ٓآپ کی آندھی میں اڑتا پنجاب

منیش کمار
پنجاب میں اسمبلی انتخاب کی گہماگہمی بڑھ گئی ہے۔ تمام پارٹیاں کمپین موڈ میں آ چکی ہیں۔ ریاست میں شرومنی اکالی دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔ کانگریس پارٹی اصل اپوزیشن ہے۔ بہوجن سماج پارٹی بھی اس ریاست میں پھیلی ہوئی ہے۔ عام صورت میںیہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ عوام موجودہ حکومت سے ناخوش ہیں، اس لیے کانگریس پارٹی کی جیت کے امکانات مضبوط ہیں۔ لیکن اس بار پنجاب کا انتخابی ماحول غیر معمولی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انتخاب میں عام آدمی پارٹی نے دوسری سبھی پاٹیوں کے انتخابی حساب کتاب کوبگاڑ دیا ہے۔ پنجاب انتخاب کے نتیجے کیا ہوں گے؟ ایسے کئی سوال ہیں جو پنجاب انتخاب کو لے کر لوگوں کے دماغ میں تجسس پیدا کر رہے ہیں۔ کچھ لوگو ں کو لگتا ہے کہ ناممکن کا ممکن ہوجا نا ہی سیاست کا کردار ہوتا ہے۔
p-5پنجاب اسمبلی انتخاب میں ابھی کئی مہینے باقی ہیں۔ انتخابی سیاست کی سمت اور رفتار بدلنے کے لیے ہفتے بھر کا وقت کافی ہوتا ہے۔ ایک غلط فیصلہ یا ایک غلط بیان جیتی ہوئی بازی کو شکست میں تبدیل کردیتا ہے۔ پنجاب انتخاب میں تو ابھی کئی مہینے کا وقت باقی ہے۔ ہر ایک پارٹی نے ابھی اپنی اپنی چالوں کو ظاہر بھی نہیں کیاہے۔ کسی پارٹی کا امیدوار بھی طے نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں انتخابی سروے ہی واحد ذریعہ ہیں، جن کے سہارے لوگ ووٹروں کا موڈ سمجھنے کی کو شش کرتے ہیں۔ حالانکہ انتخابی سروے کی صداقت اور درستگی پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ آج کا ووٹر اتنا خاموش اور ہوشیار ہو چکا ہے کہ ایگزٹ پول بھی غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔ انتخابی سروے سے ہمیں محض اشارہ ملتا ہے، ہوا کے رخ کا اندازہ ہوتاہے، اس لئے پنجاب انتخاب کو سمجھنے کے لیے انتخابی سروے پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
کچھ دن پہلے سی -ووٹرس کا سروے آیا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ سی-ووٹرس سے متعلق یہ عام تاثر ہے کہ اس کے سروے کا جھکائو بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف ہوتا ہے،جبکہ سی -ووٹرس کے سروے کے جو نتیجے ہیں، وہ چونکانے والے ہیں۔ اس سروے کے مطابق پنجاب کی کل 117سیٹوں میں سے عام آدمی پارٹی 94-100سیٹیں جیت سکتی ہے۔ کانگریس 8-14سیٹیں جیت کر دوسرے مقام پر رہے گی ، وہیںاکالی دل -بھارتیہ جنتا پارٹی کو صرف 6-12سیٹیں ملنے کی امید ہے۔ بے شک اس سروے کا نتیجہ عام آدمی پارٹی کے لیے بڑی خوشخبری ہے، لیکن اس سروے میں عام آدمی پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔ اس سروے کے مطابق 59 فیصد لو گ اروند کجریوال کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ پنجاب کے ووٹروں کی امیدوں کو کجریوال کیسے پورا کریں گے ،یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پنجاب کی زمینی حقیقت یہی ہے جیسا کہ سی-ووٹرس کے سروے کے نتیجوں میں اندازہ لگایا گیا ہے؟
دراصل، پنجاب میں شرومنی اکالی دل-بھارتیہ جنتا پارٹی سرکار کے خلاف ماحول ہے۔ ووٹرس موجود ریاستی حکومت سے ناراض ہیں۔ اس بات کو حکومت چلانے والی پارٹیوں کے لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پنجاب اسمبلی انتخاب میں حکومت مخالف لہر کا اثر ہونے والا ہے۔ لوگوں میں ناراضگی کی کئی وجہیں ہیں۔ ناراضگی کی سب سے بڑی وجہ بدعنوانی ہے۔ لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ اکالی دل -بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اب تک کی سب سے بدعنوان حکومت رہی ہے۔ کئی گھوٹالے اجاگر ہوئے اور پرکاش سنگھ بادل کی غلطی یہ رہی کہ انہوں نے بدعنوانوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بادل حکومت نوجوانوں کو روزگار مہیاکرانے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔پنجاب میں صنعت کاری پوری طرح تعطل کا شکار ہوگئی۔ سرمایہ کاری کے نام پر پنجاب ملک کی دوسری ریاستوں سے لگاتار پچھڑتا گیا۔ نوجوانوں کے لیے بادل حکومت روزگار کے مواقع نہیں پیدا کر سکی اور اس کا اثر یہ ہوا کہ نشے کا زہر سماج میں گھلتا چلا گیا۔ حکومت مخالف لہر کا اثر شہر میں زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ شہروں میں حکومت کے تئیں زیادہ ناراضگی ہے۔ ویسے بھی روایتی طور پر شرومنی اکالی دل کی طاقت پنجاب کے دیہی ووٹرس ہیںاور اس طبقہ میں پرکاش سنگھ بادل کی ساکھ آج بھی برقرار ہے۔ اکالی دل کی دوسری پریشانی یہ ہے کہ اس پارٹی میں بادل خاندان کے باہر کسی بھی لیڈر کی کوئی ہستی نہیں ہے۔ یہ عام تاثر ہے کہ پرکاش سنگھ بادل وزیراعلیٰ کے نام پر مکھوٹے کی طرح رہے، دراصل سارے فیصلے ان کے بیٹے سکھ بیر سنگھ بادل لیا کرتے تھے۔سکھ بیر سنگھ بادل کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ تاناشاہ کی طرح پارٹی چلاتے ہیں۔ کسی دوسرے کی بات سنتے ہی نہیں ہیں۔ دس سال تک مسلسل اقتدار میں رہنے کی وجہ سے ان کے رویہ میں بدلائو نہیں آیا اور اب پارٹی کارکن، اتحاد کے لیڈر وں اور عوام کا صبر بھی ختم ہوگیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی اور اکالی دل میں تال میل نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمینی سطح پر یہ اتحاد ٹوٹ چکا ہے۔ ویسے پنجاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی ایک چھوٹی پارٹی ہے ۔ پارٹی کی مرکزی قیادت نے اس کی توسیع پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ پنجاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی ، شرومنی اکالی دل کی پچھلگو پارٹی بن کر رہ گئی ہے۔ حالانکہ پنجاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے زمینی سطح کے لیڈر اور کارکن بھی بادل حکومت سے ناراض رہے ،لیکن مرکزی قیادت کے فیصلے کی وجہ سے کھل کر مخالفت نہیں کر سکے۔ کئی لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ امرتسر میں ارون جیٹلی کی شکست اسی وجہ سے ہوئی تھی۔ فی الحال تو حالات ایسے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی لیڈر پنجاب میں شرومنی اکالی دل سے الگ ہوکر انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شرومنی اکالی دل کو حکومت مخالف لہر کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ تلخ ہوئے رشتے کا بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
کانگریس پارٹی کے سامنے پنجاب انتخاب بہت بڑا چیلنج ہے۔ اسمبلی انتخاب میں کانگریس پارٹی کو لگاتار شکست کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کانگریس جن جن ریاستوں میں حکومت چلا رہی تھی ہر جگہ اقتدار سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ لیکن جن ریاستوں میں وہ اپوزیشن میں ہے، وہاں تو کم سے کم انتخاب جیت کر اپنی حاضری، اپنی ساکھ اور اپنے جواز کواسے ثابت کرنا ہوگا۔ آسام اور کیرل میں حکومت گنوانے کے بعد پنجاب کے انتخاب میں جیت سے ہی کانگریس کو سنجیونی مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اتر پردیش کے انتخاب سے پہلے پنجاب میں انتخاب جیتنا کانگریس کے لیے ضروری ہے ورنہ اترپردیش کے ساتھ ساتھ گاندھی خاندان کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو جائے گا۔ پنجاب کی سیاست اور تاریخ کو دیکھیں، تو عام دلیل یہی کہتی ہے کہ اس بار کانگریس کی سرکار بننی چاہیے۔ لیکن جس طرح کا سیاسی ماحول ہے ،اس میں کانگریس پچھڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریندر سنگھ لوگوں کے اندر یقین جگانے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پارٹی پہلے سے ہی اندرونی جھگڑوں میں الجھی ہوئی تھی۔ اعلیٰ کمان ابھی تک پنجاب کے اندرونی جھگڑوں کا حل نہیں تلاش کر پائی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کانگریس پارٹی پنجاب میں انتخابی تیاری کے لحاظ سے سب سے پیچھے ہے۔ پنجاب میں انتخابی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے پارٹی کی جانب سے پرشانت کشور کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ پرشانت کشور کو لے کر امریندر سنگھ ناراض ہیں۔ کانگریس کی پریشانی یہ ہے کہ اس کے پاس کیپٹن امریندر سنگھ سے زیادہ قابل اعتماد چہرہ کوئی نہیں ہے۔
ہائی لائٹر:
پنجاب میں بدعنوانی ہے۔ پنجاب کا نظم ونسق خراب ہے۔ لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب میں مافیا راج ہے۔ بے روزگاری کی وجہ سے پنجاب کا نوجوان نشے کے جال میں پھنس گیا ہے۔ نہ سرمایہ کاری ہوئی ہے اور نہ ترقی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت سے پنجاب کے لوگ غیرمعمولی طور پر ناراض ہیں، لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کے سامنے متبادل کیا ہے؟ سچائی یہ ہے کہ لوگ ابھی بھی کانگریس سے ناراض ہیں۔ بدعنوانی کے مدعے پر راہل ہوں یا امریندر سنگھ، لوگوں کا یقین جیتنے میں کانگریسی ناکام رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں تیسری طاقت کے لیے جگہ بنی، جسے عام آدمی پارٹی نے پُر کیا۔ فی الحال پنجاب کا ماحول عام آدمی پارٹی کے حق میں ہے۔ جولوگ تبدیلی چاہتے ہیں، ان کے لیے عام آدمی پارٹی پہلی پسند ہے۔

پنجاب میں عام آدمی پارٹی ایک قابل اعتماد متبادل کے روپ میں ابھری ہے۔ اس بات کی تصدیق لوک سبھا انتخاب کے نتیجوں نے بھی کی۔ عام آدمی پارٹی نے پنجاب میں چار سیٹیں جیت کر پورے ملک کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن لوک سبھا انتخاب کے بعد عام آدمی پارٹی کے اندر کافی اتھل پتھل بھی ہوئی ہے۔ پارٹی کے زمینی سطح کے کارکنوں کے درمیان گروہ بندی ہے۔ لیڈران کے درمیان بھی زبردست گروہ بندی ہے۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے چار میں سے تین رکن پارلیمنٹ پارٹی کے ساتھ نہیں ہیں۔ پارٹی میں مقامی قیادت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہکجریوال نے انتخابی مہم کی کمان اپنے ہاتھوںمیں لے رکھی ہے۔ اتنا ہی نہیں تنظیمی کاموں سے منسلک سارے فیصلے دلی سے آئے ہوئے لیڈر لیتے ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہر پارٹی کے اندر اس طرح کی خیمہ بازی ہوتی ہے۔ اقتدار کے لیے جدوجہد ہوتی ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پارٹی کو اس تضادسے گزرنا ہوتا ہے۔ ہر پارٹی اپنے طریقے سے پارٹی کے اندرونی جھگڑوں کا حل نکالتی ہے۔ جب پارٹی کے سب سے بڑے نیتا اور دوسرے سنیئر لیڈرانتخابی حکمت عملی تیار کرتے ہوں اور اسے عملی جامہ پہنانے میں شامل ہوں ،تو پارٹی کی اندرونی خیمہ بازی کو قابو میں کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اروند کجریوال یہی کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم کی کمان کجریوال نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھی ہے۔ پارٹی کے تمام بڑے لیڈرپچھلے چھ مہینے سے پنجاب میں کیمپ کر رہے ہیں۔ ہر شہر اور قصبہ میں جا کر پارٹی کو منظم کر رہے ہیں۔ ابھی تک وزیر اعلیٰ کے امیدوار کا اعلان نہیں ہوا ہے ، لیکن یہ طے ہے کہ عام آدمی پارٹی اروند کیجریوال کے چہرے پر انتخاب لڑے گی۔
کجریوال اور عام آدمی پارٹی کی انتخابی مہم کو لوگوں کی حمایت مل رہی ہے۔ کجریوال جہاں جاتے ہیں، لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ دلی سے گئے عام آدمی پارٹی کے لیڈروںکو اچھا ردعمل مل رہا ہے۔ لیکن دقت یہ ہے کہ پارٹی کے پاس مقامی چہرے کی کمی ہے۔ زمینی سطح پر کارکن تو ہیں،لیکن ان کی قیادت کرنے والے لیڈروں کی کمی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے پالیسی سازوں کو ان کمیوں کا اندازہ ہے، اس لیے دلی کے نیتائوں کو مسلسل پنجاب بھیجا جارہا ہے اور الگ الگ پروگراموں کے ذریعہ کارکنوں اور عوام کے جوش کو برقرار رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پہلی بار پنجاب میں سہ رخی مقابلہ ہونے جارہا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کو لگتا ہے کہ 2012کے انتخاب میں من پریت سنگھ بادل نے مقابلہ کو سہ رخی بنانے کی کوشش کی تھی ،لیکن انتخاب میں وہ آخر تک میدان میں ثابت قدم نہیں رہ سکے۔ وسائل کی کمی، انتخاب کی تیاریوں میں کمی اور اچھے امیدواروں کے فقدان کے باوجود من پریت سنگھ بادل 5فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، لیکن ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکے۔ البتہ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اروند کجریوال نے بڑی کامیابی کے ساتھ موجود حکومت کے خلاف عوام کی ناراضگی کو اپنی حمایت میں بدل دیا ہے۔ پنجاب میں دلتوں میں بھی اپنی رسائی بنالی ہے۔ ساتھ ہی وہ کانگریس کے شہری ووٹروں کا دل جیتنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں ماحول عام آدمی پارٹی کے حق میں ہے۔ فی الحال یہ کہا جا سکتا ہے کہ انتخاب جیتنے کے لیے عام آدمی پارٹی کو اب صرف 117اچھے امیدواروں کی ضرورت ہے۔ لیکن تمام سیاسی پارٹیوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انتخاب اور کرکٹ میچ میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے۔ ان میں آخری داؤں تک جیت اور ہار کا پتہ نہیں چلتاہے۔ پنجاب کے لوگ مذہبی ہیں، جذباتی ہیں اور حساس بھی ہیں۔ انتخاب کے دوران دل کو چھونے والا ایک جملہ بھی ہار کو جیت میں بدل سکتا ہے اور بیجا جوش وخروش میں ہوئی معمولی غلطی بھی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *