البغدادی کا جانشیں کون ہوگا؟

p-8bآرہی ہے کہ داعش کا سرغنہ البغدادی امریکی حملہ میں مارا گیا ہے۔ اس طرح کی خبریں پہلے بھی کئی بار آچکی ہیں لیکن بعد میں پھر خبر آئی کہ وہ ابھی زندہ ہے۔ بہر کیف البغدادی امریکی حملے میں مارا گیا ہو یا زندہ ہو، لیکن اتنا تو طے ہے کہ اس کی تنظیم ’دولت اسلامیہ ‘سخت دبائو میں ہے اور دھیرے دھیرے مقبوضہ علاقے اس کے قبضے سے نکلتے جارہے ہیں اور جنگجو بھی بڑی تعداد میں مارے جارہے ہیں۔غرضیکہ دولت اسلامیہ تیزی سے پسپا ہورہی ہے۔
قطع نظر اس بات کے کہ آیا البغدادی زندہ ہے یا ہلاک ہو گیا ، یہ جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ اگر البغدادی مارا جا چکا ہے تو دولتِ اسلامیہ پر کیا اثرات ہوں گے۔جون 2014 میں ’خلافت‘ کے قیام اور ابو بکر البغدادی کی جانب سے اپنے لیے ’خلیفہ‘ کے لقب کے اعلان سے اب تک البغدادی کی ایک بڑی شبیہ بن چکی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ البغدادی کی موت کی صورت میں تنظیم کے لیے اس کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔دولت اسلامیہ میں بظاہر ایسا کوئی دوسرا رہنما موجود نہیں ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہو کہ وہ بھی اسلامی قوانین پر البغدادی جتنا عبور رکھتا ہو۔اس کے علاوہ ابوبکر البغدادی کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس کی رہنمائی میں یہ تنظیم شام و عراق کے چند چھوٹے قصبوں سے نکل کر ایک وسیع علاقے میں پھیل کر بین الاقوامی تنظیم بن گئی، ایک ایسی تنظیم جس نے ’مملکت‘ کہلوانے کے کئی لوازمات پورے کر لیے تھے ۔تنظیم کی صفوں میں اس کی مجلس شوریٰ کے ارکان جیسے سینئر افراد کی کمی نہیں جو البغدادی کی خلافت کے دعوے کی توثیق کرتے ہیں، لیکن عام لوگ ان رہنماؤں کو نہیں جانتے۔اس بات کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں کہ تنظیم العدنانی جیسے سینیئر رہنما یا عمر شیشانی اور شاکر ابو وہاب جیسے کمانڈروں کو البغدادی کی موت کی صورت میں اپنا اگلا رہنما بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔دولت اسلامیہ ہی وہ ’جیتنے والا گھوڑا‘ ہے جو بطور جماعت خلافت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اگر دولت اسلامیہ وقت آنے پر فوراً کسی دوسرے شحض کو البغدادی کی جگہ اپنا امیر نہیں بنا پاتی تو البغدادی کی موت سے تنظیم کا شیرازہ بکھر سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تنظیم کی ہر سطح پر تمام لوگ البغدادی کو ہی حرف آخر نہیں سمجھتے۔ جماعتِ انصار الاسلام اور اس جیسے کئی جہادی گروہ دولت اسلامیہ کی حمایت اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے خیال میں ان کی وفاداری اس تنظیم کے ساتھ ہے، نہ کہ البغدادی کی ذات کے ساتھ۔ ان گروہوں کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ ہی وہ ’جیتنے والا گھوڑا‘ ہے جو بطور جماعت خلافت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔اگر دیگر جہادی گروہوں اور تنظیموں کی نظر میں دولتِ اسلامیہ اپنے اس مقام سے گر جاتی ہے جہاں وہ ابو بکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کروا سکتی، تو اس تنظیم کا ’مسلمانوں کا خلیفہ‘ ہونے کا دعویٰ بھی کمزور پڑ جائے گا۔ اس موقعے پر دولت اسلامی کے کئی حامی گروہ اس تنظیم کو چھوڑ کر اپنے اپنے گروہوں میں واپس لوٹ جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *