مرکز نے روکی ججو ں کی تقرری کے لیے بھیجی گئی متنازع لسٹ

پربھات رنجن دین
ججوں کی تقرری کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے سپریم کورٹ کو جو لسٹ بھیجی تھی، اس پر مرکزی سرکار نے روک لگادی ہے۔ لسٹ بھیجنے کے بعP-4 چندرچوڑ سپریم کورٹ میںجج بن کر چلے گئے۔ چندرچوڑ نے تقریباً 50 نام بھیجے تھے، ان میں سے زیادہ تر نام سابق اور موجودہ ججوں کے بیٹے، بھائی، بھانجے، سالے اور دیگر نزدیکی رشتہ دار ہیں۔ جو نام بچے ہیں، وہ سب بھی سرکار کے سفارشی بیٹے ہیں یا بڑے لیڈروں کے بیٹے یا رشتہ دار ہیں۔ قومی ہفت روزہ اخبار ’چوتھی دنیا‘ کے ہندی اور اردو ایڈیشن نے اس خبر کو سب سے پہلے اجاگر کیا اور عدالتی احاطے میں ججوں کے ذریعہ کی جارہی اندھیر گردی کی طرف لوگوں کی توجہمبذول کرائی۔ ’چوتھی دنیا‘ میںشائع اس خبر نے سوشل میڈیا کے اسٹیج پر بھی بڑے پیمانے پر ملک بھر کے لوگوں کی توجہ مرکوز کی، جس سے ججوں کی تقرری کی ایسی دھاندلی اور سفارش کے خلاف بڑے پیمانے پر غصہ سامنے آیا۔ خاص طور پر وکیلوں، قانون سے جڑے لوگوں اور ان کی تنظیموں کی طرف سے زور دار ردعمل سامنے آیا۔ آخرکار مرکزی سرکار نے اس متنازع لسٹ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ مرکز نے انٹیلی جینس بیورو (آئی بی) کو اس معاملے کی جانچ کرنے کو کہا ہے۔
انٹیلی جینس بیورو کو جانچ کے احکام دیتے ہوئے مرکز نے واضح طور پر کہا ہے کہ ججوں کی تقرری کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے جو لسٹ بھیجی گئی ہے، اس میں زیادہ تر لوگ موجودہ ججوں،سابق ججوں اور لیڈروںکے رشتہ دار بتائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو دیگر لوگ لسٹ میں شامل ہیں، وہ بھی سفارشی بتائے گئے ہیں، لہٰذا اس کی گہرائی سے جانچ ہونی چاہیے۔ آئی بی کے ایک افسر نے کہا کہ موجودہ اور سابق ججوںیا لیڈروں کے رشتہ داروں کانام، جنھیں جج بنائے جانے کی سفارش کی گئی ہے، ایک کھلی حقیقت ہے، ا س کی مکمل رپورٹ جلدی ہی مرکزی سرکار کو بھیج دی جائے گی۔ اس میںکوئی دو رائے نہیں کہ ججوں کی تقرری کے لیے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے جو لسٹ سپریم کورٹ کو بھیجی گئی ہے،وہ دھاندلیوںکا پلندہ ہے۔ جج اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو جج بنا رہے ہیں اور سرکار کو احسان مند کرنے کے لیے اقتدار کے چہیتے سرکاری وکیلوں کو بھی جج بنانے کی سفارش کررہے ہیں۔ جج کا عہدہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بااثر ججو ں کی خاندانینشست بنتاجارہا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے سپریم کورٹ کے جج کا چارج سنبھالنے سے پہلے جو 50 نام ججوں کی تقرری کے لیے بھیجے،ان میںزیادہ تر لوگ ججوںکے بیٹے اور رشتہ دار ہیں یا سرکار کے پیروی-بیٹے سرکاری وکیل ہیں۔ ان میں 35 نام الٰہ آبادہائی کورٹ کے اور قریب 15نام ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے ہیں۔ لیکن ان میں او بی سی، درج فہرست ذات یا درج فہرست قبائل کا ایک بھی وکیل شامل نہیں ہے۔ یہ المیہ ہی تو ہے کہ ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے قیام سے لے کر اب تک کے 65 سال میں درج فہرست ذات کا ایک بھی وکیل جج نہیں بنا ۔اسی طرح ویشیہ، یادو یا موریہ ذات کا ایک بھی کوئی وکیل کم سے کم لکھنؤ بینچ میںآج تک جج مقرر نہیں ہوا۔ سینئر وکیلوں کو جج بنانے کے نام پر عدالتوںمیںیہ غیر آئینی اور غیر قانونی کام بلاتعطل چل رہا ہے۔ ا س کے خلاف پبلک اسٹیج پر بولنے والا کوئی نہیں۔ ججوںکی کرسیاں، ججوں کے رشتہ داروں اور پاور پروٹیکٹڈ سرکاری وکیلوں کے لیے محفوظ کردی گئی ہیں۔ ان وکیلوں کو جج بننے کا کوئی موقع نہیں ملتا، جو تندہی اور ایمانداری سے وکالت کرتے ہوئے پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔
جن لوگوں کوجج بنانے کی سفارش کی گئی ہے، ان کا ایک بار پھرسے جائزہ لیتے چلیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج، جموں و کشمیر ہائی کورٹ، آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج رہے صغیر احمد کے بیٹے محمد الطاف منصور کو جج بنائے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ الطاف منصور اترپردیش سرکار کے چیف اسٹینڈنگ کونسل بھی ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج رہے عبدالمتین کے حقیقی بھائی عبدالمعین کو بھی جج بننے کے لیے اہل پایا گیا ہے۔عبدالمعین اترپردیش سرکار کے ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل ہیں ۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج رہے او پی شریواستو کے بیٹے رجنیش کمار کا نام بھی جج بننے والوں کی فہرست میںشامل ہے۔ رجنیش کمار اترپردیش سرکار کے ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کونسل بھی ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج رہے ٹی ایس مشرا اور کے این مشرا کے بھتیجے اپیندر مشرا کو بھی جج بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اپیندر مشرا الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سرکاری وکیل ہیں۔ اپیندر مشرا کی ایک اہلیت یہ بھی ہے کہ وہ بی ایس پی لیڈر ستیش چندر مشرا کے بھائی ہیں۔ اسی طرح ہائی کورٹ کے جج رہے ایچ این تلہری کے بیٹے آر این تلہری اور جسٹس ایس پی مہروترا کے بیٹے منیش مہروترا کو بھی جج بننے لائق پایا گیا ہے۔ ان کے بھی نام لسٹ میںشامل ہیں۔ لکھنؤ بینچ سے جن سفارشی لوگوں کے نام جج کے لیے چنے گئے، ان میں چیف اسٹینڈنگ کونسل 2) ( شریمتی سنگیتا چندرا اور اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن اینڈ برج کارپوریشن کے سرکاری وکیل ششر جین کے نام بھی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے وی این کھرے کے بیٹے سومیش کھرے کا نام بھی جج کے لیے بھیجا گیا ہے۔اسی طرح الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج رہے جگدیش بھلّا کے بھانجے اجے بھنوٹ اورجج رام پرکاش مشر کے بیٹے راجیو مشر کا نام بھی ججوں کے لیے فارورڈ لسٹ میں شامل ہے۔ اندھیر گردی کی حالت یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے جج رہے پی ایس گپتا کے بیٹے اشوک گپتا اور بھانجے راجیو گپتا دونوں میںجج بننے لائق قابلیت دیکھی گئی اور دونوں کے نام سپریم کورٹ بھیج دیے گئے۔ الٰہ آبادہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے سٹنگ جج اے پی شاہی کے سالے بی کے سنگھ کانام بھی سفارشی فہرست میںشامل ہے۔ سپریم کورٹ میںاترپردیش سرکارکے چیف اسٹینڈنگ کونسل سی ڈی سنگھ کا نام بھی ججوںکے لیے منتخب فہرست میں شامل ہے۔
اس لسٹ کو لے کر سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا سرکاری وکیلوں (اسٹیٹ لاء افسر) کو ہندوستانی آئین کے آرٹیکل124 اور 217 کے تحت وکیل مانا جاسکتا ہے؟ آئین کے یہ دونوںآرٹیکل کہتے ہیںکہ ججوں کی تقرری کے لیے کسی وکیل کا ہائی کورٹ یا کم سے کم دو عدالتوں میںفعال پریکٹس کا 10 سال کا تجربہ ہونا لازمی ہے ۔بھیجی گئی لسٹ میںایسے کئی نام ہیں، جنھوںنے کبھی بھی کسی عام شہری کا مقدمہ نہیںلڑا۔ کالا کوٹ پہنا اور رسائی کے دم پر سرکاری وکیل ہوگئے،سرکار کی نمائندگی کرتے رہے اور جج کے لیے اپنے نام کی سفارش کرالی۔ سال 2000 میںبھی 13 ججوں کی تقرری میںدھاندلی کا معاملہ اٹھا تھا،جس میںآٹھ نام مختلف ججوں کے رشتہ داروں کے تھے۔اٹل بہاری واجپئی کے دور حکومت میں وزیر قانون رہے رام جیٹھ ملانی نے ججوں کی تقرری کے لیے ملک بھرکے ہائی کورٹ سے بھیجی گئی لسٹ کی جانچ کا حکم دیا تھا۔ جانچ میںپایا گیا کہ 159سفارشوں میںسے قریب90 سفارشیں مختلف ججوں کے بیٹوں یا رشتہ داروں کے لیے کی گئی تھیں۔جانچ میںبے ضابطگیوں کی تصدیق ہونے کے بعد وزارت قانون نے وہ لسٹ خارج کردی تھی۔ اس لسٹ میںشمار کئی لوگ بعدمیںجج بن گئے اور اب وہ اپنے رشتہ داروں کو جج بنانے میں لگے ہیں۔ ان میںجسٹس عبدالمتین اور جسٹس امتیاز مرتضیٰ جیسے نام قابل ذکر ہیں۔امتیاز مرتضیٰ کے والد مرتضیٰ حسین بھی الٰہ آباد ہائی کورٹ میںجج تھے۔
سرکاری وکیلوںکوجج بنا کر پورے عدالتی نظام کو حکومت سے متاثر کرنے کی ایک طرح سے سازش چل رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے ایڈووکیٹ کوٹے سے جو 10 وکیل جج بنائے گئے تھے،ان میںسے بھی سات لوگ راجیو شرما،ایس ایس چوہان، ایس این شکلا،شبیہ الحسنین، اشونی کمار سنگھ، دیوندر کمار اروڑا اور دیوندرکمار اپادھیائے اترپردیش سرکارکے وکیل (اسٹیٹ لاء افسر) تھے۔ ان کے علاوہ ریتو راج اوستھی اور انل کمار مرکزی سرکارکے لاء افسر تھے۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل کے روپ میں منظوری دینے میں بھی زبردست بے ضابطگی ہورہی ہے۔ شہریوں کے مقدمے لڑنے والے وکیلوں کو لمباتجربہ ہوجانے کے باوجود انھیں سینئر وکیل تسلیم نہیں کیا جاتا،جبکہ سرکاری وکیلوںکو بڑی آسانی سے سینئر وکیل تسلیم کرلیا جاتا ہے۔ کچھ ہی عرصہقبل لکھنؤ بینچ کے چار وکیلوں کو سینئر وکیل کے طور پر منظوری دی گئی، جن میں چیف اسٹینڈنگ کونسل آئی پی سنگھ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلبل گھولڈیال، مرکزی سرکار کے اسٹینڈنگ کونسل اسیت کمار چترویدی اور پبلک سیکٹر کے مختلف انٹرپرائزز اور یونیورسٹیوں کے وکیل ششی پرتاپ سنگھ شامل ہیں۔ لکھنؤ میںتجربہ کار اور قابل وکیلوں کی اچھی خاصی تعداد ہونے کے باوجود ہائی کورٹ کو ان میں کوئی سینئر وکیل بننے کے لائق دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے رویے کے سبب وکیلوں میںعام لوگوں کے مقدمے چھوڑ کر سرکاری وکیل بننے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ا س کے علاوہ ججوں کے رشتہ داروں کی وکالت کا دھندا بھی زبردست چل رہا ہے اور پنپ رہا ہے۔ ججوں کے رشتہ دار ہی جج بن رہے ہیں اور ججوں کے رشتہ دار، ان ہی کے بل بوتے پر اپنی وکالت کا دھندا بھی چمکا رہے ہیں۔ عدالت کے احاطے میںدونوں طرف سے ججوں کے رشتہ داروںکی ہی لارڈ شپ قائم ہوتی جارہی ہے۔
جج، انصاف اور کالجیم
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعہ جن لوگوںکے نام جج بنانے کے لیے بھیجے گئے تھے، ان پر کالجیم کی رضامندی تھی۔ یہ معاملہ اجاگر ہوا، تو ملک کے عام لوگوں کو ججوں اور ان کے کالجیم کے انصاف کا پتہ چلا۔ اگر یہ معاملہ نہیں کھلتا ،تو سارے ناتے رشتہ دار مختلف عدالتوں میں انصاف تولتے نظر آتے۔اصلیت میںعدلیہ اور سرکار میںٹکراؤ کی وجہ یہی ہے۔اس میں صرف اترپردیش کا ہی معاملہ نہیں ہے، دیگر ریاستوںسے بھی جج بنائے جانے کی جو لسٹ بھیجی گئی ہے، اس میںموجودہ یا سابق ججوں کے رشتہ داروں اور سفارشی بیٹوں کے نام بھرے پڑے ہیں۔
جو ابھی نظام ہے، ا س کے مطابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی قیادت میںبنا کالجیم اپنے یہاں ججوں کی تقرری کو لے کر اپنی سفارشیں وزارت قانون کو بھیجتا ہے۔ ان مجوزہ ناموں پر وزارت، انٹیلی جینس بیورو سے رپورٹ مانگتی ہے۔ ساری جانچ مکمل ہونے کے بعد ناموں کی فہرست ہندوستان کے چیف جسٹس کو بھیج دی جاتی ہے،جو سپریم کورٹ کے سب سے سینئر ججوں کے ساتھ اس پر آخری فیصلہ لیتے ہیں۔ ججوںکی تقرری کا عمل اس طرح بلاتعطل چل رہا تھا۔ اس میںرکاوٹ پڑنے کے سبب ہی سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کے ذریعہ بنائے گئے قومی عدالتی تقرری کمیشن (نیشنل جوڈیشیل اپائنٹمنٹ کمیشن) کو خارج کردیا تھا۔ا س وقت الگ الگ ہائی کورٹس کے کالجیم کے ذریعہ کی گئی 115 ناموں کی سفارشیں مرکزی سرکار کے سامنے زیر التوا تھیں۔ اس کے بعد مرکز نے 102 ناموں کو منظوری دے دی اور باقی پر غور چل رہا تھا۔ ان 102 میںسے سپریم کورٹ نے 64 تقرریوں پر مہر لگادی، لیکن38 کو خارج کردیا۔ ابھی قریب سو نام اور ہیں، جنھیںسرکار نے روکا ہوا ہے۔ ججوں کی تقرری کے لیے بن رہے میمورنڈم آف پروسیجر (ایم او پی) کے آنے کے بعد ان پر غور ہوگا۔ گزشتہ سال نیشنل جوڈیشیل اپائنٹمنٹ کمیشن( این جے اے سی) کو ختم کرنے کے بعد سپریم کورٹ ایم او پی کے لیے راضی ہوا تھا۔ سپریم کورٹ ان پروویژنس کے خلاف ہے، جو اس کی سپریم پاور میںکٹوتی کرے اور مرکز کو ’ویٹو پاور‘ دے۔ ایم او پی آنے پر اعلیٰ جوڈیشیری کے صوابدیدی اختیارات میںکٹوتی ہوگی۔ ان ہی طاقتوںکا استعمال کرکے کسی بھی وکیل یا ضلع جج کو اونچی عدالتوں میںجج مقرر کیا جاتا رہا ہے۔ایم او پی میںپروویژن ہے کہ مرکزی سرکار ،سپریم کورٹ کالجیم کی کسی بھی سفارش کو پہلے تو نظر ثانی کے لیے لوٹا دے اور اگر دوبارہ وہی نام بھیجا جائے، توبغیر کوئی وجہ بتائے اسے خارج کردے۔ ابھی کالجیم کے ذریعہ دوبارہ بھیجے گئے نام کو ماننے کے لیے مرکزی سرکار پابند ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے وقار کا مسئلہ بنا لیاہے۔ ایم او پی کو لے کر مرکزی سرکار کی طرف سے دیے جارہے مشوروںکو سپریم کورٹ خارج کررہا ہے۔
جج بنانے کی سفارش میں شمار ناتے رشتہ دار
نیرج ترپاٹھی،پسرکیسری ناتھ ترپاٹھی، گورنر مغربی بنگال
سومیش کھرے پسر وی این کھرے، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ
محمد الطاف منظور پسر صغیر احمد، سابق جج سپریم کورٹ
عبدالمعین، بھائی عبدالمتین، سابق جج الٰہ آباد ہائی کورٹ
رجنیش کمار، پسر او پی شریواستو، سابق جج الٰہ آباد ہائی کورٹ
اپیندر مشرا، بھائی ٹی ایس مشرا اور کے این مشرا، سابق جج الٰہ آبادہائی کورٹ
آر این تلہری ، پسر ایچ این تلہری ، سابق جج الٰہ آباد ہائی کورٹ
منیش مہروترا، پسر ایس پی مہروترا، سابق جج الٰہ آبادہائی کورٹ
اجے بھنوٹ، بھانجہ جگدیش بھلّا، سابق جج الٰہ آباد ہائی کورٹ
راجیو مشر، پسر رام پرکاش مشر، سابق جج الٰہ آباد ہائی کورٹ
اشوک گپتا، پسر پی ایس گپتا، سابق جج الٰہ آؓٓؓٓباد ہائی کورٹ
راجیو گپتا، بھانجہ پی ایس گپتا،سابق جج الٰہ آباد ہائی کورٹ
بی کے سنگھ، سالا اے پی شاہی، جج الٰہ آباد ہائی کورٹ
سنگیتا چندرا، چیف اسٹینڈنگ کونسل (2)
-15 شِشِر جین ، لابنگ سن، اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن اینڈ برج کارپوریشن کے سرکاری وکیل
-16سی ڈی سنگھ، لابنگ سن، سپریم کورٹ میںیوپی سرکار کے چیف اسٹینڈنگ کونسل

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *