۔
عراق میں داعش پسپا ہورہا ہے۔ شام میں اس کی پکڑ کمزور پڑرہی ہے،لیبیا میںاس کا وجود سمٹتا جارہا ہے ۔ایسے میں داعش کا دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیموں پر جو اثر و رسوخ تھا وہ کمزور پڑتا دکھائی دینے لگا ہے۔اب تک الشباب ، لشکر طیبہ اور بوکو حرام جیسی ممنوعہ تنظیمیں داعش سے الحاق میں اپنا مستقبل تلاش کرتی رہی ہیں ،ان تنظیموں میں داعش کی پسپائی کے بعد مایوسی پیدا ہونے لگی ہے۔ ظاہر ہے داعش کے لئے یہ اچھی خبر نہیں ہے،کیونکہ داعش ان تنظیموں کے ذریعہ جہاں چاہتا ہے دہشت گردی کی آگ بھڑکاتا ہے۔اگر ان تنظیموں کا اعتماد داعش پر سے اٹھ گیا اور ان میں مایوسی پیدا ہوئی تو داعش پوری دنیا میں دہشت پھیلانے کا جو خواب دیکھ رہا ہے وہ چکنا چور ہوجائے گا۔اس لئے اب وہ سعودی عرب کے حساس علاقوں میں دھماکہ کر کے دنیا کی تمام ممنوعہ تنظیموں کو جو اس سے جڑی ہوئی ہیں کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ اس میں اب بھی دم خم باقی ہے اور وہ سعودی عرب کے سخت سیکورٹی والے حساس علاقوں میں بھی اپنے آدمیوں سے دھماکے کرواسکتا ہے۔
اپنی طاقت کا اظہار کرنے کے لئے داعش نے سعودی عرب کے تین مقامات کو منتخب کیا ۔ پہلی جگہ جدہ میں واقع امریکی قونصل خانہ کی عمارت کے قریب تھی،یہاں حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔حملہ کرنے والا پاکستان کا رہنے والا36 سالہ عبد اللہ گلزار خاںنام کا آدمی تھا۔وہ سعودی عرب میں 12سال سے مقیم تھا اور ڈرائیور کی نوکری کرتا تھا۔وہ کس تنظیم کے لئے کام کرتا تھا؟ اس کا پتہ ابھی تک نہیں چل سکا ہے ،مگر گمان غالب ہے کہ یہ کام داعش کے اشارے پر ہوا ہوگا۔صبح سحری کے وقت تقریبا سوا دو بجے محافظوں کو ڈاکٹر سلیمان فقیہ اسپتال کے باہر کھڑی ایک گاڑی میں بیٹھے شخص کے بارے میں شک پیدا ہوا۔یہ اسپتال امریکی قونصل خانہ کے سامنے ہے۔ محافظ گاڑی کے قریب پہنچے تو اس میں بیٹھے شخص نے اسپتال کی پارکنگ کے اندر اپنے خودکش بیلٹ سے اپنے آپ کو اڑا دیا۔اس واقعہ میں مشتبہ حملہ آور ہلاک اور دو پولیس اہلکار کی موت واقع ہوگئی۔قابل ذکر ہے کہ جدہ ہی کے امریکی قونصل خانے کو 2004 میں حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دہشت گردوں کا دوسرا نشانہ شہر قطیف تھا ۔ شام کوافطار کے بعدمشرقی شہرقطیف کی مسجد ’فراج العمران‘کے باہر 2خودکش دھماکے ہوئے ،اس وقت شوال کاچانددیکھنے کیلئے عوام کی بھیڑ بڑی تعدادمسجدمیں موجودتھی ۔اطلاع کے مطابق دہشت گردوں نے مسجد میں گھسنے کی کوشش کی جہاں وہ دھماکہ کرنا چاہتے تھے۔ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے تو بڑا نقصان ہوسکتا تھا ،لیکن سیکورٹی اہلکار نے دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے بڑے حادثے کو واقع ہونے سے بچا لیا۔
تیسرا واقعہ مسجد نبوی کے قریب پیش آیا۔حملہ کرنے والا 18سالہ سعودی شہری عبدالہادی تھا۔یہ دھماکہ افطاری کے 3منٹ بعدمسجد نبوی سے چند گز کے فاصلے پر جنت البقیع اورفاسٹ فوڈچین’البیک‘کے درمیانی ایریا میں ہوا۔اس میں متعددافرادزخمی بھی ہوئے ، دھماکہ کے وقت مسجد نبوی میں کئی لاکھ افراد افطار کررہے تھے جبکہ سیکورٹی اہلکار بھی افطار میں مصروف تھے، اسی دوران23سے 25سال کے ایک مشکوک شخص نے مسجد نبوی کی جانب جانے کی کوشش کی،اہلکاروں نے روکا تو اس نے دھماکہ کردیا،بہترین سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے حملہ آوربڑی تباہی پھیلانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
ایک ہی دن میں تین حساس جگہوں پر دھماکے ہونا سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس سیریل دھماکے سے دہشت گرد کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دہشت گرد گروپ نے ان دھماکوں سے بہت بڑا مقصد حاصل کرنا چاہا تھا۔ جہاں تک پہلے حملے کی بات ہے جو کہ امریکی قونصل خانہ سے محض 20گز کی دوری پر واقع ہوا، اگر اس حملے کو روکنے میں سعودی عرب کے سیکورٹی اہلکار کامیاب نہ ہوتے تو سعودی عرب اور امریکہ کے بیچ سیاسی دوری پیدا ہوسکتی تھی۔ظاہر ہے یہ دوری ہر اعتبار سے داعش کے لئے فائدہ مند ثابت ہوتی۔ ایک تو امریکہ عراق و شام میں داعش کے خلاف جو کارروائی کررہا ہے اور اس میں سعودی عرب اس کے ساتھ ہے ،اس کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی، دوسرے یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی حملے میں امریکہ سعودی عرب کو دیا جانے والا اپنا تعاون بند کرسکتا تھااور ایسی صورت میں سعودی فوج کے لئے حوثیوں سے مقابلہ کرنے میں زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا اوریہی داعش کی خواہش ہے کہ سعودی عرب زیادہ سے زیادہ جانی نقصان اٹھائے۔
جہاں تک قطیف میں حملے کی بات ہے تو دہشت گرد تنظیم نے انتہائی شاطرانہ طریقے سے یہ منصوبہ بندی کی تھی۔جس علاقے میں یہ حملہ ہوا ہے ،یہ علاقہ شیعہ اکثریتی والا ہے۔ یہاں شیعائوں کی طرف سے پہلے بھی حکومت کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہوچکے ہیں۔یہاں شیعہ طبقے کی طرف سے یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتی ہے۔اب اگر یہ حملہ کامیاب ہوجاتا تو شیعہ میں یہ پیغام جاتا کہ حکومت نے شیعہ اکثریتی علاقہ ہونے کی وجہ سے سیکورٹی نظام کومضبوط نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ سال اور اس سے پہلے متعدد حملوں کی طرح پھر ایک مرتبہ شیعہ کو جانی نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی ہے۔ اس سے شیعہ سماج میں سعودی حکومت سے نفرت پیدا ہوتی اور ملک کا امن خراب ہوتا ،داعش یہی چاہتا ہے۔
رہی بات مسجد نبوی میں حملہ کرنے کی تو اس کا مقصد سعودی عرب کے انتظامیہ کو بدنام کرنا تھا۔ اس حملے سے دہشت گرد گروپ یہ بتانا چاہتا ہے کہ سعودی حکومت مشاعر مقدسہ کو تحفظ دینے میں ناکام ہے۔لہٰذا یا تو حرمین شریفین (کعبہ اور مسجد نبوی) کا انتظام پوری دنیا کے مسلم ملکوں کی ایک انتظامیہ کمیٹی بناکر اس کے حوالے کردیا جائے جیسا کہ ماضی میں کئی مرتبہ اس طرح کی باتیں اٹھائی جاچکی ہیں یا پھر سعودی حکومت اس حملے کے بعد پوری دنیا کی تنقید کا نشانہ بنے۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں سعودی عرب کی شبیہ خراب ہوتی جو کہ داعش کی منشا ہے ۔لیکن قدرت کو ایسا ہونا منظور نہیں تھا ۔ لہٰذا قدرت نے دہشت گردوں کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور ان چار دھماکوں سے کوئی ایسا خسارہ نہیں ہوا جیسا کہ عام طور پر ان دھماکوں سے ہوتا ہے۔
غرضیکہ داعش یا جس دہشت گرد تنظیم نے ان دھماکوں کو انجام دیاہے ان کا مقصد پورا نہیں ہوسکا۔ بلکہ مسجد نبوی کے قریب دھماکے نے تو داعش کے تئیں نفرت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔اس دھماکہ کے فوراً بعد پوری دنیا سے مذمت کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ مصر کے مفتی اعظم الشیخ شوقی علام نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسجد نبوی کے نزدیک دھماکہ کرنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے جس کا تصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے جرائم تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ تمام لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیاں سعودی عرب کی منزل کھوٹی نہیں کر سکتے۔عرب لیگ کے جنرل سیکرٹری احمد ابو الغیط نے سعودی عرب میں خودکش حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خادم الحرمین الشریفین سے دلی اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے بے گناہ سیکورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے بھی دلی تعزیت کی۔جنرل سیکرٹری عرب لیگ نے اپنے بیان میں کہا کہ نفرت انگیز دھماکوں نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب اور وطن نہیں ہے۔ جن لوگوں نے یہ دھماکے کئے ہیں انہوں نے رمضان المبارک کی حرمت کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ عرب لیگ دہشت گردی کی مذمت کے مسلمہ موقف پر قائم ہے اور اس کی تمام شکلوں کی واضح مذمت کرتی ہے۔اردن کی حکومت نے مملکت سعودی عرب میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے ریاض حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ عمان سعودی عرب کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل طور پر اس کے ساتھ ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ مسلمانوں کے روحانی مرکز سعودی عرب میں خودکش حملے سرزمین حرمین شریفین کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی خوفناک سازش ہے۔ ایسے خودکش حملے منظم سازشوں و منصوبہ بندی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔جو لوگ ان حملوں میں ملوث ہیں وہ یقیناًدشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے اور اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں ہمیں اس وقت تک اسی طرح نشانہ بناتی رہیں گی جب تک کہ ہم سب متحد ہوکر اس کا مقابلہ نہ کریں۔نجیب رزاق ملیشیا کے وزیر اعظم نے اس حملے کو بدبختانہ عمل بتایا ہے۔ہندوستان کے مشہور سیاسی رہنما اور دانشور اسد الدین اویسی نے کہا کہ رمضان جیسے مبارک مہینے میں بے گناہوں کا قتل کوئی بد بخت ہی کرسکتا ہے۔یہ عمل پورے طور پر غیر اسلامی اور غیر انسانی ہے۔اس کے علاوہ کئی ملکوںکے سربراہوں نے ان حملوں کی سخت لفظوں میں مذمت کی ہیں۔
داعش ایک ایسی سفاک تنظیم ہے جس کی بربریت کا تجزیہ کیا جائے تو ایک دفتر بھر جائے گا۔ بڑا سے بڑا سفاک بھی رمضان جیسے مبارک مہینے میں خود کو بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے سے گریز کرتا ہے مگر داعش ہی ایک ایسی تنظیم ہے جس نے رمضان جیسے مبارک مہینے کو بھی سفاکیت کا سیزن بناکر اپنے عمل پر اسلام کا لبادہ اوڑھانے کی کوشش کی ہے اور اس طرح سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھا۔چنانچہ 19رمضان کو داعشی مزاج کا ایک ضعیف العقل افغانی نژاد امریکی شہری عمر متین نے امریکی شہر اورلینڈو کے ایک نائٹ کلب میں آنے والوں کو خون میں نہا دیا اور پھر اس کارروائی کو مذہب کا نام دیا۔اس کے کچھ روز بعد استنبول میں اتاترک ایئرپورٹ پر بربریت کا واقعہ م پیش آیا۔ اس مرتبہ داعش کے ظلم کا شکار ایئرپورٹ پر موجود مختلف ملکوں کے درجنوں شہری بنے۔ اس کے بعد کویت نے داعش سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ کو پکڑنے کا اعلان کیا جو شیعہ کی ایک مسجد اور وزارت داخلہ کے دفتر کو نشانہ بنانے والے تھے۔ اگر یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے تو رمضان المبارک کے مبارک مہینے میں ظلم و بربریت کے خونی دھارے میں ایک اور لکیر کا اضافہ ہوجاتا۔اس کے بعد بغداد کے علاقے کرادہ میں داعش نے تقریبا 389 بے قصور افراد سے زمین کو لالہ زار کیا۔ پھر ظلم کی کہانی آگے بڑھتی ہے اور رمضان کے مبارک مہینے میں خون کی ہولی کھیلنے کے لئے داعش کا رخ سعودی عرب کی طرف ہوتا ہے اور پھر ایک دن اور ایک رات کے اندر داعش کے قاتلوں نے مشرق میں قطیف سے لے کر مغرب میں جدہ تک اور پھر مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو نشانہ بنایا۔اس طرح دیکھا جائے تو کویت ، بغداد، اورلینڈو ، قطیف ، جدہ اور مدینہ منورہ میں منحوس کارروائیاں کرکے رمضان المبارک کو خونی مہینہ بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔شاید اس طرح کا عمل عراق و شام میں اس کی ہونے والی پسپائی سے پیدا ہونے والی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔داعش اپنے نیچے کی زمین کھسکتی ہوئی محسوس کرنے لگا ہے اور اس سے جڑی ہوئی ممنوعہ تنظیمیں اب اس سے آنکھیں بچانے لگی ہیں ۔وہ اپنی شاخ کو مضبوط کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے اور رمضان جیسے مبارک مہینے اور عید جیسی خوشیوں میں بھی خون کی ہولی کھیلنے سے نہیں کتراتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ داعش کا مذہب صرف اور صرف سفاکیت ہے جس کو انجام دینے کے لئے وہ انسانیت کا خون کررہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *