معصوم کشمیریوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری محبوبہ مفتی کی امیج خطرے میں

ہارون ریشی

P-3B13جون کو پولیس نے دعویٰ کیا کہ سرینگر جموں ہائے وے پر ادھمپور کے قریب مسافر بس میں سوار ایک ملی ٹینٹ مارا گیا۔ اسکی شناخت ہوجانے کے بعد سرینگر کے بمنہ علاقے میں کہرام مچ گیا۔31سالہ تنویر سلطان نامی اس شخص جسے پولیس نے ملی ٹینٹ قرار دیا ہے، کے لواحقین نے پولیس بیان کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معصوم تھا اور علاج و معالجے کے سلسلے میں گھر سے امرتسر کے لئے روانہ ہوا تھا۔تنویر کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی بمنہ اور شہر کے کئی دیگر علاقوں میں لوگ سڑکوں پر آئے اور احتجاجی مظاہرے کئے۔نہ صرف کشمیری علاحدگی پسند لیڈروں بلکہ سابق حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ تنویر کو ایک فرضی جھڑ پ میں مارا گیا ہے۔
سرینگر میں جاری اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن نے اس ہلاکت پر ادھم مچادی جس کے بعد حکومت کی طرف سے وزیر زراعت غلام نبی ہانجورہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ 13جون کو ادھمپور کے کڈ پولیس سٹیشن کو اطلاع ملی تھی کہ سرینگر سے آرہی سٹیٹ روڑٹرانسپورٹ کارپوریشن کی ایک بس میں ایک ملی ٹینٹ سوار ہے۔پولیس نے اس بس کو کو روکا اور مسافروں کو باہر آنے کے لئے کہا ، لیکن اس میں سوار تنویر بس سے نیچے نہیں اُترا اور جب پولیس کے کچھ اہلکار بس کے اندر داخل ہوئے توتنویر نے پولیس اہلکاروں پر فائر کھول دیا۔ جوابی فائرنگ میں تنویر مارا گیا۔ پولیس نے اسکی تحویل سے ایک رائفل اور ایک پستول برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
اس سرکاری بیان کو عام طور سے وادی میں ایک جھوٹ قرار دیا جارہا ہے۔ تنویر کو سرینگر کے ایک مزار شہدا میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں دفن کیا گیا ۔ اسکے آبائی علاقے میں مشتعل نوجوانوں نے دو دن تک پر تشدد احتجاج جاری رکھا۔سینئر علاحدگی پسند لیڈروں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک نے اس واقعہ کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب محبوبہ مفتی اننت ناگ اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخابات کے لئے مہم چلارہی ہیں، ایک نوجوان کی پراسرار ہلاکت کا یہ واقعہ کسی بھی طور محبوبہ کے لئے نیک شگون نہیں ہے۔صحافی طارق علی میر کہتے ہیں،’’ یکم مارچ 2015کو پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار بننے کے بعد اب تک وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کے بارے میں حکومت حقائق سامنے لانے میں ناکام ہوگئی ہے۔اس وجہ سے خاص طور سے پی ڈی پی اپنی وہ امیچ مکمل طور پر کھو چکی ہے، جو اس نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات کی مخالفت میں بیانات دے دے کر بنائی تھی۔ جب پی ڈی پی اپوزیشن میں تھی تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ہر واقعہ کے خلاف اس کا بیان سامنے آجاتا تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ ایک نوجوان کو پر اسرار حالات میں مارا گیا ہے، لیکن حکومت اس کی تحقیقات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اب تک انسانی حقوق کی پامالیوں کے ایسے درجنوں واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کے بارے میں یہ حکومت سچ سامنے لانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ مخلوط حکومت نے اب تک انسانی حقوق کی پامالیوں کے متعدد واقعاتکی تحقیقات کا اعلان کیا تھا لیکن یہ اعلانات ’’حکم نواب تادر نواب‘‘ ہی ثابت ہوئے ہیں۔یکم مارچ 2015کو مرحوم مفتی محمد سعید کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط سرکارمیں کسی معصوم شہری کی ہلاکت کا واقعہ قیام حکومت کے محض چند ہفتوں بعد ہی رونما ہوا تھا جبکہ سرینگر کے ایک مضافاتی علاقے نارہ بل میں 19اپریل کوایک 15سالہ نوجوان سہیل احمد صوفی کو فورسز نے گولی مار کر ہلاک کردیا۔حکومت نے اس واقعہ کے بارے میں حقائق سامنے لانے کے لئے اس کی مجسٹریل انکوائری کا اعلان کیا تھا۔ لیکن تاحال کوئی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی ہے۔20مئی 2015کو اس حکومت نے کپوارہ میں رونما ہوئے ایک پر اسرار جھڑپ ، جس میں فوج نے 7ملی ٹینٹوں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا ، کے واقعہ کی تحقیق کا اعلان کیا تھا کیونکہ مقامی لوگوں نے اسے ایک فرضی جھڑپ قرار دیا تھا۔ لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود کسی کو پتہ نہیں کہ اس واقعہ کی تحقیق ہوئی بھی تھی یا نہیں۔ کیونکہ کوئی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔
اسی طرح انسانی حقوق کی پامالیوں کے دیگر واقعات میں بھی حکومت نے تحقیق کے اعلانات کئے تھے ، جو سب سراب ثابت ہوئے۔اس مخلوط سرکار نے اپنے قیام سے لیکر اب تک انسانی حقوق کی پامالیوں کے 8واقعات کی تحقیق کا حکم دیا ہے لیکن ان میںسے کسی بھی واقعہ کی عملاً تحقیق نہیں ہوئی۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ در اصل حکومت ریاست میں انسانی حقوق کی پاسداری کرنے میں مکمل طور ناکام ہوچکی ہے۔ محبوبہ مفتی بحیثیت اپوزیشن لیڈر انسانی حقوق کی پامالی کے ہر واقعہ پر چیختی چلاتی نظر آتی تھیں لیکن اب جبکہ حکومت کی لگام خود ان کے ہاتھوں میں ہے، وہ اس طرح کے واقعات پر روک لگانے میں مکمل طور ناکام ثابت ہورہی ہیں۔
انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے سرکردہ کارکن احسن اونتونے اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ محبوبہ مفتی کی قیادت میں قائم یہ مخلوط حکومت انسانی حقوق کی پاسداری میں یقین ہی نہیں رکھتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ریاستی انسانی حقوق کمیشن کو معطل نہیں رکھا گیا ہوتا۔ یہ حکومت نہ ہی اس کمیشن کے چیئر مین کی تقرری عمل میں لارہی ہے اور نہ ہی اس کے ممبران کو منتخب کیا جارہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس کمیشن کے متحرک ہوجانے سے حکومت عریاں ہوجائے گی۔ اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے واقعات کے بارے میں اصل حقائق منظر عام پر آجائیں گے ۔ اس کمیشن نے ماضی میں اجتماعی اور گمنام قبروں کی دریافت کی۔ کئی فرضی جھڑپوں کی پول کھول دی اور کئی متاثرہ کنبوں کو امداد فراہم کرادی ۔ حکومت نہیں چاہتی ہے کہ دنیا کشمیر کے اصل حالات سے باخبر ہو۔‘‘
اونتو کا ماننا ہے کہ سرینگر کے بمنہ علاقے کے نوجوان تنویر سلطان کو ایک فرضی جھڑپ میں ہلاک کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا،’’ اگر پولیس کا یہ دعویٰ درست ہے کہ تنویر سلطان ایک ملی ٹنٹ تھا اور مسافر بس کے اندر رونما ہوئی جھڑپ میں مارا گیا تو اس واقعہ کے چشم دید گواہ کہاں ہیں؟ باقی مسافروں کو بطور گواہ سامنے کیوں نہیں لایاگیا۔ مجھے یقین ہے کہ ماضی میں رونما ہوئی سینکڑوں فرضی جھڑپوں کی طرح یہ بھی ایک فرضی جھڑپ ہے کہ جس میں ایک معصوم انسان کو مار دیا گیا ہے۔‘‘
ظاہر ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اننت ناگ اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخابات کے لئے بحیثیت ایک اُمیدوار کے مہم چلارہی ہیں، وادی میں حالات کا رُخ کسی بھی صورت میں محبوبہ یا اُن کی پارٹی پی ڈی پی کے حق میں نظر نہیں آتا۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ کسی بھی طور پر محبوبہ مفتی اور انکی پارٹی کے حق میں نہیں ہوسکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ سرینگر کے ایک نوجوان کی پر اسرار ہلاکت کے اس تازہ واقعہ کے اثران اننت ناگ کے انتخابی نتائج پر مرتب ہوں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *