علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دلتوں اور پچھڑوں کوکیوں نہیں دیا جارہا ریزرویشن انتخابی بساط پر بی جے پی کا دائو

پربھات رنجن دین 

p-1اتر پردیش کی اکادمک راجدھانی الٰہ آباد میں ہوئی بی جے پی کی نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ سے زیادہ اہم وہ میٹنگ تھی جو قومی صدر امیت شاہ کے دعوت پر 18جون کو دلی میں بلائی گئی تھی، جس میں اتر پردیش کے سارے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے موجود تھے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کی مذکورہ میٹنگ کے اصل منتظم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے نظریہ کے حامل لوگ تھے۔ اس میٹنگ کی جانکاری کو عام نہیں کیا گیا، لیکن اس میٹنگ میں اتر پردیش کے سبھی بی جے پی ممبران پارلیمنٹ اور سبھی بی جے پی ایم ایل ایز لازمی طور سے شامل ہوئے۔ نیشنل ایگزیکٹیو میں انتخابی پالیسی پر کوئی چرچا نہیں ہوا تھا اور جو تجاویز پیش ہوئی تھیں، ان میں بھی اتر پردیش یا دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کو لے کر کوئی قابل ذکر تذکرہ نہیں ہوا۔ لیکن 18جون کو بی جے پی ایم پی اور ایم ایل اے کی جو میٹنگ دلی میں ہوئی وہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب کے نقطہ نظر سے اہم ہے اور اس کی تاثیر پورے ملک میں محسوس ہونے والی ہے۔ دلی کے پٹیل چیسٹ آڈیٹوریم میں تین سیشن میں مکمل ہوئی میٹنگ میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے جنرل سکریٹری کرشن گوپال نے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایلز کو پورے مسئلے پر تفصیل سے آگاہ کرایا اور حکمت عملی کے بارے میں سمجھایا۔ اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب میں اترنے جا رہی بی جے پی نے دلتوں اور پچھڑوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کا اے ایم یو فارمولہ اختیار کیا ہے۔
دلتوں اور او بی سی کمیونیٹی کو جذباتی طور سے بہو جن سماج پارٹی، سماج وادی پارٹی اور کانگریس سے توڑ کر اپنے ساتھ جوڑنے کے ارادے سے بی جے پی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نیشنل ریزرویشن پالیسی لاگو کئے جانے کا مسئلہ اٹھانے کی پالیسی بنائی ہے۔ ملک کی تمام یونیورسٹیوں اور مرکزی یونیورسٹیوں میں شیڈولڈ کاسٹ؍قبائل اور او بی سی کے لئے ریزرویشن کا نظام لاگو ہے، لیکن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریزرویشن کا نظام لاگو نہیں ہے۔ حالانکہ اس مسئلے پر بی جے پی کی اسٹوڈنٹس اور نوجوان اکائیاںلمبے عرصے سے لڑائی لڑتی رہی ہیں، لیکن کبھی یہ انتخابی ایشو نہیںرہا۔ بی جے پی کے پالیسی میکروں کا ماننا ہے کہ یہ مسئلہ وسیع پیمانے پر دلتوں اور پچھڑوں کے مفاد سے جڑا ہے، لہٰذا یہ ایشو ان کے دھیان کو اپنی طرف متوجہ کرے گا اور انتخاب کے پہلے اسے بڑی مہم کے طور پر اٹھایا جاسکے گا۔ اے ایم یو میں اسٹوڈنٹس کی اڈمیشن سے لے کر لیکچرر اور ٹیچنگ اسٹاف کی تقرری تک میں ریزرویشن کا قانونی نظام نافذ نہیں ہے۔ بی جے پی ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کی میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیاہے کہ اس مسئلے پر پوری ریاست میں ماحول بنایا جائے تاکہ اے ایم یومیں ریزرویشن کا سسٹم لاگو کرنے کا راستہ بھی ہموار ہو اور انتخاب کے پہلے دلتوں اور پسماندہ طبقہ کے لوگوں کے بیچ با معنی پیغام بھی جائے۔ سارے ممبران پارلیمنٹ اورایم ایل ایز سے اس کام میں پوری رفتار سے لگ جانے کو کہا گیا ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریزرویشن کے مسئلے پر دلی میں ہوئی ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کی میٹنگ کے بارے میں بی جے پی کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا، سنگھ نے بھی باضابطہ طور پر اس میٹنگ کے تئیںکچھ نہیں کہا۔ لیکن یو پی کے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کو سنگھ کے جوائنٹ سکریٹری جنرل کرشن گوپال نے جو نصیحت دی،وہ ہم آپ کو ضرور بتائیںگے۔ کرشن گوپال نے کہا کہ شیڈولڈ کاسٹ؍ٹرائبس اور دیگر پسماندہ طبقوں کے لئے ریزرویشن کی پالیسی لاگو نہیں کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک بڑا جرم کر رہی ہے۔ اے ایم یو کے اقلیتی ادارہ ہونے کے درجے پر این ڈی اے سرکار کا رخ یو پی اے سرکار کو چھوڑ کر باقی پیشرو سرکاروں کے رخ اور 1968 میں آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہے۔ کرشن گوپال نے کہا کہ مرکزی سرکار کا رخ وہی ہے جو مولانا ابو الکلام آزاد،اس وقت کے وزیر ترقی برائے انسانی وسائل ایم سی چھاگلا اور سید نور الحسن کا رخ تھا۔ اس وقت تینوں وزیر اعظم جواہر لال نہرو، لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی بھی وہاں تھے۔ ہمارا رخ سپریم کورٹ کے فیصلے جیسا ہے۔ ہم نے فیصلہ نہیں بدلا، بلکہ یو پی اے سرکار نے 2005 میں ایسا کیا تھا۔ موجودہ مرکزی سرکار نے کوئی نیا فیصلہ نہیں لیا ہے۔مرکز کا فیصلہ وہی ہے جو 1968 میں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی ایک بینچ نے دیا تھا۔ ایسا ہی فیصلہ آئین ساز اسمبلی نے بھی لیا تھا جس میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، مولانا آزاد اور کئی مسلم لیڈر شریک تھے۔
قابل ذکر ہے کہ مرکز کی بی جے پی سرکار نے اس سال اپریل میں سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ وہ اے ایم یو کو غیر اقلیتی ادارہ قرار دینے کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج دینے والی یو پی اے سرکار کے وقت داخل عرضی واپس لے لے گی۔ اے ایم یو کے اقلیتی درجے کا مسئلہ ہو یا وہاں ریزرویشن سسٹم لاگو نہیں کرنے کا ایشو رہا ہو، اسے گرمانے کا عمل پہلے سے چل رہا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ مرکزی سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کے مرکزی وزیر تھاورچند گہلوت نے وزیر برائے ترقی انسانی وسائل اسمرتی ایرانی کو کچھ دنوں پہلے خط لکھ کر اے ایم یو میں ریزرویشن کے آئینی عمل کو شروع کرانے کی مانگ کی تھی۔گہلوت نے میڈیا سے بھی کہا تھا کہ ان کی وزارت کو جامعہ اور اے ایم یو، دونوں یونیورسٹیوں کے بارے میں رپورٹیں ملتی رہی ہیں، جس میں یہ شکایت کی جاتی رہی ہیں کہ اقلیتی اسٹیٹس کی آڑ میں دلت و آدیواسی اور او بی سے طلباء کو کونسیٹی ٹیوشنل ریزرویشن اور دیگر سہولتیں سرے سے مسترد کیا جارہا ہے۔
یعنی یہ صاف ہے کہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کے پہلے اے ایم یو میں دلتوں اور او بی سی کے لئے ریزرویشن لاگو کرنے کا مسئلہ گرمایا جائے گااور ریزرویشن کارڈ کو نئے اسٹائل سے انتخابی بساط پر پھینکا جائے گا، لیکن اس مسئلے کو نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ سے دور رکھا گیا اور ہفتہ بھر بعد دلی میں میٹنگ بلا کر اس پر پالیسی تیار کرنے پر غور و فکر کیا گیا۔ جبکہ الٰہ آباد میں ہونے والی نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ پر ملک بھر کی نگاہ لگی ہوئی تھی۔ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی امید تھی کہ ایگزیکٹیو میں اتر پردیش کا آئندہ وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ اس کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کا چہرہ کون ہوگا، اسے لے کر کچھ اندرونی اختلاف بھی سامنے آئے،پارٹی نے اس پر کوئی باضابطہ رائے ظاہر نہیں کی۔لوگوں کو یہ لگ رہا تھا کہ نیشنل ایگزیکٹیو کی تجویز اتر پردیش میں آنے والے اسمبلی انتخابات پر مرکوز ہوگا، لیکن وہ بھی نہیں ہوا۔ بی جے پی آسام میں اسمبلی انتخاب میں جیت اور کیرل میں مقابلہ کو لے کر خوشی کے نغمے ہی گاتی رہی ۔لیکن الٰہ آباد میں وزیر اعظم نریندر مودی کے یو پی پر مرکوز بھاشن سے یہ ضرور یقینی ہوگیا کہ بی جے پی کس ارادے سے انتخاب میں اترنے والی ہے۔یو پی انتخاب میں اترنے کے پہلے مرکز کی بی جے پی سرکار کے چیف نے یہ صاف کر دیا کہ اتر پردیش میں بی جے پی کی لرائی سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی سے ہی ہوگی، دیگر کوئی بھی پارٹی اس کے راستے میں نہیں ہے،بی جے پی یہ مان چکی ہے کہ کانگریس کی یو پی میں کوئی بساط نہیں ہے۔ نیشنل ایگزیکٹیو کی دو روزہ میٹنگ میں کئی سینئر لیڈروں کے معنی خیز اشارے بھی آنے والے دنوں کے سیاسی رشتے بتا رہے تھے۔ مثلاً کون لیڈر اب قیادت سے ناراض نہیں ہے،یا قیادت کس لیڈر کے ساتھ تنائو ختم کر کے بہتر رشتے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
بہر حال اتر پردیش میں آنے والے اسمبلی انتخاب کو مرکز میں رکھ کر وزیر اعظم مودی کے بھاشن کو دیکھیں تو یہ بالکل صاف ہے کہ بی جے پی اس بار انتخاب میں دیگر سارے سیاسی پارٹیوں کو اس دائوں پر رکھنے کی کوشش ضرور کرے گی کہ تمام پارٹی عوام کے سامنے حلف لیں کہ اگر جیتے تو اپنے دور کار میں بد عنوانی کی ایک بھی شکایت نہیں آنے دیں گے اور اگر ایک بھی شکایت آئی تو کرسی چھوڑ دیں گے۔سیاسی پارٹیوں کے لئے یہ مشکل چنوتی ہوگی، لیکن اسمبلی انتخاب کے درمیان یہ مسئلہ سامنے آنے والا ہے کہ مودی کے اتنے دن کے دور اقتدار میں بد عنوانی کا کون سا ایشو سامنے آیا اور مودی کے سابق دور اقتدار میں اتنا ہی دور حکومت میں بد عنوانی کے کتنے معاملے اجاگر ہوئے تھے۔ بد عنوانی کا مسئلہ ترقی کے دائوں کے ساتھ ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عام شہری یہ سمجھتے ہیں کہ بد عنوانی کے بغیر ہی ترقی اصلی ترقی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی باقی باتیں تو ویسی ہی چلتی پھرتی سیاست رہی،مثلاً یو پی میں ترقی کی گنگا بہا دیں گے، محروم گائوں میں بجلی پہنچا دیں گے، قرضہ چکا دیں گے۔ وغیرہ، لیکن مودی کے بھاشن کا مرکزی پیغام یہی رہا کہ اگر پانچ سال میں ہم نے ریاست کا کوئی نقصان کیا تو ہمیں لات مار کر نکال دینا۔ واضح ہے کہ مودی نے یہ چنوتی دوسری پارٹیوں کے سامنے بھی پھینکی۔ انہوں نے کہا بھی کہ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی کے بیچ ریاست کو لوٹنے کو لے کر سانٹھ گانٹھ ہے۔ لہٰذا اتر پردیش میں ترقی کا یجن تبھی کامیاب ہوگاجب بد عنوانی، اقربا پروری،نسل پرستی ، فرقہ واریت،غنڈہ گردی اور بے ایمانی کی قربانی دے دی جائے۔مودی نے ترقی کے انقلاب کو بنیادی منتر بتایا اور کہا کہ جہاں جہاں بی جے پی کی سرکار ہے، ان ریاستوںمیں خوشحالی ہے۔انہوں نے دو سال کے اندر ریاست کے بجلی سے محروم 1529 گائوں میں سے 1352 تک بجلی پہنچا دینے کا بھی دعویٰ کیا۔ مودی نے مرکز کا وہ فیصلہ بھی یوپی کے لوگوں کو خاص طور پر سنایا، جس میں کلاس تین اور چار کی سرکاری بھرتی میں انٹریو کا عمل بند کر دینے کا فیصلہ لیا گیاہے۔ ریاستی سرکار کو بھی ایسا ہی کرنے کو کہا گیا ہے۔ مودی نے کہا کہ انٹرویو بدعنوانی کی جڑ ہے۔
فرقہ واریت کو کوسنے والے نریندر مودی کے سامنے ہی اسی اسٹیج سے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے مسلمانوں کی دہشت سے کیرانہ کے ہندوئوں کا نقل مکانی کرنے کا مسئلہ اٹھا دیا اور لوگوں کو اکساتے ہوئے پوچھا، کیاچاہتے ہو کیرانہ جیسا نقل مکانی پورے اتر پردیش میں ہو؟ نہیں چاہتے تو سماج وادی پارٹی کو اکھاڑ کر پھینک دیجئے۔ بی جے پی کی نیشنل ایگزیکٹیو پورے طور پر آسام اسمبلی انتخاب میں ملی جیت میں ڈوب کر اترا رہا ہے۔نیشنل ایگزیکٹیو سے جو تجاویز پیش ہوئیں وہ بھی آسام جیت کی چاشنی میں ہی ڈوبا ہوا سامنے آیا۔ بی جے پی نے آسام جیت کے نام پر خود کی اکیلی قومی سطح کی پارٹی ہونے کا خم ٹھونکا اور اعلان کیا کہ بی جے پی ہی ہندوستان کا حال(زمانہ حال) اور مستبقل ہے۔تجویز میں آسام میں ملی جیت کے علاوہ کیرل، تمل ناڈو، مغربی بنگال اور پوڈیچری میں ووٹ فیصد بڑھنے پر اطمنان کا اظہار کیا۔لیکن جن ریاستوں میں اسمبلی انتخاب سامنے ہے، تجویز میں اس کی کوئی چرچا ہی نہیں ہے۔
مذہبی پولرائزیشن کا دانشورانہ تانا بانا
اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت کو لے کر لمبے عرصے سے دلیل اور حجت دیئے جارہے ہیں۔ ان دلیلوں اور حجتوں کے جال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کا مسئلہ بھی الجھا ہوا ہے۔ تکنیکی طور پر یہ بات خارج ہو چکی ہے کہ اے ایم یو کے قیام پرسر سید احمد خاں نے کیا تھا۔ اسلامیات کے ماہر اور سماجی کارکن سید احمد خاں نے تعلیم میں پچھڑے مسلم طبقہ کے لئے ایک ادارہ بنانے کا تصور کیا تھا۔مئی 1872 میں ان کے ذریعہ ایک کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی جس کا نام تھا’محمڈن اینگلو اورینٹل کالج فنڈ کمیٹی‘، کمیٹی کی کوششوں سے مئی 1873 میں چھوٹے بچوں کے ایک اسکول کا قیام عمل میں آیا۔ جو 1976 میں ہائی اسکول بنا۔ 1877 میں اس وقت کے وائے سرائے لارڈ لیٹن نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی عمارت کی بنیاد رکھی تھی۔ 1898 میں جب سر سید کی موت ہوئی، تب تک یہ کالج ایک بڑے ادارے کی شکل میں اپنی پہچان بنا چکا تھا۔ مانا جاتا ہے کہ سر سید کا بنیادی مقصد ایک مسلم یونیور سٹی بنانے کا تھا۔لیکن مسلم یونیورسٹی بنانے کی مانگ ان کی موت سے ہی مضبوط ہوئی۔ 1911 میں ایک مسلم یونیورسٹی ایسو سی ایشن بنا اور 1920 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تشکیل ہوگئی۔ 1920 کے اے ایم یو ایکٹ میں یہ پرویژن تھا کہ یونیورسٹی کی کورٹ (سپریم ایڈمنسٹریٹیو یونٹ) میں سبھی ممبر لازمی طور سے مسلم ہی ہوں گے۔
آزادی کے بعد جب ملک میں ہندوستانی آئین لاگو ہوا تب 1920 کے اے ایم یو ایکٹ میں کچھ ضروری ترمیم کیے گیے۔ان ترمیموںکے ذریعہ یونیورسٹی کے کورٹ میں سبھی ممبروںکے مسلم ہونے کی لازمیت ختم کر دی گئی۔ ساتھ ہی اسلامی پڑھائی کی لازمیت کو بھی ختم کر دیا گیا۔151-1965 میں یہ ترمیم اس لئے کی گئی تھی کیونکہ اے ایم یو ایکٹ کے پرانے پروویژن ہندوستان کے اائین کے پروویژن کے برعکس تھے لیکن اس کے خلاف یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے اس معاملے میں سنوائی کی۔ یہاں مسلم طبقے نے اپنی دلیل دیئے، لیکن سپریم کورٹ نے حقائق کی بنیاد پر یہ مانا ہی نہیں کہ اے ایم یو کا قیام سر سیداحمد نے کیاتھا۔ سپریم کورٹ نے یہ کہا کہ اے ایم یو کا قیام اس وقت کی انگریزی حکومت نے کیا تھا۔ عدالت نے معاملے کی تکنیکی طور پر جانچ پڑتال کی لیکن جذباتی طور سے دیکھیں تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اے ایم یو کا قیام سر سید کی کوششوں کے نتیجے کی شکل میں سامنے آئے، لیکن سپریم کورٹ نے اس معاملے کو خالصتاً تکنیکی طور پر دیکھا اور 1967 میں یہ فیصلہ سنا دیاکہ اے ایم یو کا قیام مسلم طبقے نے نہیں، بلکہ اس وقت کی انگریزی سرکار نے کیا تھا۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے یہ دیکھاکہ جس اے ایم یو ایکٹ کے تحت اے ایم یو کی تشکیل ہوئی تھی وہ ایک پارلیمانی ایکٹ تھا، جسے اس وقت کی سرکار نے منظور کیا تھا۔ مسلم طبقہ 1920 میں ایک پرائیویٹ یونیورسٹی قائم کرسکتا تھا،کیونکہ اس دور میں ایسا کوئی قانون نہیں تھا جو اسے ایسا کرنے سے روکتا۔ ایسا قانون 1956 میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کی تشکیل کے بعد ہوا۔ اب یو جی سی کی منظوری کے بغیر کوئی بھی یونیورسٹی قائم نہیں کی جاسکتی۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اگر مسلم طبقے نے پرائیویٹ کی جگہ پارلیمانی ایکٹ کے ذریعہ قائم کئے ہوئے یونیورستی کو چنا تھا تو یہ کیسے مانا جا سکتاہے کہ اس کو ایک مخصوص مسلم طبقے نے کیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ 1920 کا ایکٹ مسلم اقلیت کی کوششوں سے ہی منظور ہوا ہو ،لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس ایکٹ سے جو یونیورسٹی قائم ہوئی، وہ مسلم اقلیتوں نے قائم کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ساتھ ہی اعلانیہ طور پر اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت چھن گئی۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ1977 میں جنتا پارٹی کی سرکار کی اس کابینہ نے اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ کا درجہ دینے کے لئے ترمیم کو منظوری دی تھی، جس میں اٹل بہاری باجپئی اور لال کرشن اڈوانی بھی شامل تھے۔ یہ ترمیم ایوان کے ٹیبل پر لایا گیا لیکن اس کے پاس ہونے سے پہلے ہی جنتا پارٹی کی سرکار گر گئی۔ 1981 میں کانگریس سرکار نے اے ایم یو ایکٹ میں ترمیم کر دیا۔ ان ترمیمات سے 1967 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ پلٹ دیا گیا اور 1920 کے بنیادی ایکٹ کی پرویژن میں بھی بدلائو کر دیا گیا۔ 1920 کے ایکٹ میں دی گئی یونیورسٹی کی تعریف کو بھی اس ترمیم کے ذریعہ بدل دیاگیا۔ بنیادی ایکٹ میں لکھا گیا تھا،یونیورسٹی مطلب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی لیکن 1981 میں اسے نظر ثانی کرکے لکھا گیا، یونیورسٹی مطلب ہندوستان کے مسلمانوں کے ذریعہ قائم کیا گیا تعلیمی ادارہ ، جس کی پیدائش محمڈن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ کی شکل میں ہوئی تھی اور جسے بعد میں علی گڑھ مسلم میں بدل دیا گیا۔1981 کی ترمیم کی کسی بھی پارٹی نے مخالفت نہیں کی تھی۔تب جنتا پارٹی نے بھی اس کی حمایت کی تھی۔اس دور میں بی جے پی کے نائب صدر رہے رام جیٹھ ملانی اور جنتا پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ رہے سبرامنیم سوامی بھی ترمیمات کے سپورٹ میں تھے۔ 2005 میں اے ایم یو کے ایک فیصلے نے پھر سے تنازع گرمادیا۔ اے ایم یو نے 2005 سے میڈیکل کے پوسٹ گریجویٹ کورس میں مسلم طلباء کو 50فیصد ریزرویشن دینے کا انتظام کردیا۔ اے ایم یو کے اس فیصلے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چنوتی دی گئی۔ اکتوبر 2005 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اے ایم یو کا اقلیتی درجہ پھر سے خارج کر دیا اور سپریم کورٹ کے 1967 کے فیصلے کو صحیح قرار دیتے ہوئے 1981 کے ترمیمات کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ 50 فیصد مسلم طلباء کو ریزرویشن دینے کے فیصلے پر بھی روک لگا دی گئی۔ مرکز کی اس وقت کی منموہن سرکار نے اس فیصلے کے خلاف اپیل داخل کی،لیکن ہائی کورٹ کی ڈبل بینچ نے سابق کیفیصلے کو صحیح ٹھہرایا اور مانا کہ اے ایم یو کا قیام مسلم طبقے نے نہیں ،بلکہ اس وقت کی سرکار نے کیا تھا، لہٰذا اسے اقلیتی درجہ نہیں دیا جاسکتا ، اس فیصلے کے خلاف بھی اس وقت مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی، جو ابھی زیر التوا ہے۔موجودہ مرکزی سرکار نے اس اپیل کو واپس لینے کافیصلہ کیا ہے، یعنی الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہی قابل عمل رہے گا۔بی جے پی کی مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب اتر پردیش کا اسمبلی انتخاب نزدیک ہے۔ فطری بات ہے کہ مرکز کے اس فیصلے سے پولرائز ہوگا، لیکن اس بار کے مذہبی پولرائزیشن کا جال اکیڈمک ہے اورسوچی سمجھی پالیسی سے بُنا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *