ججوں کی تقرری میں اہلیت اور تجربہ نہیں،رشتہ داری کو ترجیح

پربھات رنجن دین

p-1-cover-storyججوں کی تقرری کے لئے الٰہ آباد ہائی کورٹ سے جو لسٹ سپریم کورٹ بھیجی گئی ہے، وہ بدعنوانیوں کا پلندہ ہے۔ جج اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو جج بنا رہے ہیں اور سرکار کواحسان مند بنانے کے لئے اقتدار کےمنظور نظر سرکاری وکیلوں کو بھی جج بنانے کی منظوری دے رہے ہیں۔ جج کا عہدہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بااثرججوں کا خاندانی آسن بنتا جارہا ہے۔ ججوں کی تقری کے لئے بھیجی گئی تازہ ترین لسٹ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے سے لے کر کئی اہم ججوں کے بیٹے اور رشتہ دار شامل ہیں۔ لیڈروں کو بھی خوب اوبلائز کیا جارہا ہے۔سینئر جیورسٹ ، اتر پردیش بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مغربی بنگال کے موجودہ گورنر کیشری ناتھ ترپاٹھی کے بیٹے نیرج ترپاٹھی، سپریم کورٹ کے چیف جج رہ چکے وی این کھرے کے بیٹے سومیش کھرے، جموں و کشمیر ہائی کورٹ اور آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیفجسٹس اور الٰہ آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے جج رہے صغیر احمد کے بیٹے محمد الطاف منصور سمیت ایسے درجنوں نام ہیں، جنہیں جج بنانے کے لئے سفارش کی گئی ہے۔ ججوں کی تقرری کے لئے کی گئی منظوری کی جو لسٹ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے، اس میں 73 نام ججوں کے رشتہ داروں کے ہیں اور 24 نام لیڈروں کے رشتہ داروں کے ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے سپریم کورٹ کے جج کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے جو تقریباً 50 نام ججوں کی تقرری کے لئے بھیجے ،ان میں بھی زیادہ تر لوگ ججوں کے بیٹے اور رشتہ دار ہیں یا سرکارکی پیروی کر نے والے سرکاری وکیل ہیں۔ اب جج بننے کے لئے اہلیت ہی ہو گئی ہے کہ امیدوار جج یا لیڈر کا رشتہ دار ہو یا اقتدار کی ناک میں گھسا ہوا سرکاری وکیل۔ دوسرے قابل وکیلوں نے تو جج بننے کا خواب دیکھنا بھی بند کر دیا ہے۔
جب جج ہی اپنے ر شتہ دار اور سرکار ی نمائندوں کے بیٹوں کو جج مقرر کرے تو آئین کا تحفظ کیسے ہو؟ یہ تلخ حقیقت ہے جو سوال بن کر آئین پر چپکا ہوا ہے۔ یہ پورے ملک میں ہو رہا ہے۔ ججوں کی تقرری کے لئے مختلف ہائی کورٹوں سے جو لسٹیں سپریم کورٹ بھیجی جارہی ہیں، ان میں زیادہ تر لوگ بااثر ججوں کے رشتہ دار یا سرکار کے منظور نظر سرکاری وکیل ہیں۔ سینئر وکیلوں کو جج بنانے کے نام پر بینچ میں یہ غیر آئینی اور غیر قانونی کاروائیاں بغیر کسی رکاوٹ کے چل رہی ہیں، اس کے خلاف عوامی اسٹیج پر بولنے والا کوئی نہیں۔ عوامی اسٹیج پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر ججوں کی تقرری کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے رو سکتے ہیں، لیکن ججوں کی تقرریوں میں جو دھاندلی مچائی جارہی ہے، اس کے خلاف کوئی شہری عوامی اسٹیج پر رو بھی نہیں سکتا۔ اس رونے اور اس رونے کی تکلیفیں الگ الگ ہیں۔ رشتہ داروں اور سرکاری وکیلوں کو جج بنا کر عام آدمی کے آئینی حق کو کیسے محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ایسے جج کسی عام آدمی کو کیسا انصاف دیتے ہوں گے، لوگ اسے سمجھ بھی رہے ہیں اور بھگت بھی رہے ہیں۔ ملک کے عدلتی نظام کی یہی سڑی ہوئی اصلیت ہے۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ججوں کی تقرری کے لئے جن ناموں کی سفارش کرکے فائنل لسٹ سپریم کورٹ بھیجی، ان میں سے زیادہ تر نام موجودہ ججوں یا بااثر ریٹائرڈ ججوں کے بیٹے، بھانجے، سالے، بھتیجے یا رشتہ داروں کے ہیں۔ باقی لوگ اقتدار تک پہنچ والے سرکاری وکیل ہیں۔ چندر چوڑ یہ لسٹ بھیج کر خود بھی سپریم کورٹ کے جج ہوکر چلے گئے، لیکن الٰہ آباد ہائی کورٹ اور لکھنو¿ بینچ کے سامنے یہ سوال چھوڑ گئے کہ کیا ججوں کی کرسیاں ججوں کے رشتہ داروں اور سرکاری تحفظ حاصل کئے ہوئے وکیلوں کے لئے ریزرو ہیں؟ کیا ان وکیلوں کو جج بننے کا روایتی حق نہیں رہا جو بڑی دیانت داری سے وکالت کرتے ہوئے پوری زندگی گزار دیتے ہیں؟
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ذریعہ الٰہ آباد اور لکھنو بینچ کے جن وکیلوں کے نام جج کی تقرری کے لئے بھیجے گئے ہیں، ان میں محمد الطاف منصور، سنگیتا چندرا، رجنیش، کمار، عبد المعین، اوپندر مشر،شیشیر جین، منیش مہروترا، آر این تلہری، سی ڈی سنگھ، سومیش کھرے، راجیو مشر، اجے بھنوٹ، اشوک گپتا، راجیو گپتا، بی کے سنگھ جیسے لوگوں کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ کچھ نام مثال کے طور پرہیں ۔فہرست لمبی ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے تقریبا 50 وکیلوں کے نام سپریم کورٹ بھیجے گئے ہیں، جنہیں جج بنائے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان میں 35 نام الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اور تقریبا ً15 نام ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے ہیں۔ جو نام بھیجے گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر لوگ مختلف ججوں کے رشتہ دار اور سرکاری عہدوں پر فبراجمان وکیل ہیں۔ ان میں او بی سی، شیڈولڈ کاسٹ یا شیڈولڈ ٹرائبس کا ایک بھی وکیل شامل نہیں ہے۔ ایسے میں خبر کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے چلیں کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کی تشکیل سے اب تک کے 65 سال میں ایک بھی شیڈولڈ کاسٹ کا وکیل جج نہیں بنا۔ اسی طرح ویشیہ، یادو یا موریہ برادری کا بھی کوئی وکیل کم سے کم لکھنو بینچ میں آج تک جج مقرر نہیں ہوا۔ بہر حال، تازہ لسٹ کے مطابق جو لوگ جج بننے جارہے ہیں، ان کے متعدد ججوں سے رشتے اورسرکاری عہدوں کا ان کے سر پر بنے سایہ کی تفصیل بھی دیکھتے چلئے۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج، جموں و کشمیر ہائی کورٹ، آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج رہے صغیر احمد کے بیٹے محمد الطاف منصور کو جج بنائے جانے کی سفارش کی گئی ہے۔ الطاف منصور اتر پردیش سرکار کے چیف اسٹینڈنگ کاﺅنسل بھی ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج رہے عبد المتین کے سگے بھائی عبد المعین کو بھی جج بننے کے قابل پایا گیا ہے۔ عبد المعین اترپردیش سرکار کے ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کاﺅنسل ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج رہے او پی شری واستو کے بیٹے رجنیش کمار کا نام بھی جج بننے والوں کی لسٹ میں شامل ہے۔ رجنیش کمار اترپردیش سرکار کے ایڈیشنل چیف اسٹینڈنگ کاﺅنسل بھی ہیں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج رہے ٹی ایس مشرا اور کے این مشرا کے بھتیجے اوپندر مشرا کو بھی جج بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اوپندر مشرا الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سرکاری وکیل ہیں۔ پہلے بھی وہ چیف اسٹینڈنگ کاﺅنسل رہ چکے ہیں۔ اوپندر مشر کی ایک قابلیت یہ بھی ہے کہ وہ بہو جن سماج پارٹی لیڈر ستیش چندر مشرا کے بھائی ہیں۔ اسی طرح ہائی کورٹ کے جج رہے ایچ این تلہری کے بیٹے آر این تلہری اور جسٹس ایس پی موہراترا کے بیٹے منیش مہروترا کو بھی جج بننے لائق پایا گیا ہے۔ ان کے بھی نام لسٹ میں شامل ہیں۔ لکھنو بینچ سے جن لوگوں کے نام جج کے لئے چنے گئے، ان میں چیف اسٹینڈنگ کاﺅنسل ، شریمتی سنگیتا چندرا اور اسٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن اور برج کارپوریشن کے سرکاری وکیل شیشیر جین کے نام بھی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے وی این کھرے کے بیٹے سومیش کھرے کا نام بھی جج کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اسی طرح الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اپنی تعریف آپ کرنے والے جج رہے جگدیش بھلا کے بھانجے اجے بھنوٹ اور جسٹس رام پرکاش مشرا کے بیٹے راجیو مشر کا نام بھی ججوں کے لئے پیش کی گئی لسٹ میں شامل ہے۔ اندھیر گردی کی حالت یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے جج رہے پی ایس گپتا کے بیٹے اشوک گپتا اور بھانجے راجیو گپتا دونوں میں ہی جج بننے کی صلاحیت دیکھی گئی اور دونوں کے نام سپریم کورٹ بھیج دیئے گئے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ کے اسٹنگ جج اے پی شاہی کے سالے بی کے سنگھ کا نام بھی سفارش کی فہرست میں شامل ہے۔ سپریم کورٹ میں اتر پردیش سرکار کے چیف اسٹینڈنگ کاﺅنسل سی ڈی سنگھ کا نام بھی ججوں کے لئے منتخب لسٹ میں شامل ہے۔ یہ معاملہ انتہائی سنگین اس لئے بھی ہے کہ ججوں کی تقرری کی یہ لسٹ خود الٰہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے تیار کی اور اپنی منظوری کے ساتھ سپریم کورٹ بھیجی۔ چندر چوڑ اب خود سپریم کورٹ میں جج ہیں۔ انہیں انصاف کے ساتھ انصاف کرنے کے لئے ہی ترقی دے کر سپریم کورٹ لے جایا گیا ہوگا۔ ججوں کی تقرری کے لئے بھیجی گئی منظوری نے ان کی انصاف پروری اور انہیں ترقی دینے کے معیار کی اصلیت، دونوں کو شک میں ڈالا ہے۔ ڈی وائی چندر چوڑ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے وائی وی چندر چوڑ کے بیٹے ہیں۔ وکیلوں کا یہ سوال واجب ہے کہ کیا ججوں کی تقرری کے لئے کسی طاقتور جج کا رشتہ دار ہونا یا ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ، چیف اسٹینڈنگ کاﺅنسل یا گورنمنٹ ایڈو کیٹ ہونا لازمی اہلیت ہے؟ کیا سرکاری وکیلوں (اسٹیٹ لا ءآفیسر) کو ہندوستان کے آئین کی دفعہ 124 اور 217 کے تحت وکیل مانا جاسکتا ہے؟ آئین کی یہ دونوں دفعات کہتی ہیں کہ ججوں کی تقرری کے لئے کسی وکیل کا ہائی کورٹ یا کم سے کم دو عدالتوں میں فعال پریکٹس کا 10 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔کیا اس کی اہمیت رہ گئی ہے؟ بھیجی گئی لسٹ میں ایسے کئی نام ہیں جنہوں نے کبھی بھی کسی عام شہری کا مقدمہ نہیں لڑا۔ کالا کوٹ پہننا اور اپنی قوت رسائی کی وجہ سے سرکاری وکیل بن گئے، سرکار کی نمائندگی کرتے رہے اور جج کے لئے اپنے نام کی سفارش کروالیا۔ سال 2000 میں بھی 13ججوں کی تقرری میں دھاندلی کا معاملہ اٹھا تھا، جس میں 8 نام کئی ججوں کے رشتہ داروں کے تھے۔ اٹل بہاری واجپئی کی وزارت اعظمیٰ کے دور کار میں قانون کے وزیر رہے رام جیٹھ ملانی نے ججوں کی تقرری کے لئے پورے ملک کے ہائی کورٹ سے بھیجی گئی لسٹ کی جانچ کا حکم دیا۔ جانچ میں پایا گیا کہ 159 سفارشوں میں سے تقریبا 90 سفارشیں متعدد ججوں کے بیٹوں یا رشتہ داروں کے لئے کی گئی تھیں۔ جانچ کے بعد بے ضابطگی کی تصدیق ہونے کے بعد وزارت قانون نے وہ لسٹ خارج کر دی تھی۔ ججوں کی تقرری میں ججوں کے ذریعہ ہی دھاندلی کئے جانے کا معاملہ بعد میں جنیشور مشر نے راجیہ سبھا میں بھی اٹھایا ۔ اس کے جواب میں تب وزیر قانون کا عہدہ سنبھال چکے ارون جیٹلی نے ایوان کو سرکاری طور پر بتایا تھا کہ باضابطہ جانچ پڑتال کے بعد لسٹ خارج کر دی گئی۔ اس خارج شدہ لسٹ میں شامل کئی لوگ بعد میں جج بن گئے اور اب وہ اپنے رشتہ داروں کو جج بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں جسٹس عبد المتین اور جسٹس امتیاز مرتضی جیسے نام قابل ذکر ہیں۔ امتیاز مرتضی کے والد مرتضی حسین بھی الٰہ آباد ہائی کورٹ میں جج تھے۔ جسٹس عبد المتین کے سگے بھائی عبد المعین کو جج بنانے کے لئے منظورکی گئی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔
اس معاملے کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ رہی کہ ججوں کی تقرری میں بد عنوانی اور اقربا پروری کے خلاف الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ میں سینئر ایڈووکیٹ اشوک پانڈے کے ذریعہ داخل کی گئی عرضی خارج کر دی گئی تھی اور اشوک پانڈے پر 25 ہزار روپے کا جرمانہ لگایا گیا تھا۔ جبکہ اشوک پانڈے کے ذریعہ عدالت کو دی گئی لسٹ کی بنیاد پر ہی مرکزی وزارت قانون نے پورے ملک سے آئی ایسی سفارشوں کی جانچ کرائی تھی اور جانچ میں دھاندلی کی باضابطہ تصدیق ہونے پر ججوں کی تقرریاں خارج کر دی تھی۔ اشوک پانڈے نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے لئے بھیجی گئی موجودہ لسٹ میں برتی گئی بے ضابطگیوں کے خلاف انہوں نے پھر سے عرضی داخل کی اور پھر ہائی کورٹ نے اس پر کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔ عدالت نے ایڈوانس کاسٹ کے نام پر 25 ہزار روپے جمع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ہی معاملے پر سنوائی کی جائے گی۔ پانڈے تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ آئین اور قانون سے جڑے اتنے حساس معاملے کو 25 ہزار روپے کے لئے عدالت نے ملتوی رکھ دیا ہے۔ دھاندلی کی یہ لسٹ وزیر اعظم اور وزیر قانون کو بھیجنے کے بارے میں اشوک پانڈے غور کررہے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعہ بھیجی گئی لسٹ پر ہی اس وقت کی وزارت قانون نے سال 2000 میں کارروائی کی تھی۔
عدلتی نظام کو اقتدار کے زیر اثر لانے کی چل رہی سازش
سرکاری وکیلوں کو جج بنا کر پورے عدالتی نظام کو حکومت کے زیر اثر لانے کی سازش چل رہی ہے۔ سیدھے طور پر شہریوں سے جڑے وکیلوں کو جج بنانے کی روایت کو بڑے ہی شاطرانہ طریقے سے ختم کیا جارہا ہے۔ کچھ ہی عرصہ پہلے ایڈووکیٹ کوٹے سے جو 10 وکیل جج بنائے گئے تھے، ان میں سے بھی سات لوگ راجیو شرما، ایس ایس چوہان، ایس این شکلا، شبیہ الدین حسین ، اشوانی کمار سنگھ، دیوندر کمار اروڑا اور دیوندر کمار اپادھیاے اتر پردیش سرکار کے وکیل (اسٹیٹ لاءآفیسر) تھے۔ ان کے علاوہ ریتو راج اوستھی اور انیل کمار مرکزی سرکار کے لا ءآفیسر تھے۔
سینئر وکیل کے طور پر منظوری دینے میں بھی زبردست بے ضابطگی ہو رہی ہے۔ شہریوں کے مقدمے لڑنے والے وکیلوں کو لمبا تجربہ ہوجانے کے باوجود انہیں سینئر ایڈووکیٹ کی منظوری نہیں دی جاتی۔ جبکہ سرکاری وکیلوں کو بڑی آسانی سے سینئر وکیل کی منظوری مل جاتی ہے۔ کچھ ہی عرصہ پہلے لکھنو¿ بینچ کے چار وکیلوں کو سینئر ایڈووکیٹ کے طور پر منظوری دی گئی۔ جن میں چیف اسٹینڈنگ کاﺅنسل آئی پی سنگھ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلبل گھولڈیال، مرکزی سرکار کے اسٹیڈنگ کاﺅنسل اسیت کمار چترویدی اور پبلک سیکٹر کے کئی انڈر ٹیکنگ اور یونیورسٹیوں کے وکیل ششی پرتاپ سنگھ شامل ہیں۔ لکھنو¿ میں تجربہ کار اورماہر وکیلوں کی اچھی خاصی تعداد کے باوجود ہائی کورٹ کو ان میں کوئی سینئر ایڈووکیٹ بننے لائق نہیں دکھائی دیتا۔ ایسے رویے کی وجہ سے وکیلوں میں عام لوگوں کے مقدمے چھوڑ کر سرکاری وکیل بننے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ سب اس کے جگاڑ میں لگے ہیں اور اس سے انصاف کا بنیادی تصور بری طرح سے بکھر رہا ہے۔
ججی بھی اپنی ، دھندہ بھی اپنا
ججوں کے رشتہ دار جج بن رہے ہیں اور ججوں کے رشتہ دار انہی کے بل پر اپنی وکالت کا دھندہ بھی چمکا رہے ہیں۔ عدالتوں میں دونوں طرف سے ججوں کے رشتہ داروں کا ہی قبضہ ہوتا جارہا ہے۔ ججوں کے بیٹے اور رشتہ داروں کی عالیشان وکالت کا دھندہ ججوں کی تقرری والی لسٹ کی طرح کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ یہ بالکل کھلا معاملہ ہے۔ عام لوگ بھی ججوں کے رشتہ دار وکیلوں کے پاس ہی جاتے ہیں، جنہیں فیس دینے سے انصاف ملنے کی گارنٹی ہو جاتی ہے۔ ججوں کے رشتہ داروں کی انہی کی عدالت میں وکالت کرنے کی خبریں کئی بار سرخیاں بن چکی ہیں۔ ہائی کورٹ کی دونوں بینچوں کے درجنوں مشہور ججوں کے بیٹے اور رشتہ دار وہیں پر اپنی وکالت کا دھندہ چمکاتے رہے ہیں۔ ان میں جسٹس عبد المتین کے بھائی عبد المعین ، جسٹس ابھینو اپادھیاے کے بیٹے ریتیش اپادھیاے، جسٹس انیل کمار کے والد آر پی شریواستو، بھائی اکھل شری واستو اور بیٹے انکت شری واستو، جسٹس بال کرشن نارائن کے والد دھرو نارائن اور بیٹے اے نارائن ،جسٹس دیوندر پرتاپ سنگھ کے بیٹے ویشیش سنگھ، جسٹس دیوی پرساد سنگھ کے بیٹے روی سنگھ، جسٹس دلیپ گپتا کی سالی سنیتا اگروال، جسٹس امتیاز مرتضیٰ کے بھائی رشاد مرتضیٰ اور ندیم، جسٹس کرشن مراری کے سالے اودے کرن سکسینہ اور چاچا جی این ورما، جسٹس پرکاش کرشن کے بیٹے آشیش اگروال، جسٹس پرکاش چندر ورما کے بیٹے جیوترجے ورما، جسٹس راج منی چوہان کے بیٹے سوربھ چوہان، جسٹس راکیش شرما کے بیٹے شیوم شرما، جسٹس روندر سنگھ کے بھائی اکھلیش سنگھ، جسٹس سنجے مشر کے بھائی اکھلیش مشر، جسٹس ستیہ پوت مہروترا کے بیٹے نشانت مہروترا اور بھائی انیل مہروترا، جسٹس ششی کانت گپتا کے بیٹے روہن گپتا، جسٹس شیو کمار سنگھ کے بیٹے مہیش نارائن اور بھائی بی کے سنگھ، جسٹس شری کانت ترپاٹھی کے بیٹے پروین ترپاٹھی، جسٹس ستیندر سنگھ چوہان کے بیٹے راجیو چوہان، جسٹس سنیل امبانی کی بیٹی منیشا، جسٹس سریندر سنگھ کے بیٹے امنگ سنگھ، جسٹس وید پال کے بیٹے ویویک اور اجے، جسٹس ویملیش کمار شکلا کے بھائی کملیش شکلا، جسٹس وینیت شرن کے والد اے بی شرن اور بیٹے کارتک شرن، جسٹس راکیش تیواری کے سالے وینیت مشرا، جسٹس ویریندر کمار دیکشت کے بیٹے منو دیکشت، جسٹس یتندر سنگھ کے والد وکاس چودھری، بھتیجے کونال اور بہو منجری سنگھ، جسٹس سبھا جیت یادو کے بیٹے پی پی یادو، جسٹس اشوک کمار روپن وال کی بیٹی تنو، جسٹس امر شرن کے بھتیجے سکندر کوچر، جسٹس امریشور پرتاپ شاہی کےخسر آر این سنگھ اور سالے گوند شرن، جسٹس اشوک بھوشن کے بھائی انیل اور بیٹے آدرش اور جسٹس راجیش کمار اگروال کے بھائی بھرت اگروال اپنی وکالت کا دھندہ اپنے رشتہ دار ججوں کے بل بوتے پر ہی چمکاتے رہے ہیں۔
ججوں کی تقرری میں ہو رہی اقربا پروری اور دھاندلیوں کے خلاف میں وزیر اعظم نریندر مودی اور یونین لاءاور جسٹس منسٹر ڈی وی سدا نند گوڑاکے کے سامنے مکمل حقائق پیش کروں گا تاکہ جانچ ہو سکے اور پوری کارروائی ہو۔ یہ آئین کی مریادا کے تحفظ کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ سال 2000 میں بھی میں نے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی اور وزیر قانون رام جیٹھ ملانی کو پوری لسٹ سونپی تھی، جس پر جانچ ہوئی اور لسٹ رد کر دی گئی تھی۔ مجھے امید ہے کہ موجودہ وزیر اعظم اور وزیر قانون بھی اس معاملے میں مکمل کارروائی کریں گے اور ججوں کی تقرری کو آئین کے مطابق اور شفاف بنائیں گے“

اشوک پانڈے سینئر ایڈووکیٹ،الٰہ آباد ہائی کورٹ

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *