بہار : شراب کی اسمگلنگ زوروں پر پانی کے راستے آرہی ہے شراب

راجیش سنہا
p-09بہار میں سرکاری سختی کے بعد اب شراب کے اسمگلروں کے ذریعہ گنگا اور کوسی ندی کے ساتھ ساتھ دیگر ندیوں کے راستے بنگال، جھارکھنڈ، اترپردیش اور نیپال سے شراب کی کھیپ بہار منگائی جانے لگی ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ آبی گزرگاہوں سے اسمگلنگ کئے جانے کا معاملہ پہلی بار سامنے آیا ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کے لئے گنگا اور کوسی اسمگلروں کے لئے ہمیشہ آسان مانی جاتی رہی ہیں۔ لیکن بہار میں مکمل شراب بندی کے بعد سے شراب اسمگلروں کے ذریعہ جم کر آبی گزرگاہوں کا استعمال کیا جانا انتظامیہ اور حکومت کے لئے تشویش کا موضوع بنتا جارہا ہے ۔ حالات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شام ڈھلتے ہی گنگا ، کوسی سمیت دیگر ندیوں کے آس پاس بنائی گئی ’پیشہ گھاٹ ‘مطلب دھندہ کے لئے بنائی گئی گھاٹ پر دھندے بازوں کے جمع ہونے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور صبح تک شراب ڈھوئے جانے کا کھیل بدستور جاری رہتا ہے۔ شراب سے بھرا کنٹینر تو منزل تک پہنچایا ہی جارہا ہے،شراب سے لدی چھوٹی چھوٹی گاڑیوں کو کشتی پر لادکر منزل تک پہنچائے جانے کا منظر سرکاری خوابوں کو چکنا چور کرتا نظر آتا ہے۔شراب اسمگلروں کے ذریعہ فرکّا سے بھاگل پور گھاٹ ، مونگیر گھاٹ سے لے کر مظفر پور کے مختلف گھاٹ اور نیپال سے لے کر کوسی کے مختلف گھاٹ کے بیچ مستقل طور پر درجنوں گھاٹ بناکر کشتی کے ذریعہ شراب کی کھیپ لگاتار منگائی جانے کی خبر شاید پولیس انتظامیہ کو بھی ہے۔ کئی پولیس عہدیدار بھی اس سچائی کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن علاقے کی جغرافیائی بناوٹ پولیس کی مہم کو ٹائیں ٹائیں فش ثابت کرنے میں لگی ہے۔ ویسے گنگا، کوسی اور دیگر ندیوں کے راستے کشتی کے ذریعہ شراب ڈھونے اور ڈھلانے کا نایاب کھیل دیر شام شروع ہوتا ہے اور صبح تک چلتا رہتا ہے۔ دن کے اجالے میں شراب کے دھندے باز یا تو نظر نہیں آتے اور اگر نظر آتے بھی ہیں تو نہ صرف لباس بدلا ہوتا ہے بلکہ دھندہ بھی کوئی اور ہوتا ہے۔ اتنا ہی نہیں شراب کا کاروبار کئے جانے کے دوران دھندے بازوں کے ذریعہ جگہ جگہ ہتھیار بند جرائم پیشوں کو اس قدر تعینات کر دیا جاتاہے کہ گائوں کے لوگ دھندے بازوں کی کرتوت کو ظاہر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ماننے لگے ہیں۔ جانکاروں کی باتوں پر اگر بھروسہ کریں تو غیر قانونی شراب کے اسمگلروں کے ذریعہ بنگال اور جھارکھنڈ کے ساتھ ساتھ نیپال کے گنگا کنارے کے ضلعوںسے شراب کی کھیپ موٹر بوٹ سے گنگا کنارے کے اطراف میں لے جایا جاتا ہے جہاں پہنچنے کا ایک ہی راستہ پگڈنڈی ہی ہوتا ہے۔ ان علاقوں کے راستے اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ پولیس کو پہلے تو شاید بھنک تک نہیں مل پاتی ہے اور اگر بھگوان بھروسے اس غیر قانونی کاروبار کی جانکاری مل بھی جاتی ہے تو پولیس کو منزل تک پہنچنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔ جانکاروں کایہاں تک کہنا ہے کہ پولیس اگر وقت بوقت پہنچ بھی جائے تو شراب کی کھیپ اس لئے پولیس کے ہاتھ نہیں لگ سکتی کیونکہ شراب کے دھندے بازوں کے ذریعہ بنائی گئی ندی کی گھاٹ کے بجائے شرابوں کی کھیپ کو پیشہ گھاٹ مطلب دھندے کے لئے بنائی گئے عارضی گھاٹ پر چھپا کر رکھا جاتاہے۔ کنٹینر کو شراب کی بوتلوں سے بھر کر ندیوں میں اس قدر ڈبو دیا جاتاہے کہ پولیس اگر بغیر کسی مخبر کے شراب کی کھیپ کو تلاش کرنا بھی چاہے تو دن میں ہی شاید تارے نظر آنے لگیں۔ موٹرائزڈ بوٹ کے نچلے حصے میں شراب کو چھپانے کے لئے خاص انتظام ہوتا ہے،شراب کے دھندے کو ملاحوں کی مدد سے چلائے جانے کی بات بھی فضا میں گونج رہی ہے۔ شراب کے دھندے بازوں کے ذریعہ بنگال اور جھارکھنڈ سے لائی گئی شراب کی کھیپ سرحدی ضلع کٹیہار کے ساتھ ساتھ پورنیہ، ارریہ، کشن گنج ،سہرسہ، سوپول، مدھے پورا، کھگڑیا یہاں تک کہ متھلانچل تک پہنچائی جا رہی ہے۔ لگ بھگ ایک ماہ کے دوران مدھے پورا،پورنیہ،کھگڑیا اور ارریہ میں گرفتار کئے گئے شراب کے دھندے بازوں نے بھی پولیس کے سامنے اس بات کا سنسی خیز انکشاف کیا ہے کہ گنگا کے راستے بنگال، جھارکھنڈ اور نیپال سے شراب کی کھیپ بہار منگائی جارہی ہے۔ باوجود اس کے شراب مافیائوں تک یا تو پولیس کے ہاتھ پہنچ نہیں پا رہے ہیں اور شراب کے کالے دھندے سے جڑی چھوٹی مچھلیوں کو پکڑ کرہی پولیس اپنی منزل کی انتہا سمجھ لیتی ہے۔جانکاروں کے مطابق گنگا اور کوسی سمیت مختلف ندیوں کی عارضی گھاٹ پر شراب کی کھیپ منگانے کے بعد اسے پھرایجنٹ کے ذریعہ سے مقررہ جگہ تک پہنچائی جاتی ہے۔ ایجنٹ کے ذریعہ منزل تک شراب کو پہنچانے کے لئے دیہی سطح پر استعمال میں لائے جانے والی بیل گاڑی، سائیکل اور موپیڈ کا ہی استعمال کیا جانا سونے پر سہاگہ ثابت ہو رہا ہے۔ شراب پر مکمل پابندی لگائے جانے کے بعد انتظامیہ اور حکومت کے ذریعہ شراب کی اسمگلنگ پر پوری طرح روک لگانے کے لئے گنگا، کوسی ، مہانندا، کنکئی سمیت دیگر ندیوں میں موٹر بوٹ کے ذریعہ گشت کرنے کے بندوبست کا دعویٰ کیا گیا تھا،لیکن گنگا ندی میں فرکا سے لے کر بھاگل پور تک کچھ موٹر بوٹ کے سہارے گشت کئے جانے کا نظارہ لوگوں کو دن میں تو دکھائی دیتا ہے،رات ہوتے ہوتے پولیس کا گشت دم توڑ دیتا ہے۔نتیجتاً شراب مافیائوں کی بلے بلے تو ہو ہی جاتی ہے، لگاتار نظارہ دیکھتے آرہے گائوں والوں کا کلیجہ بھی منہ کو آجاتاہے۔ ادھر دربھنگہ علاقے کے آئی جی اوما شنکر سوگھانشو کا کہنا ہے کہ صوبے میں مکمل شراب بندی لاگو ہونے کے بعد گنگا میں بھی کشتیوں کے سہارے گشت کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔بنگال اور جھارکھنڈ کے ساتھ ساتھ نیپال کے سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں سے شراب اسمگلنگ کا معاملہ سامنے آرہا ہے۔لیکن شراب اسمگلر کسی بھی طرح سے شراب کی اسمگلنگ نہیں کر پائیں، اس کے لئے گنگا، سمیت دیگر ندیوں میں گشت کا پختہ انتظام کیا جائے گا۔ بہر حال گنگا سمیت دیگر ندیوں میں بھی پولیس گشت کے پختہ انتظامات کئے جانے کا دعویٰ حقیقت میں زمینی سطح پر اتر پاتا ہے یا نہیں ،یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گالیکن یہ تلخ سچ ہے کہ شراب مافیائوں کے ذریعہ بہار میں مکمل شراب بندی کے سرکاری دعوئوں کی ہوا نکالتے ہوئے گنگا ،کوسی کے ساتھ ساتھ مختلف ندیوں کے راستے بڑے پیمانے پر شراب کی اسمگلنگ کرائی جارہی ہے اور لوگوں کے منہ سے یہ بلا ساختہ نکل جاتا ہے کہ’’ شراب مکت بہار ‘‘بنانے کا سرکاری خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا ‘‘۔
ایمبولینس بنا شراب اسمگلنگ کا محفوظ ذریعہ
گیتا کمار
اگرچہ بیمار لوگوں کو فوری طور پر طبی سہولت فراہم کرانے کے لئے لوگوں کو ایمبولینس وقت پر نہیں مل پاتا ہو،لیکن شراب مافیائوں کے ذریعہ شراب اسمگلنگ کے لئے ایمبولینس کا جم کر استعمال کیا جارہا ہے اور لوگوں کے منہ سے یہ دفعتاً نکل بھی جاتا ہے کہ ایمبولینس بنا شراب اسمگلنگ کا محفوظ ذریعہ۔ یہ بات الگ ہے کہ فی الوقت سرکاری ایمبولینس کا استعمال اس کالے کارو بار کے لئے نہیں ہونے کی بات سامنے آرہی ہے۔لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں کی کون کہے، شہری علاقے کے بھی پرائیویٹ کلینک کا ایمبولینس مریض کے بجائے شراب ڈھونے میں لگ گیا ہے۔ گزشتہ دنوں پورنیہ ضلع میں گرفتار کئے گئے ایک ڈرائیور نے بھی پولیس کے سامنے اس بات کا سنسنی خیز خلاصہ کیا تھا کہ مختلف پرائیویٹ نرسنگ ہوم کے ایمبولینس ڈرائیوروں کے ذریعہ شراب مافیائوں کے اثر میں آکر نہ صرف شراب کو ایک جگہ سے دوری جگہ پہنچانے کا کھیل کھیلا جارہاہے بلکہ شراب فروخت کرنے کے عوض من مانی قیمت وصول کرکے مالا مال ہونے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ بار بار مل رہی شکایت کی بنیاد پر جب معاملے کی جانچ کی گئی تو راز پوری طرح کھل کر سامنے آگیا ۔پرائیویٹ نرسنگ ہوم کے ایمبولینس ڈرائیوروں کے ذریعہ مریضوں کو بہتر علاج کے لئے ریفر کئے جانے کے دوران اسپتال کے ذریعہ دیئے جانے والے ریفر آرڈر کی کاپی اپنے پاس رکھ لی جاتی ہے اور مریضوں کو منزل تک پہنچانے کے بعد اسی ریفر آرڈر کاپی کو دکھا کر کئی دنوں تک آرام سے شراب منزل تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کے عوض ایمبولینس ڈرائیوروں کو شراب کے ساتھ ساتھ مقررہ رقم دستیاب کرائی تو جاتی ہی ہے، پولیس کی پکڑ میں آنے کے بعد پولیس کی گرفتاری سے چھڑانے کی یقین دہانی بھی کرائی جاتی ہے۔ حالانکہ عام آدمی کی کون کہے، پولیس انتظامیہ بھی عام طور پر ایمبولینس کی تلاشی تو دور، اسے روکنا بھی گوارہ نہیں کرتی ۔ جانکاروں کے مطابق پرائیویٹ نرسنگ ہوم کے ایمبولینس ڈرائیوروں کو تنخواہ اتنا کم ملتی ہے کہ خاندان کی خوشیوں کے لئے شراب یا دیگر ممنوع سامانوں کی اسمگلنگ جیسے جرائم کیا جانا ان کی مجبوری بن گئی ہے۔ ویسے مریض اور موت کے شکار ہوئے لوگوںکو منزل تک پہنچانے کے نام پر استعمال میں لائے جانے والے ایمبولینس سے دیگر طرح کے سامانوں کو ڈھوئے جانے کا معاملہ پہلی بار سامنے نہیں آیا ہے۔ مریض کو منزل تک پہنچانے کے بعد ایمبولینس کو مسافر گاڑی بنائے جانے کا معاملہ اکثر سڑکوں پر نظر آتا ہے ،لیکن ایمبولینس کے ذریعہ کسی ممنوعہ سامانوںکو ادھر سے ادھر پہنچائے جانے کا معاملہ پہلی بار سامنے آنے سے سرکاری نوکر شاہوں کے بھی ہاتھ پائوں پھولنے لگے ہیں۔ دیگر ضلعوں میں ایمبولینس کے ذریعہ شراب اسمگلنگ کئے جانے کے معاملے کو فی الوقت نظر انداز کر بھی لیا جائے تو بھی کوسی اور سیمانچل کا علاقہ ایمبولیس کے ذریعہ ہو رہی شراب اسمگلنگ کو لے کر خاصا سرخیوں میں ہے۔ ادھر کھگڑیا کے پولیس کپتان انیل کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ شراب پر مکمل پابندی لگائے جانے کے بعد سے پولیس کے ذریعہ شراب کے ساتھ ساتھ شرابیوں کو بھی گرفتار کیا جاتا رہا ہے۔ اس علاقے میں اگر ایمبولینس کے ذریعہ شراب کی اسمگلنگ ہورہی ہے تو یقینی طور پر سنگین مسئلہ ہے ۔کسی بھی قیمت پر دھندے بازوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ بہر حال ایمبولینس کے ذریعہ ہو رہی شراب اسمگلنگ پر روک لگ سکے گی یا دیگر معاملوں کی طرح یہ معاملہ بھی دفن ہوکر رہ جائے گا،یہ کہنا تو فی الوقت قبل از وقت ہوگا،لیکن ایمبولینس کے ذریعہ شراب اسمگلنگ کا معاملہ سامنے آنے سے نہ صرف انتظامیہ اور حکومت کے دامن پر داغ لگ رہا ہے بلکہ’’ شراب مکت بہار ‘‘کا خواب بھی چکنا چور ہوتا دکھائی دے رہاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *