کام کم شور وغل زیادہ ہورہا ہےa

آج کل سیاسی سرگرمیاں اتنی تیز نہیں ہیںجتنی تیزالگ الگ مدعوں (جن میں کچھ متعلق ہیں اور کچھ غیرمتعلق) پرشور و غل ہو رہا ہے۔ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ جی ایس ٹی بل کو پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں پاس کرالیا جائے گا، جو اچھی بات ہے۔ لیکن اس میں دو پریشانیاں ہیں۔ پہلی، پیٹرول اور شراب کو جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ میرے خیال سے ایک خراب جی ایس ٹی کسی جی ایس ٹی کے نہ ہونے سے بدتر ہے۔ بہرحال، جی ایس ٹی کسی نہ کسی شکل میں پوری دنیا میں نافذ ہے۔ اس سلسلے میںحکومت جو بھی فیصلہ لے ،معیشت آگے کی طرف ہی جائے گی۔ لیکن اس ضمن میں ایک تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ جی ایس ٹی بل کے پاس نہیں ہونے کی صورت میں معیشت تعطل کا شکار ہو جائے گی، اور اگر اسے پاس کرالیا گیا تو کانگریس کی فضیحت ہو گی اور معیشت میں اچھال آجائے گا۔ یہ بالکل بے تکی باتیں ہیں۔جی ایس ٹی ایک طرح کا ٹیکس اصلاح ہے۔ کاروباری دینا ہمیشہ یہ چاہتی ہے کہ ٹیکس کے نظام کو آسان بنایا جائے۔ لیکن، جس طرح سے اسے نافذ کیا جا رہا ہے اس سے تو کاروباری دینا کا یقین بحال نہیں ہوگا۔
دراصل انہیں کرنا یہ چاہیے تھا اور وہ اب ایسا کر سکتے ہیں کہ انہیں مرکزی ویٹ(وی اے ٹی) کے طرز پر مرکزی جی ایس ٹی لانا چاہیے۔ اس کے لئے نہ تو انہیں ریاستوں کی رضامندی کی ضرورت پڑتی اور نہ آئینی ترمیم کی اور نہ ہی کانگریس پارٹی کی حمایت کی۔ مرکزی سرکار جی ایس ٹی نافذ کر کے ریاستی حکومتوں پر چھوڑ دیتی کہ وہ چائیں تو اسے اپنا لیں اور اس کے بعد وقت کے ساتھ اس پر اتفاق رائے بھی بن جائے۔ لیکن حکومت اس کو پاس کرانے کو لے کر پراعتماد ہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے؟
دوسرا معاملہ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل اسمریتی ایرانی کے اونچے لہجے میں بولنے کا ہے۔ وہ ایسا صرف اپنا کیریئر آگے بڑھانے کے لیے کر رہی ہیں۔ انہیں فروغ انسانی وسائل کے وزارت یا تعلیم کے معاملوں کی بہت زیادہ جانکاری نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی ایک وزیر ، وزیر ہوتا ہے، اسے پی یم او اور نوکرشاہی کے مشورے پر کام کرنا ہوتا ہے۔ وہ اچھا کر سکتی ہیں اگر وہ غیرجانبدار ہوکر، زیادہ ذمہ داری کے ساتھ (جیساکہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کی شروعات میں کیا تھا) اپنا کام کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ فی الحال وہ آگے نکلنے کی جلد بازی میں ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں اتر پردیش کے وزیر اعلٰی کے امیدوار کے طور پر پروجیکٹ کیا جائے، لیکن فی الحال یہ مشکل لگ رہا ہے۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ بی جے پی کے لیے ایک فائح امیدوار نہیں ثابت ہوسکتیں ۔
سبرامنیم سوامی، آربی آئی کے گورنر کو ہٹانے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا مدعا ہے جسے عام نہیں ہونا چاہیے تھا۔ آربی آئی کے گورنر کا عہدہ کوئی منتخب عہدہ نہیں ہے۔ یہ حکومت کی انتظامی ذمہ داری ہے کہ وہ ریزرو بینک کے گورنر کی بحالی کرے، اور ان کے ذریعہ کیے گیے کاموں کا جائزہ لے کر اس ضمن میں کو ئی فیصلہ کرے۔ لیکن اس تنازعے میں دہ طرح کی رائیں پیش کی جارہی ہیں ۔ پہلی رگھو رام راجن کی بحالی ملک کو ایک لخت آگے لے کر چلی جا ئے گی اور دوسری یہ کہ ان کی جگہ کسی دوسرے کو بحال کرنے سے ہندوستانی معیشت کا یقین ڈگمگا جائے گا۔ یہ دونوں خیال غلط ہیں۔ ہندوستان جیسی معیشت کسی ایک شخص پر منحصر نہیں رہتی۔ آربی آئی کا کام ملک کی مانیٹری پالیسی اور سود کی شرح کی دیکھ ریکھ کرنا ہوتا ہے تاکہ مہنگائی کی شرح قابو میں رہے۔ ان کے کام کا دائرہ بہت محدود ہوتاہے۔ لہٰذا یہ کوئی ایسا مدعا نہیں ہے جس پر اتنا دھیان دیا جائے۔
ایک اور مدعا ہے کہ کچھ لوگ گائے کے نام پر ایک وزارت قائم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہمیں مذہب، آرایس ایس، وی ایچ پی کو پیچھے چھوڑ دینا چاہیے۔ ایک وقت تھا جب ہندوستانی گائیوں کا شمار اچھی نسل کی گایئوں میں ہوتا تھا۔ گیر، تھارپارکر، ساہیوال وغیرہ نسل کی گائیں ایسی گائیں تھیں جن کے دودھ میں A2 پروٹین پایا جاتا تھا، جو دنیا کے کسی بھی نسل کی گائے کے دودھ میں نہیں ملتا ہے۔ نہ تو جرسی گائیوں کے دودھ میں اور نہ ہی دوسری درآمد کی گئی گائیوں کے دودھ میں ۔
دراصل برازیل ، ہندوستان سے بہت ساری گائیں اپنے ملک لے گیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ برازیل کے پاس گیر نسل کی گائیں بڑی تعداد میں موجود ہیںاور وہ آگے بھی ان کی نسل کی افزائش کر رہا ہے تاکہ اسے A2 قسم کا اچھا دودھ حاصل ہوسکے۔ ہمیں ایسے ملکوں سے سیکھنا چاہیے کہ ہم اپنی گائیوں کی نسل میں کیسے سدھار کریں اور ملک کے لیے دددھ کے پیداوار میں کیسے اضافہ کریں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم غیرممالک کی نقل کر نے میں مشغول ہو جاتے ہیں، یعنی آسٹریلیا سے جرسی نسل کی گائیں آنے لگیں اور ہم اپنی گائیں کو نظر اندازکرنے لگے۔ چنانچہ اب اس پر کچھ توجہ دینی چاہیے۔ خواہ ایک الگ وزارت تشکیل دے کر یا ایک محکمہ قائم کر کے یا کوئی مشن شروع کرکے۔ ملک میں مہارت موجود ہے۔ کرنال میں ایک ڈیری انسٹی ٹیوٹ ہے ، ریشی کیش میں ایک انسٹی ٹیوٹ ہے، جہاں بہت کام ہو رہا ہے۔ حکومت فی الحال یہ کر سکتی ہے ایسے تمام اداروں کو ایک ڈائریکٹر جنرل کے زیرنگیں لا کر ایک ساتھ ضم کر دے۔بے شک یہ ایک ایسی تجویز ہے جس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ اس سمت میں کچھ کام ہوگا۔
بدقسمتی سے ملک میں مہنگائی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ عوام نے موجودہ حکومت کو اس امید کے ساتھ منتخب کیا تھا کہ مہنگائی پر لگام لگے گا اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ ایسے لوگ آج حکومت سے بہت مایوس ہیں۔ یہ دونوں مدعے آسان نہیں ہیں۔ لوگوں کی جیبوں میں زیادہ پیسہ آجانے کی وجہ سے وہ ایسی چیزیں خرید رہے ہیں جو پیسے کی کمی کی وجہ سے وہ پہلے نہیں خرید سکتے تھے۔ اس لیے مہنگائی کم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن جہاں تک روزگار کا سوال ہے تو اس کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے جس کے ذریعہ حکومت صنعتی روزگار پیدا کر سکتی ہے اور وہ راستہ ہے پبلک سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری کر کے۔ حکومت یہ سوچ رہی ہے (اور اس میں رگھورام راجن، اروند سبرامنیم اور امریکی ڈاکڑین شامل ہیں) کہ آپ اپنے بازار کو آزاد کر دیجیے اور پرائیوٹ سیکٹر آ جائے گا۔ کون سا پرایئوٹ سیکٹر؟ہندوستان میں جب بھی آپ پبلک سیکٹر کے یونٹ کی عدم سرمایہ کاری کرتے ہیں تو یہاں پانچ گھرانے ہیں جن کے پا س پیسہ ہے انہیں خریدنے کے لیے۔ یہی ہندوستانی پرایئوٹ سیکٹر ہے۔ اگر آپ واقعی چاہتے ہیںکہ میک ان انڈیا کے تحت دفاعی ساز وسامان بنایا جا سکے ، تو یہ کام پبلک سیکٹر کو کرنا چاہیے۔ جیساکہ 1960کی دہائی میں اسٹیل پلانٹ لگائے گئے تھے۔ دو-تین بڑی دفاعی کمپنیاںبنائیے، چاہے جہاں سے بھی سے بھی مدد لینی پڑی، امریکہ سے، چین سے یا کہیں سے بھی ، لیکن اپنی چیز بنایئے تاکہ پیسے کی بچت ہو۔ یہ کام حکومت کو کرنا ہے۔ اگر آپ لارسن ٹوبرو، امبانی یا اڈانی سے یہ کام کرانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے لمبا انتظار کرنا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *