افریقی ممالک سے ہندوستان کی بڑھتی دوستی

p-8bوزیراعظم مودی ملکی معیشت میں بہتری اور تیزی لانے کے مقصد کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس سلسلے میں وہ حالیہ دنوں بے پناہ تنقید کے باوجود چار افریقی ممالک کا دورہ کرکے ملک واپس آچکے ہیں۔وہ اپنے اِس دورے میں جنوبی افریقہ، تنزانیہ اور کینیا بھی گئے۔ وہ گزشتہ 34 برسوں میں موزمبیق کا دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیراعظم ہیں۔ ان چاروں ملکوں میں وزیراعظم کے وفد کے اراکین نے کئی اقتصادی و ثقافتی معاہدات کو حتمی شکل دی۔اس دورے میں وزیر اعظم کی پہلی منزل موزمبیق تھا۔اس کے بعد جنوبی افریقہ، تنزانیہ اور کینیا گئے۔ خیال رہے کہ جنوبی افریقہ ہندوستان کا چھٹا بڑا تجارتی پارٹنر ملک ہے۔ دونوں ملکوں کا تجارتی حجم پانچ بلین ڈالر سے زائد ہے۔ ماہرین کے مطابق وزیراعظم کے دورے کا بنیادی مقصد افریقہ میں چینی تجارتی عمل کا مقابلہ کرنا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے صدر تنزانیہ جان پومبے مگوفولی سے وسیع تر مسائل پر بات چیت کی جس کا مقصد براعظم افریقہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں خاص طور پر معاشی شعبہ میں اضافہ کرنا تھا۔ جب وزیر اعظم اسٹیٹ ہائوز پہنچے تو وہاں وزیراعظم کا روایتی استقبال کیا گیا ۔ وزیراعظم کی تنزانیہ میں مصروفیات کا آغاز اسٹیٹ ہاؤز دارالسلام سے ہوا۔ وزیر اعظم مودی نے صدر تنزانیہ کے ساتھ تقریباً ایک منٹ تک نقارہ بھی بجایا۔ صدر تنزانیہ نے محدود پیمانے پر وفود کی سطح کی بات چیت میں شرکت کی۔وزیر اعظم کے دورہ کا مقصد تنزانیہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں اضافہ کرنا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات دیہی خواتین شمسی افریقی انجنیئروں کے گروپ ’’ سولار ماماس ‘‘ ( شمسی مائیں ) سے بھی ہوئی۔
حکومت ہند تنزانیہ کو تعمیر، مرمت اور شمسی قندیلوں کی دیکھ بھال تاکہ افریقہ کے دیہاتوں میں شمسی توانائی کے ذریعہ روشنی کرنے کا نظام قائم کیا جاسکے ‘ کیلئے مالی امداد فراہم کررہی ہے۔ وہ موزمبیق اور جنوبی افریقہ کا دورہ کرنے کے بعد دارالسلام پہنچے ۔پھر وہاں سے کینیا کے دورہ پر چلے گئے۔ ان کے افریقی دورہ کا مقصد ہائیڈرو کاربنس ‘ بحری صیانت ‘ تجارت ‘ سرمایہ کاری ‘ زراعت اور غذائی اجناس میں تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔
تنزانیہ کے عوام وزیراعظم نریندر مودی کے نقارہ بجانے کی مہارت پر حیرت زدہ ہوگئے۔ انہوں نے صدر تنزانیہ جان کومبے جوزف مگوفولی کے ساتھ روایتی نقارہ بجایا۔ دونوں قائدین نے چوبی نقارے تقریباً ایک منٹ بجائے۔ 65سالہ مودی نقارہ بجاتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے۔ اْن کے ہمراہ صدر تنزانیہ بھی نقارہ بجارہے تھے جو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دیر کیلئے رک گئے تھے اور دوبارہ نقارہ بجانا شروع کردیا۔ جب کہ انہوں نے دیکھا کہ وزیراعظم ہند نقارہ بجانا بند کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ نقارہ بجانے والے کی حیثیت سے مودی کی مہارت کا اندازہ سب سے پہلے ستمبر 2014 میں جاپان میں ہوا تھا جب انہوں نے جاپانی نقارہ نوازوں کے ساتھ جگل بندی کی تھی۔
ہندستان نے تنزانیہ کے ساتھ زنجیبارمیں تجارتی تربیتی مرکز قائم کرنے اور اسے واٹر سپلائی سسٹم کیلئے 9.2 کروڑ روپئے قرض دینے سے متعلق سمجھوتہ سمیت پانچ سمجھوتوں پر دستخط کئے۔وزیر اعظم نریندر مودی اور تنزانیہ کے صدر جان ماگوفلی کی موجودگی میں دونوں ممالک کے سینئر حکام نے پانچ سمجھوتوں پر دستخط کئے جن میں آبی وسائل کے مینجمنٹ وترقی سمجھوتہ، ہندستانی چھوٹی صنعت کارپوریشن اور تنزانیہ کی چھوٹی صنعت کی ترقی کی تنظیم کے مابین سمجھوتہ اور سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ یافتگان کیلئے ویزا چھوٹ سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔صدر ماگوفلی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ دونوں ممالک دفاع اور سیکورٹی ساجھے داری، خصوصاً بحری خطوں میں مزید مضبوط بنانے پر متفق ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی اور تبدیلی آب و ہوا کے خطروں سے نمٹنے کیلئے دوطرفہ، علاقائی اور عالمی سطح پر مل کر کام کرنے کیلئے متفق ہوئے ہیں۔مودی نے دونوں فریقوں کے درمیان ہوئی جامع بات چیت کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شراکت داری کے تمام امکانات پر غور کیا گیا اور تنزانیہ سے ہندستان کو دالوں کی برآمد ات میں اضافہ سمیت زراعت اور غذائی تحفظ کے سیکٹر میں تعلقات مضبوط بنانے پر مفاہمت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک17 شہروں کے لئے کئی واٹر پروجیکٹوں پر کام کر رہے ہیں جس کے لئے ہندستان کم سود کی شرح پر 50 کروڑ ڈالر کا اضافی قرض دینے کے لئے تیار ہے۔ مودی نے کہا ‘عوامی صحت’ مشترکہ مفاد کا ایک اور اہم سیکٹر ہے اور ہندوستان دواؤں اور طبی آلات کی فراہمی سمیت تنزانیہ میں طبی خدمات کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تیار ہے۔ بگاندو میڈیکل سینٹر میں کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے ایک ہندستانی ریڈیو تھراپی مشین لگائی گئی ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ دونوں ممالک کے مابین تین ارب ڈالر کی دوطرفہ سالانہ تجارت ہوتی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تنزانیہ کی ترجیحات اور ضروریات کے مطابق ہندستان اس کا تعاون کرتا رہے گا۔انہوں نے کہاکہ ہندستان کے افریقہ کے مشرقی ساحلی ممالک کے ساتھ، خاص طور پر تنزانیہ کے ساتھ بہت مضبوط تعلق ہے۔ مودی نے افریقی جزیرہ کے چار ممالک کے دورہ کے دوران تنزانیہ پہنچنے کے بعد ٹویٹ کیا کہ ‘تنزانیہ پہنچ گیا۔ میں اس دورہ کے سلسلے میں کافی پرجوش ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہندستان اورتنزانیہ کے روابط کو ایک نئی جہت ملے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *