دو سال بعد سماج کا ہر طبقہ مایوس

مرکز میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے دو سال گزر چکے ہیں۔ جیسا کہ امید کی جارہی تھی،وہ اس موقعہپر ایکعظیم الشان تقریب منارہے ہیں۔ لیکن آیئے اس مسئلے پر ایک غیر جانب دارانہ جائزہ لیتے ہیں۔ ایک غیر جانبدارانہ جائزہ یہ ظاہر کرے گا کہ انتظامیہ کی کارکردگی اوسط ہے۔ اسے دس میں سے پانچ نمبردئے جا سکتے ہیں۔ اس حکومت کی پریشانی یہ ہے کہ اس نے الیکشن کے دوران لوگوں کی امیدیں بڑھا دی تھیں۔ لوگوں نے بھی اسے بھاری اکثریت سے اقتدار کی کرسی پر بٹھادیا۔لیکن معاشرے کے کسی بھی طبقہ کی بات کر لیجیے اب مایوس ہے ۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں نوجوانوں اور بے روزگاروں کی۔ ان سے کہا گیا تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیںگے اور سب کو روزگار مل جائے گا۔ یقینا ایسا نہیں ہوا۔ جو لوگ کارپوریٹ سیکٹر میں ہیں، نوکر شاہی میں ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب ایک دن میں نہیں ہو سکتا۔ لیکن جس طریقے سے الیکشن سے پہلے ان ساری چیزوں کو پروجیکٹ کیا گیا تھا، اس کے مدنظر آج نوجوان یقینی طور پر مایوس ہے۔ معاشرے کا غریب طبقہ، متوسط کسان، بے زمین مزدور کے پاس خوش ہونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ حکومت کے پاس کئی اسکیمیں ہیں، نیت بھی ٹھیک ہے، لیکن زمینی سطح پر کچھ بھی نہیں ہے۔ حکومت کے ذریعہ اعلان شدہ اسکیمیں اچھی ہیں۔ اگر انہیں بہتر طریقے سے نافذ کیا جائے، تو ان کا فائدہ کئی برسوں بعد ملے گا، لیکن فی الحال اس کا کوئی نتیجہ نکلتا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر کی بات کریں توان کے جذبات بھی مثبت نہیں ہیں،جس کی کئی وجہیں ہیں۔ امریکی معیشت میں کساد بازاری ہے۔ لیکن اگر ہندوستانی حالات کو دیکھیں تو یہاں کا کارپوریٹ سیکٹر زیادہ اچھا کر سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جو بھی حکومت کی پالیسی سازی کر رہا ہے وہ مجموعی رائے کے ساتھ کام نہیں کر رہا ہے۔ ایک طرف تو ہم کثیرغیر ملکی سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں اور دوسری جانب آپ کا قانونی عمل ایسا ہے کہ وجے مالیہ جیسے صنعت کار ، کانگریس اور بی جے پی دونو ں کی طرف سے راجیہ سبھا کے رکن رہ چکے ہیں، کوملک چھوڑ کر بھاگنا پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات قانون کی حکومت کے لیے کوئی بہتر اشارہ نہیں ہیں۔ قرض لینے والے اور ٹیکس ادا نہیں کرنے والے کے خلاف کارروائی کریں لیکن یہ تہذیب کے دائرے میں ہونا چاہئے۔ سبرت رائے دو سال تک جیل میں رہے ہیں۔ ان سب باتوں سے ملک کے باہر کے سرمایہ کاروںکو اچھا اشارہ نہیں ملے گا۔ ہندوستان کے لوگ ان سب باتوں کے عادی ہیںلیکن خوف کے ماحول کی وجہ سے حالات اور خراب ہوں گے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومت کیا کر سکتی ہے؟ حکومت کو ایک کام ضرور کرنا چاہیے۔ پبلک سیکٹر میں اسے کثیر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ برطانیہ اور امریکہ جیسے ملکوں میں پبلک سیکٹر کی سرمایہ کاری پرائیوٹ سکیٹر سے زیادہ ہے۔ لیکن ہندوستان میںمعاملہ ٹھیک اس کے الٹ ہے۔ آپ جواہر لال نہرو کی، پبلک سیکٹر کی تنقید کریں، اس میں بدعنوانی کی بات کریںلیکن یہ سب اندھی دوڑ میں شامل ہونے جیسا ہے۔ دفا عی سیکٹر میں ہم نے کچھ فیصلے کیے ہیں، جو ہتھیار ہم باہر سے لا رہے ہیں انہیں ہمیں خود ہی بنانا چاہیے۔ یہ اچھی بات ہے۔ حکومت ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟ ہمارے پاس پیسہ ہے، صلاحیت ہے۔ اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے آپ کثیر مقدار میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرتے ہیں؟ ظاہر ہے کچھ مسئلے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بی جے پی دائیں بازو کی جماعت ہے اور اس کا خیال ہے تجارت حکومت کا کام نہیں ہے۔ ایک کلیہ کے طور پر تو یہ بات ٹھیک ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی میک ان انڈیا کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں ایک کام ضرور کرنا چاہیے کہ آئندہ ایک سال میں صنعت کے شعبے میں کثیر مقدار میں سرمایہ کاری کریں۔ ان کے پاس ابھی بھی تین سال کا وقت باقی ہے۔ اگر پرائیوٹ سیکٹر آتا ہے تو ٹھیک ہے اگر نہیں آتا ہے تو حکومت کو یہ کام خود ہی کرنا چاہیے۔ ایسا کرنے سے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے، معیشت میں ایک بار پھر خود اعتمادی پیدا ہوگی اور ایک بار جب حکومت پیسہ لگانا شروع کردے گی تو پرائیوٹ سیکٹر کا پیسہ آنا شروع ہو جائے گا۔ اس کے لیے دو اقدام کرنے ہوں گے۔ پہلا خوف کے ماحول کو ختم کرنا ہوگا اور دوسرا حکومت کو لازمی طور پر کثیر سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ حکومت نے جو وعدے کیے ہیں انہیں پورا کرنے کے لےے یہ میرے تجاویز ہیں۔
اب ذرا اپوزیشن کی بات کر تے ہیں۔ کانگریس پارٹی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے اور اس کی موجودگی پورے ملک میں ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کے حوصلے پست ہیں۔ ظاہر ہے یہ کسی سیاسی جماعت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ لوک سبھا میں صرف 44سیٹوں پر سمٹ جانا برا تھا، لیکن ایک وقت ایسا تھا جب بی جے پی کے لوک سبھا میں صرف دو رکن تھے۔ لہٰذا، صرف ایک الیکشن میں شکست سے بہت فرق نہیں پڑتا۔ آپ کو اگلے الیکشنکی تیاری کرنی چاہیے۔ بدقسمتی سے کانگریس پر جمود طاری ہور ہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کیقوت ارادی ہی ختم ہو گئی ہے۔ یہ کسی طرح سے ٹھیک نہیں ہے۔ ابھی ابھی پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوئے ہیں۔ تمل ناڈو اور مغربی بنگال میںکانگریس اور بی جے پی دونوں کا کچھ بھی داﺅ پر نہیں لگا تھا۔ کیرل میں ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے درمیان ہر انتخاب کے بعد اقتدار کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے، اس لیے وہاں کانگریس کی شکست سے کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ صرف ایک ریاست آسام ایسی تھی جہاں کانگریس گزشتہ 15سالوں سے اقتدار میں تھی۔ کانگریس کو آسام میں کل 31فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ بی جے پی کو 29فیصد ووٹ ملے۔ آسام گن پریشد کی وجہ سے بی جے پی ایک اتحاد بنانے میں کامیا ب ہو سکی۔ لیکن پھر بھی بی جے پی کے لیے سب کچھ اچھا نہیں ہے، جیسا کہ ان کے رہنما زور وشور سے دعویٰ کر رہے ہیں۔ اور کانگریس کے لیے چیزیں اتنی بری بالکل ہی نہیں ہیںجتنی کہ ان کے رہنما سمجھ رہے ہیں۔ پھر بھی انہیں یہ ضرور طے کرنا چاہیے کہ ان کا رہنما کون ہے؟ راہل اگر قیادت کرنا چاہتے ہیں تو آگے آکر پارٹی کی رہنمائی کرنی چاہیے ،ورنہ پارٹی کی باگ ڈور کسی کارگزار صدر کے ہاتھوں میں دے دینا چاہیے۔ لیکن یہ طے ہے کہ کانگریس اگر ابھی سے کام کرنا شروع کردے تو 2019 میں اس کا مظاہر اتنا برا نہیں ہو گا جتنا پارٹی سمجھتی ہے۔
اب میڈیا کی بات۔بدقسمتی سے سب سے بڑی مایوسی نہ تو این ڈی اے حکومت ہے اور نہ ہی اپوزیشن کانگریس ہے بلکہ بدقسمتی سے سب سے بڑی مایوسی میڈیا ہے۔ زیادہ تر میڈیا اپنا راستہ بھول گیاہے۔ پانچ ریاستوں کے حالیہ انتخابات کو ہی لے لیجئے۔ میڈیا ایسا دکھا رہا ہے جیسے پورا ملک بی جے پی کی جھو لی میں چلا گیا ہے۔ لیکن حقیقتاً بی جے پی کو کیا ملاہے؟ صرف آسام! یہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ بی جے پی کے لوگ آسام کو اتر پردیش کیوں تصور کر رہے ہیں۔ آسام لوک سبھا میں 14اراکین کو بھیجتا ہے۔ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ آسام جیتنے کے بعد بی جے پی نے 2019جیت لیا۔ حکومت سازی کے لیے 272اراکین کی ضرورت ہوتی ہے، 14جیت گئے ہیں باقی کے 258بھی آ جائیں گے۔ یہ کیسا مذاق ہے؟ لیکن میڈیا میں ایک دو مضامین، جن میں مسائل کا تجزیہ کیا گیا ہے اور جن کی میں ضرور تعریف کروں گا، سے قطع نظرزیادہ تر میڈیا اندھی دوڑ میں شامل ہے۔ میڈیا کسی بھی ملک کی جمہوریت کا محافظ ہو تا ہے۔ اگر میڈیا مدد نہ کرے تو جمہوریت کو راستہ بھٹکنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ مقننہ اور عاملہ کے علاوہ میڈیا اور عدلیہ جمہوریت کے دو ستون ہیں جو جمہوریت کی نگرانی کرتے ہیں۔ عدلیہ کبھی کبھی ایسا رویہ اختیار کر لیتی ہے جسے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پریس تو بہت ہی بری حالت میں ہے۔ بیشک یہاں پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، ا لیکڑانک میڈیا کو ٹی آر پی کی ضرورت ہوتی ہے، پرنٹ میڈیا کو اشتہار کی۔ یہ سارے مسئلے اپنی جگہ ہیں، لیکن صحافت میں ایک مشن کی جھلک ضروری ہے، یہ مشن صرف نام کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پریس کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ امید کرنی چاہیے کہ چیزیں بہتر ہوں گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *