تیسری سرکار کا زمینی سچ

کمار کرشنن
p-5جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل کے بعد پنچایت کے دو انتخاب ہوچکے ہیں۔ ریاست میں 24 ضلعوںکے 263 ڈویژنوں میں پچھلے سال ہوئے انتخاب میں 4402 گرام پنچایتوں میںمکھیا کے عہدے کے لیے انتخاب ہوئے۔ اس کے علاوہ گرام پنچایتوںکے 54,330 وارڈ ممبروں ، پنچایت کمیٹی کے 5423 اور ضلع پریشد کے 545 ممبروں کے لیے انتخاب ہوئے۔ اس بار جھارکھنڈ میں پنچایتی راج انتخاب میں54 فیصد خواتین چن کر آئی ہیں، جو ریزرویشن لمٹ سے 4 فیصد زیادہ ہے۔ جھارکھنڈ میں اسے خواتین کوبااختیار بنانے کی سمت میںایک بڑی حصولیابی مانا جارہا ہے۔ پنچایت راج معاملے میں جھارکھنڈ کی صورت حال دوسری ریاستوں سے کچھ الگ ہے۔
جھارکھنڈ ریاست کی تشکیل کے 10 سال بعد 2010 میں پہلی بار جھارکھنڈ میں پنچایت انتظامیہ کی بنیاد پڑی ۔ اقتدار کی لامرکزیت کی سمت میں اس پہل کی تعریف ہوئی تھی۔ آئین کی 73 ویںترمیم میں پنچایت انتظامیہ کے لیے جن 29 اختیارات کا تصور کیا گیا تھا، اس پر عمل نہیںہوا۔ اس مدت میںسرکار نے تقریباً ڈیڑھ درجن محکموں کی طاقت پنچایتوںکے حوالے کردی۔ امید تھی کہ محکمہ جاتی افسروں کے ٹرانسفر کے بعد گاؤںکی تصویر بدل جائے گی، لیکن آئین کی طرف سے فراہم کردہ حقوق کی مانگوںکو لے کرآوازیںبلند کرنے میںہی وقت گزر گیا۔ کافی اہلکار اور پنچایت بلڈنگوںکی عدم موجودگی میںنئے نظام کوصحیح ڈھنگ سے نافذ کرنا بڑی چنوتی تھی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ عام لوگ اور نو منتخب نمائندوں سے لے کر عہدیداروں اور اہلکاروں تک کو پنچایتی راج نظام کے کام کاج کے طریقوں ، باہمی حقوق اور فرائض وغیرہ کی مکمل جانکاری نہیں تھی۔ پنچایت انتخاب ہونے کے بعد بھی جھارکھنڈ میں پنچایت باڈیز کو اختیار حاصل کرنے کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑی ۔
اس کے باوجود گاؤ ں کی سرکار کوسرکاری محکمے آسانی کے ساتھ آہنگ کرتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ آئینی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے سالوں سے پنچایتی راج اداروں کو مضبوط کرنے کی مانگ کو ریاست کی سرکار نے قبول تو کرلیا، لیکن حالات جوںکے توں ہیں۔ کہنے کو تو تینوںسطحوں کے پنچایتی راج اداروں (گرام پنچایت، پنچایت کمیٹی اور ضلع پریشد) کو اختیار دے دیے گئے ہیں، لیکن اب بھی معاملہ فنڈ، فنکشن اور فنکشنریز میںہی لٹکا ہے۔ لال فیتہ شاہی کی وجہ سے یہ اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کر پارہے ہیں۔ پنچایتی راج اداروں کو آئینی اور مالی اختیار سونپے جانے کا محض اعلان کرنے سے ہی نہیں، بلکہ سرکاری محکموں کے منصوبوں کے عمل درآمد میںان کا کردار بھی صاف کرنا ہوگا۔ نہ تو ان اداروں کے لیے مین پاور کو لے کر کوئی ہدایت دی گئی ہے اور نہ ہی ان سے جڑے کاموںکو لے کر کوئی تصویر صاف کی گئی ہے۔ کئی دور کی میٹنگوںکے بعد بھی نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ تیرہ ایسے سرکاری محکمے ہیں، جنھوں نے تینوں سطح کے پنچایتی راج اداروں کو طاقت دے دی ہے، لیکن ان میں کئی کمیاں رہ گئی ہیں۔ اس بابت گزشتہ مہینے کی 31 تاریخ کو ان سبھی محکموں کو ایک لیٹر بھیجا گیا ہے۔
اس دور کے چیف سکریٹری راجیو گوبا نے پنچایتی راج اداروں کی مضبوطی اور سرکاری محکموںمیںان کے کردار کو لے کر ایک خط لکھا ہے۔ لیکن وہ خط بھی سرکاری فائل میںکہیں دھول کھا رہا ہے۔ آئین کے 11 ویںشیڈول میںدیے گئے 29 موضوعات کو جوڑتے ہوئے ریاست کے 13 محکموں میں تینوں سطح کی پنچایتوں کو طاقت تفویض کی گئی ہے۔ ا س کے باوجودڈھیروںخامیاں ہیں۔ سب سے بڑی بات یہ سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر محکموں میںان اداروںکے لیے فنڈ ہی نہیں ہے۔ دوسری بڑی دقت یہ ہے کہ کچھ محکموں نے ان طاقتوںکا بٹوارہ الگ الگ لیول پر نہیںکیا ہے۔ اس سے یہ کنفیوژن بنا ہے کہ کس لیول پراور کس پروسیس کے تحت کا م کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ محکمہ کے اہلکاروں کی تقرری، ٹرانسفر، پوسٹنگ، ان کا کنٹرول ، آبزرویشن، چھٹی اور خفیہ رپورٹ جیسے مدعے پر کوئی وضاحت نہیں ملی ہے۔ ان نکات پر سرکار سے کوئی واضح ہدایت نہیں ملی ہے۔ مثال کے طور پر انڈسٹری ڈپارٹمنٹ کے لیے کھادی بورڈ، اسمال انڈسٹری اور جھارکرافٹ جیسے اداروں میں پنچایتی راج کا کیا کردار ہوگا، یہ واضح نہیں ہے ۔ ان باڈیز سے جڑے فائدوں کو پنچایتی راج ادارے کیسے منتخب کریں گے، یہ بھی واضح نہیں ہے۔ وہیں، جنگلات و ماحولیات محکمہ اب بھی دوسری ریاستوں کے ماڈل کا مطالعہ کرنے میں لگا ہے کہ کس طرح وہاں کے پنچایتی راج ادارے اس محکمے سے جڑے ہیں۔ اسی طرح سماجی بہبود، سائنس و ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ، ریونیو اینڈ لینڈ ریفارمس اور فوڈ سپلائی ڈپارٹمنٹ نے بھی اپنے مسائل سرکار کو بتائے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ جب چیف سکریٹری کی سطح پر میٹنگ ہوئی تھی اور سرکاری محکموں کو جب ان نکات پر بات چیت کے لیے بلایا گیا، تو 13 میں سے 7 محکموں کے نمائندے پہنچے ہی نہیں۔
آج بھی جھارکھنڈ جیسی ریاست میں35 فیصد لوگ خط افلاس سے نیچے گزارہ کرتے ہیں۔ جھارکھنڈ کے دیہی علاقوںمیںلوگ بی پی ایل درجہ اور اندرا آواس کی جتنی مانگ کرتے ہیں،اُتنی کسی دوسری چیز کی نہیں۔ دیہاتیوںکو لگتا ہے کہ اگر وہ بی پی ایل کے دائرے میںآجائیںگے، تو بہت سارے سرکاری منصوبوں اور سہولتوں کا فائدہ اٹھا سکیںگے۔وہیں،اگر لوگ اس سطح سے اوپر جائیں گے، تو ان کی مانگوںکی ترجیح خودبخود بدل جائے گی۔ تب وہ گاؤں میںسڑک، بجلی، پانی اور تعلیم و روزگار جیسی پانچ بنیادی چیزوں کی مانگ کرنے لگیں گے۔ لیکن ابھی ان مانگوںکا درجہ یہاں بی پی ایل و اندرا آواس کے بعد ہی آتا ہے۔ بہر حال، سرکار گاؤں کی صورت بدلنے کا ڈھول خوب پیٹتی ہے۔ گاؤں بدلے ہیں، لیکن اس سطح تک نہیںکہ جس طرح اس کی تشہیر کی جارہی ہے۔
سرکار نے دیہی ترقی اور دیہاتیوں کی فلاح و بہبود کے لیے درجنوں منصوبے چلارکھے ہیں۔ جھارکھنڈ جیسی قبائلی ریاست کے تناظر میںاس طرح کے منصوبے اور زیادہ ہیں۔ لیکن ، گاؤں کے لوگ ان منصوبوں کی واضح جانکاری نہیںہونے سے اس اسکیم کا فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مرکزی سرکار پنچایتوں کو ایک مضبوط و خود مختار حکومت یونٹ بنانے کے لیے راشٹریہ گرام سوروزگار یوجنا، بی آر جی ایف، پنچایت مہیلا ایوم شکتی ابھیان،رورل بزنس ہب، پنچایت امپاورمنٹ اینڈ اکاؤنٹبلٹی انسینٹو اسکیم جیسے پروگرام چلاتی ہے۔ لیکن کئی پنچایت نمائندوںکو اس کے تکنیکی پہلوؤںکی جانکاری نہیںہے۔
شری کرشن انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن رانچی کے ڈائرکٹر جنرل سدھیر پرساد کے مطابق ریاست میںپنچایت راج کی تشکیل کے بعد انھیں ضلع سطح پر رضاکار تنظیموں کے ذریعہ تربیت دلائی گئی۔ ریاستی سطح پر سرڈ و اے ٹی آئی میں لگاتار تربیت فراہم کرائی جاتی ہے۔الگ الگ تنظیموں اور محکموں کی طرف سے ان کے لیے تربیتی پروگرام چلائے جاتے ہیں۔ ان کا فائدہ ہوا ہے، لیکن اسے اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی تربیت سے موضوعات و اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ان کی جانکاری گہری ہوتی ہے، جس کا فائدہ ضرورت مندوں تک اسکیموں کی مؤثر رسائی اور دیہی ترقی کے روپ میںدکھائی دیتی ہے۔
پنچایتی راج محکمہ کے سکریٹری شنکر بتاتے ہیں کہ پچھلے سال ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ریاست کے 40 پنچایت نمائندوں کو گجرات کے پُنساری پنچایت کے سرپنچ ہمانشو پٹیل سے روبرو کرایا گیا۔ پُنساری پنچایت گجرات ریاست کے سابر کانٹھا ضلع میںواقع ہے۔ ہمانشو پٹیل کی قیادت میںاس پنچایت نے ترقی کے نئے ابعاد گڑھے ہیں اور آج یہ پنچایت ہندوستان کی آدرش پنچایتوں میںشمار ہوتی ہے۔ ترقی اور جدت طرازی کے پروگراموں کے لیے پنساری پنچایت قومی سطح پر اعزاز پاچکی ہے۔
پنچایتی راج محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر پروین شنکر کے مطابق ریاست میںپنچایتوں کے انتخاب ہوچکے ہیں۔ اب پنچایت سطح پر منصوبوں کا انتخاب اور عمل درآمد کیا جائے گا۔’ہماری یوجنا ہمارا وکاس‘ کے تحت ’یوجنا بناؤ ابھیان‘ چلایا جارہا ہے۔ اب افسروں کو پنچایتوںکے ساتھ آہنگی کے علاوہ منصوبوںپر عمل درآمد کرنا ہے۔ منصوبہ بندی کی تعمیر پنچایت سطح کی پرو گرام سبھا کے ذریعہ کی جائے گی۔ منریگا اور 14 ویںفائننس کے ذریعہ رقم میں اضافہ اور منصوبوںپر عمل درآمد ہونا ہے۔ ایسے میں کوآرڈینیشن کے ساتھ مالی پہلو پر خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
پٹیل نے پُنساری میںکیے گئے کچھ بہترین کاموں جیسے پنچایت سطح پر انفارمیشن سسٹم میں ڈیولپمنٹ، فیس کی بنیاد پر پینے کے پانی کا نظام اور سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعہ پنچایت کے سیکورٹی نظام کے تجربات بھی شیئر کیے۔ انھوں نے جھارکھنڈ کے پنچایت نمائندوںکو تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ کس طرح صرف سرکاری اسکیموںکے تحت ملنے والی رقم سے پنچایت کے ترقیاتی پروگراموں کوانجام دیا گیا۔
پنچایتی راج کے ماہر ڈاکٹر ویشنو راج گڑھیا کہتے ہیں، جن چیزوں کی ذمہ داری پنچایت کے نمائندوں کو دی گئی ہے، ا س کی جانکاری انھیں ہے اور جن موضوعات کی ذمہ داری انھیں سونپی ہی نہیں گئی، اس کی جانکاری انھیں کیسے ہوگی ۔ وہ کہتے ہیں کہ پنچایت نمائندے منریگا، آنگن باڑی سینٹر، ہیلتھ سینٹر کے چلانے میںاہم کردار نبھا رہے ہیں۔ ڈاکٹر راج گڑھیا کے مطابق پنچایت نمائندے پینے کے پانی اور حفظان صحت محکمے کا کام کررہے ہیں، لیکن جس کام کی ذمہ داری انھیںنہیںدی گئی ہے، اس کی جانکاری انھیںکیسے ہوگی۔ وہ کہتے ہیں، افسر بھی کام کرتے ہوئے سیکھتے ہیں، پہلے سے سب کو جانکاری نہیںہوتی۔
ریاست کے دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے وزیر نیل کنٹھ سنگھ منڈا کہتے ہیںکہ پنچایتی راج کے لیے مرکز سے ملی پہلی قسط کی رقم چنے گئے مکھیوںکے کھاتے میںڈال دی گئی ہے۔ منڈا نے کہا کہ پنچایتوں میں ترقی کے لیے ڈی آر ڈی اے کو پورا اختیار دے دیا گیا ہے۔ انھوںنے بتایا کہ جھارکھنڈ میںبڑے پیمانے پر دیہات کی سڑکوںکی تعمیر کی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے اعلان کیا ہے کہ سبھی پنچایتیںگرام سکریٹریٹ کی طرح کام کریں گی۔ جلد ہی سبھی پنچایتوںمیںدیہی سکریٹریٹ بنیں گے۔ کمپیوٹر آپریٹر سمیت دیگر ملازم بھی بحال ہوں گے۔ پنچایتوںکی ایک مجلس عاملہ ہوگی۔ پنچایتوںکے علاوہ ڈویژن اور ضلع سطح کے پنچایتی نمائندے بھی اس کے ممبر ہوں گے۔ سبھی پنچایتوںکو یہ اطلاع عام کرنی چاہیے کہ انھیںکس کام کے لیے کتنی رقم ملی ہے۔ عوام (گرام سبھا کے ممبران ) کو بھی یہ پتہ ہونا چاہیے ۔ سبھی پنچایتوں میں2017 تک انٹرنیٹ ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے نصیحت دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے پنچایت نمائندے سوچتے ہیں کہ مکھیا بن گئے، ضلع پریشد میں آگئے، تو جتنی بدعنوانی کرنی ہے، کرلیں۔ انتخاب کے وقت خبر آتی تھی، لوگ گھومتے تھے۔ کام نہیںکرنے والے پہلے کے 80 فیصد مکھیا اس بار ہار گئے۔
دیہی ترقی محکمے کے سکریٹری جنرل این این سنہا بتاتے ہیں کہ پنچایتی راج نظام ہمارے ملک کا قدیم نظام ہے۔ پنچایتیں صرف سرکار کی عملدر آمد کرانے والی ایجنسی نہیںہے۔ یہ سماجی ہم آہنگی اور ترقی کے لیے ایسے کئی ضروری کام بھی کرتی ہیں، جس میںکوئی خرچ جڑا نہیںہوتا۔سنہا نے بتایاکہ 14 محکموںکے کام ، منریگا اور 14 ویںمالیاتی کمیشن کو ملا کر پانچ سالوں میں پنچایتوں کو قریب 15 ہزار کروڑ روپے ملیںگے۔
وہیںفادر اسٹین سوامی سوالیہ لہجے میں کہتے ہیںکہ ریاست کی تشکیل کے 15 سالوںکے دوران پیسہ قانون نہیںلاگو کیے جانے کے پیچھے کیا سازش ہے۔ 1996میں شیڈولڈ ایریاز کے لیے پنچایت توسیع قانون پاس کیا گیا۔ اس قانون کامقصد ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے مکڑجال میں پھنسے آدیواسی سماج کو کیسے بچائیں اور ثقافت و روایت پر مرکوز کرتے ہوئے ان کے بیچ گڈ گورننس کیسے قائم کی جائے۔ وہ صاف طور پر کہتے ہیںکہ اگر پیسہ قانون کو صحیح طریقے سے لاگو کیا جائے، تو نوکر شاہی کا وجود ختم ہوجائے گا۔
پنچایتی راج کے شعبے میںتیس سالوںسے کام کرنے والی رضاکار تنظیم وکاس بھارتی کے سکریٹری پدم شری اشوک بھگت نے کہا کہ پنچایتی راج نظام کومضبوط کرنے کے لیے پنچایتوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات ملنے چاہئیں۔ اقتدار کی لامرکزیت سے ہی پنچایتوں کی ترقی ہوگی۔ جھارکھنڈ جیسی متضاد جغرافیائی حالات والی ریاست کے لیے پنچایتوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ پنچایتی راج کا بنیادی تصور مقامی منصوبوں میںعام لوگوں کی حصہ داری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *