امجد صابری کا قتل، عاشق رسول کا قتل، محبت کے پیامبر کا قتل۔

p-11bایک شخص سحری میں رو رو کر اللہ سے اپنے گناہوں کی توبہ کررہا ہے اور قبر کے اندھیروں سے بچنے کے لئے اپنے نبی کو پکار رہا ہے۔
میں قبر اندھیری میں گھبرائوں گا جب تنہا
امداد میری کرنے آجانا رسول اللہ
روشن میری تربت کو للہ سدا کرنا
جب وقت نزع آئے ،آقا دیدار عطا کرنا
یہ شخص ہے امجد صابری اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے وہ سحری کے پروگرام میں رو رو کر اپنے گناہوں سے نجات کی دعا کرتا ہے۔اپنے نبی سے وقت نزع آنے پر مدد کرنے کی التجا کرتا ہے ،کیا قصور ہے اس عاشق رسول کا؟کیا قصور ہے اس صوفی قوال امجد صابری کا ،جس کا شاہ راہ عام پر گولی مار کر قتل کردیا جاتا ہے۔
امجد صابری کا شمار پاکستان کے مایہ ناز قوالوں میں ہوتا ہے۔ وہ مشہور قوال غلام فرید صابری کے بیٹے تھے۔پوری دنیا میں غلام فرید صابری کو بحیثیت قوال بڑا درجہ حاصل تھا۔ اس طرح امجد صابری بھی تھے جو پوری دنیا میں اپنے صوفیانہ کلام کے لئے جانے جاتے تھے۔۔بھر دو جھولی میری یا محمد اور تاجدار حرم او نگاہ کرم ، خواجہ کی دیوانی، جیسی مشہور قوالیاں گانے والوں سے دہشت گردوں کو کیا دشمنی تھی، وہ شخص صرف امن ومحبت کا پیغام دیتا تھا۔وہ عشق رسول میں گم تھا۔ حمدو نعت جب وہ گاتا تھا تو لوگ پھوٹ پھوٹ کر رو دیتے تھے ۔امجد صابری اپنے والد غلام فرید صابری اور چچا مقبول صابری کے پیرو کار تھے۔ ان ہی کے شاگرد تھے۔ صوفیوں کی سرزمین ہندوستان سے جس چشتیہ سلسلہ نے پوری دنیا کو منور کیا ،امسجد صابری اسی روشنی کے علمبردار تھے۔امجد صابری نے اس فن کو اس قدر جلا بخشی کہ بچے بچے کی زبان پر بھردو جھولی میری یا محمد، جیسے جیسے الفاظ گونجنے لگے۔
حیرت کی بات ہے کہ ایک صوفی منش شخص سے دہشت گردوں کو کیا دشمنی تھی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک صوفی قوال کسی بھی مذہب، ملک اور فرقے سے اوپر ہوتا ہے۔پھر وہ کس طرح دیوبندی یا بریلوی ہوسکتا ہے۔ اگر قوالی غیر اسلامی ہے تو پھر خون بہانا تو سب سے بڑا غیر اسلامی عمل ہے۔ لیکن جو مذہب کی دہائی دے کر انسانیت کا خون کردیتے ہیں ان کو کیا ہم مذہب کی کسی بھی جگہ پر رکھ سکتے ہیں۔امجد صابری کا قتل محض قوالی کے ایک صوفی قوال کا قتل نہیں ہے بلکہ اللہ کے بندوں میں باہمی محبت اور احترام کا پیغام دینے والی آواز کا قتل ہے۔
پاکستان کو جانے کس کی نظر لگی ہوئی ہے کہ وہاں دن دہاڑے دہشت گرد کسی کو بھی مار کر چلے جاتے ہیں۔کچھ دن سب کچھ ہوتا ہے پھر وہی زندگی رواں دواں ہوجاتی ہے۔کراچی کی گلیوں میں پلے بڑھے اس صوفی قوال کو اس کے لوگوں نے قتل کردیا اور وہ شخص جس نے اپنے والد غلام فرید صابری سے 9سال کی عمر میں یہ فن سیکھنا شروع کیا جو پنج وقت نمازی تھا ،تہجد گزار تھا جو حمد و نعت پڑھتا تھا،اس شخص سے جانے کیا غلطی ہوئی تھی ۔کہا جارہا ہے کہ امجد صابری کو اپنی موت کا خدشہ تھا اور انہیں کچھ انجانے لوگوں سے مارے جانے کا اندیشہ تھا۔ اگر ایسا تھاتو پاکستان حکومت کو اس کے لئے ایکشن لینا چاہئے تھا جو کہ شاید نہیں لیا گیا اور ایک عاشق رسول ،محبت کا پیامبر جو پیدا بھی رمضان میں ہوا اور اسی مبارک مہینے میں ہی وہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *