راجیہ سبھا کواس کے پرانے روپ میں لوٹانا ضروری ہے

راجیہ سبھا کے انتخاب اختتام پذیر ہوگئے، لیکن راجیہ سبھا کے انتخابات کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ کیونکہ راجیہ سبھا زیادہ تر ان لوگوں کا بسیرا بن گئی ہے، جو سرکار سے کام نکلوانے میں ماہر ہیں۔ ان لوگوں کے لےے بھی اڈّا بن گئی ہے، جن کے پاس بے پناہ کالا دھن ہے اور جو اپنے لےے ’سمّان‘ خریدنا، راجیہ سبھا کے ممبرکا سماّن، بہت بڑی بات مانتے ہیں۔ راجیہ سبھا کی سیٹیں ، سنتے ہیں کہ کافی دولت لے کر لوگوں کو دی جاتی ہےں۔ پہلے یہ دولت پارٹی کے کھاتے میںجاتی تھی، اب یہ دولت پارٹی کے لیڈروں کے ذاتی کھاتوں میںجاتی ہے۔
راجیہ سبھا کا مقصد یہ تھا کہ لوک سبھا اگر کوئی چوک کرتی ہے، کوئی غلطی کرتی ہے، کوئی چیز چھوڑتی ہے یا کسی چیز کو غیر ضروری طور پر بڑھاتی ہے، ایسے بل کو راجیہ سبھا چیک کرے، ا س پر غور کرے اور لوک سبھا کو سجھاو¿ کے ساتھ لوٹادے۔ راجیہ سبھا پہلے اس کام کو کرتی تھی۔ لیکن اُن دنوں راجیہ سبھا میں بھوپیش گپتا ہوا کرتے تھے، اُن دنوں راجیہ سبھا میںراج نارائن ہوا کرتے تھے، ان دنوں راجیہ سبھا میںچندرشیکھر ہوا کرتے تھے۔ یہ ایسے لوگ تھے، جو ملک کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرتے تھے اور سوال اٹھاتے تھے۔ راجیہ سبھا کے پرانے ممبروں کے فیصلے دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کتنے بڑے سیاستداں تھے اور ملک کے مسائل کوکتنی گہرائی سے سمجھتے تھے۔
چندر شیکھر جی جب نوجوان ترُک کہلاتے تھے، کانگریس پارٹی کے ممبر تھے، تب اندراگاندھی وزیر اعظم تھیں۔ لیکن انھوںنے راجیہ سبھا میںجس طرح سے بڑلا کے خلاف سوال اٹھائے ، اس نے اس ملک کے نوجوانوں کو بہت متاثر کیا۔ چندر شیکھر کبھی ڈرے نہیں کہ بڑلا کے خلاف سوال اٹھانے پر کہیں اندرا گاندھی ناراض نہ ہوجائیں۔
راجیہ سبھا اس لےے بھی کہ راجیہ سبھا کا ایک دوسرا تصور بھی ہے کہ راجیہ سبھا میںایسے لوگ جائیں جو ملک کے دانشور ہوں، ڈرامہ نگار ہوں، تھیٹر پرسنالٹی ہوں، حساس لوگ ہوں، تاکہ وہ انسانی نظریے سے لوک سبھا کے لےے فیصلوں کی جانچ پرکھ کرسکیں۔
راجیہ سبھا میںایسے لوگوںکو بھی بھیجے جانے کا تصور تھا، جو سیاسی جماعتوں کا کام تو کرتے ہیں، پوری طرح سے پارٹی کو کھڑا کرنے کا کام کرتے ہیں، لیکن جنھیں پارٹی کھڑی کرنے کے لےے لوک سبھا کا انتخاب یا اسمبلی کا انتخاب نہیںلڑنا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ راجیہ سبھا میںجائیں اور وہاں سے حاصل ذرائع کا استعمال پارٹی کو بڑھانے میں کریں، لوگوں کے بیچ پارٹی کی ساکھ بڑھائیں۔ لیکن یہ صرف بیتے زمانے کا تصور تھا۔ آج ایسا کچھ نہیںہوتا۔
آج راجیہ سبھا میں دانشور، ماہرین، حساس لوگوں کی جگہ، ایسے لوگ جانے کی کوشش کرتے ہیں، جو زندگی میں کبھی لوک سبھا کا انتخاب نہیں جیت سکتے، جنھیں عوام کو سمجھانا نہیں آتاہے، وہ راجیہ سبھا میں داو¿ں پیچ لگاکر، تکڑمیں لگاکر، اپنے لےے پارٹی کا ٹکٹ یا کسی بھی پارٹی کے ووٹ کا جگاڑکر لےتے ہیں۔ شاید اسی لےے آج راجیہ سبھا کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ اقتدار کے دلالوں کا سب سے محفوظ مقام بن گئی ہے ۔
کرناٹک سے خبر آئی ہے کہ وہاں پر ایک ووٹ سات کروڑ روپے دے کر خریدا گیا ہے۔ اور ، میںجب یہ لکھ رہاہوں، تو یہ کوئی استعارہ نہیں ہے۔ کرناٹک میں ہر ایک شخص کو معلوم ہے کہ کون سر مایہ دار سات کروڑ روپے میں ووٹوں کی بولی لگا رہا ہے۔ دو سے تین کروڑ روپے فی ووٹ کا داو¿ں بہت ساری جگہ لگتا دکھائی دے رہا ہے۔ اتر پردیش میںایک عورت ممبئی سے آتی ہے اور کھڑے ہوکر اراکین اسمبلی کو سیدھے پیسے کا لالچ دیتی ہے۔ یہ ساری باتیںہم کس کے لےے لکھ رہے ہیں۔
میں پھر دوہراتا ہوں کہ یہ ساری باتیں آخر ہم لکھ کس کے لےے رہے ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن کو اس کے بارے میں نہیں معلوم؟ کیا صدر جمہوریہ کو اس کے بارے میں نہیں معلوم ہے؟ اگر نہیں معلوم ہے، تو اس ملک کے اُن بھولے بھالے لوگوں کو ، جو ہر انتخاب کو بڑی امید سے دیکھتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ شاید اس انتخاب کے بعد ان کے مسائل کا کوئی حل نکلے، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طور پر ایسی انتخابی اصلاحات ہوں، جن میں دولت کا، تکڑم کا، دلالی کا یا پھر بندوق کا کوئی رول نہ ہو۔ ملک کے لوگ جمہوریت کے تئیں، اس ملک کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی لیڈروں سے زیادہ سنجیدہ ہیں۔ وہ جمہوریت کو اپنے مسائل کے حل کی چابی مانتے ہیں۔ لیکن لوگوں کی رائے ایک طرف، سیاسی لیڈروں کی رائے دوسری طرف۔ یہ جو دوسری طرف رائے رکھنے والے لوگ ہیں، انھوں نے ہی ہر انتخاب کا مذاق بنادیا ہے۔ آج راجہ سبھاکا وہ مقصد ختم ہوگیا ہے ، جس کا تصور ہمارے آئین ساز اسمبلی کے ممبروںنے کیاتھا۔ اب ایوان میںہیرین مکھرجی ، بھوپیش گپتا، جیوترمے بسو، راج نارائن اور چندر شیکھر جیسے لوگ شاید کبھی نہ دکھائی دیں۔ اس سطح کی بحث شاید کبھی نہ ہو، کیونکہ اب یہ تھکے ہارے ،بے خیال، ناسمجھ لوگوں کا گھر بن گیا ہے۔ لیکن، ابھی بھی راجیہ سبھامیںایسے لوگ ہیں، جو کبھی بھی راجیہ سبھا میںچمتکار دکھا دیتے ہیں۔ لیکن، یہ استثنا ہوتا ہے۔ راجیہ سبھا کو اس کے پرانے روپ میںلوٹانا نہایت ضروری ہے اور اس روپ میں لانے کی ذمہ داری آج توسیاسی جماعتوں کی بھی ہے۔ پتہ نہیںکب وہ اپنی چوک کو سمجھیںگی اوراپنی اس غلطی کو سدھاریں گی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *