کیا جموں وکشمیر کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے؟

جموں کشمیر میںحفاظت کے نام پر شہریوں کو مسلح کرنے کا سلسلہ ،سنجیدہ فکر طبقے مضطرب پی ڈی پی اور بی جے پی حکومت نے کشتواڑ میں دس ہزار گن لائسنز جاری کی ہیں: ممبر اسمبلی کا ایوان میں انکشاف

ہارون ریشی
p-4bریاستی قانون ساز اسمبلی میں گزشتہ دنوں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا( ایم ) کے لیڈرمحمد یوسف تاریگامی نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار نے ضلع کشتواڑ میں عام شہریوں کو اسلحہ رکھنے کی دس ہزار لائسنز الاٹ کئے ہیں۔ تاریگامی نے ایوان کو بتایا کہ انہوں نے یہ اطلاع محکمہ داخلہ سے حاصل کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے پوچھا ، ’’کیا جموں وکشمیر میں خانہ جنگی بپا کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں؟‘‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشتواڑ جموں وکشمیر کا ایک حساس ضلع ہے۔ یہاں اگست 2013میں خوفناک ہندو مسلم فساد بپا ہوا تھا ، جس میں تین افراد ہلاک اور 80زخمی ہوگئے تھے۔ ان فسادات میں درجنوں دکانوں سمیت ایک سو کے قریب تعمیراتی ڈھانچے نذر آتش کئے گئے تھے۔ بلوائیوں نے سڑکوں پردرجنوں گاڑیوں کو جلا دیا تھا۔ یہاں حالات اس حد تک خراب ہوگئے تھے کہ حکومت کو کئی دن تک یہ علاقہ فوج کی تحویل میں دینا پڑا۔غور طلب بات یہ ہے کہ بعد میں اس واقعہ کی تحقیق کرنے والا کمیشن جس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ایک سابق جج آر سی گاندھی نے اپنی رپورٹ میں فسادات کا ذمہ دار ایک سابق وزیر سمیت تقریباً پانچ درجن افراد کو قرار دیا، جن میں کئی آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران بھی شامل ہیں۔
کشتواڑ سطح سمندر سے 5360فٹ کی بلندی پر واقع ایک خوبصور ت علاقہ ہے ، جو ریاست میں کم آبادی والے علاقوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔ سال 2013کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی آبادی محض 2لاکھ27ہزار 976افراد پر مشتمل ہے ۔ یہاں مسلمانوں اور ہندئوں کی آبادی کا شرح تناسب بالترتیب 52اور 48فیصد ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قدر قلیل آبادی والے ضلع میں محض دو سال کے اندر دس ہزار گن لائسنز جاری کرنا ایک خوفناک معاملہ ہے۔
جموں وکشمیر جیسی پر تشدد حالات کا شکار ریاست کے سب سے حساس ضلع میں اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ کے لائسنز فراہم کئے جانے کے اس انکشاف سے یہاں کے سنجیدہ فکر طبقے مضطرب ہوگئے ہیں۔بزرگ سماجی کارکن اور معروف شاعر ظریف احمد ظریف نے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان الفاظ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا،’’میں حیران ہوں کہ حکومت ایک ایسے علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو بندوق رکھنے کی لائسنز کیسے فراہم کرسکتی ہے، جہاں صرف دو سال قبل خوفناک ہندو مسلم فساد بپا ہوا تھا۔مجھے اس میں ایک گہری سازش نظر آرہی ہے۔تصور کریں اگر مستقبل میں کبھی یہاں 2013جیسے فسادات بپا ہوئے اور عام شہریوں نے اپنی حفاظت کے نام پر اسلحہ استعمال کیا تو کس پیمانے پر قتل و غارتگری ہوسکتی ہے۔‘‘
انسانی حقوق کے ایک سرکردہ کارکن اور جموں وکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے لیڈر خرم پرویز کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف کشتواڑ میں ہی نہیں بلکہ ہندو اکثریتی جموں صوبے کے بیشتر اضلاع میں اندھا دھند طریقے سے شہریوں کو اسلحہ کے لائسنز فراہم کی ہیں۔ خرم نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو بتایا،’’ ہمیں جو اطلاعات ملی ہیں ، اُن کے مطابق صرف کشتواڑ میں ہی نہیں بلکہ جموں کے دیگر اضلاع میں بھی عام شہریوں کو بندوق کی لائسنز فراہم کی جاچکی ہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر کبھی یہاں فسادات بپا ہوئے تو بڑی تعداد میں لوگ مارے جاسکتے ہیں۔‘‘خرم کا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ اسلحہ لائسنز جموں کے راجوری ، کٹھوعہ ، بھدرواہ اور کشتواڑ اضلاع میں فراہم کی جاچکی ہیں۔انہوں نے کہا،’’ ہمیں یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ زیادہ تر لائسنز آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے کارکنوں کو ملی ہیں۔‘‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموںصوبے کے بیشتر علاقوں میں شہریوں کو اسلحہ سے لیس کرنے کے سلسلے کی شروعات 1990ء کی دہائی میں ہوئی تھی ، جب اس وقت حکومت نے انسداد ملی ٹنسی کے نام پر ولیج ڈیفنس کمیٹیاں یعنی دیہی حفاظتی کمیٹیاں قائم کرنے کی منظوری دی۔
کل 3287دیہی حفاظتی کمیٹی ممبران میں سے 3174کا تعلق ہندو فرقے سے ہے۔بنیادی طور پر یہ کمیٹیاں ملی ٹنٹنوں سے لڑنے کے لئے بنائی گئی تھیں لیکن بعد میں ایسے سینکڑوں واقعات رونما ہوئے ، جن میں دیہی حفاظتی کمیٹیوں کے ممبران نے وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کو پامال کیا۔ پولیس کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھی مختلف دیہی حفاظتی کمیٹیوں کے ممبران کے خلاف قتل، عصمت دری، اغوا کاری، ٹاچر اور تاوان حاصل کرنے جیسے سنگین جرائم میں 196کیس درج ہیں۔دیہی حفاظتی کمیٹیوں پر کشتواڑ میں رونما ہوئے 2013کے ہندو مسلم فسادات میں بھی رول ادا کرنے کا الزام ہے۔صحافی اور تجزیہ کار شاہ عباس کہتے ہیں،’’ جموں کشمیر جیسی ریاست میں تحفظ کے نام پر شہریوں کو مسلح کرنا ایک خطرناک معاملہ ہے۔ ایک مخصوص خطے میں ایک مخصوص آبادی کے ہاتھوں میں بندوق تھمادینا کسی بھی طور پر کوئی دانشمندانہ کام نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسا کرکے حکومت عوام کو مسلسل خطرے سے دوچار کررہی ہے۔‘‘ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملی ٹنسی سے متاثرہ ریاست میں جہاں لاکھوں کی تعداد میں فوج اور فورسز کی نفری بھی تعینات ہے ، میں عام شہریوں کو مسلح کرنے کے پیچھے کون سی حکمت عملی کار فرما ہے۔
صحافی ساحل مقبول کہتے ہیں،’’ مجھے تو یہ سب ایک سیاسی سازش لگ رہی ہے۔میں یہ نہیں مان سکتا کہ بندوقوں کے لائسنز اندھا دھند فراہم کرنے کا یہ سلسلہ افسران نے از خود شروع کیا ہے۔ بے شک بندوق کی لائسنز فراہم کرنا ایک ڈپٹی کمشنر کی سطح کے افسر کے اختیار میں ہے لیکن جب کشتواڑ جیسے کم آبادی والے خطے میں ایک مختصر مدت میں دس ہزار لائسنز فراہم کرنا ضرور سیاسی سفارشات کا نتیجہ ہے۔‘‘
صاف ظاہر ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار ریاست میں حقیقی امن و امان قائم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کے بجائے مستقبل کی تباہ کاریوںکا سامان فراہم کررہی ہے۔یہ صیح ہے کہ حفاظت کے نام پر شہریوں ذاتی اسلحہ کی لائسنز فراہم کرنا قانون کی رو سے درست ہے ، اس طرح کے قوانین دیگر ریاستوں میں بھی موجود ہیں۔ لیکن جموں وکشمیر، جو مسلسل 26سال سے تشدد کی آگ میں جل رہی ہے، جیسی ریاست میں اسلحہ عام لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچانے کی راہ ہموار کرنا ایک خطرناک معاملہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *