اکھلیش جی! سات ہزار کروڑ کہاں ہیں؟

اترپردیش سرکار کے سات ہزار کروڑ روپے حساب سے غائب
گورنمنٹ ریونیو کو ساڑے چار سو کروڑ کا سالانہ نقصان الگ سے
پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن اور کنسٹرکشن کارپوریشن کی ملی بھگت اجاگر
کام شروع ہونے سے پہلے ہی کنسٹرکشن کارپوریشن کو دے دیے ایک ہزار کروڑ
ملک بھر میںگھٹیا اورکم صلاحیت والے سب اسٹیشنوں کا پھیلا دیا جال
سزا کے بجائے بدعنوان افسروں کو دی گئی ترقی اور من چاہی تعیناتیاں
کنسٹرکشن کارپوریشن کا بدعنوان جی ایم ٹرانسمیشن کارپوریشن میںبن گیا ڈائریکٹر
پربھات رنجن دین
p-1اترپردیش کے سرکاری خزانے کے سات ہزار کروڑ روپے روپے غائب ہیں۔ سات ہزار کروڑ روپے کا حساب ہی نہیں مل رہا ہے۔ اترپردیش پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن اوریوپی اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے ٹاپ پر بیٹھے بدعنوان افسروں نے سازباز کرکے توانائی (انرجی) کے مد کی اتنی بڑی رقم کو خورد برد کردیا ہے۔ اس گھوٹالے سے اترپردیش سرکار کو 450کروڑ روپے کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔ نقصان کی رقم گھوٹالے کی رقم سے الگ ہے۔ ہزاروں کروڑ روپے کا گھپلہ کرنے والے اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے جنرل منیجر آر این یادو کو کامیابی کے ساتھ بدعنوانی کرنے کے لیے سرکار نے انعام دیا اور انھیںاترپردیش پاور کارپوریشن کے ’یوجنا‘ محکمہ کا ڈائریکٹر بنا دیاگیا۔ آراین یادو کی ’اسپلشلائزیشن‘ کی ساکھ یہ ہے کہ سرکار نے انھیںپاورکارپوریشن کے پرسنل ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کا بھی اضافی چارج دے رکھا ہے۔ یہ معاملہ اگر غیر جانبدارانہ جانچ کی طرف جائے، تو ’بھرشٹ پروش‘ یادو سنگھ کیس سے بھی بڑا گھوٹالہ ثابت ہو۔ فرق صرف اتنا رہے گا کہ ایک کا نام یادو ہے اور دوسرے کانِک نیم یادو ہے۔ پورا سسٹم ایسے لوگوں پرکتنا مہربان رہتا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ جس وقت اس گھوٹالے کی اسکرپٹ لکھی گئی، اس وقت ٹرانسمیشن کارپوریشن کے فنانس ڈائریکٹر رہے ایس کے اگروال کو بعد میں اترپردیش الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کا ممبر بناکر عزت افزائی کردی گئی۔ اس وقت ٹرانسمیشن کارپوریشن کے چیف جنرل منیجر رہے اے کے اگروال کو ریٹائر ہونے کے بعد کارپوریشن کا صلاح کار مقرر کرلیا گیا۔ اگروال نے اپنی کنسلٹنسی کمپنی کھول رکھی ہے۔ یہ سب بدعنوانی کرنے میںبھی صلاح کار تھے اور اب بدعنوانی کی جانچ میںبھی صلاح کار رہیں گے۔ اسی اسپانسرڈ پروسیس سے ملک سے بدعنوانی جائے گی۔ یوپی اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن مایاوتی کے دور حکومت میں بھی اربوں روپے کے آرکیٹیکچرل مونومنٹ گھوٹالے میں کافی نام کما چکا ہے۔ مایاوتی سرکار کے اس اربوں روپے کے گھوٹالے پر سماجوادی پارٹی کی سرکار نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اب مایاوتی کی سرکار آئے گی،تو وہ ایس پی سرکار کے گھپلے گھوٹالے ہضم کرجائے گی۔ بدعنوانی میں مایاوتی اور اکھلیش میںبہترین سمجھداری ہے۔
ملک بھر میں تقریباً 80پاور سب اسٹیشنوں کی تعمیر کے لیے جو رقم دی گئی تھی، اس میںشدید بدعنوانی کی گئی ہے۔ اس میں مرکزی سرکار سے قریب20 ہزار کروڑ روپے یوپی کے لیے مختص ہوئے۔ قانونی پروویژن ہے کہ پاور سب اسٹیشنوں کی تعمیر کے لیے اسی ادارے کو ٹھیکہ دیا جائے گا،جسے اسپیشلائزیشن اور تجربہ حاصل ہو۔ لیکن پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن کے علمبرداروں نے اس شعبے میں ناتجربہ کار اور نان اسپیشلسٹ ادارے اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کو 51 پاور سب اسٹیشن بنانے کا ٹھیکہ دے دیا۔ پاور سب اسٹیشن بنانے کے لیے اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کی طرف سے کوئی منصوبہ بندی کی تجویز، بجٹ تخمینہ اور تعمیراتی تیاریوں کی پیشگیتفصیل بھی نہیںدی گئی، لیکن ٹرانسمیشن کارپوریشن کے ڈائریکٹر (آپریشنش) آر ایس پانڈے کی طرف سے آفیشیل لیٹر جاری کردیا گیا۔ کنسٹرکشن کارپوریشن کے نام سے 220 کے وی کے21 سب اسٹیشن بنانے اور 132 کے وی کے 30 سب اسٹیشن بنانے کی لاٹری کھول دی گئی۔ کنسٹرکشن کارپوریشن کو ٹھیکہ دینے میں سارے پروویژن طاق پر رکھ دیے گئے اور کام شروع کرنے سے پہلے ہی ایک ہزار کروڑ روپے کا ایڈوانس پیمنٹ بھی کردیا گیا۔ ایک ہزار کروڑ روپے کی پیشگی ادائیگی کرنے کی اتنی جلدبازی تھی کہ اترپردیش پاور کارپوریشن نے سیدھے اپنے ہی فنڈسے کنسٹرکشن کارپوریشن کو پیمنٹ جاری کردی۔ اس پیمنٹ کے بارے میں ڈویژن کو کچھ پتہ ہی نہیںچلا، جبکہ ساری ادائیگی متعلقہ ڈویژن کے ذریعہ ہی ہونی چاہیے۔ باقی بچے سب اسٹیشنوںکو بنانے کا ٹھیکہ لارسن اینڈ ٹروبو ، کرامپٹن گریوز او رکچھ دیگر نامی گرامی کمپنیوںکو دیا گیا۔ ان کمپنیوںنے باقاعدہ ساری فارملٹیز مکمل کیں۔ منصوبہ بندی کی تجویزدی، اپنا بجٹ تخمینہ پیش کیا اور سب اسٹیشنوںکی تعمیر میں لگنے والے میٹریل اور ایکوپمنٹ کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ ان کمپنیوںکو کوئی ایڈوانس بھی نہیں دیا گیا۔ ملک بھر میں پاور سب اسٹیشن بن گئے، لیکن تعمیر کے درمیان کبھی اس کا انسپکشن نہیںہوا اور سامان و آلات کی کوالٹی کی کوئی جانچ نہیںہوئی۔
سارے پاور سب اسٹیشن بن گئے اور وزیر اعلیٰ نے فیتہ کاٹ کر اسے شروع بھی کرادیا۔ اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن سمیت دیگر کمپنیوں کی ادائیگی بھی ہوگئی۔ لیکن قریب سات ہزار کروڑروپے حساب سے غائب ہیں۔ اس کی کوئی تفصیل دستیاب نہیںہے۔ دستاویز بتاتی ہیںکہ 6972.35 کروڑ وپے کا حساب نہیںمل رہا ہے۔ کارپوریشن نے سات ہزار کروڑ روپے میں سے 5921.88 کروڑ روپے رورل انجینئرنگ کارپوریشن (آر ای سی) اور پاور فنانس کارپوریشن (پی اے سی) سے 12 فیصد سود کی شرح پر قرض کے طور پر لیے تھے۔ سود کو دیکھتے ہوئے ساڑھے چار سو کروڑ روپے کا جو نقصان ہورہا ہے، وہ گھوٹالے کی رقم سے الگ ہے۔ بدنظمی کا حال یہ ہے کہ سب اسٹیشنوں کی تعمیر کے بعد اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن نے خرچ کی تفصیل (کیپٹلائزیشن ) پیش کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں سمجھی، جبکہ یہ قانونی طور پر لازمی ہے۔ کنسٹرکشن کارپوریشن نے بجلی گھروںکی تعمیر کے بعد اسے ہینڈ اوور کرنے کے وقت نہ کوئی سامان بچا ہوا دکھایا اور جو ایکوپمنٹ لگے، ا س کی بھی کوئی تفصیل (ٹیکنیکل اسپیسیفکیشن) نہیںدی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کافی خاطرداری کے بعد کنسٹرکشن کارپوریشن نے محض چھ بجلی گھروںکی تعمیر کابیورا پیش کیا، وہ بھی صرف ایک صفحہ میں۔ ٹرانسمیشن کارپوریشن کے ٹاپ مینجمنٹ نے ا س ایک صفحہ کے کیپٹلائزیشن کو بھی بغیر جانچے پرکھے اسے پاس کردیا۔ بھدا مذاق یہ ہے کہ کارپوریشن نے اس ایک صفحہ کی تفصیل پر لکھا کہ کنسٹرکشن کارپوریشن خود ہی اپنے چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ سے اس کی جانچ کرا لے۔ کنسٹرکشن کارپوریشن کے ذریعہ بنائے گئے سب اسٹیشن اب اصلی اوقات پر آرہے ہیں۔ جو ٹرانسفارمر لگائے گئے، وہ کم صلاحیت والے نکل رہے ہیں۔ اس پر بھی انجینئروں پر دباؤ دیا جارہا ہے کہ وہ کلین چٹ دے دیں۔
سات ہزار کروڑ کے اس بڑے گھوٹالے کو تکنیکی طور پربھی دیکھتے چلیں۔ سال 2015-16 کا ٹرانسمیشن ٹیرف اترپردیش پاور ریگولیٹری کمیشن کے ذریعہ 18.06.2015 کو جاری کیا گیاتھا۔ کمیشن نے ٹرانسمیشن کارپوریشن کے کل اینوئل ریونیو ریکوائرمنٹ میں ممکنہ کیپٹلائزیشن خرچ کا 30 فیصد کاٹ کرٹرانسمیشن ٹیرف مقرر کیا اور اس سنگین معاملے کے بارے میں ضروری کارروائی کے لیے ضروری ہدایات دی تھیں۔ کٹوتی کا سبب یہ تھا کہ ٹرانسمیشن کارپوریشن کا ایسیٹ رجسٹر آدھا ادھورا پایا گیا تھا۔ اس بارے میںڈائریکٹر (کامرشیل) کے لیٹر (نمبر 265-، مورخہ 27-07-2015 اور نمبر 269- مورخہ 29-07-2015 کے ذریعہ ڈائریکٹر (فنانس) سے ضروری کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی۔ کارپوریشن کے ایسیٹ رجسٹر کو آدھا ادھورا بتائے جانے کی اصلی وجہ یہ تھی کہ ٹرانسمیشن کارپوریشن کے نام پر تقریباً سات ہزار کروڑ روپے کا حساب نہیںمل رہا تھا۔ مذکورہ رقم میں سے زیادہ تر پی ایف سی اور آرای سی سے 12 فیصد کے سود پر قرض کے طور پر لی گئی ہے۔
نومبر 2015 اور اس کے بعد کی سبھی جائزہ میٹنگوں میں اس حقیقت کواٹھایا گیا او رساتھ ہی اتنی بڑی پینڈنگ رقم کا حساب جاننے کے لیے فیلڈ انجینئروں سے تعاون کرنے کی درخواست کی گئی۔ کامرس سیکشن کی مسلسل کوشش سے مذکورہ رقم کے پینڈنگ معاملوں کو حل کرتے ہوئے بہت مشکل سے .15 سو کروڑ روپے کی رقم کے خرچ کا حساب کتاب (کیپٹلائزیشن) جٹایا جاسکا، لیکن باقی رقم کاحساب نہیں مل رہا۔ اتنا ہی بتایا جارہا ہے کہ 6972.35 کروڑ روپے پائپ لائن میں ہیں۔ اس میں 2099.40 کروڑ روپے کیپٹل ورکنگ اِن پروگریس (سی ڈبلیو آئی پی) میں،3822.48 روپے کیپٹل ایڈوانس میں اور 1050.47 کروڑ وپے جمع بتائے جارہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کی آفیشیل بازیگری ہے، عام لفظوں میںجسے ہیر اپھیری کہتے ہیں۔ اسی محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر سے جب پائپ لائن کے سورس سے لے کر نکاسی کے بارے میںپوچھا تو وہ سورس تو بتاپائے، لیکن نکاسی کے بارے میں گول مول کرگئے۔ مندرجہ بالا رقم میں 5921.88 کروڑ روپے مالیاتی اداروں (پی ایف سی و آر ای سی) سے 12 فیصد سود پر لیا گیا قرض ہے۔ اس سود کی بھرپائی کے لیے کیپٹل ایکسپنڈیچر کا کیپٹلائزیشن کرکے اسے اینوئل ریونیو ریکوائر منٹ (اے آر آر) میںشامل کیا جانا انتہائی ضروری ہے، لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔
پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) وشال چوہان کو اس معاملے کی ساری جانکاری فارملٹی کے طور پر 14-03-2016 کو دے دی گئی تھی۔ اس جانکاری میںیہ حقیقت شامل تھی کہ نجی ایگزیکیوٹنگ اداروں کے ذریعہ کرائے گئے زیادہ تر کاموں کا کیپٹلائزیشن کردیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ایگزیکیوٹنگ ادارے یوپی اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن نے اب تک اپنا کوئی حساب نہیں دیا ہے اور کارپوریشن کی مد میں کیپٹلائزیشن کی ضروری فارملٹیز باقی ہیں۔ مذکورہ جائزہ میٹنگ میںسبھی ڈائریکٹر موجود تھے اور باقاعدہ ا ن سب کے دستخط سے ایک یادداشت (نمبر 139-، مورخہ 17-03-2016) بھی جاری کی گئی۔
کارپوریشن کے ٹاپ مینجمنٹ نے آفیشیلی قبول کیا ہے کہ یوپی اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے ذریعہ جو 30 (132 کے وی) اور 21 (220 کے وی) ملاکر 51 سب اسٹیشنوں کی تعمیر کی گئی،اس کے لیے ہیڈکوارٹر سطح سے ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے کھاتے میںسیدھے ٹرانسفر کی گئی تھی ۔ مندرجہ بالا کاموں کا کیپٹلائزیشن کرانے کے لیے ہرایک ماہ میٹنگ کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً ہیڈ کوارٹر پر ہونے والی جائزہ میٹنگوںمیںبھی یہ حساس مسئلہ اٹھایا جاتا رہا اور متعلقہ ٹرانسمیشن انجینئروں سے تعاون کی درخواست کی جاتی رہی، لیکن کیپٹلائزیشن کی سمت میںکوئی پروگریس نہیں ہوئی۔ متعلقہ چیف انجینئر کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے پاس محض چھ سب اسٹیشنوں کے بارے میںاطلاع دستیاب ہے،وہ بھی ایک ہی صفحہ میں۔ اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن سے کیپٹلائزیشن کے لیے بار بار کہا جارہا ہے ، لیکن کوئی سنوائی نہیں ہورہی ہے۔
اس معاملے میں انڈرلائن کرنے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ متعلقہ سپرنٹنڈنٹ انجینئر اور چیف انجینئر کے آفس سے کنسٹرکشن کارپوریشن کو ایڈوانس جاری نہیںکیا گیا تھا۔ سارے ضابطوں کو طاق پر رکھتے ہوئے ایک ہزار کروڑ سے زیادہ کی رقم سیدھے سینٹرل اکاؤنٹس سیکشن سے جاری کردی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میںکوئی بھی افسر یا انجینئر ہاتھ ڈالنے سے جھجک رہاہے۔ اکاؤنٹس سیکشن سے سیدھے ایڈوانس کی اتنی بھاری رقم جاری کردی گئی، لیکن کارپوریشن سے جو کام کرانا تھا، اس کی کوئی میزرمنٹ مارکنگ کی ہی نہیںگئی، جبکہ وہ قاعدے کے مطابق انتہائی ضروری تھی۔ اکاؤنٹس ہیڈ کوارٹر کے ڈپٹی چیف اکاؤنٹنگ افسر کا کہنا ہے کہ مذکورہ سبھی ادائیگیاں ’پریکلپ انوبھاگ‘ کے حکم کے مطابق کی گئیں۔ کاموں کی کوئی تفصیل آفس میں دستیاب نہیں ہے۔
فیلڈ انجینئروں کا کہنا ہے کہ فیلڈ میںتعینات ایگزیکٹو انجینئروں کو کسی طرح کے ورک آرڈر اور اس کی ادائیگی کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ان کے ذریعہ صرف میٹریل پروگریس کی ا طلاع بھیجی جاتی تھی، وہ بھی فیصد میں۔ المیہ یہ ہے کہ سیکٹرس میں تعینات کیے گئے انجینئروں کو سب اسٹیشنوں کی تعمیر کے دوران میٹریل اور کام کی کوالٹی کی جانچ کرنے کے بنیادی ذمہ داری سے ہی الگ رکھا گیا اور کنسٹرکشن کارپوریشن کو من مانے طریقے سے کام کرنے کی آفیشیلی چھوٹ دی گئی۔ اب ان ہی انجینئروں پرکنسٹرکشن کارپوریشن کے حساب کتاب کو کلین چٹ دینے کے لیے دباؤ بنایا جارہا ہے۔
گھٹیا سامان لگائے گئے،نچلے درجہ کے الیکٹریکل ایکوپمنٹ لگائے گئے اور یہاں تک کہ مقررہ صلاحیت سے کم کے ٹرانسفر بھی لگادیے گئے۔
ریاستی تعمیراتی کارپوریشن (اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن) سے حساب مانگا جا رہا ہے تو ٹال مٹول کی جا رہی ہے اور اترپردیش ٹرانس میشن کارپوریشن لمیٹڈ کے اعلیٰ افسر اس مسئلے سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ معاملہ پوری طرح مشتبہ ہے۔ محکماتی ضابطوں کے مطابق کوئی کام کرانے کے لیے ٹینڈر کی شرح کا جائزہ لے کر کم سے کم قیمت پر کام کرانے کا حتمی حکم جاری کیا جاتا ہے اور متعلقہ کام کے معیار کی جانچ کے لیے باضابطہ طور پر ذمہ داری بانٹی جاتی ہے، تاکہ کام کے معیا ر میں کمی پائے جا نے پر قصوروار شخص یا تنظیم کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ کام مکمل ہونے کے بعد اس کی پیمائش محکمہ کے انجینئر کے ذریعہ کی جاتی ہے اور ادائیگی سے متعلق حساب کتاب اور کٹوتی اکاؤنٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ یقینی بنائی جاتی ہے۔کنسٹرکشن کارپوریشن کو جو کام دیا گیا اسے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن اور متعلقہ ٹھیکہ دار ضروری ریکارڈ میں دھاندلی اور مینی پولیشن میں لگے ہیں ،اسی لیے حساب کتاب کرنے میں غیرضروری تاخیر ہورہی ہے۔گھپلہ کرنے والے اہلکار مست ہیں اور انہیں اہلکاروں کو ترقی مل رہی ہے اور انہیں ہی حکومت کا تحفظ بھی حاصل ہے۔
اربوں کے اس نقصان کی بھرپائی کون کرے گا؟
بجلی سب اسٹیشنوں کی تعمیر کے عمل سے انجینئروں کو الگ رکھا گیا ہے۔ جبکہ ٹینڈروں کے تعین سے لے کر بجلی سب اسٹیشنوں کی تعمیر اور ان کے معیار کی مکمل جانچ کے لیے باقاعدہ لکھنؤ، آگرہ، الہ آباد اور میرٹھ میں چار پاورڈویژن بنائے گئے تھے اور انہیں آٹھ حصوں میں تقسیم کرکے سبھی انجینئروں کی تعیناتی کی گئی تھی۔ اس کام میں ٹرانس میشن کارپوریشن کو تقریباً 10کروڑ روپے خرچ کرنے پڑے تھے۔ اس کے علاوہ بھی تمام سرکاری تام جھام کئے گئے تھے۔ لیکن کارپوریشن کے اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایت پر ڈا ئریکٹر اور ڈیزائن انڈ پروجیکٹ کے چیف انجینئروں نے فیلڈ انجینئروں کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔ اتنی مدت تک تمام انجینئر ز بغیر کام کے ہی اپنی تنخواہ اٹھاتے رہے، سرکاری خزانے کا یہ نقصان الگ سے ہوا۔ یہ راز کھلا کہ اتر پردیش الیکٹریسٹی ٹرانس میشن کارپوریشن نے سب اسٹیشنوں کی تعمیر کا ٹھیکہ اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کو دیا، لیکن کنسٹرکشن کارپوریشن نے اسے اونچی قیمتوں پر دوسرے ٹھیکہ داروں کو دے دیا۔ یعنی کنسٹرکشن کارپوریشن نے سب اسٹیشنوں کی تعمیر میں دو طرفہ کمائی کی۔ ایک جانب اس نے سرکاری قیمتوں پر ٹھیکہ حاصل کیا اور دوسری جانب اونچی قیمتوں پر دوسرے ٹھیکہ داروں کو سب لیٹ کر دیا۔ ٹھیکہ داروں نے سارے ناقص ساز وسامان استعمال کر کے سب اسٹیشن تعمیر کر ڈالے ۔ اب وہی سب اسٹیشن مقررہ صلاحیت سے کم حیثیت کے پائے جا رہے ہیں۔

اکھلیش ہضم کر گیے مایا وتی کی بدعنوانیاں
بہوجن سماجوادی پارٹی کے دور اقتدار میں پارکوں مورتیوں اور میموریلس کے قیام کے نام پر اربوں روپے کی بدعنوانی کی گئی تھی۔ اس بدعنوانی میں وزراء اور نوکرشاہوںکے ساتھ اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے عہدیدار ملوث تھے۔ 2012میں جب سماج وادی پارٹی کی حکومت بنی تب وزیراعلٰی اکھلیش یادو نے مایا وتی کی بدعنوانیوں کی خاص طور پر نشاندہی کی اور یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ان بدعنوانیوں کی تفتیش کی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر شیوپال یادو نے بھی اس سلسلے میں کئی بیان جاری کئے تھے۔ لیکن وہ سبھی بیانات فرضی ثابت ہوئے۔ میموریل گھوٹالے میں بھی اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن کے عہدیدار ملوث تھے۔ لیکن اس گھوٹالے میں بھی کنسٹرکشن کارپوریشن کے بدعنوان افسروں کا کچھ نہیں بگڑا۔ ریاست کے اس وقت کے لوک آیکت این کے مہروترانے پارکوں اور میموریل کی تعمیر سے متعلق بدعنوانی کی تفتیش کی مکمل رپورٹ اور قصورواروں کے لیے سزا کی سفارش کی دستاویز وزیراعلیٰ کے حوالے کر دی تھی۔لیکن لوک آیکت کی رپورٹ اور ان کی سفارشات کو اکھلیش حکومت نے سرد بستے میں ڈال دیا۔ بدعنوانی کے اتنے سنگین معاملوں پر اکھلیش کی مشکوک خاموشی پر لوک آیکت نے اپنی ناراضگی بھی ظاہر کی تھی۔ لیکن اس کا بھی کوئی اثر اکھلیش پر نہیں پڑا۔ یہاں تک کہ لوک آیکت نے میموریلس کی تعمیر میں 15کروڑ روپے کے گھوٹالے کے لیے سابق وزیر نسیم الدین اور بابو سنگھ کشواہا کے ساتھ کل 199لوگوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے ان سے رقم وصولنے کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ 19افراد کے خلاف فوراً ایف آئی آر درج کرکے مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ لیکن سماجوادی حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا۔

لوک آیکت نے 88صفحات پر مشتمل اپنی جانچ رپورٹ میں مایا وتی حکومت میں وزیر رہے نسیم الدین صدیقی اور بابو سنگھ کشواہا سے گھوٹالے کی رقم کا تیس تیس فیصد حصہ وصولنے کی سفارش کی تھی۔ یہ رقم 846 کروڑ روپے ہوتی۔ ابھی توانائی سیکٹر کے ایک محکمہ میں سات ہزار کروڑ کا گھوٹالہ کرنے میں شامل کنسٹرکشن کارپوریشن اور ٹرانس میشن کارپوریشن کے عہدیداروں سے بھی گھوٹالے کی رقم وصول کی جانی چاہئے۔ لیکن گھوٹالوں پر جب وزیراعلیٰ چپی سادھے بیٹھے ہوں تو کارروائی کیسے ہوسکتی ہے۔ مایا وتی کے دور اقتدار میں میموریل کی تعمیر میں اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن نے کل 19,17,870.609کیوبک فٹ ا سٹون ، 50روپے فی کیوبک فٹ زیادہ قیمت بتا کر خرید دکھائی تھی۔ اس طرح کنسٹرکشن کارپوریشن نے سینڈ اسٹون کی خرید پر 9,58,93,530روپے کی زائد ادائیگی حاصل کی، جو کل ادائیگی کی رقم کا تقریباً 34فیصد تھا۔ یعنی اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن نے مرزا پور سینڈ سٹون کی خرید میں 34فی صد سرکاری ریونیو کا نقصان پہنچایا ، لیکن قصورواروں کے خلاف کارروائی کی صرف رسم ادائیگی دکھائی گئی۔ کنسٹرکشن کارپوریشن کے اس وقت کے مینجنگ ڈائریکٹر سی پی سنگھ، ایڈیشنل پروجیکٹ منیجرراکیش چندرا، اے کے سکسینہ، یونٹ ہیڈ کے آر سنگھ، ایس پی سنگھ، ایس کے شکلا، مرلی منوہر، اسسٹنٹ ریزیڈنٹ انجینئر راجیو گرگ، پروجیکٹ منیجرایس پی گپتا، پی کے جین، ایس کے اگروال، آر کے سنگھ، بی ڈی ترپاٹھی، ایڈیشنل پروجیکٹ منیجر مکیش کمار، ہیرا لال اور ایس کے چوبے کے خلاف مجرمانہ مقدمے قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی، لیکن لوک آیکت کی سفارشیں نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئیں، پھر عام آدمی کی بولی کیا بلا ہے! بدعنوانی کا زور تو اتنا ہے کہ یوپی کی پڑوسی ریاست میں جب وجے بہوگنا وزیراعلیٰ بنے تھے تب انہوں نے بدعنوانی کے ملزم اتر پردیش کنسٹرکشن کارپوریشن کے اس وقت کے مینجنگ ڈائرکٹر سی پی سنگھ کو صلاح کار مقرر کر لیا تھا۔

کنسٹرکشن کارپوریشن پر اکھلیش ہمیشہ رہتے ہیں نرم
اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن بڑے بڑے گھوٹالوںمیں ملوث رہا ہے، لیکن کارپوریشن پر وزیر اعلیٰ کی مہربانی رہی ہے اور کارپوریشن کے بدعنوان عہدیدار پھلتے پھولتے رہے ہیں۔ ودھان سبھا کے سامنے زیر تعمیر سیکریٹریٹ اور دارالشفاء کے کیمپس کے لیے کنسٹرکشن کارپوریشن نے پھر مرزاپور سینڈ سٹون کا گھپلا کیا۔ اس میں کارپوریشن کے ایم ڈی رہے آر کے گوئل کا نام آیا۔ گوئل مایاوتی کے بھی منظور نظر رہے ہیں۔ گوئل نے سماج وادی دور اقتدار میں بھی بی ایس پی سے جڑے ٹھیکداروں کو خوب فائدہ پہنچایا اور خود بھی موٹی کمائی کی۔ اس پر سماجی کارکن ڈاکٹر نوتن ٹھاکر نے قانونی اعتراضات بھی درج کرائے اور لوک آیکت سے شکایت بھی کی، لیکن جب لوک آیکت کی سفارشوں کواکھلیش نے انگوٹھا دکھا دیا تو نوتن ٹھاکر کی کیا بساط ہے!
کنسٹرکشن کارپوریشن میں پھیلی بدنظمی کی وجہ سے لکھنؤ میں کینسر انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا سماجوادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو کا ڈریم پروجیکٹ مکمل نہیں ہو سکا۔وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے اپنے والد کی ڈریم پروجیکٹ پر دھیان نہیں دیا۔ ملائم نے سال 2012میں سماجوادی پارٹی کی حکومت بننے کے بعد ہی لکھنؤ میں کینسر انسٹی ٹیوٹ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے لیے لکھنؤ کے چک گنجریہ فارم کو اجاڑ بھی دیا گیا اور ملائم نے سنگ بنیاد بھی رکھ دیا، لیکن سات سو کروڑ روپے کا یہ پروجیکٹ آج تک کھڑا نہیں ہو پایا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *