پانچ ریاستوں کے نتائج کے بعد یو پی میں نئے پینترے آزمانے پر غور

چوتھی دنیا بیورو
p-11پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے براہ راست یا بالواسطہ اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب پر اثر ضرور ڈالیں گے۔ نتائج کا اثر ہی ہے کہ ابھی کچھ دن پہلے تک سیاست میں ہورہی چہل پہل اور بیان بازیاں فی الحال تھمی نظر آتی ہیں۔ سیاسی آبزرور اسے طوفان کے پہلے چھانے والاسناٹا بتا رہے ہیں۔ آسام میں بی جے پی کی جیت سے نہ صرف بی جے پی کے قومی لیڈر بلکہ اتر پردیش کے ریاستی لیڈر بھی پُرجوش ہیں۔ وہیں ممتا کی دھواں دھار جیت سے گٹھ بندھن، مہا گٹھ بندھن کی سیاسی پارٹیاں اچانک سکتے میں آگئی ہیں۔ یو پی میں سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی بھی اپنی اپنی پالیسیوں کے بارے میں پھر سے غور کررہی ہیں۔ سماج وادی پارٹی، بہو جن سماج پارٹی دونوں کو لگ رہاہے کہ آسام میں چلا مودی کا کرشمہ کہیں یو پی میں بھی ان کے لئے مشکلیں نہ کھڑی کردے۔
بدلی ہوئی صورت حال میں اب بہو جن سماج پارٹی کسی سے گٹھ جوڑ کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ کانگریس اور اویسی کی پارٹی آل انڈیا اتحاد المسلمین بھی جا سکتی ہے۔ وہیں سماجوادی وادی پارٹی قیادت بھی سیاسی گٹھ جوڑ کے امکانات تلاش رہی ہے۔بی جے پی اب اترپردیش جیتنے کے لئے پوری کوشش کرے گی۔ لہٰذا اتر پردیش ہی اب ایک سال تک انتخابی اکھاڑہ بنا رہے گا۔ بہار میں تاریخی جیت کے بعد نتیش کمار نے قومی سیاست میں بھی دخل بڑھانے کی کوشش شروع کی اور اس کے لئے اتر پردیش میں سیاسی زمین پختہ کرنے کی مہم چلایا ۔ بہار میں شراب بندی کی وجہ سے نتیش کی بڑھی مقبولیت نے نتیش کمار کے ’سنگھ مکت بھارت ابھیان‘ کے ساتھ ساتھ ’شراب مکت سماج ‘ کی مہم کو بھی جوڑ دیا ہے۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتیجے نتیش کمار کی پالیسی میں ممکنہ پھیر بدل لائیں گے، سیاسی تجزیہ کار اس کی امید کرتے ہیں۔ مہا گٹھ بندھن کے ذریعہ نتیش کمار کے ساتھ جڑی کانگریس اب بدلے ہوئے حالات میں یوپی میں کیا کرے گی، اس پر بھی لوگوں کی نگاہ ہے۔ سینئر سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ بڑی سیاسی پارٹیاں کانگریس سے پرہیز کرنے پر سنجیدہ ہے، کیونکہ بہار میں مہا گٹھ بندھن سے چپک کر کانگریس نے فائدہ اٹھایا، اسی طرح مغربی بنگال میں کانگریس نے لیفٹ کے ساتھ چپک کر اس کا پورا رس چوس لیا۔ 2017 میں اتر پردیس کے علاوہ اترا کھنڈ، پنجاب، منی پور اور گوا میں بھی اسمبلی کے انتخاب ہونے ہیں،لیکن یو پی کی 403 اسمبلی سیٹوں والے اتر پردیش کا انتخاب ان میں سب سے اہم ہے۔ پنجاب کی اہمیت اس کے بعد ہے،جہاں 117 سیٹوں والی اسمبلی کا انتخاب ہونا ہے۔ منی پور کی 60سیٹوں اور گوا کی 40سیٹوں والی اسمبلی کے لئے انتخاب ہوگا۔
بی جے پی کو ہائی ٹیک کرنے کی مہم تیز
آسام کی جیت سے پورے اتر پردیش میں بی جے پی خیمے میں کافی جوش ہے۔ اسمبلی انتخاب کے پہلے ریاستی بی جے پی کو ہائی ٹیک اور ڈیجیٹل کرنے کی مہم تیزی سے چل رہی ہے۔ بی جے پی کے پارٹی دفتروں میں اب ایک ماڈرن کلچر تیزی سے چل رہاہے۔ لکھنو میں بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کو ریڈیو الکٹرانک والے اٹینڈس کارڈ دینے پر غور ہورہا ہے۔ اس کے ذریعہ پارٹی کے سینئر لیڈر یہ جان سکیں گے کہ کون لیڈر دفتر میں کتنی جلدی آتا ہے اور کتنا وقت گزارتا ہے۔ اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخاب کے نتیجوں کو2019 کے عام انتخابات کے اشارے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ پارٹی لیڈروں اور کارکنوں کو ملنے والے الکٹرانک کارڈ میں یونک نمبر ہوں گے، جس سے پارٹی کارکنوں کو مختلف دستاویزوں ،پارٹی کی پالیسیوں اور مرکزی سرکار کی مختلف اسکیموں کی جانکاریاں ملیں گی اور آن لائن لائبریری کے استعمال میں انہیں سہولت ہوگی۔
اب ساری رپورٹیں بھی آن لائن ہی فائل کرنی ہوگی۔ سینئر لیڈروں سے کہا گیا ہے کہ مختلف میٹنگوں اور چرچاﺅں کے بارے میں وہ آن لائن رپورٹ فائل کریں۔ ان رپورٹوں کا مرکزی لیڈروں اور زمینی سطح کے کارکنوں کے ذریعہ تجزیہ کیا جائے گا۔یہ آن لائن سروس جولائی سے شروع ہو جائے گی اور پہلے مرحلہ میں ضلعی سطح پر 1800 عہدیداران اس سے جڑیں گے۔ بعد میں تقریباً 1.5 لاکھ کارکنوں کو ریاستی دفتروں سے آن لائن جوڑ دیا جائے گا جو ووٹنگ کے دوران بوتھ لیول پر کام کریں گے۔

سماج وادی کے لئے آسان نہیں 2017کی راہیں
سماج وادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو اور ان کے بھائی شیو پال سنگھ یادو پوری طاقت اورلگن کے ساتھ ریاست میں 2017 کے اسمبلی انتخاب میں اقتدار واپس پانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ جو لوگ پارٹی سے کسی نہ کسی وجہ سے ناراض ہوکر باہر چلے گئے تھے،انہیں بھی راجیہ سبھا اور ودھان پریشد کا ٹکٹ دے کر پارٹی میں ان کی پھر سے واپسی طے کی جارہی ہے۔ سماج وادی پارٹی میں بینی پرساد ورما، کرن پال سنگھ اور امر سنگھ کی پھر سے واپسی ہو گئی ہے۔یہ وہی بینی پرساد ورما ہیں جو کبھی ملائم سنگھ کو برا بھلا کہتے تھے اور راہل گاندھی کو رات میں دو بجے بھی پی ایم بنوانے کا خواب دیکھا کرتے تھے۔ لیکن اپنے بیٹے کی محبت میں بینی کو سماج وادی پارٹی میں آنا پڑا۔ اس کا انہیں فائدہ بھی ہوا اور وہ راجیہ سبھا پہنچ گئے۔ اسی طرح امر سنگھ کا بھی سیاسی ونواس پورا ہوا۔
بینی پرساد ورما اور سابق بیسک ایجوکیشن منسٹر کرن پال سنگھ کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ ان کی واپسی کا پیغام صرف یو پی ہی نہیں بلکہ دلی تک جائے گا اور اب دلی دور نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی کی اس عمل سے کانگریس کے ’پی کے ابھیان ‘کو گہرا صدمہ لگا ہے، وہیں ریاست میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی بڑھ رہی سرگرمی کو بھی ذات برادری کی بنیاد پر چوٹ لگی ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ بینی پرساد ورما بارہ بنکی ضلع کے قد آور کورمی لیڈر ہیں۔ ورما کا آس پاس کے کورمی اور مسلم اکثریتی ضلعوں میں اچھا اثر ہے۔ اگر اعظم خاں سمیت کچھ مسلم طبقہ سماج وادی پارٹی سے ناراض ہوتا بھی ہے تو اس کی بھرپائی بینی پرساد ورما کے بہانے ہو جائے گی۔ سماج وادی پارٹی چھوڑنے کے پہلے بارہ بنکی ضلع میں سماج وادی پارٹی کا مطلب بینی بابو ہی ہوا کرتا تھا،لیکن درمیان میں سماج وادی پارٹی سپریمو سے تلخی ہونے کی وجہ سے بینی کانگریس میں چلے گئے تھے۔ اب اس دوران کانگریس کا گراف تیزی سے گر رہا ہے اور ’پی کے‘ کی قیادت میں بھی کانگریس کی حالت خستہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔بینی کے لئے یہ بھی پریشانی کا سبب تھا کہ کانگریس میں انہی کے ضلع کے پی ایل پونیا کا اثر تیزی سے بڑھ رہا تھا ۔اس لئے ان کے سماج وادی ہونے کا راستہ آسان ہو گیا۔
رہی بات کرن پال سنگھ کی تو وہ بھی جاٹ لیڈر ہیں اور مغربی اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے پاس کوئی مضبوط جاٹ لیڈر نہیں تھا، اس لئے انہیں چودھری اجیت سنگھ کو انہی کے گھر میں گھیرنے کے لئے سماج وادی پارٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ اب ان لیڈروں کی سماج وادی پارٹی میں واپسی اپنے علاقوں کی سیاست میں کتناگل کھلائے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا،لیکن اہم یہ ہے کہ بینی کے سماج وادی پارٹی میں آنے کے بعد بارہ بنکی اور آس پاس کے ضلعوں میں کانگریس کے وجود کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے کانگریسی کارکن پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی امکان پیدا ہو رہا ہے کہ جب اس علاقے میں کثیر جماعتی زور دار مقابلہ ہوگا تو کم سے کم یہ علاقہ کانگریس مکت تو ہو ہی جائے گا۔ اسمبلی انتخاب میں بینی کے بیٹے راکیش ورما کو ٹکٹ ملنا بھی یقینی ہو گیا ہے۔ ادھر امر سنگھ بھی اپنا سیاسی ونواس ختم کرنے کے خواہاں تھے۔ملائم نے انہیں راجیہ سبھا کا پاس دے کر آنے والے اسمبلی انتخاب میں ان کا کردار طے کردیاہے۔ سیاسی جوڑ توڑ میں امر کو مہارت حاصل ہے، جس کا فائدہ وہ سماج وادی پارٹی کو دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *