بہار: سیاست کے مکڑجال میں ٹاپرس گھوٹالہ

سروج سنگھ
P-3ٹاپرس گھوٹالہ کو لے کر روز نئے نئے راز فاش ہورہے ہیں۔ یہ بات معاملے کو کہاں اور کس سمت میں لے جائے گی،کہنا مشکل ہے۔ لیکن اب تک کی کارروائی میں پولیس کی تفتیش اس معاملے کے اہم ہیروز ’بہار اسکول ایگزامنیشن بورڈ‘‘ کے اس وقت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لال کیشوَر پرساد سنگھ ، ویشالی ضلع کے وی آر کالج کے پرنسپل (کرتا دھرتا ہی کہنا صحیح ہوگا) امیت کمار عرف بچہ رائے اور جنتا دل (یو) کی لیڈر اور سابق ایم ایل اے اوشا سنہا تک آکر سمٹ گئی ہے۔ اوشا سنہا ڈاکٹر لال کیشوَر پرساد سنگھ کی بیوی اور مگدھ یونیورسٹی کے گنگا دیوی ویمن کالج کی پرنسپل ہیں۔لال کیشور اور ان کی بیوی نے انٹر ایگزام کو دودھاری گائے سمجھ کر خوب دوہا۔ اوشا سنہا نے اس معاملے میں بیوی ہونے کا حق ادا کیا اور لال کیشور کے لئے جتنا کرسکتی تھی کیا۔ اس دودھاری گائے کو دوہنے میں انہوں نے اپنے کالج کے احاطے اور وہاں کے ملازموں کا بھی بھرپور استعمال کیا۔ انٹر ٹاپرس گھوٹالہ کو بے پردہ اور قصورواروں کو قانون کے حوالے کرنے کے لئے بہار پولیس کی خصوصی جانچ ٹیم ( ایس آئی ٹی ) نے گزشتہ ہفتہ دس دنوں میں کافی کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔ اس نے اب تک آدھا درجن سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں گھوٹالہ کے ماسٹر مائنڈ بچہ رائے تو ہے ہی، لال کیشور کے مددگار پٹنہ یونیورسٹی کا ایڈہاک ٹیچر اجیت شکتی مان، بہار سنسکرت ایجوکیشن بورڈ کا سندیپ جھا وغیرہ بھی شامل ہے۔ ان کی پوچھ گچھ سے جو خلاصے ہوئے، پولیس کے مطابق کافی اہم ہیں۔ جنتا دل (یو) کے اہم عہدیدار اور دو بار ایم ایل اے رہ چکے اوشا سنہا اس ریکٹ کو چلا رہی تھیں۔ لال کیشور، اوشا کے مددگاروں کے ٹھکانوں سے جانچ ٹیم کو کافی مقدار میں سادہ اور لکھے ہوئے جوابات کی شیٹ اور سرٹیفکیٹ کی سادہ کاپیاں اور دیگر کاغذات ملے ہیں۔ اسی طرح بچہ رائے کے وی آر کالج (کرتپور ، بھگوان پور، ویشالی ) اور دیگر ٹھکانوں سے نقد پچیس لاکھ روپے سے زیادہ ملے ہیں۔ پولیس ویسے بہت کچھ حاصل کر لینے کا دعویٰ کررہی ہے جو کہ ملزموں کو سزا دلا سکتی ہے۔ اس گھوٹالے کے بڑے ہیرو لال کیشور اور ان کی بیوی اوشا سنہا اور اس معاملے میں نامزد چار ٹاپرس بھی اب تک پولیس کی پکڑ سے باہر ہیں۔پولیس کا ماننا ہے کہ لال کیشور -اوشا کی گرفتاری کے بعد تفتیش کو انجام تک پہنچانا آسان ہو جائے گا۔ دیکھنا ہے کہ یہ کب تک پولیس کے ہتھے آتے ہیں۔حالانکہ یہ بھی سچ ہے کہ زیادہ تر معاملوں میں بہار پولیس ملزموں کو پکڑ نہیں پاتی ہے اور وہ خود ہی عدالت میں خود سپردگی کرکے قانون کی مدد کرتے رہے ہیں۔ دیکھیں اس بار کیا ہوتا ہے۔
صوبہ میں انٹر ایجوکیشن کے لئے انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کونسل کا قیام 1980 میں ہوا تھا۔ یہی ادارہ انٹر کالجوں کو منظوری دیتا رہا۔ کورس طے کرتا رہا اور ایگزام آرگنائز کرتا رہا تھا۔ کئی دیگر اداروں کی طرح اسے بھی مضبوط بنانے کے بدلے لیڈروں، نوکر شاہوں کی جوڑی نے اس کا اپنی طرح استعمال کیا۔ یہ ادارہ مسلسل بدنام ہوتا رہا ۔جن لوگوں ، لیڈروں اور نوکر شاہوں نے اسے دودھارو گائے سمجھ کر خوب دوہا ،وہی لوگ اب ایجوکیشن میں افضلیت کی بات بھی کررہے ہیں۔ کافی بدنامی کے بعد انٹر میڈیٹ ایجوکیشن کونسل کی ذمہ داری بھی بہار اسکول ایگزامنیشن بورڈ کو سونپ دی گئی۔ سیاست بدلی اور صوبے میں نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے کی سرکار بنی۔ اس سرکار نے بہار کی فائننس فری ایجوکیشن پالیسی،جس کے تحت نئے انٹر اور ڈگری کالجوں کو منظوری اور الحاق دیا جاتا ہے ،میں بدلائو کیا اور پرائیویٹ انٹر اور ایفیلیٹیڈ ڈگری کالجوں کو ان کی انٹر کے ایگزام کے نتائج کی بنیاد پر گرانٹ دینے کا فیصلہ لیا۔اس کے پہلے ان کالجوں کو سرکار سے کوئی مالی مدد نہیں ملتی تھی۔ گرانٹ ملنے کے ساتھ انٹر ایگزام ایجوکیشن میں شروع سے جاری مافیا گری اور زیادہ مضبوط ہوئی۔ بہار اسکول ایگزامنیشن بورڈکے ذمہ داروں اور لیڈروں نے اسے خوب کھاد پانی دیا۔ گزشتہ دس سال میں شاید ہی کوئی ایسا سال ہو، جب انٹر ایگزام میں دھاندلی کی خبر سرخیاں نہ بنی ہو۔ گزشتہ گیارہ برسوں میں یعنی 2005 کے بعد سے سرکاری طور پر پانچ بار میرٹ لسٹ بدلی گئی ہے۔انٹر ایگزام میں ٹاپر سو طلباء میں 75فیصد سے زیادہ بہار کے دیہی علاقوں کے انہی پرائیویٹ اور ذرائع سے محروم انٹر کالجوں کے رہے ہیں۔ ٹاپ طلبا میں زیادہ تر کا ’ٹالنٹ‘ روبی رائے اور سوربھ سریششٹھ سے بہتر رہا ہے۔یہ کہنے میں کسی کو بھی تردد ہو سکتا ہے۔مظفر پور، موتہاری، ویشالی، گوپال گنج، سمستی پور، بیگو سرائے، بھوجپور، مونگیر،کیمور، نوادہ وغیرہ درجنوں ضلعوں کے دیہی علاقوں کے پرائیویٹ انٹر کالجوں اور ان کے ’ بچہ رائے انٹر کے ایگزام کے نتائج ہر سال اپنی چاہت کے مطابق جاری کرواتے رہے ہیں۔ بہار کی راجدھانی میں سائنس کالج سمیت تمام سہولت سے آراستہ مشہور کالجوں کے طلباء ان بچہ رائے جیسے کی جوڑ توڑ کی وجہ سے دوم درجے کے ثابت ہوتے رہے ہیں۔ ٹاپ سو طلبا میں نامور کالجوں کے طلباء کو شاید ہی جگہ ملتی رہی ہے۔
گھوٹالہ صرف اسی سال نہیں ہوا ہے اور اس کے ہیرو بچہ رائے اور لال کیشور ہی نہیں ہیں۔ انٹر کے نتائج کو مینج کروانے میں مافیا کے زیر کنٹرول پرائیویٹ انٹر ڈگری کالجوں کا ہی نہیں ،کوچنک انسٹی ٹیوٹ کا بھی بڑا کردار رہتا ہے۔ ان کا مضبوط جال بہار میں پھیلا ہوا ہے۔ راجدھانی سمیت صوبے کے بڑے اور ڈویژنل شہروں کے کچھ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ چلانے والے اپنے علاقے کے بچہ رائے سے سیدھے رابطہ میں رہتے ہیں۔ یہ کوچنگ سینٹر اور انٹر کالج کے طالب سے من کے مطابق امتحان کے نتائج کے لئے ڈیل کرتے ہیں۔ فرسٹ ڈویژن کے لئے فی طالب علم 60سے 70 ہزار روپے کی رقم طے کی جاتی ہے تو سیکنڈ ڈویژن کے لئے 30سے 40 ہزار روپے فی طالب علم لئے جاتے ہیں۔ٹاپ 100 میں جگہ محفوظ کروانے کا ریٹ فی طالب علم لاکھ سے اوپر ہی رہتا ہے۔ ایسے نتائج سے انٹر کالجوںکو ہی نہیں فائدہ ہوتا ،کوچنگ سینٹروں میں بھی طلباء کی آمد بڑھ جاتی ہے۔ اس جگاڑ کی وجہ سے بہار کے کچھ کوچنگ کی متعدد شاخیں چل رہی ہوتی ہیں۔نتائج کی بنیاد پر انٹر کالجوں کو سرکاری گرانٹ کی رقم بھی طے ہوتی ہے۔ فرسٹ ڈویژن سے پاس طلباء کی تعداد زیادہ ہونے پر گرانٹ کی رقم میں بھاری اضافہ ہونا طے ہے۔ لہٰذا ایک تیر سے کئی شکار کرتے ہیں یہ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ اور انٹر کالج اور جب یہ ہوتا ہے تو پٹنہ میں دیوتا کی مناسب پوجا بھی ضروری ہوتی ہے۔ بہار میں ایسی پوجا برابر ہوتی رہی ہے۔ مطلب پرائیویٹ انٹر ڈگری کالج کے چلانے والے، کوچنگ انسٹی ٹیوٹ، ایگزام کمیٹی کے افسروں کا یک بلیک ٹرنگل اسٹیٹ کے انٹر ٹیسٹ سسٹم کو اپنے طریقے سے بدل کر بہار کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو برباد کررہے ہیں۔
بہار کے اس مشکل کو نظر انداز کرنے کی ہماری سیاسی کوشش ہورہی ہے۔ تبھی تو ریاست کے لیڈر بچہ رائے کو برسر اقتدار اور اپوزیشن کی گود میں دکھانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔معاملے کی تہہ تک پہنچنے اور سسٹم میں سدھار کے طریقے پر غور کرنے کی بہ نسبت بہار میں چرچا اس پر ہے کہ ٹاپرس گھوٹالے کا محرک اور ویشالی ضلع کے وی آر کالج کے پرنسپل امیت کمار عرف بچہ رائے کس کا ’بچہ ‘ ہے ۔سب سے پہلے یہ بات سامنے آئی کہ یہ ایجوکیشن مافیا راشٹریہ جنتا دل سپریمو لالو پرساد کا خاص ہے۔ لالو پرساد کے ساتھ اس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور پھر میڈیا پر آئی۔ یہ بھی خبر ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں لالو پرساد کے بڑے لڑکے اور ریاست کے ہیلتھ منسٹر تیجسوی یادو کی جیت یقینی کرانے کے لئے مہوا میں وہاں کے لوکل ایجوکیشن مافیا کی کاٹ کے لئے بچہ رائے کا استعمال کیا گیا۔ یہ بھی خبر آئی کہ بچہ رائے نے تیجسوی پرساد یادو کے حق میں راگھوپور اسمبلی حلقہ میں بھی کام کیا تھا۔ ان باتوں پر سیاست گرم ہو رہی تھی اور اپوزیشن بی جے پی لیڈر مہا گٹھ بندھن سے سوال و جواب کررہے تھے کہ بہار کے اس وقت کے وزیر تعلیم اور ہندوستانی عوام مورچہ کے لیڈر ورشن پٹیل کے ساتھ اس کی تصویر اخباروں میں چھپی۔ اس پر چرچا شروع ہونے کے پہلے ہی بی جے پی کے لوگ کافی حملہ آور ہو گئے۔ ان حملوں کے بیچ مرکزی اسٹیٹ منسٹر گری راج پرساد سنگھ اور بچہ رائے کے رشتوں کو لے کر نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیا اور وہ بہار کے اخباروں میں خوب چھپا۔تیجسوی کے اس پوسٹ کی بات کتنی صحیح ہے یا غلط ،یہ کہنا مشکل ہے۔ اس میں کہا گیاہے کہ گری راج اور بچہ رائے کے کاروباری مفاد جڑے ہیں،دونوں ایک ساتھ مل کر میڈیکل کالج کھولنا چاہتے تھے۔ ان باتوں کے ساتھ گری راج اور بچہ رائے کی تصویر بھی پوسٹ کی گئی ہے۔ اس پر ابھی چرچا گرم ہو رہی تھی کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ بچہ رائے کی تصویر اخباروں میں چھپی ہے۔ اس پر جنتا دل (یو) لیڈر اپنی طرح سے صفائی دے رہے ہیں۔یہ تصویر ایک شادی کے پروگرام کی ہے۔ مطلب بہار کی سیاست کو ایجوکیشن سسٹم میں سدھار یا اسے مافیا سے نجات دلانے یا اس کے پرانے دن لوٹانے کا بندوبست کرنے کے بدلے بچہ کو کسی کے گود میں ڈالنے یا اسے کسی کی گود میں دیکھنے دکھانے کی بیتابی زیادہ ہے۔ یہ اس ریاست کی بد قسمتی ہے۔
بہار کی شہرت ایجوکیشن اور میدھا کی زمین کے طور پر رہی ہے۔لیکن حال کی دہائیوں میں یہ مافیا عناصر کا اسپورٹ سینٹر بن گیا ہے۔جرائم کی دنیا کے مافیا کی تو جانے دیجئے۔ یہاں ایجوکیشن مافیا،کوآپریٹیو مافیا، لینڈ مافیا،کانکنی مافیا، شراب مافیا ، بودھ کی اس زمین پر ہر طرح کے مافیا پھل پھل رہے ہیں۔ ان کے لئے ریاست کا اقتدار سیاسی گنگا ہے۔ سبھی کوبہار کی موجودہ سیاست میں پناہ مل جاتی ہے۔ اسمبلی کے دونوںہاوس تک ہی نہیں ، بہار کے ممبران پارلیمنٹ میں بھی مافیا عناصر کی پکڑ دیکھی جاسکتی ہے۔ صوبے کے وسائل سے محروم انٹر ڈگری کالجوںکے چلانے والوں کی بڑی جماعت صوبے کی سیاست میں سرگرم ہے اور انتخابات میں وہ پارٹیوں کے امیدوار ہوتے ہیںجیت کر ایوان میں جاتے ہیں۔ صوبے کی سیاست میں ایجوکیشن مافیا کی مضبوط پکڑ اور سرگرمی کا ہی نتیجہ ہے کہ ٹاپرس گھوٹالہ کو اسی سال کے ایگزام رزلٹ تک محدود رکھنے کی پوری پالیسی اپنائی گئی ہے۔ برسر اقتدر ہو یا اپوزیشن، کوئی اس کی غیر جانبدار اور صاف ستھری جانچ کرکے بیماری کو ختم کرنے کی آواز تک نہیں اٹھا رہا ہے۔ آندولن کی بات تو دور، بہار کے لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے اس جلتے سوال کو سیاسی پارٹی الزام تراشی کے دائرے سے باہر جانے ہی نہیں دینا چاہتے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *