کانگریس کے لئے کرو یا مرو کی حالت ہے

کانگریس ملک میں مضبوط اپوزیشن کا کردار نبھا سکتی ہے، لیکن پتہ نہیں وہ کون سا کمزور نقطہ ہے یا کمزور نس ہے،جس کی وجہ سے کانگریس مضبوط اپوزیشن پارٹی کا کردار نہیں نبھا نا چاہتی۔ راہل گاندھی پر کانگریس کی قیادت کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ ان دنوں پھر ملک سے باہر ہیں۔کہا جارہا ہے کہ وہ چھٹی منانے کے لئے باہر گئے ہیں۔وہ کام پر کب ہوتے ہیں، اس سوال کا کبھی جواب نہیں ملتا۔ کام پر ہونے کا مطلب کانگریس پارٹی کو تنظیمی طور پر مضبوط کرنا،کارکنوں میں جذبہ پیدا کرنا اور انتخاب جیتنے کے لئے جس جنون کی ضرورت ہوتی ہے اسے پیدا کرنا ہے۔ کم سے کم راہل گاندھی اس کام پر لگے تو نہیں دکھائی دیتے ہیں۔

اگر گزشتہ دو تین انتخابات کو دیکھیں تو بہار انتخاب میں جب کانگریس کو دس سے کم سیٹیں ملی تھیں، تب اتر پردیش کا انتخاب دو سال بعد ہونا تھا۔اندازہ لگایا جارہا تھا کہ راہل گاندھی اتر پردیش پر دھیان دیں گے،لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ تنظیم ویسی کی ویسی ہی کھڑی رہی۔ اتر پردیش کا انتخاب ہوا اور دو تہائی کے آس پاس سیٹیں جیت کر اکھلیش یادو نے تاریخ رچ دی۔ لوک سبھا کے انتخاب میں کانگریس کی اور بری حالت ہو گئی،کیونکہ اسمبلی انتخاب کے بعد بھی اتر پردیش میں کانگریس نے تنظیم میں کوئی جان نہیں پھونکی اور کارکنوں کے سامنے کوئی ٹارگٹ ہی نہیں رکھا۔ اتفاق سے بہار کے انتخاب ہوئے اور اس میں کانگریس نتیش کمار کے سہارے 27 سیٹیں پانے میں کامیاب ہو گئی۔اس کے بعد آسام کے انتخاباب آئے اور اس میں کانگریس کو بری طرح سے منہ کی کھانی پڑی۔ اس انتخاب نے یہ ثابت کردیا کہ کانگریس اپنی غلطیوں سے کبھی نہیں سیکھ سکتی ۔کانگریس کو حکمت عملی کے طور پر بی جے پی کے متوقع ساتھیوں کو توڑ کر اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرنی چاہئے تھی،لیکن کانگریس ایسے بات کررہی تھی جیسے اسے دو تہائی اکثریت ملنے والی ہو۔ آسام میں شان کے ساتھ پہلی بار بی جے پی کی سرکار بن گئی۔
اتر پردیش کا انتخاب 6مہینے بعد ہے، لیکن کانگریس کے اندر اتر پردیش کو لے کر کوئی فکر نہیں ہے۔ اتر پردیش کے کانگریسی کارکن اور لیڈر یتیموں کی طرح چاروں طرف گھوم رہے ہیں۔ کارکن ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کس کے سامنے رکھیں تاکہ اتر پردیش میں کانگریس کو کم سے کم انتخاب کی بات کرنے لائق تو کوئی بنائے۔کانگریس کو پرشانت کشور، جو اِن دنوں میڈیا میں ملک کے سب سے بڑے پالیسی ساز کے طور پر متعارف ہو چکے ہیں یا انہوں نے خود کو متعارف کرالیا ہے،میں اپنا نجات دہندہ دکھائی دے رہا ہے ۔پھر بھی کانگریس کارکن جیسا پرشانت کشور کی صلاح مل رہی ہے،ویسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن تنظیم اب بھی وہیں کی وہیں ہے۔جن راہل گاندھی پر اتر پردیش کانگریس کو سرگرم کرنے کی ذمہ داری ہے، وہ اتر پردیش میں کارکنوں کو کہیں نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ شاید راہل گاندھی یہ سوچتے ہیں کہ انتخاب آئے گا،وہ پانچ اجلاس کریں گے اور کانگریس جیت جائے گی۔ ہو سکتاہے ایسا ہو، لیکن آج تو کانگریس کارکنوں کو راہل گاندھی کی قیادت میں انتخاب جیتنا بیداری میں خواب دیکھنے جیسا لگ رہا ہے۔
اتر پردیش میں جن لوگوں کو بھی کانگریس قیادت سونپنے کی چرچائیں ہیں ان سے جب پوچھتے ہیں،تو وہ کہتے ہیں کہ ہم سے تو کسی نے بات ہی نہیں کی۔اخباروں میں اس طرح کی خبریں چل رہی ہیں۔سونیا گاندھی کانگریس کی صدر ہیں، وہ بھی اتر پردیش کے کانگریسی لیڈروں یا جو کانگریس کو سمجھتے ہیں انہیں بلا کر نہ تو کوئی کام سونپ رہی ہیں اور نہ ہی کارکنوں میں کوئی جان پھونکتی نظر آرہی ہیں۔باقی جتنے لیڈر ہیں، وہ راجیہ سبھا کے لیڈر ہیں ،انہیں کانگریس کے انتخاب سے کوئی مطلب ہی نہیں ہے، وہ راجیہ سبھا میں 6سال کے لئے ہیں۔ وہ راہل گاندھی سے بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں،وہ سونیا گاندھی سے بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔کانگریس اتر پردیش میں ہوا میں تیرتی اس پتنگ کی طرح ہے جس کی ڈور ہے ہی نہیں۔ ہوا میں الجھ رہی ہے، لڑکھڑا رہی ہے، بکھر رہی ہے، تیر رہی ہے، تب تک جب تک کہ وہ نیچے نہ گر جائے۔
اتر پردیش میں ایک پالیسی کے تحت یہ عام رائے بنی ہے کہ شیلا دیکشت کو اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا چہرہ بنایا جائے، سنجے سنگھ کو انتخابی تشہیر کی ذمہ داری دی جائے اور نومبر سے پرینکا گاندھی اتر پردیش کے ہر کونے میں انتخابی تشہیر شروع کریں۔ایک خبر کے مطابق الیکشن کمیشن اتر پردیش میں دسمبر میں انتخاب کرانا چاہتا ہے اور اس کے لئے اسے اہم پارٹیوں کی رضامندی بھی مل چکی ہے۔
اگر دسمبر میں اتر پردیش میں انتخاب ہوتے ہیں اور اکتوبر یا نومبر میں کوئی نیا اتحاد، کوئی نئی ٹیم ،کچھ نئے لوگ انتخاب جتانے کے لئے ذمہ دار بنائے جاتے ہیں،تو بھلا وہ کیا کر پائیںگے۔ان کے سامنے پہاڑ جیسی مایا وتی، چیتے جیسے ملائم سنگھ اور ان دونوں کو پچھاڑنے کی تیاری میں بی جے پی راستہ روکے کھڑی ہے۔ کانگریس ان تینوں میں کسے ہرانے کا منصوبہ بنائے گی، یہ ابھی تک کارکنوں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔
بہر حال کانگریس اتر پردیش میں خود مایوس ہے۔اسے لگتا ہے کہ اتر پردیش میں اس کے سامنے ہار کے سوائے کوئی چارہ نہیں ہے، جبکہ گائوں میں کانگریس کی حالت اتنی بری نہیں ہے۔ وہیں امیت شاہ نے اتر پردیش میں انتخابی سینٹروں پر 10سے 15 کارکنوں کی فوج کھڑی کرنے کی پالیسی بناکر اور راجناتھ سنگھ کو وزیر اعلیٰ عہدہ کے لئے ممکنہ امیدوار بنانے کا اشارہ کرکے کانگریس میں ایک نیا ڈر پیدا کردیا ہے۔مایاوتی نے بھی امیت شاہ کی طرز پر ہر انتخابی سینٹر پر 20کارکنوں کی فوج کھڑی کر دی ہے۔ وہیں سماج وادی پارٹی کے پاس بھی ہر انتخابی حلقے پر دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرنے کا جذبہ لئے کارکنوں کی ایک بڑی فوج ہے۔ ان کا مقابلہ کانگریس اگر اکتوبر میں اپنی تشہیری مہم شروع کرکے کرنا چاہتی ہے تو کانگریس سے بڑی عظیم اور دانشور پارٹی اس زمین پر کوئی نہیں ہے۔
بہر حال اب کانگریس کے پاس وقت نہیں ہے۔اگر وقت ہے تو یہی کہ کانگریس جولائی میں اپنی نئی پالیسی ، نئے لیڈر اور کارکنوں میں جذبہ بھرنے والے لوگ اور پڑوس کی ریاستوں کے سارے لوگوں ،جو مقامی لوگوں کی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں ،کو جولائی تک کام سونپ دے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو کانگریس کو مان لینا چاہئے کہ وہ اتر پردیش میں نہ اسمبلی کا انتخاب جیتے گی اور نہ 2019 میں لوک سبھا کے انتخاب میں کچھ کر پائے گی۔
کوئی اگر بتا سکے، جس کی توقع کم ہے، تو وہ سونیا اور راہل گاندھی کو بتائے کہ اتر پردیش کی اس صورت حال میں دوسرے کے لئے کرو یا مرو کا نعرہ آج نہیں ہے۔ آج خود ان کے لئے کرو یا مرو کا سوال کھڑا ہو گیا ہے۔ اگر اتر پردیش میں وہ کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں آج کرنا ہوگا۔ ورنہ مایاوتی یا ملائم سنگھ نہیں ،بی جے پی اتر پردیش میں سب سے پہلے کانگریس کو اپنی خوراک بنانے کا کام کرے گی۔ تب کانگریس اترپردیش میں تاریخ کے صفحات میں قید ہونے والی ایک ایسی پارٹی بن جائے گی جس نے کئی وزیر اعلیٰ تو دیئے،لیکن اب اس کے پاس کارکن اور لیڈر دینے کی بھی طاقت نہیں بچی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *