میں آرہا ہوں

نتیش کمار
p-1شراب بندی جیسے مسئلے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے مجھے خوشی ہورہی ہے۔ اس مہم کی سب سے بڑی معنویت یہ ہے کہ رفتہ رفتہ ملک بھر کی خواتین اس سے جڑ رہی ہیں اور جو اس مہم میں سرگرمی کے ساتھ شامل نہیںہوپارہی ہیں، وہ بھی خود کو اس سے جڑا ہوا محسوس کررہی ہیں۔ خواتین تنظیموں کے ساتھ، سماجی، دانشور، اقتصادی اور غیر سرکاری اداروں کا اس مہم سے جڑنا نشاندہی کرنے کے لائق ہے۔ یہاں تک کہ یوگ اور قدرتی علاج کا بھی اس کے ساتھ جڑنا مجھے دلی خوشی عطا کر رہا ہے۔ شراب بندی کاکام بہت بڑا کام ہے، ا س کا احساس مجھے پہلے سے ہی تھا، لیکن یہ اتنا بڑا ہے، اس کا احساس اس کو لاگو کرنے کے بعد ہوا۔ جب میں نوجوان تھا، جے پی موومنٹ میںتھا، اس وقت سے اور یہ کہیں کہ اسٹوڈنٹ لائف سے ہی میں شراب کے خلاف رہا۔ میرے دل میںیہ بات آتی تھی کہ کبھی مجھے موقع ملے گا، تو شراب ضرور بند کروں گا۔ جب بہار میں نومبر 2005 سے کام کرنے کا موقع ملا،تب کئی بار یہ بات میرے دماغ میںآتی تھی کہ کیسے 1977میںجنتا پارٹی کی سرکار کے وزیر اعظم آنجہانی مرار جی بھائی دیسائی جی بھی شراب کے بہت خلاف تھے۔ بہار میںاُس وقت سماجوادی لیڈر جن نائک آنجہانی کرپوری ٹھاکر جی کی قیادت میںسرکار بنی، تو انھوںنے بہار میںشراب بندی لاگو کی تھی۔ لیکن بعد میںاس کوواپس لے لیا گیا۔ جب بھی شراب بندی لاگو کرنے کی بات میرے من میں آئی، تو کئی طرح کے حقائق دماغ میںکوندتے تھے۔ امریکہ نے بھی اسے لاگو کیا تھا، پھر اس کو واپس لینا پڑا۔ لوگ روس کی بھی بات کرتے تھے۔ کئی لوگ ملک اور ریاست کی بات کرتے تھے۔ یہ بھی کہتے تھے کہ لاگو تو کردی جاتی ہے، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوتی ہے او راس سے دو نمبر کا کاروبار بڑھتا ہے، زہریلی شراب بننے لگتی ہے۔
ایسے شروع ہوا یومِ شراب بندی
میںکئی کام کرتا رہتا ہوں۔ کئی کاموں میں مصروف رہتا ہوں۔ بہار جیسی ریاست کو سنبھالنا اور بہار کو ترقی کے راستے پر لے جانا تھا۔ دیگر سبھی طرح کے کاموں میںلگے رہنے کے باوجوددل میںیہ ایک بات اٹکی رہتی تھی۔ جب ہم 2010 میں دوبارہ آئے، تو ہم نے ایک فیصلہ کیا۔ میں نے کہا کہ جو محکمہ اس کو دیکھتا ہے اس کا پورا نام ہے ٰٓٓٓایکسائز اینڈ پروہبیشن ڈپارٹمنٹ۔ میںنے محکمے کے لوگوںسے کہا کہ یہ صرف پروڈکٹ ہی نہیںہے، ایکسائز ڈپارٹمنٹ ہی نہیں ہے، بلکہ شراببندی کا کام بھی سی کا ہے۔ آخر کار پروہبیشن لاگو کرنا اس کا مقصد ہے۔ ہم نے طے کیا کہ ڈپارٹمنٹ کا ایک موقف تو یہ ہے کہ پروڈکٹ سے آمدنی بڑھ رہی ہے اور سرکار کی آمدنی بھی بڑھ گئی، اس میںکوئی شک نہیں ہے۔ دھیرے دھیرے شراب کا پورا کاروبار خود بخود چینل میںآنے لگا۔ میں تو کچھ جانتا نہیں تھا۔ میںنے گھنٹوں صرف اس ڈپارٹمنٹ سے جڑے لوگوںکے ساتھ بیٹھ کر صرف انھیں سنا۔ ان لوگوںکے سامنے اپنا تجسس رکھتا گیا۔ مجھے ایسا بتایا گیا کہ اس میںمونو پولی ہے۔ میںنے کہا کہ ا س مونوپولی کو توڑ دیجئے۔ مونوپولی کو توڑ دیا گیا اور ہم نے ہول سیل ٹریڈ بنایا۔ اسے سرکار نے لے لیا اور اس کا نتیجہ دیکھئے ۔ پہلے دو سے تین سوکروڑ شراب کے کاروبار سے آتا تھا، جو بڑھتے بڑھتے 5000 کروڑ ہوگیا۔ لیکن جب اس کی آمدنی بڑھتی تھی، تو میرے من میںبے چینی بڑھتی تھی۔ دکانیں زیادہ نہیں بڑھیں، لیکن پچھلے کچھ سالوں میںمیںنے دیکھا کہ ا س کاچرچا اور اس کا استعمال دونوں بڑھا۔
جب ہم 2010 میںدوبارہ جیت کر آئے تھے،تو ہم نے یہی کہا کہ شراب بندی پر دھیان دیجئے۔ یوم شراب بندی کا انعقاد شروع کیا گیا۔ 26 نومبر کو ہم نے دوسری بار حلف لیا، تو کہا کہ 26 نومبر کو یوم شراب بندی ہوگا۔ ہمارے یہاں سیلف ہیلپ گروپ سے جڑی عورتیںاور دوسرے گروپ کی عورتیںآندولن کرتی تھیں، تو ہم ان کو شاباشی دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جس گاؤں میںشراب بند ہوجائے گی اور لوگ شراب سے نجات پالیں گے، اس گاؤں کوایوارڈ دیںگے۔ ان کے لیے ایڈیشنل پلان بھی دیںگے۔ انسینٹو دینا شروع کیا۔ اگر بچّی اچھی پینٹنگ بناتی ہے، تو اس کو ایوارڈ دینا،کوئی اچھی تصویر بنائے، پینٹنگ بنائے،ا س کو انعام دینا، کوئی شراب بندی کے لیے نعرہ اچھا لکھے، تو اس کو ایوارڈ دیناشروع کیا۔ میسج وغیرہ بھی میرا خوب چلتا تھا۔ ایک سلسلہ شروع کیا، لیکن میںنے دیکھاکہ ان سب سے شراب کی کھپت بڑھتی ہی گئی۔ دل میں کشمکش تھی، 1977 میںجب سرکار بنی تھی، جب شراب بندی لاگو کی گئی اور پھر بعد کی سرکار نے اسے واپس لے لیا، اس لیے دل میںکشمکش تھی۔
شراب بندی کا کریڈٹ عورتوں کو
پچھلے سال 9 جولائی 2015 کو پٹنہ میںخواتین کا ایک پروگرام تھا۔ ’گرام مذاکرات پروگرام کا انعقاد ویمن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعہ پٹنہ کے سب سے بڑے آڈیٹوریم شری کرشن میموریل ہال میں کیا گیا تھا۔ عورت کے امپاورمنٹ پر بات کرکے ابھی ہم بیٹھے ہی تھے کہ پیچھے سے کچھ عورتوں نے شراب بندی کی آواز لگائی۔ مجھ کو لگا کہ شراب بند کرنے کی بات کررہی ہیں ۔ہمارے ساتھ جو ساتھی بیٹھے تھے، میںنے ان لوگوں سے پوچھا کہ عورتیںکیا کہہ رہی ہیں، تو ان لوگوں نے کہا کہ وہ شراب بندی لاگو کرنے کی بات کررہی ہیں۔ میںآپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرے دل کی ساری کشمکشدور ہو گئی اور میںمائک پر آیااور میںنے کہا کہ اگلی بار آئیں گے، تو مکمل شراب بندی لاگو کریںگے۔ جولائی کا مہینہ تھااور نومبر میںنتیجہ نکلا۔ ستمبر، اکتوبر، نومبر یہ تینوں مہینے انتخاب کے تھے۔ انتخابی مہم چل رہی تھی۔ بہار میںپانچ سے چھ مراحل میںانتخاب ہوتے ہیں۔ لمبا الیکشن چلتا ہے۔ یہ واقعہ انتخابی نتائج کے آنے سے دو مہینے پہلے کا ہے۔ میںنے کہا کہ اگلی بار آئیںگے، تو لاگو کریںگے اور لوگوں نے پھر تیسری بار موقع دے دیا۔ 20 نومبر کو حلف برداری ہوئی۔26 نومبر کو یوم شراب بندی تھا، اسی دن میرا پہلا پبلک پروگرام تھا۔ میں نے اس پروگرام میںجاکر کہا کہ ایک اپریل سے بہار میںشراب بندی لاگو کی جائے گی۔ جب اس کا اعلان کردیا، تو اس کی پوری تیاری بھی کی۔ بہار میںسیلف ہیلپ گروپس سے جڑی عورتوں کے ساڑھے پانچ لاکھ گروپ ہیں۔ 2017 تک وہ تعداد بڑھ کر دس لاکھ ہوجائے گی۔ ابھی اس سے 56 دیہی کنبے جڑے ہوئے ہیں۔ بہار کے پرائمری اسکولوں میںٹیچر پلاننگ میںعورتوںکو50 فیصد ریزرویشن دیا گیاہے۔ پنچایت کے ٹیچروں کی پلاننگ میں بھی 50فیصد کا ریزرویشن دیا ہوا ہے۔ یہاںبھاری تعداد میں عورتیں پرائمری ٹیچرز ہیں۔ ان لیڈی ٹیچروںاور اسکول کے بچوںکو موبلائز کیا۔ شراب بندی کے لیے ایک بڑا پروگرام 30 جنوری کو لانچ کیا گیاتھا۔ میں نے خود ایک ایک چیز کو دیکھا اور سمجھنے کی کوشش کی کہ آخر 1977 میںایسا کیا ہوا تھا کہ جس سے شراب بندی ناکام ہوگئی۔ ایک ایک پہلو پر غور کیاکہ کیا کیا ہونا چاہیے۔ بہت لوگ شراب کی لت کے اس قدر شکار ہوجاتے ہیںکہ وہ شراب نہیںچھوڑ پاتے۔ بہار میںپہلے ’نشہ مکتی کیندر‘ کام نہیں کرتا تھا۔ میںنے ہر ضلع میںنشہ مکتی کیندر کھولا، ضلع اسپتالوںمیںنشہ سے نجات پانے کے لیے اورئنٹیشن یا ٹریننگ پروگرام شروع کرایا۔ ایمس اور بنگلور کے ایک ادارے کو جوڑ کر یہ پروگرام شروع کیا گیا۔ ایک ایک پہلو کو دیکھا گیا۔ قانون میںکیا کمی ہے، اس کا مطالعہ کرکے اس میںاصلاح کرنے کے لیے ترمیم کی گئی۔ یہ سب کرنے سے مارچ تک ایک ماحول بنا۔ میںنے عورتوں کی مانگ پر مکمل شراب بندی کا اعلان کیا او راسے لاگو کیا۔ عورتوں میں اس قسم کا موبلائزیشن ہونا چاہیے اور اس کے ذریعہ ہر جگہ ایک مضبوط مہم چلے، یہ کام ہمیںکرنا ہے۔ بچوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے گارجن سے حلف نامہ بھروائیں کہ میںشراب نہیںپیوں گا اور دوسروںکی شراب نہ پینے کے لیے حوصلہ افزائی کروںگا۔
لوگوںنے حلف نامے دیے
یہ خوشی کی بات ہے کہ بہار میں31مارچ تک ایک کروڑ 19 لاکھ مردوں نے حلف نامہ بھرا ہے۔ مکمل شراب بندی کا پیغام گھر گھر تک پہنچا۔ نو لاکھ لوگوںنے دیواروںپر نعرے لکھے۔ میںنے پٹنہ سے نعرہ لکھ کر نہیں بھیجا تھا۔ لوگوںنے خود یہ سب کیا۔ نعرہ لکھنے میںبھی لوگوں کے بیچ مقابلہ آرائی ہوئی۔ لوگوںنے خود نعرے بنائے۔ شراب بندی پر لوگوں نے گیت بنائے۔ میںجہاں جہاں جاتا ہوں،لوگ وہ گیت سناتے ہیں، تو دل خوش ہوجاتا ہے۔ ہزاروں جگہوں پر نکّڑ ناٹک، گیت کے پروگرام منعقد ہوئے او رابھی بھی ہورہے ہیں۔ ایک اپریل سے پہلے بہار کے ہر گھر تک پیغام پہنچ گیا تھا کہ بہار میںشراب بند ہونے والی ہے۔ یہ بھی کہا گیاتھا کہ 31 مارچ کو جتنی بھی شراب ہے،سب تبا ہ کردی جائے گی۔ بڑے پیمانے پر بلڈوزر سے شراب کی بوتلوں کو تباہ کیے جانے کی تصویریں بھی جاری کی گئیں۔ بہار میںایک صحت مندماحول بنا۔ شروعات میںیہ پالیسی بنی تھی کہ گاؤں میںدیسی – غیر ملکی شراب سب بند کر دی جائے اور شہروں میںابھی کچھ دن غیر ملکی شراب چالو رہے۔مجھے ایسا لگا تھا کہ گاؤں میںماحول بن گیا ہے، پھر شہروںمیںماحول بنایا جائے گا۔ اس کے بعد وہاں بھی مرحلہ وار طریقے سے شراب بند کردیںگے۔ ایک اپریل سے 90 فیصد شراب کی دکانیںبند ہوگئیں۔ لیکن شہروں میںجب شراب کی دکانوںپرعورتوںنے مخالفت درج کرانا شروع کی، تو مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ ابھی میںسوچ رہا تھا کہ شہروں میںماحول بنائیںگے، تب شراب بند کریںگے۔ یہاں تو پہلے سے ہی ماحول بنا ہوا ہے۔ عورتیں دکان نہیںکھلنے دے رہی ہیں۔ یہ جان کر بڑی مسرت حاصل ہوئی، اس لیے 5 اپریل سے شہر میں بھی شراب کی فروخت بند کردی گئی۔ دیسی – غیر ملکی ساری شراب کی دکانیںبند ہوگئیں۔ بہار میںمکمل شراب بندی لاگو کردی گئی۔ بہار ڈرائی اسٹیٹ بن گیا۔
لوگ پوچھنے لگے کہ سرکار نے فیس وائز شراب بندی کا اعلان کیاتھا، اب اسے پانچ دن میںہی لاگو کردیاگیا ۔ میںنے کہا کہ کس نے کہا تھا فیس وائز اور یہ کب کہا تھا کہ دوسرا فیس کتنے دنوں میں آئے گا؟ اسمبلی میںجب اس پر بحث چل رہی تھی، تو اپوزیشن نے پوچھا کہ غیر ملکی شراب کب بند کی جائے گی،دوسرا فیس کب لاگو ہوگا؟ میں اس کا جواب نہیںدیتا تھا۔ میںکہتا تھا کہ جب آپ لوگوں کا تعاون ملے گا، تب بند ہوجائے گی۔ مدت میعاد بتانے کی کوئی ضرورت ہی نہیںہے۔ میںنے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپریل سے دیسی اور پانچ اپریل سے شہروںمیں غیر ملکی شراب بھی بند کردی۔ بہار میںایک نیا ایکسائز ایکٹ آیا اور پورے بہار میںلاگو ہوگیا۔ 80 فیصد اور 20 فیصد کی کوئی بات نہیں ہے، پوری سو فیصد شراب بندی لاگو ہوئی۔
بہار سے لگی سرحد پر سرحد پر مسئلہ
بہار سے ملحقہ اترپردیش، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، نیپال کے بارڈر ہیں۔ ان علاقوں میںخوب شراب ملتی ہے۔ کچھ لوگ عادت سے لاچار ہیں، جو ان علاقوں میں جاکر شراب پی لیتے تھے۔ یوپی کے بلیا علاقے میںتو باقاعدہ شراب دکانداروں نے کھاٹ وغیرہ کا بھی انتظام کردیا کہ آئیے یہیںپی کر رات میںآرام کریے۔ بہار سرکارنے بارڈر ایریا میں اتنی سختی برتی ہے کہ ایسے لوگوں کو مشکل ہورہی ہے۔ انتظامیہ کو بہتر ایکوپمنٹس مہیا کرائے گئے۔ اس سے دوسری ریاستوں میںجاکر پینے والوں اور شراب کا دو نمبر کا دھندہ کرنے والوں میں ڈر پیدا ہوگیا۔ مکمل شراب بندی کے اعلان کے محض ہفتہ بھر کے اندر شراب لے جاتے ہوئے ایک ایمبولینس کو پکڑا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ ایمبولینس کی بھی چیکنگ کی جارہی ہے۔ دوسری طرف ہم نے قانون میںیہ پروویژن کیا کہ کوئی شراب بنائے گا، زہریلی شراب بنائے گا اور اسے پی کر کسی کی موت ہوگی، ایسی حالت میں شراب بنانے والے کو موت کی سزا یا عمر قید کی سزا ہوگی۔ اگر شراب پی کر کوئی ڈرامہ کرتے ہوئے دکھائی دے جائے، تو اسے دس سال کی سزا ہوگی۔ ہر طرح سے قانون کو سخت بنایا گیا۔ یہ بھی پروویژن رکھا گیا کہ کوئی پولیس یا ایکسائز والا جان بوجھ کر بے قصور شخص کو پھنسانے کی کوشش کرے گا، تو اس پر بھی سخت کارروائی ہوگی۔ ایک مثال بتاتا ہوں۔ جی ٹی روڈ بارڈر ایریا سے جڑاہوا ہے۔ وہاںسے ایک شکایت آئی کہ بہار سے باہر کے ایک شخص کو ایکسائز والوں نے تنگ کیااور اس آدمی سے پیسے کی مانگ کی۔ اسے دھمکایا کہ اتناپیسہ دو نہیںتو ایکسائز ایکٹ میںبک کردیںگے۔ جیسے ہی یہ شکایت آئی،اس کی جانچ کی گئی۔ اس بات کا ثبوت ملا کہ اس شخص نے اے ٹی ایم سے پیسہ نکال کر ایکسائز والوں کو دیا تھا۔ اس معاملے میںنہ صرف مقدمہ درج ہوا ، بلکہ 48 گھنٹے کے اندر ان ساتوں ایکسائزوالوں کو برخاست بھی کردیا گیا۔
پولیس والوں نے بھی حلف نامہ بھرا
لوگ کہتے تھے کہ شرا ب بندی لاگو ہونے کے بعد پولیس والا ملی بھگت کرکے دھندہ کرنے لگے گا۔ اس کے لیے میںنے ایک ایک تھانیدار سے یہ حلف نامہ بھروایا کہ ان کے علاقے میںشراب کا کوئی دھندہ نہیںہوگا۔ میںنے یہ بھی تنبیہ کی کہ اگر ان کے علاقے میںشراب کا دھندہ پکڑا گیا، تو ان پر کارروائی تو ہوگی ہی، اس کے ساتھ ہی دس سال تک ان کی کسی بھی تھانے میںپوسٹنگ نہیںہوگی۔ ایک ایک پہلو پر غور کرتے ہوئے قانونی پہلو پر کام کیاگیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب بہار میںمؤثر طریقے سے شراب بندی لاگو ہے۔ میںجھارکھنڈ یا اترپردیش ،جہاںبھی گیا،وہاں کے وزرائے اعلیٰ سے کہاکہ میری بات پر یقین مت کیجئے،اپنی ٹیم بھیج دیجئے بہار اور خود دیکھ لیجئے کہ سما ج میںکیا بامعنی تبدیلی ہورہی ہے۔
شراب سے سب سے زیادہ متاثر تو غریب آدمی ہی ہے۔ پہلے غریب اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ شراب میں برباد کردیتا تھا۔ مان لیجئے کہ ایک غریب آدمی نے ایک دن میں 200 روپے کمائے، تو وہ کم سے کم ڈیڑھ سو روپے شراب میںخرچ کردیتا تھا۔ شام کوشراب پی کر گھر لوٹنے کے بعد جھگڑا، مارپیٹ کرتاتھا ۔ عورتیں گھریلو تشدد کی شکار ہوتی تھیں۔ بہار میںویمن سیلف گروپ نے اس کے خلاف بہت مہم چلائی ہے۔ ابھی میںشراب بندی لاگو کرنے کے بعد چین سے نہیںبیٹھنے والا ہوں اور نہ ہی افسروںکوچین سے بیٹھنے دوںگا۔ بہار میںنو ڈویژن ہیں۔ سبھی ڈویژن میںمیںنے سیلف ہیلپ گروپس سے جڑ ی عورتوں کا کنونشن کیا، ان کے تجربے کو سنا کہ تب اور اب میںکیا تبدیلی آئی ہے؟ ایک ایک عورت جب شراب بندی کے تعلق سے اپنا تجربہ سناتی ہے، تو دل خوش ہوجاتا ہے۔ عورتیںجب بتاتی ہیں کہ کس طر ح ان کا کنبہ اجڑگیا تھا،برباد ہوگیا تھا،وہ لڑتی تھیں اور جب شراب بندی لاگو ہوگئی ہے، تو کیسے ان کی زندگی میںبدلاؤ آگیا ہے۔ عورتیںبتاتی ہیںکہ ان کے شوہر جب پہلے آتے تھے تو شراب پی کر آتے تھے اور مارپیٹ کرتے تھے، لیکن اب وہ شام میں بازار سے سبزی لے کرآتے ہیں۔

 سماجی تبدیلی کی لڑائی

شراب پر مکمل روک کی مہم سماجی تبدیلی کی لڑائی ہے۔ موجودہ سماج کی خرابی کو دور کرکے بہتر سماج بنانا ایک بڑی چنوتی ہے۔ تبدیلی کی لڑائی میںاقتصادی پہلو بھی اہم ہے، لیکن شراب کی آمدنی کو غیر اخلاقی مانا جانا چاہیے۔ یہ اخلاقی آمدنی نہیں ہے۔ شراب بندی کو لے کر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار کروڑ روپے کے ریونیوکا نقصان ہوگا، اس کی بھرپائی کہاں سے ہوگی؟ میں نے کہا کہ اسے ہم نقصان نہیں مانتے ہیں۔ شراب کاکاروبار کوئی اخلاقی کاروبار نہیں ہے۔ غیراخلاقی کاروبار سے سرکاری خزانے میں آمدنی ہو، یہ اچھی بات نہیں ہے۔ اگر حکومت کو شراب کے کاروبار سے پانچ ہزار کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی تھی، تو اس کا مطلب تھا کہ لوگ کم سے کم دس ہزار کروڑ روپے کی شراب پیتے تھے۔ شراب بندی نافذ ہونے کے بعد بہار میں ہر سال دس ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ جس کے پاس پیسہ بچے گا وہ اسے خرچ بھی کرے گا۔ پیسہ بازار میں ہی جائے گا۔ کسی دوسرے کام میں پیسہ خرچ ہوگا۔ آدمی بہتر کھانا کھائے گا، سلیقے کے کپڑے پہنے گا، بچوں کی پڑھائی پر دھیان دے گا۔ اس سے بھی تجارت اور بازار میں اضافہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے طریقے سے ٹیکس کے ذریعہ حکومت کے خزانے میں پیسہ آئے گا۔ کیا شراب کو چھوڑ کر زمین پر کوئی دوسرا کاروبار نہیں ہے؟
بہار میں گنے کی پیداوار بہت ہوتی ہے، چینی ملیں ہیں۔ پہلے لوگ گنّے سے ا سپرٹ بناتے تھے۔ میں نے کہا کہ اب اس سے اتھنول بنائیں۔ ہندوستان میں پیٹرول میں دس فیصد اتھنول ملانے کی اجازت ہے،لیکن ایسا ہونہیں رہا ہے۔ ہم باہر سے پیٹرول منگاتے ہیں اس میں پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ اگر اتھنول بنے گا اور اسے پیٹرول میں ملایا جائے گا ، تو اتنا پیٹرول بچے گا۔ ملک کا پیسہ بچے گا۔ اسپرٹ سے بہتر قیمت اتھنول کی ملتی ہے۔ چینی مل اور ڈسٹلری والوں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے، بس ہمارے اتھنول کو خریدلیا جائے۔ اس کے بعد بائر کمپنی کے ساتھ میٹنگ میں میں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق ان کے لیے اتھنول خریدنا لازمی ہے۔ میں نے یہی بات یوپی میں کہی تھی۔ بہار سے زیادہ گنا اتر پردیش میں اگتا ہے۔ اتر پردیش میں اتھنول کی پیداوار کم ہورہی ہے ، جبکہ اس کی پیداوار کی صلاحیت کہیں زیادہ ہے۔ ملک میں جتنے اتھنول کی ضرورت ہے اتنی پیداوار نہیں ہے۔ میں نے اپنے پہلے دور حکومت میں پوری کوشش کی تھی کہ گنّے سے اتھنول بنایا جائے، لیکن اس سے متعلق مرکزی قانون کی وجہ سے ایسا نہیں ہو سکاتھا ۔ یوپی میں اسپرٹ کی جگہ اتھنول پیدا کیا جائے تو یو پی کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا۔ آج یو پی میں 17,000کروڑ روپے کی کمائی شراب سے ملنے والے ٹیکس سے ہوتی ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ اس کا متبادل کیا ہوگا۔ متبادل تو ہے۔ بہار میں شراب کا کاروبار دس ہزار کروڑروپے کا تھا ، اترپردیش کے لوگ 25-30ہزار کروڑ روپے کی شراب پی رہے ہیں۔ اگر یوپی کے لوگ 25-30ہزار کروڑ روپے کی شراب پینا چھوڑ کر دوسری چیزوں پر خرچ کریں گے، تو یہ آمدنی کہاں جائے گی؟ کیا اس سے بازار میں ، کاروبار میں کوالی ٹیٹو تبدیلی نہیں آئے گی؟ پیسہ اگر بازار میں روٹیٹ کرے تو وہاں کی معیشت ترقی کرے گی اور ٹیکس کے روپ میں آمدنی بھی ہوگی۔
لہٰذا، جو یہ کہتا ہے کہ شراب سے ہونے والی آمدنی کا کوئی متبادل نہیں ہے ،تو وہ غلط بول رہا ہے ۔ یہ صرف لوگوں کے من میں بھرم پیدا کرنے والی بات ہے، گمراہ کرنے والی بات ہے۔ میں نے بھی کہا کہ بہار جیسی ریاست میں ترقی کے لیے بہت پیسہ چاہئے۔ ایک ایک پائی کی اہمیت ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے اپنی اسکیموں میں پیسہ گھٹا دیا ہے اور ریاست کا حصہ بڑھا دیا ہے۔ اب مڈڈے میل ، آنگن باڑی مراکز، آئی سی ڈی ایس وغیرہ میں ریاست کا زیادہ پیسہ لگ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے اپنے منصوبے ہیں ،اس کے لیے بھی پیسہ چاہئے۔ اس لیے شراب بندی کا فیصلہ کافی سوچ سمجھ کر لیا گیا ہے۔ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس غیر اخلاقی کاروبار کو نہیں چلنے دوںگا۔ کئی لوگ یہ بھی بولتے ہیں کہ شراب نوشی ان کے کھانے پینے کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔ کھانے پینے کی آزادی کا میں حمایتی ہوں، لیکن ہندوستان کے آئین میں شراب نوشی کی آزادی نہیں ہے۔ یہ بنیادی حقوق کا حصہ نہیں ہے۔ اس معاملے میں عزت مآب سپریم کورٹ کا کئی بار فیصلہ آ چکا ہے۔ ڈائرکٹیو پرنسپل آف اسٹیٹ پالیسی میں اس بات کا ذکر ہے۔ شراب کی تجارت کرنا یا شراب نوشی کرنا بنیادی حق نہیں ہے۔
شراب بندی اب مہم ہے
ملک کے کئی حصوں میں شراب بندی کی مہم چل رہی ہے۔ راجستھان میں آنجہانی گروشرن چھابڑا جی نے ایک ایک پنچایت میں ووٹ کروا کر وہاں شراب بندی لاگو کرنے کی تجویز پاس کروائی تھی۔ لیکن اس پر ریاستی حکومت نے عمل نہیں کیا ۔ اس لیے شراب بندی کو لے کر 14ویں دفعہ اانہوں نے آمرن انشن (بھوک ہڑتال) کیا اور اپنی جان دے دی۔ وردھا میں تو پہلے سے شراب بندی تھی۔ نکسل متاثرہ گڑھ چترولی اور چندرپور میں عورتوں نے تحریک چلاکر پچھلے سال سے شراب بندی لاگو کرادی ہے۔ حکومت نے یہاں شراب بندی تو لاگو کی ، لیکن اب بھی شراب کی خریدو فروخت جاری ہے۔ چندرپور، وردھا میں عورتوں کا ایک جتھا مجھ سے پٹنہ میں ملا۔ کسان منچ کے ونود سنگھ جی، جو وی پی سنگھ سے جڑے ہوئے لوگ ہیں، نے مجھے لکھنؤ بلایا۔ وہاں بھی شراب بندی کو لے کر چرچاہوا۔ راجستھان سے لے کر ہر ریاست پر گفتگو ہوئی ۔ جھارکھنڈ کے دھنباد میں عورتیں کافی مدت سے شراب بندی کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔ بہار میںشراب بندی نافذہونے کے بعد ان کا غصہ باہر آیا۔ جھارکھنڈ میں اب عورتیں اتنی فعال ہوچکی ہیں کہ وہ شراب کی دکانیں بند کرادیتی ہیں ، توڑ بھی دیتی ہیں۔ میں تو اپنے یہاں یہ کہتا ہوں کہ جہاں بھی کوئی شراب کی بھٹی چلانے کی کوشش کرے، اسے توڑ دیجیے۔ پوری حکومت آ پ کے ساتھ ہے۔
پورے ملک میں جو ماحول بن رہا ہے اسے کتنے دن تک روک سکتے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ اس سے ایک سماجی تبدیلی کی بنیاد پڑے گی۔ سماجی تبدیلی کسے کہتے ہیں؟ لوگوں کے طور طریقوں اور رویے میں تبدیلی ہی تو سماجی تبدیلی ہے۔ عورتیں کہتی ہیں کہ پہلے ان کے شوہرجب شراب پی کر آتے تھے تو بڑے بدصورت دکھائی دیتے تھے، ظلم کرتے تھے، لیکن اب اچھے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سماجی تبدیلی ہی تو ہے۔ عورتیں شراب بندی کی محرک ہیں۔ ان کے جلسوں میں دس ہزار سے زیادہ لوگوں کی حاضری ہوتی ہے۔ عورتوں کے سیلف ہیلپ گروپ بھی کافی منظم ہور ہے ہیںاور بہت مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ایک واقعہ سناتا ہوں۔ پورنیہ میں پوسٹ مارٹم کرنے والا بغیر شراب پیے پوسٹ مارٹم کر ہی نہیں سکتا تھا۔ لوگ اسے زیادہ پیسہ دے کر کسی طرح پوسٹ مارٹم کرواتے تھے۔ اب شراب چھوٹنے کے بعد وہ بالکل صحت مند ہوگیا ہے اور آرام سے پوسٹ مارٹم کا کام کر رہا ہے۔ بہار کی عورتیں اب اتنی بیدار ہوچکی ہیں کہ وہ اس پر نظر رکھ رہی ہیں کہ شراب چھوٹنے کے بعد لوگ کہیں افیم یا ڈرگس تو نہیں لینے لگے ہیں۔
جرائم میں کمی آئی ہے
میں نے زمینی سطح پر ایک سروے کرایا تھا کہ کون لوگ شراب پیتے ہیں؟ عورتیں اپنے گھر کی نگرانی تو کر ہی رہی ہیں، ساتھ ہی ہمسایوں پر بھی نظر رکھ رہی ہیں۔ انہیں حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ بہار میں امن کا ماحول بن رہا ہے۔ میں نے شراب بندی کے نفاذ کے بعد کے جرم کے اعداد وشمار نکلوائے۔ 1اپریل سے25جون 2015تک کے اعداد وشمار اور 1اپریل سے 25جون 2016تک کے اعدادوشمار نکلوا کر اس کا موازنہ کروایا ۔ معلوم ہوا کہ سنگین جرم میں ساڑھے چودہ فیصد، قتل میں 38فیصد، ڈاکہ زنی میں 24فیصد، دنگا فساد میں 56فیصد، پھروتی کے لیے اغوا جیسے معاملوں میں 70فیصد، عصمت دری کے معاملوں میں 22فیصد، ایس سی -ایس ٹی کے ہراساں کئے جانے کے معاملوں میں 23فیصد کی کمی آئی ہے۔ سب سے زیادہ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ شراب نوشی کے بعد ہونے والے سڑک حادثوں میں 30فیصد کی کمی آئی ہے۔ مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ نتن گڈکری جی سڑک حادثوں میں کمی لانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ میں نے کہا کہ گڈکری جی پورے ملک میں شراب بندی لاگو کردیجئے، سڑک حادثوں میں 30فیصد کمی خود بخود آجائے گی ۔ سب سے زیادہ موتیں شراب نوشی کے بعد ہونے والے سڑک حادثوں سے ہوتی ہے۔ بہار میں سڑک حادثوں میں ہونے والی اموات میں بھی 33فیصد کی کمی آگئی ہے۔ اس کے کیا فائدے ہیں؟ ایک اہم فائدہ تو یہ بھی ہے کہ پہلے بہار میں جہاں دروازے تک بارات پہنچنے میں گھنٹوں لگتے تھے ، اب کم وقت لگتا ہے۔ پہلے بارات میں چلنے والے لوگ شراب پی لیتے تھے۔ ایک ہی جگہ ناچ رہے ہیں تو ناچ رہے ہیں ۔ لڑکی والا کوئی بول نہیں پاتا تھا۔ اب دروازے تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ فوراًڈھول باجا بجایا اور لگ گئی بارات دروازے۔ میں ابھی جھارکھنڈ میں اپنی پارٹی کے صدر جو پہلے وزیر تھے، کی بیٹی کی شادی میں گیا تھا۔ ہم سارے لوگ ڈیڑھ گھنٹے سے انتظار کر رہے تھے۔ بارات آہی نہیں رہی تھی۔ دریافت کرنے پر بتایا جاتا تھا کہ بس دس منٹ میں بارات آجا ئے گی۔ مجھے سوا گیارہ بجے دھنباد سے پٹنہ ٹرین سے واپس آنا تھا ۔میں نے ان سے کہا کہ دیکھئے، 200میٹر دور سے آنے والی بارات کو اتنا وقت لگ رہا ہے، جھارکھنڈ میں بھی شراب بندی لاگو کروا دیجئے تو پانچ منٹ میں بارات آجائے گی۔ یعنی شراب بندی کا ایک یہ بھی فائدہ تو ہے ہی۔ اب تو جو پینے والے لوگ تھے وہ بھی آج میری تعریف کر رہے ہیں۔ تین مہینے کے بعد اب ان کی عادت بھی چھوٹ گئی ہے۔ لوگ خوش ہیں کہ آنے والی نسلوں کا مستقبل تو سنور گیا۔ یعنی شراب بندی کے دوررس فائدے ہیں۔
شراب کے ساتھ یوگ نہیںہوسکتا
شراب بندی کی حمایت میں تو سارے مذاہب ہیں۔ کون سا مذہب ہے جو شراب بندی کی حمایت میں نہیںہے؟ الگ الگ مذاہب کے ماننے والے اور عوامی تحریکوں سے منسلک گروپ بھی اس کی حمایت کر رہے ہیں۔میدھاپاٹیکر جی بھی شراب بندی کے حق میں ہیں۔ یہ لوگ ملک کے دوسری ریاستوں میں بھی شراب بندی نافذ کرنے کے لیے میٹنگیں کر رہے ہیں۔ آج تک ملک میں جتنے بھی مفکر ہوئے ، گاندھی جی ، امبیڈکر صاحب، جے پی، لوہیا، وی پی سنگھ، مرارجی بھائی دیسائی، سب شراب بندی کے حمایتی تھے۔ یہ کو ن لوگ ہیں جو شراب چاہتے ہیںاور شراب کے حق میں ہیں؟ گجرات میں تو اس کے قیام کے وقت سے ہی شراب بندی لاگو ہے۔ محترم وزیراعظم صاحب جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے، تو انہوں نے شراب بندی کو جاری رکھاتھا۔ میری اپنی سمجھ ہے کہ وزیراعظم صاحب بھی شراب بندی کے حق میں ہیں۔ میں ان سے انکساری کے ساتھ ایک اپیل کرنا چاہتا ہوں ۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ بھی سالوں سے یوگ کرتے ہیں ۔ بہار کے مونگیر میں یوگ کا انٹرنیشنل اسکول ہے لیکن شراب کے ساتھ یوگ کبھی مکمل نہیں ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم صاحب، اگر آپ سچ مچ یوگ کے حمایتی ہیںتو شراب بندی کروائیے۔ پورے ملک میں نہیں تو کم ازکم بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں ہی لاگو کروادیجئے۔
1917میںگاندھی جی نے نیلہو ں پر ظلم کے خلاف چمپارن ستیہ گرہ کیا تھا۔ چمپارن ستیہ گرہ کی کامیابی کے بعد ہی اس ملک میں آزادی کی لڑائی نے عوامی تحریک کا روپ لیا تھا۔ چمپارن ستیہ گرہ کز سوو اں سال شروع ہوگیا ہے۔ میں نے سوچا کہ چمپارن ستیہ گرہ کے سوویں سال میںشراب بندی لاگوکرکے گاندھی جی کے قدموں میں خراج عقیدت پیش کرنا چاہیے۔ ملک بھر کے لوگوں کو شراب بندی کے ستیہ گرہ کے ساتھ جڑنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ماحول بنائیں۔ اس کام میں جو بھی رضاکار ادارے ، آندولن کاری تنظیمیں، عورتوں کے گروپ لگے ہیں، میں ان سب کو تہہ دل سے مبارک باد دیتا ہوں۔ لوگ لگاتار مجھ سے ملنے آرہے ہیں۔ وہ اپنے علاقے ، اپنی ریاست میں شراب بندی کی مہم چلانا چاہتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ان سب لوگوں کے ساتھ ہوں ، جو شراب کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں میں اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر ضلع کے جیور علاقے میں گیا تھا۔ وہاں شراب بندی کے لیے مہم چلائی جارہی ہے ۔ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ جیور توچھوٹی جگہ ہے، کیا کرنے جائیں گے؟ میں نے کہا کہ جیور تو پھر بھی ایک قصبہ ہے، شراب بندی کے لیے اگر کسی گاؤں میںبھی جانا پڑے، تو میںجانے کے لیے تیار ہوں۔ اس ہدف کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
متبادل آمدنی اور روزگار کا امکان
یہ سب کام میں’سمّان‘ کے لیے نہیں کررہا ہوں۔ یہ تو ایک نظریاتی عزم ہے۔ مکمل شراب بندی سے ہی ہندوستان کی ترقی ہوسکتی ہے ۔ بہار سے شروع ہوا یہ کارواں اب تھمے گا نہیں۔ شراب کے کاروبار سے جڑے لوگوں کو وقت رہتے اچھے کاروبار کی طرف شفٹ کرلینا چاہیے۔ شراب بیکار کی چیز ہے۔ لوگوں کی زندگی برباد کرنے والا کاروبار ہے اور کچھ لوگ اسے روزگار سے جوڑ کردیکھتے ہیں۔ بہار میں بھی کچھ لوگوں نے شروعات میںجلوس نکالا اورکہا کہ شراب کی دوکان بند ہوگی، تو روزگار چھن جائے گا۔ میںنے کہا کہ بہار میںسدھا دودھ کا کاؤنٹر کھول لیجئے۔ میںپورنیہ کمشنری ایک کانفرنس میںگیا تھا۔ عورتیںمجھے وہاںایک گاؤںمیں لے گئیں۔ اس گاؤں میںپہلے لوگ شراب بناتے تھے۔ اس گاؤں کے کئی کنبے بے روزگار ہونے سے ڈرے ہوئے تھے ۔ایسے سبھی کنبوں کو گائے خریدنے کے لیے سرکار کی طرف سے پیسہ دیا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ اب دودھ کا کام کیجئے۔ نو کنبوںکی عورتوں کو گائے خریدنے کے لیے خود میںنے اپنے ہاتھ سے چیک دیے۔ ان لوگوں نے خوشی خوشی دودھ کا دھندہ شروع کردیا ہے۔ آج وہ سب خوش ہیں۔ شراب بندی کے بعد بھی متبادل آمدنی اور روزگار کے بڑے امکانات ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *