بیوقوف لوگ ہی ہندوستان – پاکستان کی جنگ سوچ سکتے ہیں۔

عبد الباسط
p-7یہ حقیقت ہے کہ 14اگست 1947 کو جب پاکستان وجود میں آیا تھا، تو اس وقت پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں تھے۔ میں نے تاریخ کی کتابوں میں پڑھا ہے کہ ہمارے دفتروں میں معمولی پِن تک نہیں تھی اور کاغذات کو تنکوں کے ذریعہ جوڑا جایا کرتا تھا۔ جب آزادی حاصل ہوئی تو پاکستان میں کوئی اہم انڈسٹری نہیں تھی۔اختصار میں کہا جائے تو پاکستان ایک نیا اور غریب ملک تھا اور جو مسائل ایک نئے ملک کے ساتھ ہوتے ہیں وہ سبھی مسائل پاکستان کے حصے میں بھی آئے تھے۔لیکن آج ہم جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو اس میں کسی شک و شبیہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ پاکستان نے گزشتہ 68 سال میں ایک بہت لمبا سفر طے کیا ہے ۔چاہے وہ سائنس اینڈ ٹکنالوجی کا میدان ہو یا اقتصادی شعبے ،پاکستان نے ہر شعبے میں بہت ترقی کی ہے۔ آج پاکستان جہاں ایک نیو کلیئر پاور ہے، وہیں پاکستانی فوج یو این پیس مشن میں دوسرا سب سے بڑا حصہ دار ہے۔یہ کوئی چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔پاکستان کے کپڑا صنعت کی شناخت پوری دنیا میں ہے۔ ہندوستان کی خواتین میں پاکستانی لان (ایک قسم کا لباس)بہت مقبول ہے۔ ہندوستان کی خواتین چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لان یہاں پر آئے۔ پاکستان نے گزشتہ سالوں میں بہت ترقی کی، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کے تمام مسائل ختم ہو گئے ہیں۔لیکن ایک نئے ملک کی حیثیت سے ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان اپنی پوری صلاحیت اور طاقت کے ساتھ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہوں۔
ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پاکستان کے لئے بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور پاکستان کے وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ اور باقی پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوں۔ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے کچھ بنیادی مسئلے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں طرف کے لوگ چاہتے ہیں کہ باہمی تعلقات بہتر ہوں، ،میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں طرف لوگ چاہتے ہیں کہ آپسی رشتے بہتر ہوں۔ ایک دوسرے کا بھروسہ حاصل کر سکیں،لیکن یہ سب باتوں سے نہیں ہوگا،حقائق کی بنیاد پر اس رشتے کو دیکھنا ہوگا اور پھر سوچنا ہوگا کہ دونوں ملک کس طرح اپنے مسائل کو حل کریں، اپنے جھگڑوں کو ختم کریں تاکہ آپسی بھروسے کا ماحول تیار ہو۔
میرے خیال میں صرف بیوقوف لوگ ہی اب یہ سوچ سکتے ہیں کہ جنگ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ مسئلوں کا حل ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جنگ مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا اور اگر امن و سکون دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے تو دونوں ملکوں کے بیچ کے مسائل کا حل کیسے کیا جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اپنے مسائل کو صرف بات چیت کے ذریعہ ہی حل کرنا ہے ۔ گزشتہ سال 9-10 دسمبر کو ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج صاحبہ پاکستان کے دورے پر گئیں۔ اس دوران پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک اتفاق ہوا کہ ہمیں اب بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا ہے۔ اس کے بعد 25دسمبر کو ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی صاحب ایک چھوٹے سے دورے پر پاکستان تشریف لے گئے اور جس میں یہ طے پایا کہ بات چیت کے عمل کو تیز کیا جائے۔ بد قسمتی سے 2جنوری کو پٹھان کوٹ کا حادثہ ہو گیا اور بات چیت کا جو عمل 15جنوری کو خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر کے دورے سے شروع ہونی تھی وہ شروع نہیں ہو پائی۔ آج پٹھان کوٹ (حملے ) کے بعد تقریباً پانچ ماہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن پاکستان اور ہندوستان کے درمیان باقاعدہ ڈائیلاگ شروع نہیں ہو پایا ہے۔ امید کرنی چاہئے کہ بات چیت کا یہ عمل جلد شروع ہوگا۔
بدقسمتی سے سارک جس کی بنیاد 1985 میں رکھی گئی تھی، اپنا مقصد حاصل نہیں کر پایا ہے۔ اگر اس علاقے کو اپنی اقتصادی صلاحیت اور طاقت کو مکمل کرنا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اور ہندوستان اپنے آپسی مسئلے حل کریں اور ایک نئے دور کا آغاز کریں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے چیلنجز ہیں، جن کا سامنا کرنا ہے۔ چاہے وہ دہشت گردی کا مسئلہ ہو، ماحول سے متعلق موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ ہو۔ پانی کا مسئلہ ہو، ڈرگ ٹرافکنگ ہو،ان سبھی کے گلوبل ڈائمنشن ہیں۔ اگر ان مسئلوں کو حل کرنا ہے تو ہندوستان اور پاکستان ،جو کہ اس خطے کے دو بڑے ملک ہیں، کو مل بیٹھ کر ہی ان کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ چاہے جس نظریئے سے دیکھا جائے ہندوستان اور پاکستان کے اچھے رشتوں سے جہاں ان دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچائیں گے،وہیں اس پورے خطے کو بھی فائدہ پہنچائیں گے اور صرف اس خطے کو ہی نہیں،بلکہ پوری دنیا کو اس کا فائدہ ملے گا۔
پاکستان اور ہندوستان جب اپنے تعلقات کو نارمل کر لیں تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ کچھ ہی سالوں میں ان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں نہ ہو۔ یہ جنوبی ایشیا کی بد قسمتی ہے کہ یہ دنیاکا اکلوتا خطہ ہے جہاں پر کسی طرح کا اقتصادی انضمام اور تعاون نہیں ہے۔ یوروپین یونین کے ملکوں میں آپس کا کارو بار تقریباً 60فیصد کے قریب ہے، آسیان میں آپسی کارو بار 30-35 فیصد ہے اور نافٹا ( نارتھ امریکن فری ٹریڈ اگریمنٹ) میں 25فیصد سے زیادہ ہے،لیکن سارک ملکوں کا آپسی کارو بار صرف 5فیصد ہے۔ اس لئے اگر ترقی کرنی ہے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ دونوں ملک کس طرح اپنے تعلقات بہتر کر سکتے ہیں۔ کیسے اپنے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کرسکتے ہیں؟ امید کرنی چاہئے کہ پاکستان اور ہندوستان کے بیچ تعلقات بہتر ہوں گے۔ کیونکہ دونوں طرف کی خواہش ہے کہ تعلقات بہتر ہوں اور اگر اچھے تعلقات کی خواہش دونوں طرف ہے تو اس خواہش کو جلد ہی عملی جامہ پہنانا پڑے گا۔کیونکہ جتنی اس میں تاخیر ہوتی جائے گی نقصان ہمارا ہی ہوگا،تو اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک فوکس طریقے کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنے مسئلوں ،اپنے جھگڑوں کو بہتر طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہئے
پانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہئے
(مضمون نگار ہندوستان میں پاکستان کے ہائی کمشنر ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *