تمل ناڈو: اماں نے تاریخ پلٹ دی

انشو دین منی
p-4پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوئے۔ سب کے نتائج آئے۔ ان میں جے للیتا نے میڈیا کے تمام اندازوں کو یکسر خارج کردیا۔ سارے اندازوں کو پٹخنی دیتے ہوئے جے للیتا کی پارٹی’ اے آئی اے ڈی ایم کے‘ نے 32 برسوں کا ریکارڈ ختم کرکے اقتدار پر دوسرے دور پرقبضہ جمالیا ۔ جے للیتا کی پارٹی کو 134 سیٹٰں حاصل ہوئیں، جبکہ کروناندھی کی پارٹی’ ڈی اےم کے‘ کو 89 سیٹوں پر ہی صبر کرنا پڑا۔ ’ڈی ایم کے‘ اور کانگریسی تال میل کو تمل ناڈو کے عوام نے خارج کر دیا اور جے للیتا کو اقتدار سونپ دیا۔
تمل ناڈو میں جے للیتا کی طرف سے شروع کی گئی اسکیمیں ان کی دوبارہ جیت میں اہم فیکٹر بنیں۔ جے للیتا نے اپنے نام پر بھی کئی اسمیں شروع کی تھی۔ ان میں ’اماں کینٹن‘ سے لے کر ’اماں پانی‘ اور ’اماں نمک‘ تک شامل ہے۔ ان اسکیموں کے ذریعہ ایک آدمی تقریبا 20 روپے میں تین وقت کا کھانا کھا سکتا ہے۔ جے للیتا کی جیت میں خاتون ووٹروں کا بھی اہم کردار رہا۔ تمل ناڈو میں ووٹنگ فیصد54فیصد ہوا،لیکن خواتین کی ووٹنگ کا اوسط 82 فیصد تھا۔سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ خواتین کے زیادہ تر ووٹ اماں کی پارٹی کو ہی گئے۔
سیاسی وجہوں میں’ ڈی ایم کے‘ کے اندرونی اختلاف اور پھوٹ نے بھی جے للیتا کے حق میں کافی ماحول بنایا۔ ’ڈی ایم کے‘ چیف کرونا ندھی کے بیٹے اسٹالن کو پروموٹ کئے جانے سے پارٹی کے سینئر لیڈر ناراض تھے۔ کچھ لوگوں نے تو پارٹی بھی چھوڑ دی تھی۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو کے انتخاب میں مودی فیکٹر کے رول کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔مودی ،جے کے درمیان اچھی ہم آہنگی رہی ہے۔مرکز کی کئی بڑی اسکیمیں تمل ناڈو میں کافی دھوم دھڑاکے سے لاگو کی گئیں۔ اس کے علاوہ چنئی میں آئے سیلاب کے دوران مرکز ی اور ریاستی سرکار کا تال میل بہترین رہا۔ مودی کے ساتھ بہتر تال میل اور ہم آہنگی کی وجہ سے جے للیتا بنام کرونا ندھی میں پلڑا جے للیتا کا ہی بھاری رہا۔ تمل ناڈو میں گزشتہ دو دہائی سے مقابلہ دو شخصیتوں کے بیچ ہی رہا ہے۔ پورا صوبہ اماں اور کرونا ندھی کے بیچ بٹا ہوا مانا جاتا رہا ہے۔ 2015 میں بد عنوانی کے ایک معاملے میں جے للیتا کے جیل جانے پر ان کے کچھ حامیوں نے خود کشی تک کر لی تھی۔ اس بار کے اسمبلی انتخاب میں بھی بنیادی لڑائی جے للیتا اور کرونا ندھی کے بیچ ہی رہی۔ انتخابی ڈائیلاگ بازی میں بھی ایک د وسرسے سے مقابلہ آرائی رہی۔جے للیتا نے کہا کہ انتخاب جیتنے پر وہ ریاست میں شراب بندی لاگو کریں گی تو کرونا ندھی نے بھی ایسا ہی ڈائیلاگ دوہرایا۔ جے للیتا نے اپنی انتخابی ریلیوں میں کہا، میں آپ کی ماں ہوں اور صرف ماں ہی اپنے بچوں کا درد سمجھ سکتی ہے۔ اس پر کروناندھی بولے کہ میں ٓاپ کے سرپرست کی طرح ہوں اس لئے لوگوں کی تکلیف سمجھتا ہوں۔لیکن میرے پاس اقتدار نہیں ہے۔ آپ اقتدار دیں گے،میں آپ کے مسائل دور کروں گا۔
تمل ناڈو میں انتخابی ماحول بنانے کے لئے جے للیتا نے کئی کارڈ بھی کھیلے۔ انہوں نے راجیو گاندھی حادثے کے قصورواروں کو رہا کرنے کا فیصلہ کرکے ایک سیاسی داﺅں کھیلا تھا۔سپریم کورٹ میں معاملہ چلے جانے کی وجہ سے رہائی تو نہیں ہو پائی،لیکن اس کا جو سیاسی پیغام لوگوں کے بیچ جانا تھا، وہ چلا ہی گیا۔ جے للیتا نے اپنے انتخابی مینی فیسٹو میں لوگوں کو مفت موبائل فون اور 100یونٹ بجلی مفت دینے کا وعدہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی لڑکیوں کو اسکوٹی خریدنے کے لے 50فیصد چھوٹ اور ہر غریب گھر سے ایک کو نوکری دینے کا بھی وعدہ انتخاب کے موقع پر خاص موثر رہا۔ حالانکہ’ ڈی ایم کے ‘نے بھی 3جی اور 4جی کنیکشن مفت میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ تمام ایگزٹ پول میں کروناندھی کی پارٹی’ ڈی ایم کے‘ کے اقتدار میں لوٹنے کا قیاس کیا گیاتھا،لیکن جے للیتا کی’ اے آئی ڈی ایم کے ‘نے تمل ناڈو کے سالوں سے چلی آرہی روایت کو بدل ڈالا۔ 1984 سے ہی یہاں کبھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا، جب کوئی پارٹی دوسری بار اقتدار میں آئی ہو۔لیکن جے للیتا نے اسے بدل ڈالا۔ جے للیتا نے کہا بھی کہ” ہمیں تاریخی جیت حاصل ہوئی ہے“۔ 1984 سے پہلے ایم جی رام چندرن تین بار تمل ناڈو کے اقتدار پر قابض رہے تھے۔
کانگریس کے منہ میں بی جے پی کا کریلا
کیرل میں وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی ریلی میںکیرل کا موازنہ بدحال صومالیہ سے کیا تھا۔ انتخابی نتائج نے کانگریس کو صومالیہ جیسی حالت میں ہی لا دیا۔ حالانکہ انتخاب کے بعد کیرل میں جس طرح تشدد ہو رہا ہے، اس سے بھی صومالیہ کا ہی احساس ہو رہا ہے۔ کانگریس ،یو ڈی ایف گٹھ بندھن کو 140 میں سے صرف 45سیٹوں پر ہی سمٹنا پڑا۔ لیفٹ گٹھ بندھن ایل ڈی ایف کو 83سیٹوں پر بھاری اکثریت ملی۔ بی جے پی کو بھی ایک سیٹ مل پائی۔ سابق مشہور کرکٹر ایس شری سنت پر بھی بی جے پی کا لگایا ہوا داﺅں بیکار چلا گیا اور وہ انتخاب ہار گئے۔ بی جے پی کا 4 فیصد کا ووٹ شیئر بڑھ کر 10 فیصد پر جاپہنچا ۔ بی جے پی کے لئے اتنا ہی بہت ہے۔کیرل میں لیفٹ اور رائٹ کے بیچ جان لیواا لڑائی عام بات رہی ہے۔
کیرل اسمبلی کی 140سیٹوں کے لئے اس بار 109 خاتون امیدواروں سمیت کل 1203 امیدواروں نے انتخابی میدان میں تال ٹھونکی تھیں۔ یہاں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو رخی لڑائی ہی تھی، جس میں کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف کو لیفٹ مورچہ کی قیادت والی ایل ڈی ایف نے زبردست پٹخنی دی۔ وی ایس اچیو تانند کی قیادت میں ایل ڈی ایف کو اقتدار میں واپسی کی امید پہلے ہی تھی، جو صحیح ہی ثابت ہوئی۔ مغربی بنگال میں اپنا وجود کھو چکے لیفٹ مورچہ کو کیرل میں 92 سال کے اچیوتا نندن کی پالیسی ، جوش اور انتخابی حساب و کتاب کا سہارا تھا، جو درست ثابت ہوا۔ ایل ڈی ایف گٹھ بندھن کے لئے کیرل اسمبلی کی انتخابی تشہیر میں اچیو تا نندن نے پوری طاقت جھونک دی تھی۔ روز اوسطاً دو سو کلو میٹر کی یاترا طے کرنے والے اچیو تا نندن نے تقریبا ًپچاس ریلیوں کو خطاب کیا، جس کا نتیجہ سامنے ہے۔کیرل کے انتخاب میں سب سے بڑا جھٹکا کانگریس کو لگا۔ کیونکہ سولر گھوٹالہ اور شراب گھوس کانڈ جیسے معاملے کانگریس کے گلے کی ہڈی بن گئے۔تھرواننت پورم سے ممبر پارلیمنٹ ششی تھرور نے انتخابی نتیجے پر کہا کہ یہ ہار کافی مایوس کن ہے اور یہ وقت کانگریس کے لئے از سر نو غور و خوض کرنے اور پھر سے کھڑا ہونے کا ہے۔جیوتی را سندھیا نے بھی کہا کہ پارٹی کو خود احتسابی کی ضرورت ہے ۔ کیرل کے مشہور جیشا عصمت دری اور قتل واقعہ نے بھی کانگریس گٹھ بندھن کو کافی نقصان پہنچایا ۔
کیرل اسمبلی انتخاب کے نتیجوں پر پورے ملک کی نظریں ٹکی ہوئی تھی۔ یہاں انتخاب اس لئے بھی خاص رہا کہ اس انتخاب میں بی جے پی نے یو ڈی ایف کو ہرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کیرل کے اس اسمبلی انتخاب میں بی جے پی نے 10 فیصد ووٹ حاصلکئے۔ ماناجارہاہے کہ اس میں سے زیادہ تر ووٹ یو ڈی ایف کے ہی حصے کے تھے۔ بی جے پی اس ووٹ شیئر کو صرف ایک سیٹ میں ہی بدل پائی،لیکن یہ صاف ہے کہ اس نے ایل ڈی ایف کو اقتدار حاصل کرنے میں بالواسطہ مدد کی۔2014 کے لوک سبھا انتخاب میں سخت ہار کی وجہ سے کیرل میں اقتدار بچائے رکھنا کانگریس کے لئے وقار کا مسئلہ تھا۔ وہیں ایل ڈی ایف کے لئے بھی یہ وقار کی لڑائی تھی،کیونکہ مارکسوادی مورچے کے لئے کیرل اسمبلی میں کھاتہ کھولنا کافی اہم مانا جارہا تھا۔لیفٹ مورچہ والے ایل ڈی ایف نے کیرل میں 88سیٹیں حاصل کی تو کانگریس کی قیادت والی’ یو ڈی ایف‘ کو 51 سیٹیں ملیں۔
بی جے پی نے کیرل میں دونوں پارٹیوں کے لئے فکر بڑھا دی ہیں۔ بی جے پی نے نئی تشکیل شدہ دھرم جن سینا کے ساتھ گٹھ بندھن کیا تھا۔ عیسائیوں کی اکثریتی والے کیرل میں بی جے پی نے راج سیکھرن کی قیادت میں جارحانہ طریقے سے ہندوتوا کارڈ کا سہارا لیاتھا۔ ریاست میں تقریبا 45 فیصد عیسائی اور مسلمان ہیں۔ ہندو تقریبا 55فیصد ہیں اور انہوں نے کبھی متحد ہوکر ووٹ نہیں کیا۔ غور طلب ہے کہ راج شیکھرن نے ریاست میں وشو ہندو پریشد کو قائم کرنے میں ایک بے حد اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالانکہ نائر سیوا سماج کے ذریعہ سپورٹ سے انکار کردینے کی وجہ سے بی جے پی کی اس اسکیم کو بڑا دھکا بھی لگا۔ کیرل اسمبلی انتخاب میں بد عنوانی بڑا ایشو رہا۔ یو ڈی ایف کے وزیر اعلیٰ اومن چانڈی کے دفتر میں ایک کے بعد ایک کائی بد عنوانی کے الزام لگے، جس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑا۔ جہاں تک اہم الزامات کی بات ہے تو اس وقت کے اشیائے خوردنی اور سول سپلائی وزیر انوپ جوسیف پر سولر گھوٹالے کا الزام اہم ہے۔اس کے علاوہ سریتا انئر نے تو چانڈی پر جنسی استحصال کرنے کا الزام بھی لگایا تھا۔ ایک دیگر الزام میں بار رشوت گھوٹالے میں بھی برسراقتدار پارٹی کا نام جوڑا گیا۔ بد عنوانی کے کئی پرانے معاملے بھی اٹھائے گئے جس میں 1991 کا ’پامالین تیل امپورٹ ‘معاملہ تھا، تب چانڈی وزیر خزانہ تھے۔
کیرل میں ہر پانچ سال کے عرصے میں اقتدار یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف کے پاس جاتی رہی ہے۔کیرل میں 1955 کو چھوڑ دیں، تو ہر انتخاب میں انتخابی بدلاﺅ ہوتا آیا ہے۔ ظاہر ہے اس بار باری ایل ڈی ایف کی تھی۔ اقتدار مخالف لہر کی وجہ سے کانگریس کچھ نہیں کر پائی۔ کیرل کے آدیواسی علاقوں میں غریبی اور قحط سے بچوں کی موت کے لئے بھی اس وقت کے وزیر اعلیٰ اومن چانڈی کے غیر یقینی رویے کو ذمہ دار ماناگیا۔ کیرل میں قانون کی پڑھائی کرنے والی ایک دلت طالبہ کے ساتھ نرمن عصمت دری اور قتل کے کچھ ہی دن بعد نرسنگ کی پڑھائی کرنے والی ایک دیگر دلت طالبہ کے ساتھ وار کلا میں ہوئے عصمت دری واقعہ نے بھی عوام کو جھنجھور کر رکھ دیا۔ کیرل میں کولم کے پونتی گل مندر میں آتش بازی کے دوران آگ لگنے اور دھماکہ سے 100 سے زیادہ لوگوں کے مرنے سے چانڈی سرکار کی انتظامی صلاحیت پر سوال اٹھنے لگے تھے۔
چھوٹی سی ریاست میں کانگریس کو بڑی سی راحت
پڈوچری مرکز کے تحت چلنے والی ریاست ہے۔ یہ ہندوستان میں تیسری سب سے گھنی آبادی والا خطہ بھی ہے۔ یہاں کا بنیادی کاروبار سیاحت اور ماہی گیری ہے ۔پڈوچری میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں برسراقتدار’ اے آئی این آر سی‘ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کانگریس ، ڈی ایم کے گٹھ بندھن نے اکثریت حاصل کی۔ اس ریاست کی 30سیٹوں میں سے کانگریس کو پندرہ اور اس کی اتحادی ڈی ایم کے کو دو سیٹیں ملی ہیں۔ جبکہ برسراقتدار اے آئی این آر سی کو8۔اے این اے کے ڈی ایم پارٹی کو چار سیٹیں ملیں ہیں اور ایک سیٹ آزاد امیدوار کے نام رہا۔
سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ این رنگا سوامی کے لئے یہ بڑا جھٹکا ہے جو چوتھی بار وزیر اعلیٰ بننے کی کوشش کررہے تھے۔ ان کی پارٹی اے آئی این آر سی کو محض 8 سیٹیں ملیں۔ شروع میں برسراقتدار اے آئی این آر سی اور کانگریس کے بیچ کانٹے کی ٹکر چل رہی تھی، لیکن بعد میں اس گٹھ بندھن نے رنگا سوامی کی پارٹی پر سبقت بنا لی۔ اکیلے انتخاب لڑنے والی اے این اے کے ڈی ایم کو یہاں چار سیٹیں ملیں۔ وزیر اعلیٰ این رنگا سوامی نے اندرا نگر اسمبلی حلقے میں کانگریس کے امیدوار وی ارموگم کو 3404 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ رنگا سوامی نے سال 2011 میں کانگریس سے الگ ہوکر اے آئی این آر سی کی تشکیل کی تھی۔ اے آئی این آر سی ، بی جے پی اور اے این اے کے ڈی ایم نے اکیلے انتخاب لڑا جبکہ کانگریس اور این کے ڈی ایم نے گٹھ بندھن کیا تھا۔ کانگریس نے 21 اور این اے کے ڈی ایم نے بقیہ سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے تھے۔ حالانکہ رنگا سوامی کی شبیہ مسٹر آنیسٹ کی رہی ہے، اور تمام اسکیموں کو زمین پر اتارنے میں ان کو مہارت حاصل ہے،لیکن پھر بھی یہ دوباراہ اقتدار پر قابض نہیں ہو پائے۔ 2011 کے اسمبلی انتخاب میں رنگا سوامی کی آل انڈیا این آر کانگریس اور جے للیتا کی اے آئی اے ڈی ایم کے نے گٹھ بندھن کیا تھا۔تب اے آئی این آر سی کو 15 اور اے آئی اے ڈی ایم کو پانچ سیٹیں حاصل ہوئی تھی۔ کانگریس کو 7 اور ڈی ایم کو 2 سیٹیں ملی تھیں اور ایک سیٹ پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔
اس بار کے انتخاب میں وزیر اعلیٰ اور اے آئی این آر سی کے بانی این رنگا سوامی ، اپوزیشن کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ وی وی ویتی لنگم (کانگریس ) پی سی سی لیڈر اے نماشیوایم اور پڈوچری اسمبلی کے صدر وی سبا پتی سمیت کئی اہم امیدوار میدان میں تھے۔ رنگا سوامی نے اپنے دور اقتدامیں کئی مفت والی اسکیمیں چلائیں۔ لیکن سرکار چلانے کے لئے ضروری آمدنی نہیں جٹا پائے۔ اسے ناکامی ماناگیا۔ رنگا سوامی پہلے کانگریس میں تھے اورپھر الگ پارٹی بنائی تھی۔ کانگریس ووٹروں کو یہ سمجھانے میں کامیاب رہی کہ رنگا سوامی نے پارٹی توڑ کر غلط کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *