اس بار اولمپک میں میڈل جیتیں گے پیس

سید محمد عباس
ہندوستانی ٹینس کی دنیا میں لیئنڈر پیس ایک یسا نام ہے، جو لگاتار کامیابی کی نئی نئی عبارتیںلکھ رہا ہے۔ 42 سال کی عمر میںلیئنڈر پیس کورٹ پر 24 سال کے جوان سے زیادہ پھرتیلے دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی ٹینس میںسب سے عمر دراز کھلاڑی ہونے کے باوجود پیس نے فرینچ اوپن میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارٹینا ہنگس کے ساتھ مل کر مکسڈ ڈبل کا خطاب اپنے نام کیا۔ ہندوستانی کھیل کی دنیا میں لیئنڈر پیس کا قد لگاتار بڑھتا جارہا ہے۔ کرکٹ میںجو مقام سچن تیندولکر کا ہے، وہی مقام ٹینس میںلیئنڈر پیس کا ہے۔
تمامتر اتار چڑھاو¿ کے باوجود پیس ہندوستانی ٹینس کے ستارے بنے ہوئے ہیں۔ وقت اور حالات کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے ہیں، لیکن لیئنڈر پیس نے تمام رکاوٹوں کو کامیابی کے ساتھ پار کرتے ہوئے ہندوستانی ترنگے کو بلند کردیا ہے۔ ایسا ماناجاتا ہے کہ کسی بھی کھیل میں کھلاڑی کے لےے 18 سے 30 سال کا ایج گروپ کریئر کا بہترین دور ہوتا ہے، لیکن اس کے برعکس پیس کے ساتھ ایسا نہیں ہے ۔ بڑھتی عمر کے باوجود وہ لگاتار سنہری تاریخ رقم کررہے ہیں۔ ہندوستانی ٹینس کو اپنے مضبوط کندھے پر اٹھانے والے پیس نے گزشتہ کئی دہائی سے عالمی ٹینس میںاپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ اس دوران بہت سے کھلاڑی آتے رہے، جاتے رہے، لیکن پیس کے قدم جمے رہے۔ عالم تویہ ہے کہ اولمپک میں اب ہندوستان کوٹینس میں بھی میڈل ملنے کی امید پروان چڑھنے لگی ہے۔ پیس ملک ہی نہیں، بلکہ دنیا کے واحد ایسے کھلاڑی ہیں، جو چھ اولمپک کھیل چکے ہیں اور ساتویںکی تیاری میں ہیں۔ ریو اولمپک میںمیڈل جیت کر نئی تاریخ رچنے کو بیتاب لیئنڈر پر ملک کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں، وہ امید کی بڑی کرن کی شکل میںدیکھے جارہے ہیں۔ ایسے میںوہ ریو میں میڈل جیت کر اپنے کریئر میں ایک اور تاریخ جوڑ سکتے ہیں۔
لیئنڈر پیس کے خاندان کی بات کی جائے، تو ان کا خاندان کھیل کا شوقین رہا ہے۔ ان کے والد ویس پیس بین الاقوامی سطح کے ہاکی کھلاڑی تھے۔ 1972 کے میونخ اولمپک میںہندوستانی ہاکی ٹیم نے کانسہ کا میڈل جیتا تھا، اس جیت میںان کے والد ویس پیس کا اہم رول تھا۔ دوسری طرف ان کی ماں جینفر پیس باسکٹ بال کی بین الاقوامی سطح کی کھلاڑی رہی ہیں۔ ان دونوں کے برعکس پیس نے ٹینس کی دنیا میں قدم رکھا۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ لیئنڈر پیس 19 ویں صدی کے عظیم شاعر مائیکل مدھو سودن دت کی نسل میں سے ہیں۔ کولکاتا میں پیدا ہوئے پیس نے شروعات میں ہی ٹینس کی راہ پکڑلی تھی۔ 1985 میں ہی پیس نے ہندوستان کہ ٹاپ ٹینس ٹریننگ اکادمیوںمیںسے ایک برطانیہ امرت راج ٹینس اکادمی چنئی میںٹینس کا گُر سیکھنا شروع کیا تھا۔ مانا جاتا ہے کہ یہیںسے پیس نے اپنے کھیل کو رفتار دینی شروع کردی تھی۔ 90 کی دہائی میںپیس کا ستارہ چمکنے کے لےے بیتاب تھا۔ اس کی پہلی جھلک جونیئر سطح پر دیکھنے کو ملی۔ جونیئر یوایس اوپن کے ساتھ ومبلڈن کا خطاب جیت کر پیس نے ثابت کیا کہ وہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں۔
عالمی ٹینس میںپیس نے کئی زمانے کے کھلاڑیوںکو اپنے سامنے کھیلتے دیکھا ہے۔ انھوں نے جان میکینرو سے لے کر نڈال تک کا دور دیکھا ہے۔ اتنا ہی نہیںپیس نے اگاسی سے لے کر پیٹ سمپراس اور اب روجر فیڈرر اور جوکووچ تک کے دور دیکھے۔ اس شاندار دور میںپیس نے ڈبلز میں ہندوستانی پرچم لہرایا۔ انھوں نے اپنے کریئر میں 16 گرینڈ سلیم خطاب جیتے ہیں۔ اس طرح سے پیس نے آٹھ آٹھ بالترتیب ڈبلز اور ر مکسڈ ڈبلز کے خطاب اپنے نام کےے ہیں۔ پیس کو بھلے ہی ڈبلز کا ماہر کھلاڑی مانا جاتا ہو، لیکن ایک دور ایسا بھی تھا جب وہ سنگل میں جوہر دکھاتے تھے ۔ پیس نے 1996 میں اٹلانٹا اولمپک میں تاریخ رچتے ہوئے کانسہ کا میڈیل جیت کر ہندوستان کا نام روشن کیاتھا۔ اولمپک میں یہ دوسرا موقع تھا جب کسی ہندوستانی نے ٹینس میں میڈل جیتاتھا۔ پیس سے پہلے کے ڈی جادھو نے 1952 کے اولمپک میں کانسہ کا میڈل جیتا تھا، اس کے بعد پیس نے ڈبلز میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا۔ جیسے جیسے ٹینس میں تبدیلی ہوئی، ویسے ویسے پیس نے جوڑی بدلی۔ لیئنڈر پیس نے اب تک 100 سے زیادہ کھلاڑیوں کے ساتھ اپنی جوڑی بنائی۔ ان کی سب سے کامیاب جوڑی مہیش بھوپتی کے ساتھ بنی، حالانکہ بعد میںیہ جوڑی ٹوٹ گئی۔ یہ وہ دور تھا جب ٹینس کی دنیا میںپیس بھوپتی کی جوڑی کے سامنے کوئی نہیںٹکتا تھا۔ دونوں کھلاڑیوں نے ریکارڈوں کی جھڑی لگادی تھی۔ دونوں نے مل کر لگاتار 24 ڈیوس کپ میچ اپنے نام کےے۔ پیس اگر اے ٹی پی ڈبلز میںموجودہ سیشن میں 11 اور میچ جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں، تو وہ امریکہ کے شیرووڈ اسٹیورٹ کو پچھاڑ کر سب سے زیادہ ڈبلز جیت درج کرنے والے کھلاڑیوں کی لسٹ میں چھٹے مقام پرپہنچ جائیں گے۔ اسٹیورٹ 728 جیت کے ساتھ چھٹے مقام پر ہیں، جبکہ 17 گرینڈ سلیم خطاب جیتنے والے پیس کے نام پر 718 جیت درج ہیں۔
کل ملاکر ریو اولمپک میں اگر پیس اسی طرح سے کھیلتے رہے، تو ہندوستان کو اس بار میڈل دلا سکتے ہیں، لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب ان کو صحیح جوڑی ملے۔ پچھلے اولمپک میںپیس کے جوڑی دار کوکے تعلق سے خوب کچ کچ ہوئی تھی۔ تمام تنازعوںکے بعد لندن اولمپک میںپیس کی کارکردگی امید کے مطابق نہیں تھی۔ اب ہندوستانی کھیل پریمیوں کوامید ہے کہ پیس یو میںمیڈل دلاسکتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا کتنا دلچسپ ہوگا کہ پیس اس بار اولمپک میںکس جوڑی دار کے ساتھ اترتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *