کون ہوگا رالوسپا کااصلی وارث

سروج سنگھ
p-7بات اتنی آگے نکل چکی ہے کہ اب واپس لوٹنے کی گنجائش بے حد کم لگتی ہے۔ راشٹریہ لوک سمتا پارٹی یعنی کہ رالوسپا کے دونوں بڑے لیڈر کھل کر تال ٹھونک رہے ہیں اور یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں کہ لالو اور نتیش کے خلاف بنی اس پارٹی کے اصلی وارث وہی ہیں۔ دونوں ہی لیڈروں کے حامیوں کے بیانوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ حقیقت میں رالوسپا پر پہلا حق کس کا ہے۔ غور طلب ہے کہ ’’چوتھی دنیا ‘‘نے پہلے بھی ’’ارون کی شہہ اور اوپندر کی مات‘‘ کے عنوان سے مضمون میں یہ بات اجاگر کر دی تھی کہ ان دونوں ہی لیڈروں کی دوستی اب زیادہ دن چلنے والی نہیں ہے۔ حالانکہ اس وقت دونوں ہی لیڈروں نے یہ بات کہہ کر اس سچائی سے منہ موڑ لیا تھا کہ بات اتنی نہیں بگڑی ہے۔لیکن حالیہ واقعات اور بیانوں سے صاف ہے کہ دوستی میں درار پڑ چکی ہے اور دونوں ہی بڑے لیڈروں کے راستے الگ الگ ہو چکے ہیں۔ لیکن اب لاکھ ٹکے کا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کے بعد کا راستہ جاتا کہاں ہے؟
بات کا آغاز ارون کمار کے خیمے سے ہی کرتے ہیں۔ بار بار یہ بات چرچا میں رہی ہے کہ اسمبلی انتخاب کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر یہ خیمہ بے حد ناراض ہے۔ ارون کمار اپنی جتنی حصہ داری چاہتے تھے اتنی ان کو نہیں ملی۔ اس کی جگہ پر کچھ ایسے ٹکٹ بانٹ دیئے گئے جس کو لے کر ارون کمار کا پارا ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔ ارون خیمہ ان ٹکٹوں میں باجپٹی سے پنکج مشرا، رونی صید پور سے ریکھا کماری، کورتھا سے اشوک ورما، نالندہ سے ہمانشو پٹیل اور جگدیش پور سے سنجے ورما کا نام لیتے ہیں۔ اوپندر کشواہا کے مخالفین کا کہنا ہے کہ جن لیڈروں کو ٹکٹ دیا گیا ہے ان کا پارٹی کی تشکیل میں کوئی قربانی نہیں ہے اور ان جگہوں پر مستقل کام کرنے والے کارکنوں کو نظر انداز کر کے ان لوگوں کو عوام کے اوپر تھوپ دیا گیا جس کی وجہ سے پارٹی کی سخت ہار ہوئی۔ اوپندر کشواہا پر دوسرا الزام ہے کہ انہوں نے نام نہاد داغدار پردیپ مشرا پر توجہ دی اور انتخاب کے وقت ان کے ساتھ ہیلی کاپٹر پر بھی گھومے۔ پردیپ مشرا کے بارے میں ارون خیمہ الزام لگا رہا ہے کہ حوالہ کاروباریوں سے اس کے تعلقات ہیں۔ حالانکہ پردیپ مشرا ان الزامات کو خارج کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب بکواس باتیں ہیں۔ پردیپ مشرا نے اس معاملے میں ارون کمار کے خلاف توہین کا مقدمہ بھی درج کیا ہے۔ تیسرا الزام یہ ہے کہ ششی شنکر کمار کو اوپندر کشواہا نے اپنا پرائیویٹ سکریٹری بنا رکھا ہے اور یہی شخص راجیش یادو کے نام سے پارٹی کے خزانچی بھی ہیں۔
جہان آباد ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر ارون کمار کہتے ہیں کہ پردیپ مشرا نے راہل گاندھی کے پی اے کے نام پر جھارکھنڈ کے گورنر کو فون کیا تھا۔ اس معاملے میں وہ جیل بھی گیا۔ پردیپ کے کہنے پر چارہ گھوٹالہ کے ملزم ڈاکٹر دیپک کو پارٹی کا جھارکھنڈ کا صدر بنا دیا تھا۔ جب اس کے لئے موٹی رقم لینے کی بات اٹھی، تو دیپک کے سالے راجیش کمار کو صدر بنا دیا ۔ ڈاکٹر ارون کے مطابق اوپندر کشواہا نے راجیش یادو کو پارٹی کا خزانچی بنایا اور یہی آدمی شیو شنکر کمار کے نام سے ان کا اسسٹنٹ پرائیویٹ سکریٹری بھی ہے۔ اوپندر نے پردیپ اور راجیش یادو کے ساتھ بیرونی سفر بھی کیا۔ اس سفر کی جانچ ہو ۔ یہ بھی جانچ کیا جائے کہ اوپندر اس حوالہ کاروباری سے مل کر قومی مفاد کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں کررہے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں وزیر اعظم اور ترقی برائے انسانی وسائل کے وزیر کو خط لکھوں گا۔اوپندر نے سیما سکسینہ کو قومی سکریٹری اور اپنا صلاح کار کیوں بنایا، اس کی بھی جانچ ہو۔ منوج لال داس منو کا کہنا ہے کہ عین انتخاب سے پہلے سیما سکسینہ کی اینٹی ہوتی ہے آخر کیوں؟ جنتا دل یونائٹیڈ کے ایک بڑے لیڈر سے سیما سکسینہ کا کیا رشتہ ہے یہ سبھی جانتے ہیں۔ صاف ہے کہ رازداری کی نیت سے سیما سکسینہ کو پارٹی میں لایا گیا جس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتا پڑا۔
ان الزامات کے جواب میں اوپندر کشواہا کہتے ہیں کہ مجھے جھوٹ اور بیکار باتیں بنانے نہیں آتی۔میرا یہ کردار بالکل واضح ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر ارون کی باتوں، الزاموں کو خارج کیا، بولے وقت پر سچ بولوں گا۔ ان کے مطابق غریب گھر میں پیدا ہوا۔ اپنے پیسے پر بیرون ملک نہیں جاسکتا۔ اگر کوئی بیرون ملک لے جارہا ہے تو جانے میں کیا جرم ہے؟میں اپنے عہدہ کی طاقت سے کبھی کسی کو مدد نہیں پہنچائی۔ غریب گھر کا آدمی بیرون چلا گیا۔ اب یہ کسی کو برداشت نہیں ہو رہا ہے تو اس کی دوا میرے پاس نہیں ہے۔ کوئی پی ایم اور وزیر اعظم کو خط لکھ رہا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جانچ کرانا ہو ،کرا لیں۔ میرا سب کچھ کھلی کتاب کی طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوامی زندگی جینے والوں سے ڈھیر سارے لوگ ملنے آتے ہیں۔ جو ملنے آتا ہے، اس سے اس کا کیریکٹر سار ٹیفکیٹ چیک کرکے ملا جاتا ہے کیا؟ بے وجہ بات کا بتنگڑ بنایا جارہا ہے۔ راجیش یادو کہتے ہیں کہ اوپندر کشواہا کی بے داغ شبیہ اور ان کے بڑھتے قد سے گھبراکر کچھ ایسے لیڈر جن کا عوام میں کوئی بیس نہیں ہے، اناپ شناپ الزام لگا رہے ہیں۔ پارٹی پوری طرح متحد ہے اور اوپندر کشواہا کی قیادت میں روز مضبوط ہو رہی ہے۔ لیکن اتنا اب صاف ہے کہ ووٹ ہمارا اور راج تمہارا نہیں چلے گا۔ پارٹی کے سینئر لیڈر رام بہاری سنگھ کہتے ہیں کہ جن اصولوں کو لے کر پارٹی کی تشکیل ہوئی تھی ان اصولوں کو اور بھی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ الزام تراشی کی۔ رالوسپا سے بہار کے عوام کو بہت امیدیں ہیں اور اس پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے اگر میری سیاسی قربانی کی بھی ضرورت ہوگی تو میں ہنستے ہوئے دینے کو تیار ہوں ۔
صاف ہے کہ ان حالات میں صلح صفائی کی گنجائش بہت ہی کم بچی ہے۔ جانکاروں کا ماننا ہے کہ جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ بس بہانے ہیں۔ دراصل پوری قواعد پارٹی پر اجارہ داری کی ہے۔ اسمبلی انتخاب تک دونوں ہی لیڈروں نے تحمل سے کام لیا ،لیکن اب کوئی بھی کسی کی بات ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی سیاست کی بساط پر اپنی اپنی چالیں چلنے کا دور شروع ہے۔ کچھ تاریخ کے صفحات کو پلٹیں تو ریاست کے علاقائی پارٹیوں کی تاریخ بھی یہی ہے کہ ان میں پالیسی کو لے کر کبھی تفریق نہیں ہوئی۔ 1990 کے بعد جنتا پارٹی میں کئی تقسیم ہوئی۔ جارج فرنانڈیز اور نتیش کمار اسی سوال پر الگ ہوئے کیونکہ انہیں لالو پرساد کی قیادت منظور نہیں تھی۔ رام سندر داس سے لالو پرساد کا تنازع بھی قیادت کے سوال پر ہی ہوا تھا۔ پارٹی کے ریاستی صدر کے ناطے داس کی سمجھ تھی کہ پارٹی کے ماتحت سرکار رہے۔ ادھر وزیر اعلیٰ کے ناطے لالو پرساد سمجھ رہے تھے کہ حکومت کا کوئی دوسرا مرکز رہے گا تو اس کا خراب اثر سرکار کے کام کاج پر پڑے گا۔ بعد میں تو لالو پرساد نے شرد یادو کی قیادت بھی قبول نہیں کی۔ جنتا دل میں ایک اور تقسیم ہو گئی۔ راشٹریہ جنتا دل کے طور پر نئی پارٹی بنی۔ لوجپا کی تشکیل بھی اسی عمل کے تحت ہوئی۔ رام ولاس پاسوان بھی کسی دوسرے کی قیادت قبول کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ رالوسپا ،ہم یا پپو یادو کی پارٹی کی تشکیل میں یہی چیزیں اہم رہی ہیں۔
اس لئے اب صاف ہے کہ راستہ تقسیم کی طرف ہی جارہاہے۔ دونوں ہی خیموں میں مورچہ بندی تیز ہے۔ حامیوں کو اپنے پالے میں مضبوطی سے کرنے کی قواعد جاری ہے۔ اسٹرینتھ ٹیسٹ کے ابھی کئی دور ہونے ہیں۔ ارون خیمہ چاہتا ہے کہ ایک بڑا سمیلن کرکے اپنی طاقت کا احساس کرایا جائے اور اسی دن اوپندر کشواہا کو قومی صدر عہدہ سے ہٹا دیا جائے اور ان کی جگہ پر ارون کمار کو کارگزار صدر بنا دیا جائے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس رالوسپا کے آنر شپ کے لئے دعویٰ ٹھونکا جائے۔ ارون خیمے کا دعویٰ ہے کہ رالوسپا کے زیادہ تر فائونڈر ممبر ان کے ساتھ ہیں۔ جبکہ اوپندر کشواہا کا خیمہ چاہتا ہے کہ اب تصویر سے پردہ اٹھا دیا جائے۔ ووٹ ہمارا اور راج تمہارا کی روایت سے باز آیا جائے اور پارٹی مخالف لیڈروں کو باہر کا راستہ دکھا دیا جائے۔ لڑائی جاری ہے اور اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آخر اس لڑائی میں آخری تیر کون چلاتا ہے اور کون رالوسپا کا جھنڈا اپنے نام کرتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *