آسام میں بی جے پی کی جیت مودی سرکار کے دوسرے سال کا تحفہ ہے

میگھناد دیسائی
یہ راہل (گاندھی) کی غلطی نہیں تھی۔ گزشتہ دنوں کانگریس کو جس شکست کا سامنا کرنا پڑا، اس کے لےے آب وہوا کی تبدیلی، ایٹمی خطرہ، کچے تیل کی قیمتوں میںبے تحاشہ اضافہ، ایل نینو ذمہ دار ہوسکتے ہیں، لیکن راہل گاندھی نہیں۔ ایک بار جب یہ صاف ہوگیا تو ہم ہندوستانی سیاست کے راز کوسمجھتے ہیں۔
انتخابی نتائج آنے سے کچھ ہفتے قبل ہی یہ طے کیا جانے لگا تھا کہ بی جے پی آسام میںسب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے گی۔ ملک میںبی جے پی کے واحد قومی پارٹی باقی رہ جانے کی سمت میںیہ ایک اورقدم تھا۔ پارٹی کا ووٹ فیصد ان علاقوںمیںبڑھا ہے، جہاں اس کی حیثیت نئے آنے والے کی تھی۔ آسام میںبی جے پی نے چالاکی بھری حکمت عملی اپنائی تھی۔ اس نے ایک مقامی چہرے کو پارٹی کے وزیر اعلیٰ کا امیدوار ڈکلیئر کیا اوراپنی معاون جماعتوں کو الیکشن جیتنے میںمدد کی۔ آسام میں نسل پرستی قائم کرنے کی ترون گوگوئی کی کوشش ناکام ہوگئی۔
فی الحال مسئلہ کانگریس او ربائیں محاذ کا ہے۔ کانگریس کے پاس اب صرف ایک بڑی ریاست کرناٹک بچی ہوئی ہے، جبکہ سی پی ایم ابھی ابھی کیرل میں اقتدار میں آئی ہے، جو بہت بڑی نہ سہی،تو چھوٹی ریاست بھی نہیں ہے۔ کانگریس، ڈی ایم کے کے لےے کھیل بگاڑنے والی پارٹی ثابت ہوئی۔ اگر ڈی ایم کے اپنے دم پر الیکشن لڑی ہوتی، تو شاید جیت سکتی تھی۔ مغربی بنگال میں سی پی ایم کیڈر نے بایاںمحاذ کے کانگریس کے ساتھ اتحاد کو پسند نہیںکیا۔ سی پی ایم کے ووٹ تو کانگریس کو مل گئے،لیکن کانگریس کے ووٹ سی پی ایم کو ٹرانسفر نہیںہوئے،کیونکہ کانگریس کے پاس مغربی بنگال میں ٹرانسفر کرنے کے لےے کوئی ووٹ نہیںتھا۔
لہٰذا اب مستقبل میں جب اتحاد کی بات آئے گی ، تو کانگریس کو زہر کی مانند دیکھا جائے گا۔یہ تو طے ہے کہ 2019 میں کانگریس کسی اتحاد کی قیادت نہیںکرے گی۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اسے کسی اتحاد میںشامل ہی نہ کیا جائے،یہاں تک کہ تیسرے نمبر کے کھلاڑی کی شکل میں بھی نہیں جیسا کہ بہار میں ہواتھا۔ چونکہ کانگریس خاندانی قیادت سے اپنا دامن نہیں بچائے گی، اس لےے ہم صبر کے ساتھ اس کے زوال کو دیکھتے رہیں گے، جب تک کہ یہ پوری طرح سے ختم نہ ہوجائے۔ جس طرح کسی بالی ووڈ بلاک بسٹر میںتین گھنٹے کے بعد آخر میںکیا ہوگا آپ کو پتہ ہوتا ہے، ویسے ہی کانگریس کے بارے میںبھی کہا جاسکتا ہے۔ ایک فاتح کی شبیہ کھونے سے پہلے ہی پرشانت کشور پارٹی کا ساتھ چھوڑدیں گے۔
بہر حال سی پی ایم کے بھی اپنے مسائل ہیں۔ اندرونی اختلاف کے باوجود پارٹی نے کیرل الیکشن جیت لیا، لیکن مغربی بنگال کو ہمیشہ کے لےے کھو دیا۔ کانگریس سے اس کی کبھی دوری اور کبھی نزدیکی کا کھیل سمجھ سے باہر ہے۔ ہرکشن سنگھ سرجیت کے دور میں یہ کانگریس کے تحفظ میں پھلی پھولی تھی۔ لیکن ایٹمی مدعے پر یو پی اے 1-کے ساتھ اس کے جھگڑے نے قومی سطح پر سی پی ایم کو ختم کردیا۔ حالیہ انتخابات میں اس نے مغربی بنگال میں کانگریس سے ہاتھ ملایا (جس کا فائدہ اسے نہیںملا) اور کیرل میں اس سے کانگریس کے خلاف الیکشن لڑا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ سی پی ایم کاایک علاقائی پارٹی بن کر رہ جانے کا وقت آگیا ہے۔ کیونکہ بنگال میں ایک سماجوادی پارٹی کی حیثیت سے ترنمول کانگریس کو چنوتی دی گی اور کیرل میںکسی ملیالی کمیونسٹ مورچہ کی شکل میں اپناوجودقائم رکھے گی۔ لیکن اس کے باوجود سی پی ایم قومی پارٹی بنتے ہوئے دکھائی نہیںدے رہی ہے۔
جے للتا اور ممتا بنرجی کا علاقائی سطح پر محدود رہنے کا فائدہ ایک بار پھر ثابت ہوگیا۔ ایک مضبوط علاقائی پارٹی بن کرآپ زیادہ کامیاب رہ سکتے ہیں بجائے اس کے کہ قومی پارٹی بننے کا خواب پالیں۔ مایاوتی کو اس سے سبق سیکھتے ہوئے اترپردیش سے باہر الیکشن لڑنے کا خیال چھوڑدینا چاہےے۔ ان نتیجوں میںعام آدمی پارٹی کے لےے بھی پیغام ہے۔ عام آدمی پارٹی کا دہلی کا بیس اس کی خواہشات کے مقابلے میںبہت چھوٹا ہے۔ لیکن یہ بہت تیزی سے ایک قومی پارٹی نہیںبن سکتی۔ ایک علاقائی طاقت بننے کے سلسلے میںپنجاب میں کانگریس کو معزول کرنے کا اس کے پاس موقع ہے۔ اترپردیش میںپہلے سے ہی بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی کی شکل میں دو مضبوط علاقائی دعویدارموجود ہیں۔ لیکن اس میںکوئی شک نہیںکہ بی جے پی اترپردیش کا ریاضی بگاڑ کرکنگ میکر کے رول میں آسکتی ہے۔
دراصل آسام کی جیت بی جے پی کے لےے مرکز میںاقتدار میںآنے کا دوسری سالگرہ کا ایک تحفہ ہے، جسے اس نے محنت سے جیتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *