مدھیس آندولن کا سیکنڈ پارٹ بڑھتی طاقت سے سرکار بے دم

ونود؍گووند
p-10bbbہندوستان کاپیارا قریبی ملک نیپال ان دنوں بھاری سیاسی بحران کے دور سے گزررہا ہے۔ گزشتہ سال اگست ماہ میں نیپال سرکار کے ذریعہ لائے گئے آئین کے مسودے کو مدھیسیوں نے ایک سرے سے خارج کرکے سرکار سے آئین میں ترمیم کی مانگ کی تھی۔ اس کے بعد حالات اس قدر بگڑ گئے کہ پورا نیپال ایک ناقابل تصور آندولن کی زد میں آگیا اور دھرنا، پردرشن سے لے کر اقتصادی ناکہ بندی مہینوں تک جاری رہی۔ اس دوران نیپال کے الگ الگ حصوں میںنیپالی پولیس ، فوج اور آندولن کرنے والوں کی بیچ ہوئی سیدھی ٹکر میں سیکڑوں آندولن کاریوں کو جان گنوانی پڑی۔ وہیںہزاروں لوگوں کو چوٹ بھیبرداشت کرنا پڑی۔ اس بیچ آندولن کاریوں نے سرکار کی ہٹ دھرمی کو بھانپ کر آندولن کی سمت بدلنےکا ارادہ کیا اور کچھ دنوں بعد دوبارہ نیپال سرکار سے اپنے حق کی مانگ کو لے کر سیدھا مقابلہ شروع کردیا۔ اب کی بار کا آندولن گاو¿ں کی بجائے ملک کی راجدھانی کٹھمنڈو کی سڑکوں پر چھیڑا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 29 مدھیسی حامی پارٹیوں کا اتحاد کیا گل کھلاتا ہے۔
طویلعرصہ تک ماو¿وادی تشدد کو جھیلنے کے بعد نیپال میںجمہوری نظام قائم کیا گیا، لیکن نیپالی حکمرانوںکے ناعاقبت اندیشانہ طریقہ کار کا نتیجہ رہا کہ محض چند سالوں بعد ملک میں سیاسی اتھل پتھل شروع ہونے لگی۔ پچھلے سال نیپال کی کے پی شرما اولی کی سرکار کے ذریعہ لائے گئے آئینی مسودے نے ایسا وبال کھڑاکیا کہ ملک میںآندولن کی لپٹیںدہکنے لگیں۔ ملک عدم استحکام کے دور سے گزرنے لگا۔ آئین میں واجب حق کی مانگ کو لے کر نیپال کی ترائی میںرہنے والے مدھیسیوں نے آندولن کا بگل بجادیا اور یہ انقلاب کا شعلہ بن کر نیپال کو دہلانے لگا۔ تب ہندو- نیپال سرحدپر بسے دونوںہی ملک کے شہریوںنے اپنے پرانے تعلقات پر خطرہ محسوس کیا اور نیپال کے مدھیسیوںکے آندولن کی حمایت کرنی شروع کردی۔ نیپال سے شروع مدھیس آندولن کی قیادت محض آدھا درجن تنظیموں کے ذریعہ اس وقت کی جارہی تھی۔ لیکن حال میںجب آندولن کا دوسرا مرحلہ نیپال کی راجدھانی کٹھمنڈو میں شروع کیا گیا ہے، تو اس آندولن کی حمایت میںتقریباً ڈھائی درجن سیاسی جماعتوں نے حصہ لینا شروع کردیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ آندولن کاری نیپال کے وزیر اعظم کے دفتر سے لے کر ان کی رہائش تک کی گھیرا بندی سے پرہیز نہیںکررہے ہیں۔ نیپال سرکار کی تمامترکوششیںبیکار ثابت ہورہی ہیں۔ نیپالی پولیس کا ڈنڈا بھی اب کوئی خاص معنی نہیںرکھ رہا ہے۔ اس بار کے آندولن میںایک نیا پہلو یہ سامنے آرہا ہے کہ اب تک کسی نے بھی آندولن کے لےے ہندوستان پر کسی بھی قسم کا الزام نہیںلگایا ہے۔ آندولن کاری نے بھی اب کی بار عام لوگوں کو پریشا ن نہیںکرنے کے عزم کے ساتھ نیپال سرکار کو سبق سکھانے کا ارادہ کیا ہے۔ آندولن کاریوں نے عام لوگوں کوبغیر کسی پریشانی میںڈالے اپنی لڑائی کو مقام تک پہنچانے کا من بن لیا ہے۔
اب نیپال میں شروع دوسرے مرحلے کے مدھیس آندولن پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ گزشتہ 15 مئی 2016 کو مدھیسی لیڈروں نے نیپال کی راجدھانی کٹھمنڈو میں سنگھ دربار کی گھیرابندی کرکے مظاہرہ کیا۔ نیپال کے آئین میں اپنے حق کو لے کر مدھیسی جماعتوں نے آپسی اتحاد کرکے کٹھمنڈو میںنئے سرے سے آندولن کی شروعات کی۔ کٹھمنڈو کے مائتی گھر منڈلا سے آندولن کاریوں نے اپنے حق کی مانگ کا بلند آواز کے ساتھ شروع کی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں مدھیس مورچہ کے ساتھ آدیواسی،جن جاتی، مسلم اور تھارو سمیت کئی دیگر طبقوں کے لوگ شامل ہوئے۔ نیپال سرکارکی ایڈمنسٹریٹو بلڈنگ سنگھ دربارکو گھیرنے کے منصوبے میںمدھیسی لیڈروں کو کامیابی مل گئی، جبکہ نیپال سرکار نے اسے روکنے کا مکمل انتظام کیا تھا۔ آندولن میںہنومان مقام پر نیپالی پولیس اور مظاہرین کے بیچ جھڑپ بھی ہوئی۔ لیکن آندولن کاریوں نے ہٹنے کا نام نہیںلیا۔ مائتی منڈلا کے قریب مدھیسی آندولن کاریوں کا صبر ٹوٹا، تو پولیس کی گھیرا بندی کو توڑتے ہوئے مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس دوران سنگھ دربار کے جنوبی دروازے کی کمان سدبھاو¿نا پارٹی کے لیڈر راجندر مہتو نے سنبھالی تھی۔ ان کے ساتھ مظاہرین کی کمان جتندر سونال، لکشمن لال کرن،مہندر رائے یادو،کیشو جھا اور راجندر مہتو سنبھال رہے تھے۔ اس دوران آندولن کاریوںنے یہ صاف کردیا ہے کہ اب آندولن صرف سرکار کو پریشان کرنے کے لےے کیا جائے گا اور عام لوگوںکو آندولن سے کوئی پریشانی نہیںہونے دی جائے گی۔ نیپال کے آئین میں اپنے حقوق سمیت 27 نکاتی مانگوں کی حمایت میںمحض سات پارٹیوں کے ساتھ شروع آندولن میں اب حامی پارٹیوں کی تعداد بڑھ کر 29 تک پہنچ گئی ہے۔ سبھی اپنی مانگ کی حمایت میںیکجہتی کے ساتھ ہےں۔ آندولن کا حال یہ ہے کہ کوئی بھی اپنا قدم پیچھے ہٹانے کو تیار نہیںہے۔ اس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب گزشتہ 17 مئی 2016 کو مدھیسی لیڈروں نے ہزاروں کی تعداد میںپرائم منسٹر ہاو¿س اور آفس کی گھیرا بندی شروع کی، تو پولیس نے جم کر لاٹھیاں بھی برسائیں۔ اس دوران تقریباً ایک درجن سے زیادہ آندولن کاری زخمی ہوئے۔ نیپال انتظامیہ نے دفعہ 144 لگا رکھی تھی، لیکن کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوا۔پولیس کے لاٹھی چارج میںسدبھاو¿نا پارٹی کے قومی نائب صدر لکشمن لال کرن اور ترائی مدھیس سماجوادی پارٹی کی قومی نائب صدر رانی شرما تیواری سمیت کئی آندولن کاری زخمی ہوئے۔ اس کے باوجود پرائم منسٹر ہاو¿س کی گھیرا بندی پروگرام کوکامیاب بنایا۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں سدبھاو¿نا پارٹی کے لیڈر راجندر مہتو، سنگھیہ سماجوادی فورم کے لیڈر اوپندر یادو اور تملوپا کے مہنت ٹھاکر سمیت کل 29 پارٹیوںکے صدر ، لیڈر اور کارکنوں نے اہم حصہ لیا۔ 21 مئی 2016 کو نیپال کی راجدھانی کٹھمنڈو میںقانونی قیادت والے ماو¿وادیوں کے ذریعہاختلاف جتائے جانے کے بعد نیپال کی سیاست میںبھونچال آگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قانونی قیادت والے ماو¿ وادیوں نے وکرم چند وپلوا، ہیمنت پرکاش بلی کی قیادت میںسشستر جن کرانتی، جن دشا میںمظاہرہ کیا۔ ان لوگوں میںعوامی جنگ جاری ہے، سشستر کرانتی زندہ باد،نیا آئین خارج کرو اور پارلیمانی نظام واپس لو ،کے نعرے لگاتے ہوئے مظاہرہ کیا۔ ماو¿وادیوں کے اس آندولن کے بعد سے نیپال کے سیاسی گلیاروں میںہلچل بڑھ گئی ہے۔ نیپال میںنئے آئین کو لے کر پہلے مدھیسوادی پارٹی پھر ماو¿وادیوںکے خلاف مظاہرہ اور نیپال کی اہم اپوزیشن پارٹی نیپالی کانگریس کے ذریعہ موجودہ سرکار کے خلاف سڑک پر آندولن سے سیاسی عدم استحکام کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اب نیپال کے عام شہریوںسے لے کر کاروباری تک پریشانی محسوس کرنے لگے ہیں۔ نیپال کی حالت یہ ہے کہ ویر گنج، پوکھرا، جنک پور، روتہٹ کے علاوہ نیپال کی راجدھانی کٹھمنڈو کے کئی علاقوں میں آندولن عروج پر ہے ۔ دھرنا پردرشن اور پروٹسٹ میٹنگس لگاتار چل رہی ہیں۔ فی الحال لوگوں کے بیچ یہ چرچا کا موضوع ہے کہ ملک کے عوام سڑک پر ہیں اور مخالف مظاہرے کے بیچ نیپال سرکار نے بجٹ پاس کیا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ نیپال سرکار آندولن کاریوںکی بات بھی سننے کو تیار نہیںہے۔ وہیںآندولن کاری بھی سرکار کی ہٹ دھرمی کو توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ صاف ہے کہ اگر نیپال سرکار مدھیسی آندولن کو لے کر جلد غور نہیں کرتی، تو نیپال کا مستقبل کیا ہوگا، یہ کہنا کسی کے لےے مشکل ہے۔
بتاتے چلیں کہ پچھلے آندولن میں حکومت ہند کے سابق وزیر ڈاکٹر رگھوونش پرساد سنگھ نے نیپال کے مدھیس آندولن میںحکومت- نیپال کے سرحدی ضلع میں بڑے پیمانے پر پروگرام چلایا تھا۔ تب ڈاکٹر سنگھ نے کہا تھا کہ نیپال میں رہنے والے مدھیسیوں کی مانگ جائز ہے۔ اگر نیپالی سرکار ان کی مانگوں پر غور نہیںکرتی ہے، تو نیپال کے اندر گھس کر آندولن سے پرہیز نہیں کریں گے۔ نیپال کے مدھیسیوں کا ہندوستان سے روٹی اور بیٹی کے تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے عام لوگوں سے مدھیس آندولن کی حمایت کی اپیل بھی کی تھی۔ انھوںنے کہا تھا کہ نیپال مسئلہ پر ہندوستان کے مرکزی سرکار کی پالیسی پوری طرح ناکام رہی ہے۔ اب نیپال کے مدھیسیوں نے بھی حکومت ہند سے کسی بھی طرح کی امید کرنا چھوڑ کر اپنی لڑائی خود ہی لڑنے کا من بنالیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کی بار کے آندولن میں کہیں سے بھی حکومت ہند کے کردار پر کوئی بات تک کرنے کوتیار نہیںہے۔ اس کے بعد یہ طے ہے کہ پڑوسی نیپال کے سیاسی عد م استحکام کا خمیازہ دیر سے ہی سہی، حکومت کو بھی بھگتنے کے لےے تیار رہنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *