آسمانی بجلی صحیح معلومات ہی اس قہر سے بچاسکتی ہے

چوتھی دنیا بیورو
p-11cمانسون کے آتے ہی ایک آسمانی قہر ٹوٹتا ہے،جس کا نام ہے بجلی۔ایک بجلی جہاںزندگی میں روشنی لاتی ہے،وہیںیہ آسمانی بجلی انسانی زندگی میں اندھیرا لانے کاکام کرتی ہے۔عام لوگ اسے آسمانی آفت سمجھ کر چپ رہ جاتے ہیں،جبکہ یہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ بجلی بننے کا عمل، اس کے گرنے کا عمل وغیرہ پوری طرح سے ایک سائنسی حقیقت ہے۔ اس بارے میںدنیا بھر میںمطالعے بھی ہورہے ہیں، اس سے بچاؤ کے بارے میںسائنسداں طریقے بتاتے ہیں۔ حال ہی میںبجلی گرنے کے سبب بہار، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں قریب 80 لوگوں کی موت ہوگئی۔ بہار کے پٹنہ، نالندہ، پورنیہ، بھوجپور، روہتاس، بکسر اور اورنگ آباد میںیہ اموات ہوئیں اور 24 لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ 13 جانوروں کی موت بھی واقع ہوئی۔ جھارکھنڈ اور اترپردیش میںبھی الگ الگ جگہوںپر بجلی گرنے سے کئی لوگوںکی موت ہوئی۔
کیا ہے آسمانی بجلی
جب ٹھنڈی ہواگاڑھی ہوکر بادل بنتی ہے، تب ان بادلوں کے اندر گرم ہوا کی رفتار اور نیچے ٹھنڈی ہوا ہونے سے بادلوں میں پازیٹو چارج نیچے کی طرف ہوتا ہے، تب بجلی بنتی ہے۔ بادلوں میںان مخالف چارجز کے باہمی ایکشن سے الیکٹریکل چارج پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح آسمانی بجلی کی تخلیق ہوتی ہے۔ بادلوں کے اندر الیکٹریکل چارج کی مقدار کو فلڈ مل نام کے ایک آلہ کی مدد سے ناپا جاتا ہے۔ بادلوں کے تصادم یا ان میں موجود آبی ذرات کے آپسی ٹکراؤ سے بادلوںکی گڑگڑاہٹ سنائی دیتی ہے۔ بجلی گرنے کے زیادہ تر واقعات کسی درخت یا بجلی کے کھمبے کے آس پاس ہوتے ہیں۔ بادلوںکے اندر پیدا ہوا چارج زمین کی طرف آتا ہے، تب اس سے بلڈنگ اور برقی آلات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آسمانی بجلی گرنے پر بہت زیادہ مقدار میںبجلی زمین میںپہنچتی ہے۔ دھاتیں بجلی کی اچھی کنڈکٹر ہوتی ہیں، اس لیے اس حادثہ کے دوران برقی آلات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ بجلی میں کچھ ہزار سے لے کر تقریباً دو لاکھ ایمپئر تک کا کرنٹ فلو ہوسکتا ہے ۔
بجلی کی قسمیں
بجلی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک ہے وسیع بجلی۔ وسیع بجلی کافی وائڈ فیلڈ پر ہوتی ہے اور اس کی لگاتار لائٹ بادلوںپر کافی دور تک پھیل جاتی ہے۔ بجلی کی دوسری قسم کو دھاری دار یا لائن کیرکٹر بجلی کہتے ہیں۔ اس میں ایک یا زیادہ لائٹ لائنس سیدھی یا ٹیڑھی اِدھر یا ا ُدھر دوڑتی ہوئی لگتی ہیں۔ اس میں الیکٹرک ڈسچارج بادل سے بادل میں، بادل سے زمین میں یا بادل سے ماحول کے بیچ ہوتا ہے۔ تیسری طرح کی بجلی کو گیند بجلی کہتے ہیں۔ یہ گیندکی شکل میںزمین کی طرف آتی ہے، جیسے جیسے یہ زمین کی طرف آتی ہے، اس کی رفتار کم ہوتی جاتی ہے۔
بجلی سے بچنے کے لیے کیا کریں؟
جب بجلی گرنے کا امکان ہو یا بجلی گررہی ہو، تب جنگل میںدرخت کے نیچے نہ کھڑے ہوں۔ بجلی کے کھمبوں اور درختوں سے دور رہیں۔ دھات کی چیزوں سے بھی دور رہیں۔ برقی آلات کا استعمال نہ کریں۔ ہنگامی حالات کے علاوہ موبائل، ٹیلی فون کا استعمال نہیںکریں۔ جنگل میںہونے پر نچلے مقام پر یا وادی کے علاقے میں رہیں، لیکن وہاں اچانک آئے سیلاب سے بھی محتاط رہیں۔ کسی پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے نہ رہیں۔ کسی واٹر سورس میں تیر رہے ہوں یا نہا رہے ہوں، تو اس سے نکل کر زمین پر آجائیں۔ اگر آپ کے سر کے بال کھڑے ہورہے ہوں، تو آپ کے آس پاس خطرہ ہوسکتا ہے۔ کسی انہونی سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے بالوںکو ڈھک کر سر کو گھٹنوں میںچھپالیں۔ بجلی سے بچنے کے لیے پبلک بلڈنگس کے اوپر لائٹننگ کنڈکٹر لگوانا چاہیے۔ بجلی گرنے کے بعد فوری طور پر باہر نہ نکلیں۔ زیادہ تر موتیںطوفان گزرجانے کے 30 منٹ بعد تک بجلی گرنے سے ہوتی ہیں۔ اگر بادل گرج رہے ہوں اور آپ کے رونگٹے کھڑے ہورہے ہوں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بجلی گرسکتی ہے۔ ایسے میںنیچے دبک کر پیروں کے بل بیٹھ جائیں۔ اپنے ہاتھ اور سر دونوں گھٹنوںکے بیچ گھٹنے پر رکھ لیں۔ اس حالت میںآپ کا زمین سے کم رابطہ ہوگا۔ چھتری یا موبائل فون کا استعمال نہ کریں۔دھات کے زریعہ بجلی آپ کے جسم میںگھس سکتی ہے۔
متاثرہ شخص کی مدد کیسے کریں
اگر کسی پر بجلی گرجائے، تو فوری طور پر ڈاکٹر کی مدد مانگیں۔ ایسے لوگوں کو چھونے سے آپ کوکوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اگر کسی پر بجلی گری ہے، تو فوری طور پر اس کی نبض دیکھیںاور اگر آپ فرسٹ ایڈ دینا جانتے ہیں، تو ضرور دیں۔ بجلی گرنے سے اکثر دو جگہوںپر جلنے کا خدشہ رہتاہے، ایک تو وہ جگہ جہاںسے بجلی کا جھٹکا جسم میں داخل ہو اور جس جگہ سے اس کا نکاس ہواجیسے پیر کے تلوے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بجلی گرنے سے آدمی کی ہڈیاںٹوٹ گئی ہوں یا اسے سننا یا دکھائی دینا بند ہوگیاہو، اس کی جانچ کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *