راجیہ سبھا کی سیٹوں پر مول بھاﺅ سماج وادی پارٹی کی گود میں رالود

پربھات رنجن دین
p-5اسمبلی انتخاب سے پہلے اتر پردیش میں راجیہ سبھاکی سیٹ مول بھاﺅ اور شرطوں پر بکنے والا مال ہو گئی ہے۔ پارٹیاں قابلیت پر نہیں،اس سے ہونے والے سیاسی فائدے کا حساب کتاب لگا کر سیٹیں دے رہی ہیں تو امیدوار بھی ناپ تول کر کہ اس پارٹی کو کتنا فائدہ دے گا، اس کی بولی لگا رہا ہے۔ اس میں سماج وادی پارٹی کچھ زیادہ ہی بے چینی میں دکھائی دے رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کی بے چینی یہ ہے کہ راجیہ سبھا کی سیٹ دے کر وہ اسمبلی کی تمام سیٹیں اپنے قبضے میں کرنے کا جیسے خواب دیکھ رہی ہو۔ سماج وادی پارٹی کی ان کوششوں میں اس کا نظریاتی تضاد عوام کے سامنے بری طرح اجاگر ہو رہاہے۔
ایک طرف سماج وادی پارٹی کانگریس کو تعاون دے کر اس کے امیدوار کپل سبل کو راجیہ سبھا تک پہنچانے کی جوڑ توڑ میں لگی ہے تو دوسری طرف وہ کانگریس کے بینی ورما کو توڑ کر اپنی پارٹی میں شریک کرلیتی ہے اور انہیں بھی راجیہ سبھا کا راستہ دکھا دیتی ہے۔ اس سے پہلے سماج وادی پارٹی نے کانگریس کے پرمود تیواری اور پی ایل پونیا کو بھی راجیہ سبھا بھیجنے میں مدد کی تھی،لیکن تب بھی سماج وادی پارٹی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ملا تھا۔ امر سنگھ کی مثال سامنے ہے، جنہیں راجیہ سبھا پہنچانے کے لئے ملائم نے رام گوپال اور اعظم جیسے لیڈروں کی ناراضگی کا کوئی دھیان نہیں رکھا۔اب تازہ معاملہ راشٹریہ لوک دل کے لیڈر چودھری اجیت سنگھ کے ساتھ ہوئے مول بھاﺅ کا سامنے آیا۔ سیاسی موقع شناسی کے لئے مشہور چودھری اجیت سنگھ نے اس کے پہلے جنتا دل (یو) صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا،لیکن جنتا دل (یو) نے حتمی کردیا کہ رالود کا پہلے جنتا دل (یو) میں اتحاد ہو تو پھر آگے کی بات ہو۔ رالود کے جنتاد ل (یو ) میں اتحاد کی باتیں کافی پروان چڑھیں،لیکن اسی دوران چودھری کی نئی نئی شرطیں بھی پروان چڑھتی رہیں اور آخر کار معاملہ پس پردہ چلا گیا۔ اس کے بعد چودھری نے بہو جن سماج پارٹی لیڈر مایا وتی کے آگے ماتھا ٹیکا،لیکن مول بھاﺅ میں چودھری کا مایا وتی کے سامنے کیا چلتا، وہاں بھی وہ ناکام رہے۔ چودھری کو کانگریس اور بی جے پی کی طرف سے بھی’ نہ‘ مل چکی تھی۔ تبھی انہیں سماج وادی پارٹی کی اسمبلی کی حرارت کا احساس ہوا اور وہ ملائم کی دہلیز پر آدھمکے۔اس میں پردے کے پیچھے امر سنگھ کا بھی کردار رہا ہوگا۔ ،لیکن وہ کہیں بھی سامنے نہیں آئے،کیونکہ انہیں پہلے اپنی راجیہ سبھا کی سیٹ حاصل کرنی تھی۔ ملائم نے اپنے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو کی ناراضگی کو درکنار کر کے چودھری اجیت سنگھ سے ملاقات کی اور تفصیل سے بات چیت کی۔ شیو پال یادو بھی اس پہل میں ملائم کا ساتھ دے رہے تھے۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اس پہل سے متفق نہیں ہیں۔ اکھلیش سوچتے ہیں کہ وہ اپنے بل بوتے ہی پھر سے اسمبلی کا انتخاب جیت جائیں گے۔بہر حال جنتا دل (یو )والے فارمولے کی طرح ملائم بھی چاہتے تھے کہ رالود کا سماج وادی پارٹی میں اتحاد ہو جائے،لیکن اتحاد میں چودھری کی شرطیں بھاری تھی۔ لہٰذا خبر لکھے جانے تک سماج وادی پارٹی قیادت کی طرف سے کوئی یقینی فیصلہ نہیں آیا ۔
رالود اور چودھری اجیت سنگھ کے مستقبل کو لے کر سماج وادی پارٹی کے اعلی کمان نے ابھی کوئی فیصلہ بھلے ہی نہیں لیا،لیکن اس معاملے نے سماج وادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو اور قومی صدر ملائم سنگھ یادو کے اختلاف کو سامنے ضرور لا دیا۔ اس اختلاف کو بڑھاتے ہوئے ریاست کے پبلک ورک منسٹر شیو پال یادو یہ کہتے رہے کہ رالود کے ساتھ سماج وادی پارٹی کا گٹھ بندھن فرقہ وارانہ طاقتوں سے لڑائی میں فائدہ مند ثابت ہوگا۔ شیو پال نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ طاقتوں کو ہرانے کے لئے سبھی لوہیا وادی، چودھری چرن سنگھ کے نظریات پر چلنے والے اور گاندھی وادی نظریہ کے لوگ ایک اسٹیج پر ہو جائیں۔ شیو پال نے کہا کہ رالود کے ساتھ گٹھ بندھن کو لے کر بات چیت ابھی شروع ہوئی ہے،اچھی بات ہوئی ہے چودھری اجیت سنگھ سے ان کے پہلے سے ہی بہت اچھے رشتے ہیں۔ بات چیت آگے بڑھی تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔
شیو پال کے ایسے بیان کے مقابلے رام گوپال نے کہاکہ رالود کے چیف اجیت سنگھ اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ ان سے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنا کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے سمجھداری نہیں ہوگی۔ رام گوپال بولے کہ کبھی اجیت سنگھ مغربی اتر پردیش کی سیاست کے لئے ناگزیر ہوا کرتے تھے۔ ان سے گٹھ بندھن کرنے کے لئے بہو جن سماج پارٹی کو چھوڑ کر سبھی پارٹیاں تیار رہتے تھے۔ یہ اجیت سنگھ پر منحصر تھا کہ وہ اپنے سیاسی نفع و نقصان کو دھیان میں رکھ کر کس کے ساتھ گٹھ بندھن کریں۔ وہ کانگریس، بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن کر کے انتخاب لڑ چکے ہیں،لیکن مغربی اتر پردیش میں اب صورت حال بدل چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجیت کو راجیہ سبھا میں پہنچنے کے لئے لگ بھگ سبھی سیاسی پارٹیوں کے دروازے کھٹکھٹانے پڑے اور ہر جگہ سے انہیں اپنی پارٹی کو الائنس کرنے کی شرط سننی پڑی۔
صاف ہے کہ چودھری اجیت سنگھ کو لے کر سماج وادی پارٹی میں کتنا گہرا اختلاف ہے۔ رام گوپال نے صحیح ہی کہا کہ چودھری سب طرف سے آزما کر سماج وادی پارٹی کے دروازے پرپہنچے ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں کے جانکار بتاتے ہیں کہ اس کے پہلے چودھری اجیت سنگھ نے بہو جن سماج پارٹی سے بھی ہاتھ ملانے کی کوشش کی،لیکن ناکام رہے۔ مایاوتی اس کے لئے قطعی تیار نہیں ہوئیں۔ جاٹَو ووٹ بینک کو مغربی اتر پردیش میں بہو جن سماج پارٹی کی اہم بنیاد سمجھا جاتا ہے۔جاٹَو اور جاٹوں کے بیچ جھگڑا رہتا ہے۔ رالود سے تامل میل پر جاٹو ووٹ بینک ناراض ہو سکتا تھا،کیونکہ جاٹ اور جاٹو کبھی ساتھ میں نہیں آسکے۔ مغربی اتر پردیش جاٹ ووٹ بینک کے خلاف غیر جاٹ ووٹوں کے پولرائزیشن کا فائدہ بھی بہو جن سماج پارٹی کو ملتا ہے۔لہٰذا ایسا گٹھ جوڑ بہو جن سماج پارٹی کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
اس معاملے میں چودھری اجیت سنگھ کی تو فضیحت ہو گئی۔ یہاں تک کہ ان کی مدد کے لئے کانگریس بھی تیار نہیں ہوئی جبکہ اتر پردیش میں کانگریس کی حالت خود ہی خستہ ہے، پھر بھی کانگریس نے چودھری میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اجیت سنگھ راجیہ سبھا جانے کے ارادے سے سونیا گاندھی سے ملے تھی تھے اور راجیہ سبھا بھیجنے کے بدلے 2019 میں کانگریس سے گٹھ بندھن کرنے کی بات بھی کہی تھی، لیکن کانگریس نے ان کی تجویز خارج کر دی۔
یہاں تک کہ بی جے پی نے بھی چودھری کی شرطوں کے برعکس اتحاد کر لینے کی صلاح رکھی تھی۔ بی جے پی کے ساتھ مل کر وہ پہلے کئی انتخاب لڑ چکے ہیں اور اس کا انہیں فائدہ بھی ملا ہے۔ 2009 کے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی تامل میل سے رالود کے پانچ ممبر پارلیمنٹ نے جیت حاصل کی تھی۔ 2002 کے اسمبلی انتخاب میں بھی رالود کے 14ایم ایل اے جیتے تھے۔ مغربی اتر پردیش میں جاٹ ووٹروں کے ساتھ بی جے پی کی ہم آہنگی ہوجاتی تھی،لیکن مظفر نگر فسادوں کے بعد جاٹ ووٹر پورے طور سے بی جے پی کے ساتھ ہو گئے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخاب میں مغربی اتر پردیش میں بی جے پی کی شاندار کامیابی کے پیچھے جاٹ پاور ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودھری اجیت سنگھ کی موافقت اتنی نہیں رہی، حالانکہ بی جے پی نے ان کے سامنے اتحاد کی شرط رکھی تھی،لیکن چودھری کو یہ منظور نہیں ہوا۔ 2012 کے اسمبلی انتخاب میں سماج وادی پارٹی نے اجیت سنگھ سے تامل میل کئے بغیر مغربی اتر پردیش سے کافی سیٹیں جیتی تھی۔ سماج وادی پارٹی کو مسلمان اور غیر جاٹ ووٹوں کے پولرائزیشن کا فائدہ ملا تھا،لیکن مظفر نگر حادثہ نے اس پولرائزیشن کو بری طرح جھنجھوڑ دیا ۔یہی وجہ ہے کہ ملائم سنگھ یادو ایک بار پھر سے مغربی خطے پر اپنی پکڑ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انہیں چودھری اجیت سنگھ کو اپنے ساتھ ملانے سے پرہیز نہیں۔
ملائم چاہتے ہیں مغربی یوپی میں جاٹ اور مسلمان پھر ایک ہوں
راشٹریہ لوک دل کا سماج وادی پارٹی میں اتحاد کے بہانے ملائم کی منشا مغربی اتر پردیش میں ایک بار پھر جاٹوں اور مسلمانوں کے بیچ اتحاد اور وسیع مساوات قائم کرنے کی ہے۔ مظفر نگر حادثہ کے بعد مغربی خطے کے دو بڑے ووٹ بینک الگ الگ ہو گئے، جس کا خمیازہ سماج وادی پارٹی کو بھگتنا پڑ رہا ہے، وہی نتیجہ 2017 کے اسمبلی انتخاب میں پارٹی نہیں بھگتنا چاہتی۔ لہٰذا اتحاد یا تامل میل کی ان کوششوںکے گہرے مضمرات ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ اگر سماج وادی پارٹی مسلم اور رالود کے جاٹ ووٹروں کا گٹھ جوڑ پھر سے بن جاتا ہے تو مغربی اتر پردیش کی 145 اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی اور بہو جن سماج پارٹی کے لئے بڑا چیلنج دے سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر شیو پال سنگھ یادو اور رالود لیڈر چودھری اجیت سنگھ کی دلی میں جو ملاقات ہوئی ،اس میں ان مسئلوں پر تفصیل سے چرچا ہوئی۔ اس کے بعد ہی چودھری سماج وادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو سے ملنے دلی میں مہارانی باغ میں ان کی رہائش گاہ پر گئے۔ اس سے پہلے بھی شیو پال اجیت سنگھ سے مل چکے تھے۔ سماج وادی پارٹی کے پالیسی میکروں کا کہنا ہے کہ رالود سمیت کئی دوسری چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ گٹھ بندھن کر کے اسمبلی انتخاب میں سرکار مخالف ماحول سے ہونے والے نقصان کی بھرپائی کی جاسکتی ہے ۔سماج وادی پارٹی قیادت یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ گزشتہ دو انتخابات میں سماج وادی پارٹی اور بہو سماج پارٹی کے بیچ قریب چار فیصد ووٹ پر ہار جیت ہوئی ہے، جبکہ رالود قریب تین فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ گزشتہ دو اسمبلی انتخاب میں جو بھی پارٹی 30 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی، وہ اکثریتی کے اعدادو شمار حاصل کر لیتی ہے۔ 2009 میں بہو جن سماج پارٹی کو 30.43 ووٹ کے ساتھ 206 سیٹیں ملی تھیں۔ جبکہ 2012 میں سماج وادی پارٹی کو 29.3 فیصد ووٹ کے ساتھ 224 سیٹیں ملیں۔ اس انتخاب میں رالود نے 46سیٹ پر انتخاب لڑا اور اسے 2.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ 9سیٹیں ملی تھیں۔
کانگریس سے خود دور ہو جائیں گے ناراض پرشانت
کانگریس کی نیّا پار لگانے کے لئے بڑی امیدوں سے لائے گئے پرشانت کیشور کے کانگریس چھوڑ کر جانے کی چرچائیں یو پی کانگریس سے لے کر دوسری پارٹیوں میں بھی سرگرم ہیں۔ کانگریس کے اعلیٰ کمان کو پرشانت کیشور کے سجھاﺅ راس نہیں آرہے ہیں۔ ایسے میں ممکن ہے کہ کانگریس ان سے اور وہ کانگریس سے جلدہی نجات پا لیں۔ اس طرح کانگریس منجھدھار میں ہی چھوٹ جائے گی۔سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ویسے ہی کانگریس کو یو پی میں کیا ملتا ہے۔
پرشانت کیشور کے سجھاﺅں اور شکایتوں کو اصلاحی طور پر لینے کے بجائے کانگریس کے لیڈر اسے ذاتی طور پر لے رہے ہیں۔ وہ پرشانت کیشور کے خلاف بغاوتی ماحول تیار کررہے ہیں۔ ان کے اجلاس میں کھلے عام مخالفت اور یہاں تک کہ مار پیٹ کے واقعات بھی ہونے لگے ہیں۔کانگریس کے قومی نائب صدر راہل گاندھی نے ہی پرشانت کیشور کی سروسز لی تھی۔ پرشانت کیشور کو بہار انتخاب میں نتیش کا ساتھ دینے اور ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے کا ایوارڈ ملا تھا، لیکن پرشانت کو بہار سے کہیں زیادہ مشکلوں کا سامنا اتر پردیش میں کرنا پڑ رہا ہے۔ اتر پردیش کے کانگریسیوں کو پرشانت کی دخل اندازی پسند نہیں آرہی ہے۔ پارٹی لیڈروں کی شکایت پر اعلیٰ کمان نے یہ کہہ کر پرشانت کو پھٹکار بھی لگائی ہے کہ انہیں پارٹی کے لئے انتخابی تشہیر کی پالیسی بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے نہ کہ تنظیم کا عہدیدار چننے اور ٹکٹ تقسیم کرنے کو لے کر فیصلہ کرنے کا۔ اس پھٹکار اور فضیحت کے بعد پرشانت کا جانا تقریباًطے ہوگیاہے۔ پرشانت نے اتر پردیش انتخاب کو لے کر جو اسکیم تیار کی ،اسے بھی کانگریس لیڈروں کے اعتراضات کے بعد کانگریس قیادت نے خارج کر دیا ہے۔
پرشانت کیشور نے پارٹی کو سجھاﺅ دیا تھا کہ یو پی میں پارٹی کا چہرہ کسی برہمن کا ہو، پرشانت نے راجپوت اور مسلم ووٹ کو بھی ہدف کرنے کی اسکیم کانگریس کے سامنے رکھی تھی۔ پرشانت کا ارادہ تھا کہ کانگریس دلت ووٹوں کے لئے دیگر اتحاد خراب نہ کرے،کیونکہ دلتوںکا ایک خاص طبقہ مایاوتی کے ساتھ ہی رہے گا۔ پرشانت نے یہ بھی سجھاﺅ دیا تھاکہ راہل کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں پرینکا کا بھی خاص کردار ہونا چاہئے۔ پرشانت نے امیدواروں کے لئے 250 کارکنوں کو اپنے ساتھ لانے کی شرط کے ساتھ ہی ٹکٹ دینے کا فارمولہ بھی رکھا تھا،لیکن کانگریس کے لیڈر اسے ہضم نہیں کر پائے۔ ان بدلی ہوئی صورت حال میں پرشانت کو یہ لگنے لگا ہے کہ انہیں اگر بہار انتخاب کی طرح بہت حد تک آزادی سے کام نہیں کرنے دیا گیا تو متوقع نتیجہ حاصل نہیں ہوں گے۔ایسے میں ان کا نکل لینا ہی بہتر ہے۔ پرینکا کا نام لینے پر کانگریس کی الٰہ آباد یونٹ کے دو لیڈروں حسیب اور شریش کو جنرل سکریٹری عہدے سے ہٹا دیئے جانے کا تماشہ پرشانت دیکھ چکے ہیں،لہٰذا ایسے تماشے کو وہ اپنے لئے پیشگی اشارہ بھی مان کر چل رہے ہی۔ الٰہ آباد کانگریس کے یہ دونوں لیڈر پرینکا گاندھی کو سیاست میں سرگرم کرنے اور کانگریس پارٹی میں اہم ذمہ داری دیئے جانے کی مانگ کر رہے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *